کرپٹو کرنسی کا پاکستان میں قانونی جواز/محمد سعید

اسٹیٹ بینک کے حوالے سے خبر گردش کر رہی ہے کہ عنقریب پاکستان میں کرپٹو کرنسی میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو قانونی طور پر اجازت دے دی جائے گی ۔
ایک بات تو طے ہے کہ ہم نے ہمیشہ کی طرح کرپٹو کو لیگل کرتے کرتے دیر کر دی ۔
یہی اجازت اگر کرونا کے بعد دی گئی ہوتی تو شائد بہت سارے پاکستانیوں کے دن پھرے ہوتے ۔
ہم چونکہ سرکاری ملازم ہونے کے ناطے بزدل کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے جب پتہ چلا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی میں کام کرنے والوں کے ساتھ ٹکا کر سکیم ہو رہے ہیں اور بینکنگ عملے کی ملی بھگت کی وجہ سے منی لانڈرنگ کے چکر میں بہت سے لوگ ایف آئی اے کے دفاتر کے چکر لگا کر عرش سے فرش پر آن گرے تو ہم نے اس سے پرہیز بلکہ گریز ہی کیا ۔
میرے بہت اچھے دوست اور مرشد اول جنکی وجہ سے ہلکی پھلکی کرپٹو کے متعلق سوجھ بوجھ آئی وہ بھی یہاں کے حالات سے تنگ آکر بیرون ملک شفٹ ہو گئے اور خیر سے ابھی تک انکے تیس پینتیس لاکھ روپے بینک ڈسپیوٹ کی وجہ سے بلاک ہوئے پڑے ہیں ۔
بھلا ہو ہمارے معاشی طور پر بڑے ابو جی یعنی امریکہ کا اور دادا ابوجی یعنی چائنا کا جنکی آشیر باد سے ہم کرپٹو کرنسی کو پاکستان میں لیگل ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں ۔
میں اگر اپنی بات کروں تو فی الحال کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے گریز کروں گا اسکے پیچھے چھوٹی سی وجہ ہے کہ کرپٹو مارکیٹ کو بلش مومینٹم برقرار رکھتے ہوئے تقریباً 1100دن ہو چکے ہیں ۔یہ سولہ ہزار کے لیول سے اٹھی اور اس وقت ایک لاکھ چوبیس ہزار ڈالر کا ہائی لگا کر ایک لاکھ دس ہزار ڈالر کے آس پاس ٹریڈ ہو رہی ہے ، تو اس وقت مارکیٹ میں اینٹر ہونا خطرے سے خالی نہیں ۔یہاں سے مارکیٹ کریکشن یا بئرش ٹرینڈ پکڑتی ہے تو پھر یہ وہی مارکیٹ ہے جو 69000کا ہائی لگا کر ڈھائی سال کے عرصہ میں سولہ ہزار ڈالر تک جا گری تھی ۔
تو میرے عزیز ہم وطنو کرپٹو پاکستان میں لیگل ہونے کی خوشی میں اپنا سب کچھ لگا نا بیٹھنا ،اچھی طرح سوچ سمجھ کر باقاعدہ سیکھ کر اور بار بار بیک ٹیسٹنگ کرنے کے بعد اتنا سرمایہ کرپٹو میں لگائیے گا جو اگر چلا بھی جائے تو آپکو غم نا ہو ۔
سب سے اہم بات بینکنگ چینلز کس طرح کرپٹو کرنسی میں کام کرنے والوں کو ڈیل کریں گے کیونکہ خیر سے مجموعی طور پر ٹرانزیکشن اور انٹرنیٹ فراڈ میں جتنا ناقص نظام ہمارے بینکوں کا ہے شائد ہی کسی اور کا ہو ۔
ہمارے ہاں ایک اور خرابی ہے کہ حکومت وقت کی گرپ کمزور رہتی ہے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑھے لکھے پیدائشی ٹھگ اور تخم خنزیر معصوم لوگوں کو سبز باغ دکھا کر زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں ان سے عوام کو بچاؤ کے لئے آگاہی مہم پہلے شروع کرنی چاہئے خصوصاً ہمارے دیہاتی علاقوں میں ۔ایسا نا ہو لوگ مال مویشی بیچ کر کرپٹو کرنسی کے جال میں پھنس کر ٹھگوں کے ہاتھوں اپنا سب کچھ گنوا رہے ہوں ۔
قصبوں ،گاوں اور دیہاتوں میں کرپٹو ٹریڈنگ سینٹرز کھولنے کا پہلے سے باقاعدہ پیٹرن تیار ہونا چاہئے نہیں تو وہ سب کچھ ہوگا جس کا شائد ہمیں اس وقت ادراک بھی نہیں ۔
کرپٹو کرنسی میں کام کرنے سے پہلے امید ہے آپ سب لوگ ان گذارشات پر ضرور توجہ فرمائیں گے ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply