• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہم پیاسے کوّے سے بھی زیادہ نااہل نکلے/ملک گوہر اقبال خان رما خیل

ہم پیاسے کوّے سے بھی زیادہ نااہل نکلے/ملک گوہر اقبال خان رما خیل

بچپن کی ایک کہانی آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ اسکول کی کتابوں میں چھپی وہ سبق آموز حکایت جس میں ایک پیاسا کوا پانی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ بالآخر اسے ایک گھڑا ملتا ہے لیکن پانی اتنا نیچے ہوتا ہے کہ چونچ وہاں تک نہیں پہنچتی۔ کوا ہار نہیں مانتا، وہ ایک ایک پتھر اٹھا کر گھڑے میں ڈالتا ہے۔ پتھروں کی تعداد بڑھتی ہے تو پانی اوپر آتا ہے اور آخرکار کوا اپنی پیاس بجھا لیتا ہے۔
یہ کہانی صرف بچوں کی تفریح کے لیے نہیں تھی، اس کے اندر ایک فلسفہ چھپا ہوا تھا۔ اور یہ فلسفہ ہم تب سمجھیں گے جب اپنی حالت پر نظر ڈالیں گے۔
عزیزانِ من ۔
کلاؤڈ برسٹ کوئی ماورائی یا غیر مرئی طاقت نہیں بلکہ ایک قدرتی مظہر ہے۔ جب نمی سے بھری ہوئی ہوائیں پہاڑوں سے ٹکراتی ہیں اور اچانک ٹھنڈی ہو کر پانی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو چند منٹوں کی بارش گھنٹوں کی تباہی ڈھاتی ہے۔ یہ بارش کسی ایک چھوٹے علاقے میں اترتی ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے بستیاں اجڑ جاتی ہیں۔
دنیا بھر کے پہاڑی سلسلے کلاؤڈ برسٹ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ہمالیہ کے دامن، نیپال، بھارت کے شمالی علاقے، پاکستان کا گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا اس کی بڑی مثال ہیں۔ یورپ میں فرانس اور امریکہ کی پہاڑیاں بھی اس تجربے سے گزرتی ہیں۔
ریگستانی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ وجہ صاف ہے: ہوا میں نمی ہی نہیں، بادل بھاری نہیں ہوتے، اس لیے بارش کے طوفانی امکانات نہ ہونے کے برابر رہتے ہے
یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ جنگلات کی کٹائی کلاؤڈ برسٹ کا سبب بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلاؤڈ برسٹ فضا کے نظام اور پہاڑوں کے ڈھلوان سے جڑا ہے۔ ہاں مگر جنگلات ہوں تو وہ پانی کو جذب کرتے ہیں، بہاؤ کو قابو میں رکھتے ہیں اور پہاڑوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ جنگلات کٹ جائیں تو پہاڑ ننگے ہو جاتے ہیں، پانی کا ریلا سیدھا اسی ننگے پہاڑ کے پتھروں کی فوج لیکر بستیوں پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ یوں تباہی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ آسمان سے برسنے والے کلاؤڈ برسٹ کو ہم نہیں روک سکتے، لیکن زمین پر اپنی بربادی کا سامان ہم خود کرتے ہیں۔ حالیہ سیلابوں نے یہ راز کھول دیا ہے کہ اصل نقصان قدرتی نہیں، انسانی لالچ کا نتیجہ ہے۔ ہم نے دریاؤں کے بیچ بستیاں بسائیں، ہم نے دریا کے راستے پر قبضے کیے عمارتیں اور بازار بنائے۔ نتیجہ صاف ہے: جیسے ہی دریا بپھرتا ہے، سب سے پہلے انہی آبادیوں کو بہا لے جاتا ہے۔ ہم وقتی طور پر رو دھو کر دوبارہ وہی غلطی دہراتے ہیں۔
عزیزانِ من ۔ سیلاب ترقی یافتہ ممالک میں بھی آتے رہے ہیں اور آتے ہیں لیکن باشعور قومیں اس کا سدباب کرتی ہیں مثال کے طور پر
چین صدیوں سے دریائے یانگسی اور دریائے ہوانگ ہو (پیلا دریا) کے سیلابوں سے تباہ ہوتا آیا ہے۔
1931 کا سیلاب دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انسانی المیہ تھا جس میں اندازاً 20 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، کھیتیاں تباہ ہو گئیں، اور بیماریوں نے مزید جانیں لیں۔
اس سانحے نے چین کو مجبور کیا کہ وہ سیلاب کو سنجیدگی سے کنٹرول کرے۔
اسی لیے چین نے بڑے پیمانے پر ڈیمز اور ریزروائرز بنائے۔ سب سے مشہور تھری گورجز ڈیم ہے، جو نہ صرف بجلی پیدا کرتا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر سیلابی پانی کو روک کر آہستہ آہستہ چھوڑتا ہے۔
نتیجہ: چین میں آج بھی بارش اور فلڈ آتے ہیں، لیکن وہ 1931 جیسے قیامت خیز نہیں ہوتے۔
ہالینڈ کا 70 فیصد علاقہ سمندر سے نیچے ہے۔ تاریخ میں بار بار سیلاب آیا اور ہزاروں زندگیاں لیں۔
1953 کا شمالی بحیرہ سیلاب آخری بڑی تباہی تھی جس میں تقریباً 2000 لوگ مارے گئے۔
اس کے بعد ہالینڈ نے دنیا کا سب سے بڑا فلڈ پروٹیکشن منصوبہ “ڈیلٹا ورکس” بنایا۔
اس منصوبے میں سمندر کے راستے پر ایسے گیٹ سسٹمز ہیں جو طوفان یا اونچی لہروں کے وقت خود بخود بند ہو جاتے ہیں۔
دریا کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے بیریئرز، ڈیمز اور نہریں بنائی گئیں۔
اب ہالینڈ کو دنیا کا سب سے محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے سیلاب کنٹرول کے لحاظ سے۔
1927 کا سیلاب امریکہ کی تاریخ کا سب سے خطرناک سیلاب تھا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، کھیتیاں اور شہر ڈوب گئے۔
اس کے بعد امریکی حکومت نے سخت اقدامات کیے:
بڑے بڑے لیویز (پشتے) تعمیر کیے تاکہ دریا کنارے نہ توڑے۔
فلڈ بیسنز (Flood Basins) بنائے گئے تاکہ اگر پانی زیادہ ہو تو وہ مخصوص جگہوں پر پھیل جائے، شہروں کی طرف نہ آئے۔
جدید ترین ریڈار وارننگ سسٹمز لگائے گئے تاکہ لوگوں کو بروقت اطلاع ملے۔
نتیجہ: آج مسیسیپی اب بھی طاقتور دریا ہے، لیکن اس کی تباہ کاری بہت حد تک کنٹرول ہو چکی ہیں
جاپان میں ٹائیفونز اور شدید بارشیں عام ہیں۔ اگر انہوں نے کوئی منصوبہ بندی نہ کی ہوتی تو ٹوکیو جیسے بڑے شہر بار بار ڈوب جاتے۔
اسی لیے جاپان نے دنیا کی سب سے بڑی زیر زمین واٹر ڈائیورژن سسٹم بنایا:
Tokyo Metro Area Outer Underground Discharge Channel۔
یہ کئی کلومیٹر لمبی زیر زمین سرنگ ہے جس میں اضافی بارش کا پانی جمع کر کے آہستہ آہستہ محفوظ جگہوں پر چھوڑا جاتا ہے۔
اسے “انڈرگراؤنڈ واٹر کیتھیڈرل” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک قلعے جیسی مضبوط سرنگ ہے۔
نتیجہ: آج جاپان بڑے شہروں کو بار بار کے سیلاب سے محفوظ رکھتا ہے۔
یہ تمام مثالیں ایک بات ثابت کرتی ہیں:
تباہی کے بعد اگر عقل استعمال کی جائے تو انسان قدرتی آفات کے نقصانات کو بہت حد تک کم کر سکتا ہے۔
یہ ملک سیلاب روکنے کے لیے جنگلات، ڈیمز، پشتے، بیریئرز، فلڈ بیسنز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔
اگر یہ سب کچھ ممکن ہے تو ہم بھی اپنے دریاؤں اور برساتی نالوں کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ہر بار دریا کے رحم و کرم پر نہ ہوں۔
عزیزانِ من ۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ چین، ہالینڈ، جاپان اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی وہ حکمتِ عملیاں اور تھیوریز تفصیل سے مطالعہ کرے جو انہوں نے سیلاب کے سدباب کے لیے اپنائی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو ان ممالک کے ماہرین کو پاکستان مدعو کر کے ان کے تجربات اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے، تاکہ برساتی نالوں اور مون سون کے دوران بپھرنے والے دریاؤں کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
لیکن اگر یہ راستہ اختیار کرنا مشکل ہو تو ہمیں اپنی روایتی دانش اور دیسی حل نکالنے کی طرف آنا چاہیے، جس میں ہم مہارت رکھتے ہیں۔ سب سے بنیادی اور مؤثر قدم یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرے اور سختی سے عمل درآمد کروائے۔ مثال کے طور پر، دریاؤں اور برساتی نالوں کے دونوں کناروں سے کم از کم بیس بیس فٹ کے فاصلے تک بازاروں، گھروں اور بستیوں کو ہٹوا کر یہ علاقہ مستقل طور پر دریاؤں اور نالوں کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔
ایسا کرنے سے قدرتی آفات کے دوران چاہے کتنے ہی شدید کلاؤڈ برسٹ کیوں نہ ہوں، بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے گا۔ یہ اقدام وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل اور پائیدار حل ثابت ہوگا، جو آنے والی نسلوں کو بھی محفوظ رکھے گا۔
اب ذرا پھر اس پیاسے کوے کی کہانی یاد کیجیے۔ کوا عقل مند نکلا، پتھر ڈال ڈال کر اپنی پیاس بجھائی اور جان بچائی۔
لیکن ہم نے کیا کیا؟ ہم نے پہاڑوں کے درمیان سے قیمتی جنگلات کاٹ ڈالے، پہاڑوں کے سینے چاک کر کے سڑکیں اور تفریحی مقامات تو تعمیر کر لیے، مگر حفاظتی اقدامات کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سرسبز پہاڑ، جو بارش کے پانی کو اپنے اندر جذب کر کے قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے تھے، آج پتھروں کے ڈھیر میں بدل گئے ہیں۔
جب کلاؤڈ برسٹ ہوتا ہے تو بارش کے پانی کے ساتھ وہی ڈھیلے پتھر بہہ کر ندی نالوں میں آ جاتے ہیں، اور پھر یہی پانی اور پتھر مل کر نیچے کے شہروں اور بستیوں کو اجاڑ ڈالتے ہیں۔ گویا ہم نے اپنی ہی غفلت اور غلط ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے کلاؤڈ برسٹ کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم خود اپنے ہاتھوں سے قدرتی آفات کو بڑھاوا دے کر اپنی بربادی کا سامان تیار کر رہے ہیں۔
فرق واضح ہے: کوا اپنی عقل سے کامیاب ہوا اور ہم اپنی عقل کے باوجود تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ یوں ہم پیاسے کوے سے بھی نااہل ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply