والدین راہنما اور معلم ہیں / شاہد محمود

‎‎انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تربیت اور رہنمائی کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کائنات کسی بھی دور میں ہدایت و تربیت سے خالی نہیں رہی اور یہ عمل آج تک جاری و ساری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مرد اور عورت سے خاندانی نظام کی بنیاد رکھی اور اسی نظام کی بدولت ہر دور میں قوم کو راہنمائی میسر آئی۔ خاندانی نظام کی اہمیت کو کبھی بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

‎خاندانی نظام اور والدین کی ذمہ داری

‎چونکہ عائلی زندگی میں مرد اور عورت (والدین) کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس لیے بچوں کی تعلیم و تربیت کا ایک مستقل اور قدرتی ادارہ والدین ہیں۔ والدین کا منصب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ایک فریضہ ہے اور اس سے عہدہ برا ہونا فرض کے درجے میں ہے۔

‎اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں:

‎”اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔”
‎(سورۃ الإسراء، آیت 23)

‎اسی طرح ایک اور جگہ والدین کے حق کا ذکر یوں فرمایا:

‎”اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں نصیحت کی۔ اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری جھیل کر اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے۔ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔”
‎(سورۃ لقمان، آیت 14)

‎یہ آیات کریمہ اس بات کی دلیل ہیں کہ اولاد کے لیے والدین مربی اور معلم ہیں۔

‎والدین معلم اور نگہبان

‎تعلیم و تربیت کا زمان و مکان سے گہرا تعلق ہے، اور والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دورِ حاضر کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہوں۔ آج کے دور میں بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا والدین واقعی معلم ہیں؟ کیا وہ تربیت اور رہنمائی کا قدرتی ادارہ ہیں؟ اور کیا ان میں حکمت، دانائی، سخاوت اور پارسائی جیسے اخلاقی اوصاف پائے جاتے ہیں؟

‎رسول اللہ ﷺ نے والدین اور ذمہ دار افراد کی اس جواب دہی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

‎”أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ… وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُمْ”
‎(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

‎ترجمہ:
‎”سنو! تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا… مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔”

‎حدیث مبارکہ کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نگہبانی کا حق اسی وقت ادا ہو سکتا ہے جب نگہبان اس کے لیے مطلوبہ اہلیت رکھتا ہو۔ خاندان کے سربراہ، بالخصوص والدین پر لازم ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کی مادی اور جسمانی ضروریات پوری کریں بلکہ ان کی ذہنی، فکری اور اخلاقی تربیت بھی کریں تاکہ وہ معاشرے کے ایک مثبت اور مفید فرد بن سکیں۔

‎تربیت کی حقیقت اور والدین کی غلط فہمی

‎بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک بڑی غلط فہمی جڑ پکڑ چکی ہے کہ بچوں کی محض مادی اور جسمانی ضروریات پوری کر دینا، یا چند نصیحت آمیز جملے کہہ دینا ہی اچھی تربیت ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تربیت ایک مسلسل اور ہمہ جہت عمل ہے جس کے لیے والدین کو اپنے کردار، طرزِ عمل اور اخلاق سے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے۔

‎بچوں کی تربیت کے دو بنیادی پہلو

‎بچوں کی تربیت (Parenting) کے حوالے سے دو بنیادی پہلوؤں کو سمجھنا لازمی ہے:

‎1. والدین کا اپنی شخصیت پر کام کرنا


‎2. بچوں کے ساتھ حقیقی اور معیاری تعلق قائم کرنا



‎1. اپنی شخصیت پر کام کرنا

‎بچوں کی تربیت کا اصل مطلب یہ ہے کہ والدین سب سے پہلے اپنی شخصیت کو نکھاریں، اپنے رویوں اور عادات پر کام کریں۔ تربیت صرف بچوں کو ڈانٹنے، ٹوکنے یا مسلسل نصیحت کرنے کا نام نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر والدین بچوں پر حکم چلانے اور نصیحتیں کرنے میں مصروف رہتے ہیں، نتیجتاً بچوں کے ساتھ ایک معیاری اور مثبت تعلق قائم نہیں ہو پاتا۔

‎ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بطور والدین اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم اپنے غصے پر قابو پانے کے لیے محنت نہیں کرتے، اپنی ضد، انا اور سخت مزاجی کو درست کرنے کی کوشش نہیں کرتے، لیکن اس کے باوجود یہ توقع رکھتے ہیں کہ بچے بہترین تربیت پائیں۔ یہ رویہ دراصل Parenting کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

‎2. بچوں کے ساتھ معیاری تعلق قائم کرنا

‎ہم بچوں کے پسندیدہ انسان یا حقیقی راہنما نہیں بن سکے اس لیے بچے ہماری بات ماننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ المختصر کہ جو اوصاف ہماری شخصیت کا حصہ ہی نہیں ہیں وہ خصوصیات یا اوصاف ہم کسی کو کیسے منتقل کر سکتے ہیں۔ عربی کی ایک کہاوت ہے:

‎”الولد سرّ أبیہ”
‎(بچہ اپنے والدین کا راز ہوتا ہے)

‎گویا ہمیں اپنے بچوں کا حقیقی راہنما بننا ہوگا۔ جب کوئی شخص کسی کو اپنا راہنما اور پسندیدہ انسان مان لیتا ہے تو وہ بے اختیار اس کے نقشِ قدم پر چلتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر والدین اپنے بچوں کے لیے پسندیدہ شخصیت اور آئیڈیل بن جائیں تو بچے خود بخود ان کی بات مانیں گے۔

‎معیار پر مبنی وقت

‎بچوں کو وقت کی “مقدار” نہیں بلکہ “معیار” درکار ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے ہماری بات سنیں تو سب سے پہلے ہمیں ان کی بات سننی ہوگی۔ سننے اور سمجھنے سے اعتماد اور محبت کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے، جو تربیت کی اصل بنیاد ہے۔

‎بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر والدین لاعلمی میں اپنے آپ کو بچوں کا داروغہ بنا لیتے ہیں۔ ہمیں ان کی خوبیوں کے بجائے صرف ان کی غلطیاں نظر آتی ہیں اور ہم دن رات اپنے “جملوں” کے ذریعے ان غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے ہم سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور آخر میں یہی شکوہ رہ جاتا ہے کہ “بچے ہماری بات نہیں مانتے۔”

‎نتیجہ

‎اولاد اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی شخصیت کو نکھاریں، اپنے اخلاق اور رویے کو درست کریں، اور بچوں کے ساتھ محبت و اعتماد پر مبنی معیاری تعلق قائم کریں۔ اس کے بغیر تربیت کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ والدین جب اپنی اصل ذمہ داری کو سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے، تبھی وہ حقیقی معنوں میں اپنے بچوں کے راہنما اور معلم ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply