سیلاب گلگت بلتستان کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی /شیر علی انجم

گلگت بلتستان میں ہر سال سیلاب اور قدرتی آفات نے نہ صرف مقامی آبادی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ اس خطے کی دلکش قدرتی خوبصورتی اور ماحولیاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سیلاب کیوں آتے ہیں اور ان کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی نے گلگت بلتستان جیسے حساس خطوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ چونکہ یہ خطہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز کا مسکن ہے، اس لیے ان کے پگھلنے سے اچانک آنے والے پانی نے ندی نالوں کو طغیانی کی زد میں لا دیا ہے۔ یہ تبدیلیاں مقامی ماحولیاتی نظام کو بگاڑ رہی ہیں اور سیلابوں کا ایک بڑا سبب بن رہی ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ ندی نالوں کے اطراف اور ان کے بہاؤ کے راستوں میں غیر قانونی تعمیرات ہیں۔ لوگ وقتی فوائد کے لیے دکانیں، مکانات اور ہوٹل ان جگہوں پر تعمیر کر لیتے ہیں جو سیلابی پانی کی قدرتی گزرگاہیں ہیں۔ یہ تعمیرات نہ صرف پانی کے بہاؤ کو روکتی ہیں بلکہ خطرے کی شدت کو بھی بڑھاتی ہیں۔ اگر ندی نالوں کے اطراف اور قدیم آبی گزرگاہوں پر تعمیرات پر پابندی نہ لگائی گئی تو مستقبل میں یہ صورتحال بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔
جنگلات کی بات کریں تو یہ فطری طور پر بارشوں کے پانی کو جذب کرنے اور زمینی کٹاؤ کو روکنے کا ذریعہ ہیں۔ افسوس کہ گلگت بلتستان میں جنگلات کی اندھا دھند کٹائی عروج پر ہے۔ یہ غیر قانونی عمل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ سڑکوں کے پھیلاؤ اور لکڑی کے حصول کے لیے قیمتی درختوں کی کٹائی نے زمینی کٹاؤ کو بڑھاوا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بارشوں کے دوران زمین اپنی گرفت کھو دیتی ہے اور پانی طوفانی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سیاحت کے کردار پر روشنی ڈالیں تو یہ خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر بغیر منصوبہ بندی کے لاکھوں سیاحوں کی آمد اس خطے کے لیے وبالِ جان بنتی جا رہی ہے۔ سیوریج نظام کی عدم موجودگی کے باعث فضلہ، کچرا، شور اور گاڑیوں کا دھواں ماحول کو آلودہ کر رہا ہے۔ جھیلوں اور ندی نالوں کے قریب پھیلا کچرا نہ صرف پانی کو آلودہ کرتا ہے بلکہ مقامی حیات کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ دلکش وادیاں اپنی قدرتی خوبصورتی کھو دیں گی۔بدقسمتی سے، گلگت بلتستان میں حکومتی کردار کا جائزہ لیں تو وہ اس خطے کے سلگتے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ ان کی توجہ سرکاری ٹھیکوں کی بندربانٹ، نوکریوں کی تقسیم، اور ذاتی مراعات تک محدود ہے۔ وہ اسلام آباد کے بڑے دفاتر کے چوکھٹ پر سائل کی طرح حاضری دیتے ہیں، جبکہ خطے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام اپنی فریاد کہاں لے کر جائیں؟ اگر فوری طور پر جنگلات کی کٹائی کو نہ روکا گیا، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات کو ختم نہ کیا گیا، اور سیاحت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منظم نہ کیا گیا تو گلگت بلتستان میں آنے والے سیلاب بڑے پیمانے پر تباہی لا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے بلکہ خطے کی معیشت اور قدرتی حسن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے بچانے کے لیے عوام اور سول سوسائٹی ایک تحریک شروع کریں۔ اسلام آباد کے حکمرانوں، پاکستانی میڈیا، اور ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جائے۔ سیاحوں کو بھی باور کرانا ہوگا کہ وہ سیاحت کے دوران خطے کی قدرتی ساخت کو محفوظ رکھنے اور آلودگی کم کرنے کی ذمہ داری پوری کریں۔ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کو فروغ دینا، غیر قانونی تعمیرات کو روکنا، اور سیاحت کے لیے پائیدار پالیسی وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسکولوں کے نصاب میں ماحولیاتی تحفظ کے موضوعات کو باقاعدہ شامل کیا جائے۔ اگر آج یہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آنے والا کل نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک خطرناک المیہ ثابت ہو سکتا ہے۔

julia rana solicitors

تحریر: شیر علی انجم

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply