بونیر کے حالیہ سیلاب میں امدادی سرگرمیوں میں بارہا یہ منظر آنکھوں کے سامنے آیا ہے کہ متاثرین کو جو اشیائے خورد و نوش یا کپڑے امداد کے طور پر ملتے ہیں وہ ان کی اصل ضرورت سے میل نہیں کھاتے۔ کئی خاندان مجبوراً یہ سامان بازار میں کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیتے ہیں، کیونکہ یا تو انہیں اس کی ضرورت نہیں ہوتی، یا پہلے ہی اتنی زیادہ اشیا جمع ہو چکی ہوتی ہیں جن کا استعمال ممکن نہیں رہتا۔ مختلف قسم کے جوتے، پینٹ شرٹس، خواتین کے ملبوسات، آٹا اور دیگر سامان اکثر و بیشتر ایسی فہرست میں شامل ہوتا ہے جو متاثرہ گھرانوں کے لیے وقتی ریلیف تو بن جاتا ہے مگر ان کی حقیقی ضروریات پوری کرنے کے بجائے ایک نئی مشکل کھڑی کر دیتا ہے۔ اس مجبوری میں جب متاثرہ لوگ کم داموں پر سامان فروخت کرتے ہیں تو آخرکار نقصان بھی انہی کا ہوتا ہے اور یہ امداد مقصودہ فائدہ دینے کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ہر گھر کی اپنی الگ نوعیت کی مشکلات ہیں۔ کسی کو بیمار بچے کی دوائی درکار ہے، کسی کو مکان کی مرمت کے لئے مزدور بلانے ہیں، کسی کو فصل کے لئے بیج اور کھاد خریدنی ہے اور کسی کو بچوں کی فیس یا کرایہ ادا کرنا ہے۔ ایسے میں ایک جیسا راشن یا ایک ہی نوعیت کا امدادی سامان سب کے لیے کارآمد نہیں ہوتا۔
یہی وہ موقع ہے جہاں نقد امداد سب سے موزوں، باعزت اور مؤثر طریقہ ثابت ہوتی ہے۔ نقد امداد متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرنے کی آزادی دیتی ہے بلکہ ان کے وقار اور خودمختاری کو بھی بحال رکھتی ہے۔ یہ بات انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ عملی حکمتِ عملی کا بھی تقاضا ہے کہ امدادی ادارے لوگوں کو پیسے فراہم کریں تاکہ وہ اپنی اولین ترجیحات کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔ دنیا بھر میں اور پاکستان میں بھی یہ طریقہ آزمایا جا چکا ہے اور بار بار ثابت ہوا ہے کہ نقد امداد سامان تقسیم کرنے سے زیادہ تیز رفتار، شفاف کارآمد اور زیادہ لوگوں تک امداد پہنچانے کاباعث بنتا ہے کیونکہ اس میں اضافی اخراجات جیسا کہ پروکیورمنٹ، ٹرانسپورٹیشن، لاجسٹکس اور تقسیم کر نے والے سٹاف اور وئیر ہاوزنگ کے اخراجات نہیں ہوتے ۔
زلزلہ 2005، ٹی، ڈی، پیز کے بحران 2009 اور سیلاب 2010 اور 2022 میں حکومت اور عالمی اداروں نے بینکوں، ڈاکخانوں اور موبائل کمپنیوں کے ذریعے نقد امداد پہنچائی اور لاکھوں خاندانوں نے اس سے براہِ راست فائدہ اٹھایا۔ آج جب جدید ڈیجیٹل نظام مثلاً موبائل والٹس، ایزی پیسہ اور جاز کیش جیسی سہولتیں دور دراز دیہات تک پہنچ چکی ہیں تو نقد امداد کی تقسیم نہ صرف آسان بلکہ قابلِ اعتماد اور فوری ہو گئی ہے۔ بایومیٹرک تصدیق اور شفاف ڈیجیٹل ریکارڈ نے کرپشن اور بدانتظامی کے خدشات کو بہت حد تک کم کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر ڈونرز، حکومتیں اور نفاذ کرنے والے ادارے ایک صفحے پر ہیں کہ نقد امداد کو نہ صرف فوری شاک ریسپانس میں استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے طویل المیعاد سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ساتھ جوڑ کر غربت اور محرومی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسانی ہمدردی کے شعبے میں نقد امداد کو سب سے زیادہ مؤثر طریقہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ امداد صرف ایک وقتی ریلیف نہیں رہتی بلکہ مقامی منڈیوں اور مارکیٹس کو زندہ کرتی ہے، روزگار کے مواقع بحال کرتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دیتی ہے۔
بونیر کے متاثرہ علاقوں میں چھوٹے دکاندار، کسان اور مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی کل جمع پونجی وہی دکان، کھیت یا اوزار تھے جو سیلاب کے پانی میں بہہ گئے۔ اگر انہیں بروقت اور شفاف طریقے سے نقد امداد فراہم کی جائے تو وہ اپنی زندگی کا پہیہ دوبارہ چلا سکتے ہیں۔ یہی وہ امداد ہے جو نہ صرف ایک فرد یا خاندان بلکہ پورے سماج کی بحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ امداد کو خیرات یا راشن تقسیم کرنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فوری، باوقار اور مؤثر نقد امداد کو اپنایا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو حقیقی معنوں میں سہارا دیا جا سکے۔
عالمی ادارے جیسے عالمی خوراک پروگرام (WFP)، ریڈ کراس ریڈ کریسنٹ موومنٹ (IFRC/PRCS) اور کیش لرننگ پارٹنرشپ (CALP) مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انسانی ہمدردی کے شعبے میں نقد امداد وہ ذریعہ ہے جو تیزی، شفافیت اور انسانی وقار کے ساتھ مدد کو وہاں پہنچا سکتا ہے جہاں اس کی اصل ضرورت ہے۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جو بونیر اور پاکستان کے دوسرے متاثرہ علاقوں کو محض بقا سے آگے بڑھا کر بحالی اور استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔

بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں