کہتے ہیں وزیر اعظم اور ان کے کبھی مخالف اور سیاسی جان کے دشمن سب ہائبرڈ نظام سے بہت خوش ہیں۔ہماری جانے بلا کہ وہ خوش ہیں یا نہیں ان کی دیکھا دیکھی خود ہمارے گھر میں بھی یہ موذی نظام گھس گیا ہے۔گھر میں کیا تھا کہ ترا غم اسے غارت کرتا کے مصداق ہماری بیگم جو گھریلو ہائبرڈ بولی کی موجد ہیں،نے اپنی قائم کردہ چار دیواری میں یہی نظام نافذ کر دیا ہے۔جب ہم ناک بھوں چڑھایا تو انہوں نے ہمیں ملکی معاملات میں اس نظام کے نفاذ کی خبریں پڑھ پڑھ کر سنا دیا اور خوش ہونے لگیں۔ تان اس پر آ کر ٹوٹی کہ آپ بھی تو قلم گھسیارا ہو کبھی کوئی کام کی بات کالم میں لکھی؟۔گھسیارا کی ترکیب تو سنی ہوئی تھی یہ قلم گھسیارے کی ترکیب اسی ہائبرڈ نظام کی ہی عطا ہو سکتی تھی۔
قلم گھسیاروں کی کئی اقسام ہیں اور ان میں ایک آپ بھی ہیں۔ قلم گھسیارا مگر ہوتا کون ہے وہی جو وہ لکھتا ہے جس کا معاشرے کے مسائل تعلق نہیں ہوتا اور ادھر ادھر کی باتوں کا ماہر ہوتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ قلم گھسیارا کس لیے قلم گھسیٹ رہا ہے۔مثلاً وہ اپنے پیٹ درد کی داستان سنا کر کالم کا پیٹ بھر سکتا ہے۔اب پیٹ درد کی داستان لکھنی ہے تو کسی حکیم قولنجی کا بھی ذکر ضروری ہے۔جب حکیم کو قولنجی کہہ دیا اور اسے استہزا کا نشان بنا دیا تو اس کی ہئیت کذائی کے لیے اس کا لباس ایسا بتایا جاتا ہے کہ قاری کو کسی قسم کا تردد کرنا ہی نہ پڑے۔مثلاً آپ حکیم کو وہ ترکی ٹوپی پہنا سکتے ہیں جو کبھی سٹیٹس سمبل ہوا کرتی تھی۔جیسے عثمانیوں کے عہد میں پاشا ایک بڑا عہدہ ہوتا تھا انگریزوں نے اس عہدے کی مٹی پلید کی اور ہم اہلِ پنجاب نے نوٹنکی اور سوانگ بھرنے والے کو باشا کہنا شروع کر دیا۔
ہم نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی اور کاغذ قلم لے کر بیٹھ گئے اور قوم کی حالت زار اور اس کے ممکنہ حل پر غوروخوض کرنا شروع کر دیا۔اب ہمارے ذہن ِزرخیز میں ہزار ہا حل آئے اور ان میں کسی ایک پر عمل شروع ہو جائے تو ملک کی ٹرین جو پچھلے اسی سالوں سے ڈی ٹریک ہو چکی ہے لائن پر چڑھ جائے۔جو چند لائنیں لکھی تھیں ان میں سرِ فہرست خط ِغربت کے بارے میں روشنی ڈالی تھی اور لکھا تھا کہ سن اکہتر میں پاکستان کے دونوں حصوں کی کل آبادی سات کروڑ کے لگ بھگ تھی۔اس سات کروڑ کی تعداد کو ڈبل کریں تو اتنے لوگ اس وقت اس غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزارنے مجبور ہیں۔اس سے آگے ہم نے یہ بتایا تھا کہ خط ِغربت کا سب سے پہلے کس نے ذکر کیا تھا اور اس کو جانچنے کا کیا طریقہ ہے اس پر بھی ایک نوٹ لکھا تھا۔بیگم صاحب چلتے پھرتے پاس سے گزریں اور گویا ہوئیں کہ سن دو ہزار پچیس میں کون سے خط اور کون سی غربت کا ذکر ہو رہا ہے۔چند سال پہلے تک واقعی یہاں غربت تھی اور لوگ مالی تنگدستی کی وجہ سے اپنی جان لینے کے فضول خیالات کا شکار ہو رہے تھے مگر اب ایسی کوئی صورت حال نہیں اور اشاریے اور اعشاریے مثبت نظر آ رہے ہیں۔آپ نے ضرور معاشی ماہرین کی آرا نہیں پڑھی ہوں گی۔
ہم بھی اپنی دھن کے پکے تھے وہ آنکھوں سے اوجھل ہوئیں تو ہم نے لکھ دیا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً دو تین کروڑ بچے سکول نہیں جا پاتے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے چوالیس فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ تعداد وقت کے ساتھ مختلف رپورٹس میں کچھ فرق کے ساتھ سامنے آتی ہے، جیسے کہ یونیسکو اور یونیسیف کے مطابق 2 کروڑ 28 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ غربت، بنیادی سہولیات کی کمی، اور سماجی و ثقافتی رکاوٹیں اس کی اہم وجوہات ہیں۔ بولیں آپ نہیں سمجھیں گے یہ ہائبرڈ فلاسفی۔
پھر بولیں بھئی پرانے زمانے لد گئے اخبار نکلنا بند ہو گئے ہاکر کی آوازیں شہر کے شور میں دفن ہو گئیں۔بک سٹال جہاں دنیا جہان کے اخبار پڑے ہوتے تھے فنا ہو گئے۔ہفتہ وار میگزین اور ماہنامہ ڈائجسٹ کسی نااقتدارا معلوم قبر میں جیتے جی اتار دیے گئے۔ایک لڑکا جو گلیوں گلیوں اخبار بیچا کرتا تھا گلی کی نکڑ پر بیکار بیٹھا ہوتا ہے۔آخر یہ خبریں اور ایسے تبصرے آپ کہاں سے حاصل کرتی ہو وہ بولیں ہائبرڈ زمانہ ہے۔اخبارات کی کیا ضرورت ہے۔ہر شے ہائبرڈ طریقے سے دستیاب ہے۔ہم نے کہا اب تو لڑکا بھی اخبارات کی ہاکری سے توبہ تائب ہو گیا ہے۔ترنت گویا ہوئیں وہ تو اچھا بھلا کاروبار کر رہا ہے اور غیر ملک میں مقیم ہو گیا ہے۔مگر اس کے پاس تو اس قدر وسائل نہیں تھے کہ وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوتا۔معلوم ہوا کہ بہت سارے دوستوں کے ساتھ وہ کابل میں ہوتا ہے۔کابل بھی تو غیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔چھوٹا سا بزنس ہے گوجرانوالہ اور گجرات سے کم لاگت والے برتن خریدتا ہے اور وہاں چھوڑی سی دوکان پر اپنا روزگار چلاتا ہے۔ہم بیگم سے اچھے خاصے مرعوب اور ان کے جنرل نالج سے متاثر ہو چکے تھے پوچھا اچھا اچھا یہ تو ٹھیک ہے مگر یہ ہائبرڈ کی بلا کا نزول کیسے ہوا؟۔بولیں میثاق ِجمہوریت کے لیے جب گرو لوگ ایک ہوئے تو اسٹیبلشمنٹ نے اسی وقت اس ہائبرڈ نظام لانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور معاملات اپنے ہاتھ لے لیے تھے کیا سمجھے۔جب دو گرو ایک میثاق کے نام پر ایک ہوئے تب ہی ان کو بنانے والوں نے تیسرا آپشن متعارف کروا دیا۔اس میں پہلے نمبر پر ہائبرڈ نظام تھا اور دوسرے نمبر پر عمران خان آگے لانے کا فیصلہ ہوا۔پہلا آپشن تو کامیابی سے چل رہا ہے البتہ دوسرے آپشن نے متعارف کروانے والوں کو ہی نشانے پر رکھ لیا ہے۔آپ بھی کالم میں کسی فلسفے کی مار نہ مارا کریں ۔ویسے بھی کالم ایسے ہونے چاہئیں جیسے حلوہ ہو حلوہ زبان پر رکھیں اسے بغیر چکھے سیدھا معدہ میں پہنچے اور حلق کو پتہ بھی نہ چلے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں