”بٹیا۔ تمہیں دیر ہو رہی ہے کام پر۔ اب نکل بھی جاو۔ “ اٹھاون سال کی جمیلہ نے بوسیدہ دیوار پر لگی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ”عاطف بھی اسکول کے لئے نکل چکا ہے۔“
”پتا نہیں کہاں غائب ہو گئی ہے—–جواب تک دینا گوارہ نہیں کرتی۔ “ جمیلہ بڑبڑا رہی تھی۔
”اچھا امی، میں جا رہی ہوں۔ خدا حافظ۔ “ اور باہر دروازے کے چٹخنے کی آواز آئی۔
جمیلہ نے بستر سمیٹ کر الماری میں رکھ دئے۔ جھاڑو پونچھا سے فارغ ہو کر جمیلہ نے کپڑے بدلے اور سوچوں میں گم ہو گئی۔
دستک کی آواز سن کر جمیلہ نے دروازہ کھولا تو سامنے نوری کھڑی ہوئی مسکرا رہی تھی۔ نوری کا سانس پھولا ہوا تھا۔ پھر بھی اس نے اونچی آواز میں کہا۔ ”اسلام علیکم۔ ہائے۔۔۔۔۔ کمبخت رکشے والے نے تو جان ہی نکال دی۔ “
”آ جاو بہن، اندر آو۔ “
نوری نے چاروں طرف نظریں گھما کر کمرے کا جائزہ لیا اور کرسی پر بیٹھ کر بالوں کو سنوارا۔
تھوڑی دیر رسمی باتوں کے بعد نوری نے ذرا رازداری سے کہا۔ ”بہن، اس دفعہ تو شکار ہے شکار! اس سے ذیادہ اچھا رشتہ تمہاری بیٹی کے لئے نہیں مل سکتا۔ “
”ہوں، ہوں۔ میری بیٹی بھی کوئی عام لڑکی نہیں ہے۔ پورے ساٹھ ہزار مہینہ کماتی ہے—-ساٹھ ہزار۔ “
”ارے یہ لڑکا تو میکینک ہے، اپنی دوکان لگاتا ہے۔ میں—- میں نے خود جا کر دیکھا ہے—-کاروں کی لائن لگی ہوتی ہے۔ ستّر ہزار سے اوپر کما لیتا ہے ہر مہینے، اور—–ترقی ہی ترقی ہے آگے۔ “ نوری نے پہلو کو بدلا۔
جمیلہ کے چہرے پر کوئی ردعمل نہ دیکھ کر نوری بے اختیار بولی۔
”تمہیں کوئی لڑکا پسند بھی آتا ہے کہ نہیں! لڑکے سے ملنے سے پہلے ہی کوئی نقص نکال لیتی ہو اس میں—–یا کوئی اور بہانہ بنا دیتی ہو۔ “ پھر اس نے جمیلہ کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے کہا۔ ”خاندانی لڑکا ہے—- عزت دار، اچھے قد کاٹھ کا۔ لڑکی کو تو ملاؤ اس سے۔ عادتوں کا بھی اچھا ہے، تمیز دار ہے۔ “
جمیلہ بات کاٹتے ہوئے بولی۔ ”میں نے کب منع کیا ہے—–بس سوچنے کے لئے کچھ وقت دے دو۔ “
”جمیلہ، تمہاری بیٹی اب پچیس سال کی ہو گئی ہے، کب تک اسے گھر بٹھا کر رکھو گی۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے کہ تم ایسا کیوں کر رہی ہو! “
”بس کیا بتاؤں! جب سے معین ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے —- کیا بتاؤں —– زندگی ہی بدل گئی ہے۔ ان کے جانے کے بعد معین کے بھائی نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
جمیلہ کے چہرے پر ایک لمحے کے لئے معنی خیز مسکراہٹ آئی۔
”پیسے پیسے کے محتاج ہو گئے تھے ہم—–شکر ہے بٹیا کو کام مل گیا تو دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو گیا۔۔۔۔۔اوہ! نوری میں تمہیں چائے کے لئے پوچھنا تو بھول ہی گئی! “
”نہیں بہن، مجھے—وہ— تسنیم کے ہاں جانا ہے—–ساتھ والی گلی میں رہتی ہے وہ۔ وہ تو اپنی بیٹی کے لئے اچھے رشتے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔ “
نوری ایک دم اٹھ گئی—–اس امید کے ساتھ کہ جمیلہ کچھ کہے گی۔
لیکن جمیلہ کے ہونٹوں پہ تالے پڑ چکے تھے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں