اس خطے کے لئے مارکسسٹ یا یورپین ماڈل ؟
جب ہم “تاریخ” سنتے ہیں تو ذہن میں بادشاہ، جنگیں اور بڑے انقلاب آتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ گاؤں کے عام لوگ ، کسان، مزدور، عورتیں، اور پسماندہ طبقے کہاں ہیں؟
رنجیت گوہا، ایک بڑے مورخ، نے یہی سوال اُٹھایا۔ ان کے مطابق ہندوستان کی تاریخ زیادہ تر طاقت والوں ۔۔۔ حکمرانوں، نوابوں، یا برطانوی سامراج ۔۔۔ کی آنکھ سے لکھی گئی ہے۔ اصل کہانی ان عام لوگوں کی ہے جو نیچے تھے، لیکن اپنی زبان اور اپنے طریقے سے مزاحمت کرتے رہے۔ لیکن نوآبادکار نے اس مقامی تاریخ کے تمام سورسز کو رد کر کے صرف جنگوں ، بادشاہوں اور فتوحات کی تاریخ کو ہی معیار بنایا ۔
مارکسی تاریخ اور گوہا کا اعتراض
مارکسی مورخ تاریخ کو “طاقت” اور “مزدور” کے درمیان کشمکش کے طور پر دیکھتے ہیں، اور کسان کو اکثر ایک مظلوم، passive وکٹم مانتے ہیں، جو کسی لیڈر یا پارٹی کے اشارے پر چلتا ہے۔ یہ یورپ کے لیے شاید ٹھیک ہو، لیکن گوہا کے مطابق ہندوستان کے لیے نہیں۔
یورپ میں کسان بادشاہ یا فیوڈل لارڈ کے خلاف اٹھتے، اور بغاوت کا نتیجہ ریاستی تبدیلی، بادشاہت کا خاتمہ یا جمہوریت ہوتا۔ بغاوتیں منظم، واضح اور براہِ راست سیاسی اثر ڈالتی تھیں۔
ہندوستان میں کہانی زیادہ پیچیدہ تھی۔ یہاں پاور مرکز کی بجاۓ لوکل سطح پر تھی (decentralized)۔ کسان صرف بادشاہ یا زمیندار کے خلاف نہیں، بلکہ ذات پات، مذہبی تفریق، اور مقامی رسم و رواج کے خلاف بھی مزاحمت کرتے تھے۔ یہ بغاوتیں زیادہ تر مقامی، غیر رسمی اور وقتی ہوتیں، لیکن مسلسل چلتی رہتیں۔ مقصد کبھی کھیت بچانا، کبھی عزت، کبھی ٹیکس کا انکار۔
کسان کی خود مختاری
مارکسی ماڈل میں کسان اکثر لیڈر کے پیچھے دکھایا جاتا ہے، لیکن گوہا کے مطابق کسان خود فیصلے کرتے تھے۔ وہ اپنے رشتوں، وفاداریوں اور برادری کے نظام سے حکمتِ عملی طے کرتے۔ کبھی زمیندار سے مل کر، کبھی اس کے خلاف، کبھی مذہب سے بالاتر ہو کر، کبھی ذات کے ساتھ۔
1857 کی بغاوت صرف سپاہیوں یا نوابوں کی کہانی نہیں تھی۔ کئی گاؤں میں کسانوں نے خود انگریزوں کے خلاف محاذ بنایا، کسی بڑے رہنما کے بغیر۔ انگریزوں نے کچھ مزاحمتی گروہوں کو “ڈاکو” (thugs) کہہ کر ختم کرنے کی مہم بھی چلائی۔
یورپی اور ہندوستانی بغاوت کا فرق
یورپ میں طاقت ریاست کے مرکز میں تھی۔ ہندوستان میں طاقت بکھری ہوئی (decentralized) تھی ۔۔۔۔نمبردار، پنڈت، زمیندار، پٹیل، مذہبی پیشوا، سب اپنی اپنی جگہ طاقت رکھتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں اتحاد کا پیمانہ مختلف تھا۔ کبھی کسان اور زمیندار ایک ساتھ ہو جاتے، کیونکہ دشمن مشترکہ ہوتا ۔۔۔نیا ٹیکس یا برطانوی انسپکٹر۔ کبھی مسلمان، ہندو، سکھ مل کر لڑتے، چاہے ذات اور مذہب مختلف ہو۔
کمیونٹی اور بغاوت ۔۔۔ کوئی سخت لکیر نہیں
گاؤں یا برادری صرف اتفاق اور محبت (harmonized) کا نام نہیں تھی۔ کبھی اتحاد بنتا، کبھی ٹوٹتا۔ اتحاد آجکل کی طرح سیاسی پارٹی یا باہمی مفاد یا جدید نظریے پر نہیں، بلکہ اخلاقی جواز یا بھائی چارے پر قائم ہوتا۔
انگریز ، ہندو اور مسلم لیڈر بھلے ہی جدید ریاست کے قیام کے لئے بغاوت کے نعرے لگاتے تھے جیسے جمہوریت ، وفاق ،۔مگر عام لوگ اور کسان انکو اپنے مطابق ہی معنی دیتے تھے ۔
1783 کی رنگپور بغاوت میں گاؤں والوں نے ایک دوسرے کو بھائی کہہ کر انگریزوں کے خلاف پکارا۔ لیکن دوسری جگہ اکولا کے کسانوں نے اپنے ہی جیسے بغاوتی کسانوں پر غصہ کیا کہ تم نے اتحاد توڑ دیا۔ اتحاد کا انحصار موقع اور خطرے کی نوعیت پر تھا، نہ کہ مستقل ذات یا مذہب پر۔
اسکے علاوہ یہاں کمیونٹی کا تصور flexible تھا ، یورپ کی طرح کلاس ، race, cast کی کیٹگریز میں منقسم یا rigid نہیں تھا ۔
بے زمین مزدور بھی شریک ہوتے تھے
بغاوت صرف زمین دار یا بڑے کسان نہیں کرتے تھے۔ بے زمین مزدور، جولاہے، بانس بنانے والے، یہاں تک کہ جن کے پاس کچھ نہ تھا، وہ بھی شامل ہوتے۔جو مارکس کے ماڈل میں ممکن ہی نہیں تھا ۔
1857 میں ہندو اور مسلمان برادری اور ایمان کے نام پر اکٹھے ہوئے۔ اتر پردیش میں جولاہوں اور مسلم کسانوں نے راجپوت زمینداروں کے خلاف لڑائی لڑی۔ باہر سے خطرہ آیا تو سب متحد ہو گئے، لیکن خطرہ ختم ہوتے ہی پرانے جھگڑے لوٹ آئے۔ اتحاد عارضی ہوتا، مگر طاقتور۔
یورپی “لکیری تاریخ” کا مسئلہ (linear history)
یورپی تصور یہ ہے کہ ہر سماج ایک سیدھے راستے پر چلتا ہے: جاگیرداری → سرمایہ داری → جمہوریت → سوشلزم۔
گوہا کے مطابق ہندوستان میں یہ سیدھی لکیر نہیں چلتی۔ یہاں بادشاہت، جمہوری روایت، مذہب، رسم و رواج، ذات اور بغاوت سب ایک ساتھ موجود رہے۔ ہماری تاریخ ایک جال کی طرح layered ہے۔
انقلاب بمقابلہ مزاحمت
یورپ میں انقلاب کا مطلب حکومت گرانا ہے۔ گوہا کے مطابق ہندوستان میں اصل طاقت “روزمرہ کی مزاحمت” میں تھی ..چھوٹے مگر مستقل انکار۔
مکئی یا گندم کم اگانا، زمیندار کی بات نہ ماننا، جعلی بے خبری دکھانا، طنز اور مذاق اُڑانا، گیت اور کہانیاں سنانا۔ خواتین لوک گیتوں میں زمیندار یا انگریز کا مذاق بناتیں۔
James Scott نے ان کو “Brechtian forms of class struggle” کہا — خاموش مگر مسلسل احتجاج۔
یورپ میں انقلاب کا مطلب نظام بدل دینا تھا، مگر ہندوستانی کسان متبادل نظام لانے نہیں نکلتے تھے بلکہ اسی رائج نظام کے اندر ہونے والی ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ وہ ظلم یا استحصال کے کسی ایک پہلو کو نشانہ بناتے، مقصد حاصل ہوتے ہی اپنی زندگی کی طرف لوٹ جاتے .
خاموش مگر مسلسل مزاحمت
اکثر کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی عوام خاموش تھے۔ گوہا کا کہنا ہے کہ یہ غلط ہے۔ مزاحمت خاموش تھی، لیکن مستقل۔ طاقت کے خلاف زبان، ثقافت، کام کے طریقے، حتیٰ کہ خاموشی بھی ہتھیار تھے۔
برطانوی دور میں کئی علاقوں میں کسانوں نے زمین نہیں چھینی، لیکن زمین چھوڑ دی یا پیداوار بند کر دی۔ یہ خاموش بغاوت تھی، لیکن یہی اصل طاقت تھی۔
اپنی تاریخ خود لکھنا
جب ہم یورپی اصولوں سے اپنی تاریخ لکھتے ہیں تو اصل کہانیاں غائب ہو جاتی ہیں۔ یورپی مورخ کہتے تھے کہ ہندوستان کی “حقیقی” تاریخ نہیں، کیونکہ یہاں بادشاہوں کے انقلاب کم تھے اور ان کے مطلوبہ تحریری ریکارڈ نہیں ملتے تھے۔
لیکن گوہا بتاتے ہیں کہ ہماری تاریخ گاؤں کی کہانیوں، لوک گیتوں اور عوامی یادداشت میں ہے۔ یہ تاریخ 1857 یا 1942 تک محدود نہیں۔ یہ ہر دن کی ہے جب کسان نے ٹیکس سے انکار کیا، جولاہے نے زمیندار کا حکم نہیں مانا، یا عورتوں نے اپنی پنچایت بنائی۔
آج کی سیاست میں کسانی شعور
بہار میں نچلی ذات کے کسانوں نے “نہیں کھیلیں گے” مہم چلائی یعنی اعلیٰ ذات کے لیے کام کرنے سے انکار۔ کسانی بغاوت صرف غصہ نہیں، سیکھنے کا عمل بھی ہے۔ دوستیاں بنتی اور ٹوٹتی ہیں، نئے طریقے آزمائے جاتے ہیں۔
گوہا کے مطابق آج بھی الیکشن، ذات کی سیاست، اور ووٹنگ پیٹرن میں وہی شعور نظر آتا ہے۔ اگر کوئی حلقہ تمام پارٹیوں کو ہرا کر ایک “باہر والے” کو جتوا دیتا ہے، تو یہ محض سیاسی نتیجہ نہیں، بلکہ مزاحمتی رویے کی کامیابی ہے۔
یہ تاریخ ان لوگوں کی ہے جن کا نام کبھی ریکارڈ میں نہیں آیا، جن کی مزاحمت کسی اخبار میں نہیں چھپی، مگر جنہوں نے سب کچھ بدل دیا۔
گوہا ہمیں سکھاتے ہیں کہ کسان محض مظلوم نہیں، بلکہ باشعور اور خود مختار مزاحمت کار تھے۔ ہماری تاریخ کو یورپ کے ماڈل پر نہیں، اپنے سیاق میں سمجھنا ہوگا۔
یہ تاریخ عورت کی بھی ہے جو چولہے پر روٹی پکاتے ہوئے کہانی سناتی تھی، کسان کی بھی ہے جو بندوق نہیں، زبان سے انکار کرتا تھا، اور مزدور کی بھی ہے جو خاموشی سے جیت گیا۔
1857 یا 1942 میں اگر کسان مضبوط تھا تو اس کی طاقت اسی مسلسل روزمرہ کی مزاحمت میں تھی۔ کسان بغاوت ختم شدہ باب نہیں، بلکہ ایک جاری عمل ہے ، بدلتے حالات میں ڈھلتا ہوا۔ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں کسان کی آنکھ سے دیکھنا ہوگا۔
سورسز
Nation and its fragments by Partha Chatterjee
Elementary aspects of Peasant Insurgency in Colonial India
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں