کیا پورے پاکستان کو عمران خان کے ساتھ خصومت ہے؟

سین نمبر ایک !
ہماری ایک کزن ہیں، ان کی شادی ایک بہت اچھے خاندان میں ہوئی، خدا کی ہر نعمت وہاں موجود ۔ سسرالی اچھے، شوہر اچھا، بیٹا بھی ملا، بیٹی بھی ملی، نوکر چاکر موجود، مگر ہر وقت ان کی زبان پر ایک ہی شکوہ، ہائے میری زندگی برباد ہو گئی، ہائے مجھے اس گھر میں کبھی سُکھ نہیں ملا۔ پیار نہیں ملا۔ ہر کوئی مجھ پر ظلم کرتا ہے۔ مماثلت،کسی بھی قسم کی، ہماری کزن میں عمران خان اور ان کے چاہنے والوں میں، اپ خود تلاش کریں۔

سین نمبر دو!
جیو ٹی وی جب سے آن ائیر ہوا ہے، اس وقت سے اگر کوئی اسے آنکھ بھی مار دے، تو اس کا دکھڑا شروع کہ ہائے میڈیا پر حملہ ہو گیا، ہائے پاکستان میں میڈیا پر ظلم ہوتا ہے۔ کسی مظلوم بہو کی طرح الاہنا شروع۔
کیا جیو ٹی وی میں اور عمران خان اور ان کے چاہنے والوں میں کوئی فرق ہے؟

سین نمبر تین!
جب بھی ترقی یافتہ دنیا میں کوئی حادثہ یا کوئی ظلم ہو جاۓ کسی مسلمان پر بس پاکستانی شروع کہ ساری دنیا مسلمانوں کی دشمن ہو گئی ہے۔ پاکستان اور مسلمان کے خلاف سازشیں کر رہی ہے۔ اسی طرح اگر وہ لوگ کسی مسلمان کو کوئی عزت دے دیں تب بھی ہنگامہ کہ اس عزت کے پیچھے بھی ان کافروں کی سازش ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں کا بھی تعلق غالباً پاکستان سے ہی ہے۔ ان کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ سب عمران کے دشمن ہیں۔ اس کی بہتری کی بھی بات کی جائے تب بھی شک کیا جاتا ہے۔

سین نمبر چار!
ہمارے ابو کے ایک کزن تھے، بہت معصوم اور بھولے بھالے سے۔ ہر روز کسی نا کسی رشتہ دار کے گھر پہنچ جاتے، ہر ایک کے آگے ایک ہی شکوہ کہ باپ اور بڑا بھائی دشمن ہیں، اُسے اپنے بزنس پر کام کرنے نہیں دیتے، پیسے نہیں دیتے۔ ایک دن ہمارے ابو جرگہ لے کر اُس بھولے کے گھر پہنچ گئے اور اس سادہ لوح کے باپ سے درخواست کی کہ اس بے چارے کو کسی کام پر لگا دو۔آگے سے پتہ چلا کہ وہ بھائی صاحب صبح بارہ بجے تو اُٹھتے ہیں، ماں کے لاڈلے اور زندگی کا ماٹو کہ باپ نے کما لیا ہے اب کام کرنے کا کیا فائدہ؟ خود کام وہ کرتے نہیں تھے، بس پورے خاندان میں باپ اور بڑے بھائی کو بدنام کرنا کہ اسے کام کرنے نہیں دیا جاتا۔ باپ اور بڑا بھائی سب کچھ کھا گیا۔ ۔۔۔کیاآپ کو نہیں لگتا کہ عمران خان بھی ہمارے ابو کے کزن کی طرح بہت معصوم اور بودلے سے ہیں؟

سین نمبر پانچ!
ابو کے جرگہ کے بعد ان کے کزن کے والد نے یہ فیصلہ کیا کہ بیٹے کو ایک چھوٹے پیمانے پر ایک دکان کھول کر دی جائے ۔ دُکان کھلنے کے ایک سال کے اندر اندر نقصان کی وجہ سے بند ہوگئی، کیونکہ کزن بجائے اپنی دُکان پر توجہ دینے کے ہمیشہ بڑے بھائی کی کھوج میں لگا رہتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ کتنا غبن کر رہا ہے۔
کیا عمران خان کا پختونخوا کے اوپر توجہ دینا زیادہ ضروری تھا یا باقی کے پاکستان میں ہنگامے کرنا؟

سین نمبر چھ!
طلعت حسین سب جرنلسٹ میں ہمارے خیال میں سب سے شریف اور بیلنس لکھنے والے ہیں۔ “آج” ٹی وی پر ان کے تجزیوں کو ہر کوئی اہمیت دیتا تھا۔ انہوں نے 2011 میں ایک ویب سائٹ شروع کی جہاں نئے لکھنے والےبھی اپنی تحریر پبلش کروا سکتے تھے۔ اُن کی ویب سائٹ ہمیشہ عمران خان کو سپورٹ کرتی نظر آتی تھی۔ پی ٹی آئی والوں کا ہمیشہ وہاں جھمگٹا لگا رہتا تھا۔ دھرنے کے دوران طلعت نے عمران خان کو سپورٹ نہیں کیا، بلکہ الٹا کہا کہ یہ ملک کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ وہ دن اور آج کا دن عمران خان سمیت اس کے لورز نے اُن کا ہمیشہ گالیوں سے استقبال کیا۔ وہاں سے طلعت کی ویب سائٹ اور اس کے تجزیے عمران کے خلاف ہو گئے۔ ۔۔۔یہ چھوٹا سا واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح عمران خان اور اس کے لورز نے تمام لوگوں، چاہیے لبرل ہوں، سیکولر یا اسلامسٹ، صحافی ہوں یا سیاست دان، سب کو اپنے خلاف کیا۔

حقیقت میں عمران خان کی اس ساری دھما چوکڑی کے پیچھے اس حقیقت اور یقین کا ہاتھ ہے کہ یہ لوگ 2018 کا الیکشن نہیں جیت سکتے۔ عمران خان کی طرح ان کے چاہنے والوں کو بھی یقینِ واثق ہے کہ ووٹ سے یہ مسلم لیگ کو شکست نہیں دے سکتے۔ اس لیے کبھی دھرنہ، کبھی کوئی مقدمہ، کبھی دھاندلی کا شور۔ بد قسمتی سے چار سال تو ان لوگوں نے دھرنوں، گانا بجانا، agitation اور شور شرابہ میں برباد کر دیے، پختونخوا کی حکومت کو کام کرنے نہیں دیا۔ بلکہ ان کو بھی دھرنوں میں لگائے رکھا۔ الٹا اسد عمر نے ڈرا کر رکھا کہ کوئی پیسہ خرچ نہ کرنا ورنہ تم پر بھی کرپشن کے چارجز لگ جائیں گے۔ چار سال سے development کا ستر فیصد بجٹ واپس چلا جاتا ہے۔ خرچ نہیں کیا گیا۔ صحت، تعلیم،سینی ٹیشن، پولیس اور دوسرے اداروں کا بیڑا غرق کیا۔

اب سوال ہے کہ کیا اسلامسٹ، ملا، سیکولر، لبرل والوں نے عمران خان کو کام نہیں کرنے دیا؟ کیا ان سب نے ہاتھ جوڑ کر یا زبردستی دھرنوں اور agitation کی سیاست پر لگائے رکھا؟ کیا سارا قصور لبرل ، سیکولر اور اسلامسٹ کا ہے کہ عمران خان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا۔ادھر ایک سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ اگر سارے عمران خان کے دشمن ہیں توآخر کون لوگ ان کے دیوانے ہیں؟ ان کے دیوانوں میں شامل ہیں، طالب علم، بے روزگار، بیرون ملک کام کرنے والے، تنخواہ دار، مڈل کلاس اور اپر کلاس، بینکر، آئی ٹی والے، سرکاری اداروں کے گریڈ اٹھارہ سے نیچے والے افسر، باپ کی کمائی پر عیاشی کرنے والے۔ ان سب کا یوٹوپیا اور تخیُّلاتی ہیولوں کا شہزادہ ہے عمران خان۔ یہ کسی انقلاب کےذریعے چاہتے ہیں کہ پردۂ غیب سے کوئی صورت اچانک نمودار ہوجائے اور سب کچھ الٹ پلٹ ہوجائے۔ پھر ان کا خوابوں کا شہزادہ چھڑی گھما کر پاکستان کو جنت بنا دے۔

مگر بقول مفتی منیب کے”ہمارے مقدر میں صرف دعوے ،نعرے ،فریب وسَراب ، یوٹوپیا اور تخیُّلاتی ہیولے ہیں ، انقلاب کی حقیقت نہ کبھی تھی ، نہ ہے اور نہ مستقبلِ قریب میں اس کے کوئی امکانات ہیں، سو نواز شریف رہیں یا مستعفی ہوں، ہمیں تدریجی ارتقا پر ہی قناعت کرنی ہوگی۔”
جو کام کرنے کے تھے، وہ ان کی پارٹی نے کیے نہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کی پارٹی سنٹر میں احتساب، الیکشن اور دوسرے اداروں کے لیے ریفارمز کرتے۔ نواز شریف اور ڈار کی غلط پالیسیز پر تنقید کرتے، ان کو صحیح کام کرنے پر مجبور کرتے۔ لوگوں کو بتاتے کہ ڈار نے بینکنگ سسٹم، زمین، اور اس سے جُڑی پچاس انڈسٹریوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ غلط فنانس پالیسی کی وجہ سے ملک کی انڈسٹریز کا وجود خطرے میں ہے۔ غلط پالیسیز کی وجہ سے ڈالر اپنی اونچی ترین سطح پر ہے۔ غریب لوگوں کے پانچ ارب کے قومی بچت کے سرٹیفکیٹ کا پروفٹ بھی کھا گئی ۔ دوسری طرف عمران خان دبا کر پختونخوا میں کام کرتے کہ فرق پختون خوا میں اور باقی کے پاکستان میں، صاف نظرآتا۔

مگراب ۔۔۔آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کس منہ سے اور کون سا ایسا جادو دکھا کر پنجاب والوں سے ووٹ لیں۔ اپ کے خیال میں اس وقت ہر کوئی عمران خان کا دشمن ہو گیا ہے، چاہیے لبرل ہو، سیکولر، اسلامسٹ، ہندو،کرسچن، سکھ یا مسلمان۔ بس صرف اے ار وائے ، مبشر لقمان اور ڈاکٹر مسعود جیسے لوگ ہی ہمدرد ہیں، باقی تمام لوگ دشمن ہیں۔۔۔اس معاندت کی وجہ سٹیٹس کو سے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ عمران کی اوٹ پٹانگ گفتگو ،اس کا ہر ایک کے ساتھ ناروا رویہ ، اور اس کا پختون خوا میں کوئی کام نہ کرنا ہے۔ سب کو نظر آ رہا ہے کہ اس اجتجاج سے پاکستان کی وحدت کو خطرہ ہے۔

2018 کے الیکشن کا رزلٹ توآپ سب کو صاف نظر آ رہا ہے اسی لیے کسی بھی طریقے سے وقت سے پہلے کوئی سات آٹھ سال کے لئے ان ٹرم حکومت آ جائے کہ بات بن جائے اور عمران خان وزیر اعظم بن جائے۔ پھر وہ کسی سادھو کی طرح ایک پھونک مارے گا اور پاکستان دنیا کی سپر پاور بن جائے گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ پنجاب کے لوگ تبدیلی نہیں چاہتے، تبدیلی کو ووٹ نہیں دیتے، پچھلے تیس سال سے مسلم لیگ، چاہہ کسی بھی حیثیت یا حالت میں ہو، یا کسی کے بھی پاس ہو، اسے ووٹ دیتے ہیں، مگر تبدیلی میں کوئی اور پارٹی نہیں چاہتے۔ آپ سارے عمران لورز اپنے علاقے کے لوگوں کو کنوینس نہیں کرتے کہ عمران کو ووٹ دیں۔ صرف سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں، گراؤنڈ میں نہیں اترتے۔ہمارے ابو کے کزن کی طرح محنت نہیں کرتے، بس مفت کی کھانا چاہتے ہیں اور جو کام کرتے ہیں ان پر صرف تنقید۔

عمران خان اور ان کے چاہنے والے ایک اور سوال کا بھی جواب دے دیں کہ ہم سارے عمران خان کی رادھا کیسے بنیں؟ میں بنو کیسے تیری رادھا؟ ۔آخر میں بس یہ ہی کہنا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ عمران خان ہی پنجاب میں 2018 کے الیکشن میں حکومت بنائے اور پنجاب ہی اسے پاکستان کا وزیر اعظم بنائے ۔ (کم از کم مارشل لا کے ایک میٹرک پاس سے تو اچھا ہی ہو گا ) صدقِ دل سے یہ دعا ہے کہ آپ سب لوگوں کی خواہش پوری ہو۔ آمین ثم آمین!

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”کیا پورے پاکستان کو عمران خان کے ساتھ خصومت ہے؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *