کیرئیر کاؤنسلنگ کیوں ضروری ہے۔۔ چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

ہر معاملے میں بروقت پلاننگ کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پلاننگ کے بغیر کئے گئے کسی بھی کام سے آپ اپنے من پسند نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ کوئی بھی کام شروع کرنا ہو اسکے لئے پلاننگ بہت ضروری ہے۔ کسی بھی کاروبار کی مثال لے لیجئے کہ سب سے پہلے آپ دیکھتے ہیں کہ جس علاقے میں آپ نے کاروبار شروع کرنا ہے اس علاقے کی کی دیمانڈ کیا ہے، اس کیلئے مناسب جگہ کونسی ہے۔ دکان کا سائز اور ڈیکوریشن کیسی ہو، کاروبار کس طرز پر چلایا، جائے مارکیٹنگ کیسے کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ آپ مکمل پلاننگ کیلئے مشاورت کرتے ہیں۔ اسی طرح دوسری مثال گھر کی تعمیر کی لے لیجئے۔ اچھا گھر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اچھے آرکیٹیکٹ سے رجوع کیا جائے تاکہ وہ پلاٹ کا محل وقوع اور پیمائش لے کر آپکی ضروریات کے مطابق آپکو گھر کا نقشہ بنا کر دے۔ نقشے کیساتھ بنا ہوا گھر اور نقشے کے بغیر بنا ہوا گھر خوبصورتی، معیار اور پائیداری میں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ نقشے اور آرکیٹیکٹ کے بغیر بنا ہوا گھر قابلِ رہائش تو ہوتا ہے مگر ایک تو آپکی رہائش کی ضروریات کو کماحقہ پورا نہیں کرتا دوسرا اس میں دوران رہائش مضبوطی، معیار اور نکاسی آب و ہوا جیسے بےشمار مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ اس جیسی دیگر انگنت مثالیں ہیں جو یہاں دی جا سکتی ہیں۔ پلاننگ کے بغیر کئے گئے کسی بھی کام سے آپ کبھی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر ہی نہیں سکتے۔

اگر میں آسان بھاشا میں بیان کروں تو کیرئیر کاؤنسلنگ کا مطلب کسی بھی بچے کی زہنی استعداد کار و میلان اور مارکیٹ کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے اسکے تعلیمی سفر میں درست سمت رہنمائی کرنا ہے تاکہ وہ اپنی دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر جلد از جلد اپنا روشن اور بہترین مستقبل بنا سکیں۔ جان لیجئے کہ کیریئر پلاننگ ہی بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ یہ موضوع اس قدر اہمیت کا حامل اور وسیع ہے جس کا احاطہ ایک کالم میں نہیں ہو سکتا بلکہ ایک پوری سیریز کا متقاضی ہے زیرِ نظر کالم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

آپ جب اپنے بچے کو تعلیم دلوا رہے ہوتے ہیں تو آپ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا، انجینئر بنے گا یا پروفیسر بنے گا۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ بچے کا اپنا رجحان کس طرف ہے۔ یہاں بھی پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے کہ بچے کو کن مضامین کی ضرورت ہے بچے کی دلچسپی کیا ہے۔ بچے کو کیسے آگے لے کر چلنا ہے آپ درست سمت کبھی بچے کی رہنمائی کرتے ہی نہیں ہیں۔ آپ بغیر پلاننگ کے بچے پر بےدریغ اخراجات کرتے رہتے ہیں بچہ پڑھتا رہتا ہے اسکے مضامین تک کا آپ کو پتہ نہیں ہوتا۔ بس محلے کے دیگر بچوں نے جس کالج میں داخلہ لے لیا آپ اپنے بچے کو کہتے ہیں کہ تم بھی وہیں داخلہ لے لو، اس کے دوستوں نے جو مضامین میٹرک میں رکھے ہیں آپ بھی رکھ لو حالانکہ ہر بچے میں ہر مضمون پڑھنے کی استعداد کار ہرگز نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اکثر بچے اپنے کیرئیر کے شروع یا درمیان میں جا کر فیل ہو جاتے ہیں۔ اگر بالفرض وہ کوئی ڈگری حاصل کر بھی لے آگے ملازمت میں جا کر ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ڈگری اس شخص کے میلان کیساتھ تال میل ہی نہیں رکھتی لہذا اپنے کیرئیر میں دلچسپی نہیں لیتے اور مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کر پاتے جس کی وجہ سے ترقی ہی نہیں کر پاتے اور ساری زندگی غیر مطمئن رہتے ہیں۔ عموماً ایسے بچے ساری زندگی “کبھی اس در کبھی اُس در کبھی دربدر” کے مصداق ادھر اُدھر بھٹکتا رہتے ہیں۔

خالق کائنات جب کسی انسان کو اس دنیا میں تخلیق فرماتا ہے تو اسے ایک مخصوص صلاحیت دے کر بھیجتا ہے۔ کچھ بچے پینٹنگ اچھی کرتے ہیں، کچھ کہانی اچھی لکھتے ہیں جبکہ کچھ بچے ٹیکنیکل رجحان لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بچہ میڈیکل میں دلچسپی رکھتا ہے اور دوسرا بچہ انجینئرنگ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اب اگر آپ میڈیکل میں دلچسپی رکھنے والے بچے کو انجینئرنگ میں بھیج دیں اور بالفرض وہ ذہین و فطین بچہ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر بھی لے تو وہ اپنی عدم دلچسپی کے باعث اس فیلڈ میں ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ڈگری اس کے زہنی میلان کیساتھ ہم آہنگ ہی نہیں ہے۔ اسکی دلچسپی کا مضمون ہی نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بچہ انٹرویو کے وقت اپنے ایمپلائر کو متاثر نہیں کر پاتا اور مناسب ملازمت سے محروم رہتا ہے یا اپنی ڈگری سے متعلقہ کاروبار میں بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ ہم مناسب کیریئر کاؤنسلنگ کے زریعے ہی یہ جانچ سکتے ہیں کہ کون سی فیلڈ کس بچے کیلئے موزوں ہے۔ اس کیلئے بچے کیساتھ مختلف سیشنز ہوتے ہیں مختلف تکنیکس استعمال کی جاتی ہیں جن کے بعد ایک کیرئیر پلانر رہنمائی کر سکتا ہے اس بچے کیلئے بہترین فیلڈ کونسی ہو سکتی ہے اس کو کیریئر پلاننگ کہا جاتا ہے۔ بچے کے اندر چھپی خداداد صلاحیتوں کی کھوج لگانے کا نام کیرئیر کاؤنسلنگ ہے۔

ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ ہمارے بچے بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کزن اگر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے تو دوسرا بھی اپنی زہنی استعداد کار کو سامنے رکھے بغیر اسکے دیکھا دیکھی سی اے میں داخلہ لے لیتا ہے نتیجتاً جلد اس سے اکتا کر درمیان میں ترک کر جاتا ہے۔ اگر کمپیوٹر سائنس کا ٹرینڈ چل رہا ہے تو بچوں کی اکثریت اس فیلڈ میں گُھس جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ کی ڈیمانڈ سے زیادہ اس کے ڈگری ہولڈرز آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ملازمتوں کی قلت ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اس فیلڈ سے متعلقہ ڈگری رکھنے والے بچے بہت جلد مایوس ہو جاتے ہیں۔
یہ ترقی یافتہ دور ہے آئے روز نت نئے مضامین نجی اور سرکاری یونیوراسٹیوں میں متعارف کروائے جاتے ہیں مگر ہمارے بچوں کو روائیتی میڈیکل اور انجینئرنگ مضامین سے ہٹ کر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کونسے مضامین چل رہے ہیں جن کی ڈیمانڈ آنے والے پانچ سال بعد ہو گی۔ کیریئر کاؤنسلنگ کے زریعے ہی بہترین کیرئیر پلاننگ کرکے بچے کی درست سمت رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بدقسمتی سے پاکستان میں کیرئیر کاؤنسلنگ کے زریعے کیرئیر پلاننگ کا سرے سے رجحان ہی نہیں ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم پر تو لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں مگر کیریئر پلاننگ کیلئے چند ہزار خرچ کرنا گوارا نہیں کرتے اور اپنے بچے کا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

Facebook Comments

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply