• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • علامہ مرتضیٰ مطہری توانائی کے مفہوم کو نہ سمجھ سکے/ حمزہ ابراہیم

علامہ مرتضیٰ مطہری توانائی کے مفہوم کو نہ سمجھ سکے/ حمزہ ابراہیم

توانائی (energy) کا لفظ جدید سائنس میں ایک گہرے مفہوم کو بیان کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد حرکت پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ نیوٹن کے دوسرے قانون کو طاقت (force) کے بجائے توانائی کی تبدیلی کی شرح کی صورت میں لکھا جائے تو بعض مسائل کا حل آسان ہو جاتا ہے۔ کوانٹم فزکس میں اسی مفہوم کو استعمال کر کے کائنات کو سمجھا گیا ہے۔ اگرچہ فورس کے مفہوم کو استعمال کرنے سے بھی وہی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

جدید سائنس کے مطابق کائنات توانائی ہی ہے، زمان و مکان بھی اس سے بنے ہیں۔ اس کی کل عددی مقدار مستقل ہے۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں خلق ہوئی اور وہ بگ بینگ ابھی بھی جاری ہے، یعنی اس کائنات کے زمان و مکان پھیلتے جا رہے ہیں۔ توانائی کبھی مادے کے بنیادی ذرات تشکیل دیتی ہے، تو کبھی برقی ہے جس کی پیمائش بجلی کے بل کی صورت میں ہوتی ہے۔ ہر قسم کی توانائی کی ماہیت الگ ہوتی ہے۔ کبھی یہ حرارت ہے، کبھی حرکی توانائی ہے، کبھی آواز ہے۔ ہمارے دماغ میں الفاظ و اعداد توانائی کی تراکیب ہیں۔ ہمارا علم انہی الفاظ و اعداد کی شکل میں ہوتا ہے۔ ہمارے حواس سے جو نہایت محدود معلومات ملتی ہیں وہ توانائی کے سگنلز ہوتے ہیں۔ روشنی بھی توانائی کی ایک قسم ہے کہ جس سے بجلی بھی بنائی جا سکتی ہے۔ پودے روشنی سے پرورش پاتے ہیں، اس کو استعمال کر کے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور زمین کی مٹی سے پانی و غذا حاصل کرتے ہیں۔ پودوں میں روشنی اور دیگر ذرات جس کیمیائی توانائی کی شکل میں اکٹھے ہوتے ہیں اسے جانور کھا کر پرورش پاتے ہیں۔ جانور اس کے علاوہ پانی، آکسیجن اور روشنی بھی استعمال کرتے ہیں۔ غرض توانائی مختلف اقسام میں ہوتی ہے۔ جسمانی صورت میں ہو تو اسے مادہ کہتے ہیں، مادے سے روشی بنے تو ایٹم بم میں پھٹ کر شہر نگل سکتی ہے۔ اس کی مختلف اقسام مل کر کسی اور قسم میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جیسے ریڈیو میں بجلی اور سگنلز سے آواز پیدا کی جاتی ہے۔ چولہے میں ایندھن کی کیمیائی توانائی سے حرارت اور روشنی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کی قدرت لامحدود نہیں۔ زندہ اشیاء کا نہایت محدود علم، ارادہ اور زندگی اسی کی اقسام ہیں۔  بقول رومی

ہر لحظہ بہ شکلی بتِ عیار در آمد

لیکن اسے خدا نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ اسپنوزا نے کائنات کو خدا کہا۔ رومی ہوں یا اسپنوزا ہوں، وہ لوگ توانائی، یعنی کائنات، کو ٹھیک سے نہیں سمجھے تھے اور ان کی باتیں بس تخیلات کی حد تک تھیں۔ ان کی کوئی علمی قیمت نہیں ہے۔ توانائی کو ٹھیک سے سمجھنا جدید سائنس کا کارنامہ ہے۔ اس کی ہر قسم کا ریاضیاتی مساواتوں کی شکل میں مکمل علمی احاطہ کیا جاتا ہے۔ اس احاطے کی وجہ سے ان اقسام کو قابو میں لا کر جدید صنعت کا پہیہ چلایا جا رہا ہے۔ اب توانائی کی کل مقدار کا حساب لگایا جا چکا ہے۔ توانائی کی وحدت عددی ہے۔ وہ مرکب ہے، اسلئے اس میں تشکیک ہوتی ہے اور وہ اجزاء میں تقسیم بھی ہوتی ہے۔ مادہ و توانائی حادث ہیں، ان سے ذاتاً جڑے مکان و زمان بھی حادث ہیں۔ توانائی پاک کھانے کی شکل میں کھائی جاتی ہے تو ناپاک پاخانے کی شکل میں ٹھکانے بھی لگائی جاتی ہے۔ وہ کسی سے پیدا ہو کر کسی کو جنم بھی دیتی ہے، جیسا کہ ایک فوٹان سے دو ذرات بن سکتے ہیں۔ غرض اس میں مخلوق کی وہ سب صفات ہیں جن سے متکلمین کے مطابق خدا پاک و منزہ ہے۔ خدا مخلوق سے ذاتاً الگ ہے۔ توانائی ممکن الوجود ہے، خدا واجب الوجود ہے۔  توانائی کے بتِ عیار کو پوجنا بیوقوفی ہو گی۔

علامہ مرتضیٰ مطہری کا مختصر تعارف

علامہ مرتضیٰ مطہری (متوفیٰ 1979ء) ایران کے ایک مشہور عالم ہو گزرے ہیں۔ ان کی کتابوں کے تراجم پاکستان میں کئی مرتبہ شائع ہوئے اور اب بھی چھپتے ہیں۔ ان کی کتابوں سے ظاہر ہے کہ وہ وسیع المطالعہ اور محنتی شخص تھے، اگرچہ بہت سی باتوں کو ٹھیک سے سمجھنے میں ناکام بھی رہے۔ وہ 1919ء میں ایرانی صوبے خراسان کے ایک قصبے فریمان میں پیدا ہوئے۔ وہ سکول نہ جا سکے۔ انہوں نے دینی تعلیم کیلئے قم کا رخ کیا۔ ادھر تہران یونیورسٹی میں 1935ء میں اسلامیات کا شعبہ قائم ہو چکا تھا، جسے آج کل دانشکدۂ الہیات کہا جاتا ہے۔ قم میں دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ساٹھ کی دہائی میں وہ تہران یونیورسٹی میں اسلامیات کے استاد بھرتی ہوئے۔ وہ تہران کے جدید طرز کے امام بارگاہ حسینیہ ارشاد کے سرگرم رکن رہے اور وہاں علمی مباحثوں میں شریک رہے۔ وہ گفتگو پر یقین رکھنے والے اور ایک معتدل شخص تھے۔ 1979ء میں ایران میں انقلاب آنے کے کچھ ماہ بعد ہی آیت اللہ خمینی کی ایک مخالف تنظیم فرقان کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ایران میں پچھلے سو سال سے مختلف انواع و اقسام کی  انتہاپسندی پھیلی ہوئی ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ علامہ مرتضیٰ مطہری وحدت الوجود کے تصور سے برآمد شدہ عرفان کے قائل ہیں، جو کہ ملا صدرا کا مکتب فکر بھی ہے۔ پاکستان کے معروف شیعہ عالم علامہ محمد حسین نجفی ڈھکو نے اپنی کتاب اقامۃ البرہان میں ان کے ایک رسالے سے عبارات پیش کر کے ان کی فکر کو باطل قرار دیا ہے۔

علامہ مرتضیٰ مطہری اور ان کے استاد علامہ طباطبائی نے اصولِ فلسفہ نامی کتاب میں نیوٹن کے قوانینِ حرکت اور توانائی کے مفہوم پر بھی بحث کی ہے۔ دونوں علامہ صاحبان کی بنیادی الجھن ان کے اذہان پر لگی قدیم یونانیوں کے خیالات کی گرہیں ہیں۔ چنانچہ حرکت کے بارے میں ان استاد و شاگرد کا سارا زور اس بات پر ہے کہ جدید طبیعیات اور قدیم طبیعیات کو تاویلوں کے ذریعے متحد کریں، تاکہ ان کے پرانے نوفلاطونی فلسفے کا ریت سے بنا محل گر نہ جائے۔ وہ متروکہ یونانی طبیعیات کے تصورِ حرکت کو فلسفی حرکت کی اصطلاح میں لپیٹ کر قاری کو مغالطہ دیتے ہیں۔ جبکہ جدید فلسفہ تو جدید سائنس پر قائم ہے اور وہ یونانی طبیعیات کو قبول نہیں کرتا۔  بہرحال علامہ صاحبان  قاری کو یہ باور کرانے پر بہت وقت صرف کرتے ہیں کہ نیوٹن نے جو کہا وہ کسی نہ کسی طرح پرانے فلسفے کے نظریات کا ہی ایک اور بیان ہے۔ البتہ توانائی کے مفہوم پر آ کر وہ بری طرح پھنس جاتے ہیں۔

توانائی کے بارے علامہ صاحبان کی الجھنیں

نہایۃ الحکمہ میں علامہ طباطبائی کہتے ہیں:

”اگر یہ بات درست ہو کہ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مادہ توانائی میں تبدیل ہو سکتا ہے اور مادہ توانائی کے ذرات کے اکٹھا ہونے سے تشکیل پاتا ہے، ضروری ہو گا کہ فلسفی بحثوں میں توانائی کو سلسلۂ جواہر میں ایک عالی نوع قرار دے کر جسم سے پہلے رکھا جائے۔“ (1)

یہ بات درست نہیں ہے۔ جوہر کی تعریف اور مصداق کے تعین میں تھوڑا غور کیا جائے تو یہ معلوم ہو گا کہ یہ حضرات جسے جوہر سمجھتے تھے وہ اشیاء کی کیمیائی ترکیب ہوتی تھی اور وہ ترکیب توانائی سے پہلے نہیں بلکہ بنیادی ذرات، یعنی چھوٹے اجسام، سے بننے والے ایٹموں کے بعد آنی چاہئے۔ یعنی:

توانائی –> ذرات (چھوٹے اجسام) –> ایٹمز –> مالیکیولز (کیمیائی مرکبات) –> بڑے اجسام

بہتر روش یہی ہے کہ جوہر کا لفظ استعمال نہ کیا جائے، جوہر ایک غیر ضروری مفروضہ تھا۔ تاہم اگر یہ لفظ استعمال کرنا پڑے تو اس کے معنی کو مشخص کیا جائے اور یہ یاد رہے کہ اس کی بنیاد میں کیا ہے؟

توانائی کے بارے ان حضرات کی اصل الجھن پرانے فلسفے کی یہ عبارت ہے کہ ”ان الہیولیٰ لا تتجرد عن الصورۃ“، یعنی جسم سے اس کی صورت الگ نہیں ہو سکتی۔ اب توانائی جب جسمانی ذرات سے روشنی میں بدلے گی تو صورتِ جسمیہ کا کیا ہو گا؟ اگرچہ یہ بات بارہویں جماعت تک سائنس پڑھنے والے بچے کیلئے تو کوئی الجھن پیدا نہیں کرتی کیوں کہ وہ صاف ذہن سے سائنس پڑھتا ہے اور اس پر قدیم فلسفے کے مغالطات کی بارش نہیں کی جاتی، تاہم جن لوگوں نے دینی مدارس والا فلسفہ پڑھا ہوتا ہے ان کیلئے یہ بات ناقابلِ فہم ہے۔ اسکا حل یہی ہے کہ پرانے فلسفے کی اس عبارت کا غلط ہونا مان لیا جائے۔

توانائی کی سمجھ نہ آئے تو یہی سوچ لیں کہ برف کے بخارات بننے تک پانی کئی صورتیں بدلتا ہے۔ اس کی کیمیائی ترکیب وہی رہتی ہے اور صورتِ جسمیہ بدلتی رہتی ہے۔ بخارات بن کر تو صورتِ جسمیہ بھی نہیں رہتی۔ اسی طرح بادل کی صورتِ جسمیہ اور ہوتی ہے تو دھند کی اور ہوتی ہے۔

توانائی کے بارے میں ان لوگوں کی الجھنوں کی ایک اور وجہ معادِ جسمانی کو یونانی اقوال سے ہم اہنگ کرنے کی کوشش ہے۔ اس پر مفصل بحث علامہ مرتضیٰ مطہری کی کتاب معاد میں آئی ہے۔ یہ حضرات ایک طرف اعادۂ معدوم کے محال ہونے کے قول سے چپکے رہنا چاہتے ہیں، دوسری طرف معادِ جسمانی کو تسلیم کرنا بھی ان کی مجبوری ہے۔ وحدتِ وجود کے عقیدے کے تحت عالم وجود کو ازلی و ابدی مانتے ہیں۔ چنانچہ مختلف عوالم فرض کر کے ان کے مختلف اجسام فرض کرتے ہیں۔ جبکہ مادے کی جدید تعریف کے مطابق تو یہ اجسام بھی مادی ہی ہیں، جو چیز جگہ گھیرے گی، مادی ہو گی۔اس ساری الجھن کا آسان حل متکلمین کی طرح اعادۂ معدوم کو ممکن اور کائنات کو حادث مان لینا ہے۔ ملا صدرا (متوفیٰ 1640ء)  کو تو جدید سائنس سے واسطہ نہیں پڑا تھا، لیکن اس دور میں کوئی ان کے اقوال سے چپکا رہے تو یہ علمی روش نہیں ہے۔

بہرحال علامہ مرتضیٰ مطہری نے جہاں خود جدید سائنس کے بارے کچھ مطالعات کئے وہیں تہران یونیورسٹی کے ایک پروفیسر جناب رضا روزبہ سے توانائی کی ماہیت کو سمجھنے پر بہت مباحثہ کیا مگر یہ معما حل نہ کر سکے۔ اس کا طریقہ باقاعدہ کلاسوں میں شریک ہونا تھا لیکن بڑھاپے میں یہ ممکن نہ رہا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ یہ کام آسانی سے ہو جائے۔ کہتے ہیں:

”میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھے توانائی کی ماہیت سمجھا دے۔ ۔ ۔ ایسی چیز جو مادہ نہ ہو اور مادے کی صفات و حالتیں بھی نہ رکھتی ہو، کیسے ممکن ہے وہ خارج میں کسی خاص جگہ پر ہو اور اس میں تبدیلی بھی آتی ہو؟ کیا ایٹموں میں کبھی انعدام اور حدوث و تغیر نہیں آیا؟ ۔ ۔ ۔“ (2)

یہاں سے ملا صدرا اور ان کے پیروکاروں کا روشنی کی ماہیت کو نہ سمجھنا عیاں ہوتا ہے کیونکہ روشنی توانائی کی ایک قسم ہے۔ اسی طرح ایٹموں کے بارے علامہ مرتضیٰ مطہری کی معلومات کی کمی بھی ظاہر ہے۔

علامہ طباطبائی اور علامہ مرتضیٰ  کا شمار ملا صدرا کے فلسفے کے جدید شارحیں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ ان حضرات کو ملا صدرا کے فلسفے کا ماہر نہیں کہنا چاہئے کیونکہ یہ اس کی خامیوں سے آگاہ نہ تھے۔ البتہ ان کی کتابوں  کو پڑھ کر  تعجب  ہوتا ہے کہ  ہمارے ہاں بعض اہلِ منبر کس منہ سے آئن سٹائن وغیرہ کے سائنسی نظریات  کو ملا صدرا سے منسوب کرتے رہتے ہیں؟ شاید انہوں نے خود نہ ملا صدرا  کو پڑھا ہوتا ہے اور نہ  ہی جدید سائنس کی کوئی سمجھ رکھتے ہیں۔ بس یہ بھی ایک نئی قسم کے ذاکرین ہیں جن کا کام لوگوں کو ملا صدرا کے فضائل سنا کر خوش کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روشنی کے بارے علامہ طباطبائی کی غلط فہمیاں

عقل کا درست معنی کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ لوگ یونانی اقوال کو عین عقل مانتے ہیں، ان سے انحراف کو عقل کا انکار سمجھتے ہیں۔ ان کیلئے چند منطقی جملے ہی عقل ہیں۔ جبکہ عقل مخصوص اقوال سے چپکے رہنا نہیں بلکہ دماغی توازن کا نام ہے۔ دماغ حسیات کو مراحل سے گزار کر علم پیدا کرتا ہے مگر حسیات کی طرح عقل کی بھی حدود ہیں۔ جو منطقی اصول ماضی میں معقولات کہے جاتے تھے وہ بس الفاظ سے بنے جملے ہی تھے جن سے بہتر جملے اب بنائے جا چکے ہیں۔ جن باتوں کو ماضی میں بدیہیات کہا جاتا تھا ان کی جگہ سائنس نے زیادہ بہتر بدیہیات دے دی ہیں۔ جدید مغربی فلسفے کا موضوع عقلِ انسانی کو سمجھنا ہی ہے، اور یہی فلسفے کا کام ہونا چاہئے۔ اس طرح یونانی فلسفے اور یونانی طبیعیات کے دفاع پر وقت اور وسائل ضائع کرنے کے بجائے حقیقی مسائل کو حل کرنے کی فرصت ملے گی۔ اگر مسلمانوں نے اپنے حقیقی مسائل پر توجہ نہ کی تو کوئی اور ان مسائل کو حل نہیں کرے گا۔

حوالہ جات:

1۔ علامہ محمد حسین طباطبائی، ”نہایۃ الحکمہ“، صفحہ 99، مؤسسہ النشر الاسلامی، قم، 1416 ہجری۔

julia rana solicitors

2۔ علامہ مرتضٰی مطہری، ”توحید“، صفحہ 172، مجموعۂ آثار استاد مطہری، جلد 4 ، انتشارات صدرا، تہران، 1374 شمسی۔

Facebook Comments

حمزہ ابراہیم
کم علمی کی وجہ سے میری تحریروں میں غلطیاں بھی ہیں جن کا احساس کچھ سال بیت جانے کے بعد ہوتا ہے۔ قاری کو مزید تحقیق کرنی چاہئیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”علامہ مرتضیٰ مطہری توانائی کے مفہوم کو نہ سمجھ سکے/ حمزہ ابراہیم

  1. دعائے صباح میں آیا ہے:

    يا من دلَّ على ذاتہ بذاتہ، وتنزہ عن مجانسۃ مخلوقاتہ وجل عن ملائمۃ كيفياتہ.

    ترجمہ: ”اے وہ جس نے اپنی ذات پر اپنی ذات کو دلیل بنایا جو اپنی مخلوقات کا ہم جنس ہونے سے پاک اور اسکی کیفیتوں کی آمیزش سے بلند ہے۔“

    https://mafatih.net/?p=2846

Leave a Reply