فلسفہ محبت / علی عبداللہ

لوگ کہتے ہیں: “لکھو!”
میں پوچھتا ہوں: “کیا لکھوں؟”
جواب آتا ہے: “محبت لکھو!”
میں پھر پوچھتا ہوں: “محبت پر کیا لکھوں؟”
وہ اپنی بات دہراتے ہیں، “یہی لکھو کہ محبت ہر زمانے میں زندہ رہتی ہے- محبت اپنا روپ تو بدلتی ہے مگر کبھی فنا نہیں ہوتی۔”

میں ان کی بات سنتا ہوں، اور محبت پر غور کرنے لگتا ہوں۔ مگر میں انہیں یہ نہیں کہہ پاتا کہ محبت کو لفظوں میں بھلا کون قید کر سکا ہے؟ صدیوں سے محبت کو بیان کرنے والے نہ جانے کتنے الفاظ کے معبد تعمیر کیے جا چکے، مگر محبت ان معبدوں سے نکل کر، اصفہان کے نیلے گنبدوں اور تاج محل کی سنگی خاموشی میں جلوہ گر ہوئی-

میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ محبت ہی کائنات کی وہ قوت ہے جو ہر شے کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے- جیسے کسی نے کہا تھا کہ عشق جسم سے ذہن اور ذہن سے روح تک کا سفر ہے۔ اور یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، کیونکہ ہر وصال اگلی جستجو کو جنم دیتا ہے۔

بات یہیں نہیں ختم ہوتی۔۔۔کیونکہ محبت خواہشوں کی وہ قربانی بھی ہے، جو ہمیشہ محبوب کی نظرِ کرم کی منتظر رہتی ہے؛ جیسے گدا کا ہر قدم شاہ تک رسائی کی امید میں اٹھتا ہے۔ اور یہ کسی کنول کا وہ پھول ہے، جو مادیت کے جوہڑ میں بھی کھل اٹھتا ہے- جیسے نشاۃ ثانیہ کے ایک مصور نے گہرے سائے (Chiaroscuro) میں روشنی کا وہ نقطہ ڈھونڈا جو تمام منظر کا مرکز بن جائے۔

میں سوچتا ہوں، محبت کو دیکھنا شاید ایسا ہے جیسے فلورنس کے مصور کے زایہ نگاہ میں محبوب کو مرکز میں رکھنا، یا عثمانی منیاتور کے بکھرے رنگوں میں ہر شے کو ایک ہی سطح پر لا کر برابری دینا۔ ایک میں روشنی کا سفر محبوب کی طرف جاتا ہے، دوسرے میں محبوب اور لمحے سب ایک ہی وقت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یعنی محبت وہ کینوس ہے جس پر جذبات کا برش ایسی صورت تراشتا ہے کہ ہرات کے استاد بھی حیران رہ جائیں۔ ایک فلسفی کی نظر سے دیکھوں تو یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جتنا قریب آتا ہے، اتنا ہی دور چلا جاتا ہے۔ گو کہ عاشق ہمیشہ سوالی رہے ہیں، مگر جواب انہیں محبت کی خاموشی میں ہی ملا ہے۔

یوں میں لکھتا ہوں کہ محبت دم کیا ہوا پانی ہے- کبھی ہجر، کبھی وصل، کبھی دیدار، کبھی کشف، کبھی الہام، کبھی خیال۔ یہ وہ قطرہ ہے جو بے رخی کے سلگتے صحرا میں نخلستان پیدا کر دیتا ہے، اور وہ رنگ ہے جس میں ڈھل کر تمام رنگ ایک ہو جاتے ہیں۔ جیسے اسلامی خطاطی کا ایک دائرہ، جو دیکھنے والے کو لا انتہا کی سمت لے جاتا ہے۔

مگر محبت سیدھا بہنے والا دریا نہیں۔ کہیں اس کے کنارے مغرب کی سنگی عمارتوں کی مانند سیدھے اور مضبوط ہیں، تو کہیں مشرقی باغ کی طرح مڑتے، گھومتے اور چھپے راستوں سے گزرتے ہیں۔ شاید یہی اس کا حسن ہے کہ نہ مغرب اسے مکمل قابو کر سکتا ہے، نہ مشرق اسے مکمل چھپا سکتا ہے۔

لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ محبت کے پھول پر ہجر کے نشتر بھی اگتے ہیں۔۔۔محبت کی شمع بے رخی کی ہواؤں سے ہر لمحہ لڑتی بھی ہے۔

میں تو بس اتنا کہوں گا کہ محبت آسمانی ہے؛ ایک چھپا ہوا راز، جسے ہر زمانے نے ڈھونڈنے کی جستجو کی ہے۔ مگر ہر تلاش تکمیل کو نہیں پہنچتی- ہر راز مکمل عیاں نہیں ہوتا۔ ہاں، یہ طلب اور کھوج کا سفر مسافر کو حقیقت کے کئی نئے موڑ ضرور دکھا دیتا ہے۔ یہی محبت کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ یہ سب کچھ دے کر بھی ادھوری رہتی ہے، اور سب کچھ چھین کر بھی مکمل کر دیتی ہے۔

julia rana solicitors

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے زمانے میں، جب جدید تعلیم اور ڈیجیٹل معلومات کے سیلاب نے ہر ذہن کو ڈیٹا سے بھر دیا ہے، محبت کا یہ فلسفہ پہلے سے زیادہ معنی خیز ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور اے آئی ہمیں بے شمار باتیں بتا تو سکتے ہیں، مگر یہ طے نہیں کر سکتے کہ ان میں سے کیا حقیقت ہے، کیا خیر ہے، اور کیا ہمیں انسان بناتا ہے۔ یہ صرف محبت ہی ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر علم کو اپنے اندر اتارنے سے پہلے اسے دل اور اخلاق کی کسوٹی پر پرکھا جائے- کیونکہ معلومات محض ذہن کو بھرتی ہیں، مگر محبت اور حکمت روح کو جِلا دیتی ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply