ڈگریاں اور تاخیر کا عذاب /سعد مکی شاہ

پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہر سال امتحانات دیتی ہے اور رزلٹ کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کا انتظار رہتا ہے وہ ڈگری اور اسناد ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ انتظار اکثر ایک سال نہیں بلکہ دو دو سال تک طویل ہو جاتا ہے۔ یہ تاخیر صرف طلبہ کی پریشانی نہیں بڑھاتی بلکہ ان کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔ نہ نوکری کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے، نہ بیرون ملک تعلیم کے دروازے کھلتے ہیں، اور نہ ہی اگلے مرحلے کی تیاری آسانی سے ہو پاتی ہے۔

ہمارے تعلیمی بورڈز اور جامعات کی سست روی اپنی مثال آپ ہے۔ فائلوں کا ڈھیر، دستخطوں اور مہروں کا طویل سلسلہ، اور ویریفکیشن کے نہ ختم ہونے والے مراحل طلبہ کو رلائے رکھتے ہیں۔ عملہ بھی اکثر کم ہوتا ہے اور وسائل بھی محدود، جبکہ لاکھوں طلبہ کے ریکارڈ کو سنبھالنے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔

طلبہ یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ “Urgent Fee” کے نام پر اضافی رقم لی جاتی ہے۔ عام ڈگریاں تاخیر سے دی جاتی ہیں تاکہ امیدوار مجبور ہو کر فوری ڈگری کے لیے فیس جمع کرائیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ تعلیمی اداروں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

اس مسئلے کو اور سنگین بناتی ہے جعلی ڈگریوں کی وبا۔ ادارے بار کوڈ، ہولوگرام اور واٹر مارک جیسے حفاظتی اقدامات شامل کرنے میں وقت لگاتے ہیں۔ مقصد تو درست ہے، لیکن نقصان ان لاکھوں طلبہ کو ہوتا ہے جو دیانت داری سے امتحان پاس کر کے اپنی محنت کا ثمر چاہتے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا کی طرف نظر ڈالیں تو وہاں نتائج کے فوراً بعد ڈیجیٹل ٹرانسکرپٹ اور ڈگری ویریفکیشن سسٹم دستیاب ہوتا ہے۔ طلبہ چند دن میں سند حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ اصل ڈگری بھی زیادہ تاخیر کے بغیر ان کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ خواب ہی لگتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔ ڈگری اجرا کے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا جائے، ون ونڈو آپریشن شروع کیا جائے تاکہ طلبہ کو ہر کام کے لیے الگ الگ دفتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ “Urgent Fee” کا جواز ختم کیا جائے اور ہر امیدوار کو برابری کی بنیاد پر بروقت ڈگری دی جائے۔ عملے کی کمی پوری کی جائے اور ان کی تربیت بھی جدید تقاضوں کے مطابق کی جائے۔

julia rana solicitors london

پاکستان میں تعلیم کے کئی مسائل ہیں لیکن ڈگری اور اسناد کے اجرا میں تاخیر ان مسائل میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یہ وہ رکاوٹ ہے جو براہ راست طلبہ کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر حکومت واقعی تعلیم کو ترجیح دینا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اس تاخیر کے عذاب کو ختم کرنا ہوگا۔ بروقت اسناد طلبہ کا بنیادی حق ہیں اور ان سے محرومی ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی ناکامی ہے .

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply