فکری لحاظ سے مذہبی/جمشید اقبال

ایک پراجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ہماری ایک غیر ملکی سُپروائزر ایک لفظ کا بہت زیادہ استعمال کرتی تھیں اور وہ لفظ تھا religiously۔ آپ نے ان پروٹوکولز پر religiously عمل کرنا ہے۔ ایس او پیز کو religiously فالو کرنا ہے، وغیرہ۔
ہمارے ایک دوست ہماری طرح کوئی خاص مذہبی نہیں تھے تو انہوں نے پوچھ لیا کہ آپ نے یہ تکیہ کلام کیوں بنایا ہوا ہے، اگرچہ آپ بالکل مذہبی نہیں ہیں تو اس خاتون نے کہا کہ فکری لحاظ سے میں بھی مذہبی نہیں ہوں لیکن ثقافتی لحاظ سے کچھ عرصہ مذہبی رہتے ہوئے میں نے ایک بات سیکھی ہے کہ عبادت کا سلیقہ ہمیں اپنا کام عبادت کی طرح کرنا سکھاتا ہے۔ آپ عبادت کرتے رہیں اور عبادت جیسی سنجیدگی اور خلوص کی جھلک آپ کے کام میں دکھائی نہ دے تو آپ کی عبادت اور کام دونوں بے کار ہیں۔
مجھے اُن کی یہ بات اس قدر پسند آئی کہ اب کوئی پوچھتا ہے کہ رات دس سے بارہ بجے کے درمیان فون کیوں نہیں اٹھایا تو اکثر منہ سے نکل جاتا ہے کہ یہ میرے جم کا وقت ہوتا ہے اور یہ کام میں religiously یا عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔
ابھی سیلاب کے دنوں میں جب ہر طرف شور ہے کہ سب ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے، سب دین سے دُوری کا نتیجہ ہے اور پوچھا جائے کہ کیا کرتے تو یہ سب نہ ہوتا تو جواب میں جو بتایا جاتا ہے وہ ہے عبادت۔ لیکن یہ بات اگر سچ ہے تو ادھورہ سچ ہے۔ ہمارے ہاں کام الگ سے کیا جاتا ہے اور عبادت الگ سے۔ ہم میں سے ہر ایک کا تجربہ ہے کہ ہمارے عبادت گذاروں کی عبادت کا رنگ ان کے کام میں نظر نہیں آتا بلکہ عبادت کو کام چوری کا بہانہ سمجھا جاتا ہے۔ رمضان ہے تو کوئی کام نہیں کرنا، فلاں کام کیوں نہیں کیا ، جی نماز پڑھ رہا تھا۔
ہمارے ہاں عبادتوں پر زور ہے ، عبادتوں کا شور ہے لیکن اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں اور وجہ وہی ہے کہ عبادت اور کام میں خلیج ڈال دی گئی ہے۔ لوگوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اپنا کام ، اپنا فرض عبادت سمجھ کر ادا کرو گے تو دن میں پانج بار نہیں ہزاروں بار عبادت کا موقع ملے گا۔ رات کو آرام بھی اس نیت سے کرو گے کہ صبح اپنا کام عبادت جیسے خلوص سے کرسکو تو نیند بھی عبادت بن جائے گی۔
تاہم اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ عبادت کام میں خلوص پیدا کرنے کی بجائے کام چوری کی دلیل ہے۔ عبادت کی نمائش کرنے والوں کا کام ان کی عبادتوں میں خلوص کا بھی بھانڈا پھوڑتا ہے۔ آپ عبادت کرتے رہیں اور عبادت جیسی سنجیدگی اور خلوص کی جھلک آپ کے کام میں دکھائی نہ دے تو آپ کی عبادت اور کام دونوں بے کار ہیں۔
اصل عبادت گذار اور دین دار وہ شخص ہے جو اپنا کام عبادت سمجھ کر پورے خلوص سے کرتا ہے۔ ہمارے ملک میں religious تو بہت ہیں، مذہب کی اوٹ میں کام چوری کرنے والے بہت لیکن religiously کام کرنے والے بہت کم اور یہ ہے اصل دین سے دُوری جو ہماری تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔

julia rana solicitors

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply