جان ہولٹ کی کتاب How children fail کے تناظر میں
جان ہولٹ کے وہ مشاہدات جو انہوں نے پڑھائی کے دوران اپنی ڈائری میں محفوظ کیے، ہم ان کو ایک تسلسل کے ساتھ آسان اور سادہ انداز میں پیش کر رہے ہیں ۔
حقیقی سیکھنا (Real Learning)
سیکھنے کی طلب اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کی ہے۔ انسان بچپن سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک کسی نہ کسی طور پر سیکھتا رہتا ہے۔ حقیقی سیکھنے کا تعلق صرف الفاظ یا رٹے ہوئے اسباق سے نہیں بلکہ تجربات سے ہے۔ یہ ایک آفاقی اصول ہے کہ انسان اپنی اور دوسروں کی کوششوں اور تجربات سے سیکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سکولوں میں یہی تجربات اکثر “غلطی” کہلا کر سزا کے قابل بنا دیے جاتے ہیں۔ اس طرح بچے کے اندر کا سیکھنے کا عمل دب جاتا ہے۔
حقیقی سیکھنے کا عمل تب ہی پروان چڑھ سکتا ہے جب ماحول میں خوف اور دباؤ نہ ہو، جب بچے کو سوال کرنے اور آزمانے کی آزادی دی جائے۔ یہی آزادی اور اعتماد بچے کو سوچنے، سمجھنے اور اصل علم حاصل کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں “سکول” کا مطلب امتحانات، مارک شیٹ، گریڈز اور سزاؤں سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہ وہ جگہ بن گئی ہے جہاں بچے کی قابلیت پر شک کیا جاتا ہے اور اس کے تجربات کو غلطیوں کے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سکول محض غلطی پکڑنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں بچے کا تخیل آزادانہ پرواز کر سکے، جہاں اسے سوال کرنے اور تجربہ کرنے کی کھلی اجازت ہو۔ ایک ایسا سکول جہاں امتحانات کے دباؤ اور گریڈز کی دوڑ نہ ہو بلکہ اصل مقصد مشاہدے اور تجربے کے ذریعے سیکھنے کا عمل ہو۔ یہی وہ حقیقی سکول ہے جو بچے کی شخصیت نکھارتا ہے اور اسے زندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔
ہولٹ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ۔۔۔
ایک دن میں نے بچوں کو رنگین چھڑیاں (Cuisenaire Rods) دیے تاکہ وہ ان کے ذریعے لمبائیوں کا حساب لگائیں۔ راڈز پر ہر رنگ کے ساتھ کچھ یونٹس لکھے تھے۔ ایک بچہ بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے میں لگا ہوا تھا۔ وہ بار بار مختلف چھڑیاں جوڑتا، کبھی ایک رکھتا کبھی دوسری، لیکن ہر بار غلط نتیجہ نکل آتا۔ میں نے فوراً اس کی تصحیح کرنے کے بجائے اسے موقع دیا کہ وہ اپنی غلطیوں کو خود پہچانے۔
وہ بچہ بار بار ناکام ہوتا رہا، مگر ہمت نہیں ہاری۔ اس کی آنکھوں میں یہ سوال بار بار جھلکتا کہ “آخر صحیح راڈ کون سا ہے؟” وہ مسلسل کوشش کرتا رہا، اپنی پچھلی غلطیوں کو دہراتا اور نئے طریقے آزماتا رہا۔
آخرکار کئی بار کی کوششوں کے بعد اس نے وہی صحیح راڈ جوڑا جو جواب کے مطابق تھا۔ جیسے ہی اس نے اپنی کامیابی دیکھی تو اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ اس نے زور سے کہا:
”آخر میں نے کر دکھایا!”
یہ جملہ اس کے دل کی گہرائی سے نکلا تھا۔ اس لمحے وہ صرف ایک حسابی سوال حل نہیں کر رہا تھا، بلکہ وہ اپنے اندر یہ جان رہا تھا کہ وہ خود بھی کسی مسئلے کو سمجھ سکتا ہے اور حل کر سکتا ہے۔ اس احساس نے اس کے اندر اعتماد پیدا کیا، خوشی پیدا کی اور یہ سیکھنا اس کے ذہن میں دیرپا طور پر محفوظ ہوگیا۔
جان ہولٹ کہتے ہیں کہ یہی ہے حقیقی سیکھنا۔ جب بچہ خود اپنی محنت اور غلطیوں کے بعد سچائی تک پہنچتا ہے تو وہ سیکھنا اس کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے۔ استاد کی جلدی تصحیح یا امتحان کا دباؤ اس خوشی اور اندرونی کامیابی کو چھین لیتے ہیں۔
سکول کیسے ناکام ہو جاتے ہیں؟ how schools fail
غور طلب بات یہ ہے کہ
جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ بچے کیوں سیکھنے میں ناکام ہوتے ہیں، تو ہمیں اس بڑے سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ سکول خود کیوں ناکام ہو جاتے ہیں۔ سکول ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں بچے تجسس کے ساتھ دنیا کو جان سکیں، سوال کر سکیں، غلطیاں کر سکیں اور ان سے سیکھ سکیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سکول اکثر ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں جہاں ڈر، دباؤ اور ناکامی کا خوف سب سے نمایاں ہو جاتا ہے۔
ناکامی کا خوف- fear of failure
زیادہ تر بچے سکول میں اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ وہ نالائق ہیں یا ان میں سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے ، بلکہ اس لیے کہ وہ ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔ امتحان کا خوف، نمبر کم آنے کا خوف، استاد کی ڈانٹ یا سزا کا خوف، اور والدین کو مایوس کرنے کا خوف، معاشرے کا دباؤ، یہ سب مل کر بچے کو سوچنے اور سیکھنے سے روک دیتے ہیں۔ وہ محفوظ کھیل کھیلتا ہے، سوال کرنے سے کتراتا ہے اور غلطی سے بچنے کے لیے کچھ نیا آزمانے کی ہمت نہیں کرتا۔
یادداشت کا بوجھ
سکول کا زور زیادہ تر رٹے پر ہوتا ہے۔ بچوں کو کتابوں کے جملے، فارمولے اور تعریفیں یاد کرنی پڑتی ہیں تاکہ وہ امتحان میں نمبر لے سکیں۔ لیکن اس یادداشت کا اصل علم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، ہم اسے عارضی یاداشت کہتے ہیں۔ امتحان کے بعد بچے زیادہ تر یہ سب بھول جاتے ہیں۔ وہ صرف اتنا سیکھتے ہیں کہ کس طرح امتحان میں کسی طرح کامیاب ہونا ہے، اصل میں سوچنا اور سمجھنا ان کے نصیب میں کم رہ جاتا ہے۔
تخیل اور سوال کی کمی
سکول عموماً سوال کرنے کی بجائے جواب دینے پر زور دیتے ہیں۔ سوال کا خیر مقدم نہیں کیا جاتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیکھنے کا آغاز سوال سے ہوتا ہے۔ جب بچے سوال نہیں کر پاتے تو ان کا تخیل اور تجسس مر جاتا ہے۔ استاد اکثر ایسے سوالوں سے گھبرا جاتے ہیں جو نصاب سے ہٹ کر ہوں، کیونکہ ان کا مقصد صرف امتحان کی تیاری کرانا ہوتا ہے تا کہ ” سکول ” کی بدنامی نہ ہو۔
مقابلہ اور دباؤ
بچوں کو ایک دوسرے سے مقابلے پر لگایا جاتا ہے۔ یہ غیر صحت مندانہ مقابلے احساس کمتری پیدا کرتے ہیں ، گریڈز، مارکس اور پوزیشنز ان کے ذہن پر چھا جاتی ہیں۔ کچھ بچے جیت جاتے ہیں، مگر زیادہ تر ہار جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں سکول سیکھنے کے بجائے ناکامی کا لیبل کے کر آگے بڑھتے ہیں
ناکامی کا اصل سبب
ہولٹ کہتے ہیں کہ سکول اس لیے ناکام ہوتے ہیں کیونکہ وہ سیکھنے کو بچوں کے لیے ایک فطری اور خوشگوار عمل بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ بچوں کی اصل ضرورت، یعنی آزادی، تخیل اور سوال کرنے کا حق، چھین لیتے ہیں۔ بچے اپنی صلاحیتیں دبانے لگتے ہیں تاکہ وہ نظام کے مطابق چل سکیں۔ یوں آہستہ آہستہ ان کا اعتماد، جستجو اور خود سیکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔
حل کیا ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ سکول کامیاب ہوں تو ہمیں ڈر، دباؤ اور ناکامی کے خوف کو ختم کرنا ہوگا۔ سکول کو ایسی جگہ بنانا ہوگا جہاں:
بچے آزادی سے سوال کر سکیں۔
غلطی کو جرم کے بجائے سیکھنے کا ایک موقع سمجھا جائے۔
امتحان اور نمبرز کے بجائے سمجھ بوجھ اور تخیل کو اہمیت دی جائے۔
استاد اور شاگرد کے درمیان خوف کے بجائے اعتماد اور تعلق ہو۔
ہولٹ کے مطابق، سکول تبھی کامیاب ہوں گے جب وہ بچوں کو وہی ماحول فراہم کریں گے جو اصل زندگی میں کامیاب سیکھنے کے لیے ضروری ہے: آزادی، تجربہ، اور تخیل۔
اس طرح ہولٹ اپنی کتاب کا احتتام اس بات پر کرتے ہیں اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سکول کا اصل مقصد نمبرز یا گریڈز نہیں بلکہ بچوں کے اندر وہ روشنی پیدا کرنا ہے جو انہیں ساری زندگی سیکھنے پر آمادہ رکھے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں