نئی سڑک پہ چلنے کا پہلا دن، اور تلوؤں میں چھپی مسرّت/احمد نعیم

اچانک
ایک صبح جب آپ سو کر اٹھ کر دیکھتے ہیں
کہ روز روز انتظامیہ کو گالی دے کر اپنے کام کی شروعات پہ جانے والی سڑک بن گی تو
ایک ایسی مسرت کا احساس ہوتا ہے
جیسے گمشدہ پاسپورٹ
یا
راشن کارڈ کے مل جانے پہ ہوتا ہے

نئی سڑک پہ چلنے کی مسرت وہی تلوے جانتے ہیں
جو روندی ہوئی سڑک سے کئی مرتبہ اپنے انگوٹھے یا چپل تڑوا چکے ہیں
یا کسی تیز بارش میں
جن کے پیر کی انگلی کے ناخن اکھڑ چکے ہوں

نئی سڑک پہ چلنے کی مسرت ایسی ہی ہے
جیسے
کسی کو اچانک الرجی سے نجات حاصل ہو گئی ہو
یا پھر
ایک ایسی مسرت
جیسے برسوں سے دھول، گرد و غبار میں
کسی کونے میں
یا طاق کے اوپر ٹنگا آئینہ جس کی جگہ چمکیلے آئینہ میں اپنا عکس دیکھنا
جیسی مسرت
نئی سڑک پہ قدم قدم چلنے کی مسرت

آپ کسی بھی عورت
بچے بوڑھے کے لبوں پہ دیکھ سکتے ہیں
ایک پرانی اور کھنڈر، گرد غبار میں اٹی سڑک
ایک باسی صبح مرمت شدہ ملتی ہے
تو آدمی کو احساس ہوتا ہے
جیسے اُس نے آج بڑی فرصت سے
اپنے جسم کی صفائی کی ہے

نئی سڑک کا وجود ایک کچی بستی کے مکینوں کے لیے
جیسے خواب آنکھوں میں انڈے دے دیتے ہیں
اس سے کچھ موسم خوشگوار گزارتے ہیں
مگر
آنے والی بارش کی تیسری چوتھی بارش میں
کچے میڑیل والی سڑک بہہ جاتی ہے
دوسرے تیسرے ٹینڈر کے انتظار میں

julia rana solicitors london

کچی سڑک سے
اچھی سڑک
اور اچھی سڑک سے اچانک تیز بارش میں بہہ جانے والی سڑک
تبدیل کچھ نہیں ہوتا
بس وقت بے وقت
ہماری آنکھیں بدل جاتی ہیں
چیزیں اپنی جگہ وہی رہتی ہیں،

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply