ووٹوں کا توحساب لیا جائے گا/شکیل رشید

کانگریسی قائد راہل گاندھی نے ، جو لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے سربراہ بھی ہیں ، ’ ووٹ چوری ‘ کا ایٹم بم پھوڑ کر صرف الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے خیمے میں ہی ہلچل نہیں مچائی ، سارے ملک میں ہلچل مچائی ہے ، ایسی ہلچلکہ سوائے اندھ بھکتوں کے سبھی ہندوستانی ان کے ذریعے ووٹوں کی چوری کے ’ پریزینٹیشن ‘ کی واہ واہ کر رہے ہیں ۔ اور واہ واہ کیوں نہ کریں ! ہر الیکشن میں وہ شور مچاتے رہے ہیں کہ انہوں نے ووٹ کسی اور امیدوار کو دیے تھے ، مگر ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں چلے گئے۔ لیکن کوئی ان کی فریاد سُننے کو تیار نہیں تھا ، الیکشن کمیشن ان کی شکایتیں ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے اڑا رہا تھا ۔ مبینہ ووٹ چوری کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے ، لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی سیاست داں نے سنجیدگی کے ساتھ ’ چھان بین ‘ کی اور ایسے ’ حقائق ‘ سامنے رکھے ، جن کے تشفی بخش جواب دیے بغیر ، الیکشن کمیشن کی ساکھ پر جو بٹّا لگا ہے ، وہ بحال نہیں ہو سکتا ۔ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کا الزام کوئی ہوا میں نہیں لگایا ہے ، انہوں نے باقاعدہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں ، ایسے نام گنوائے ہیں جنہوں نے کئی کئی بار ووٹ دیے ہیں ۔ راہل گاندھی نے ایک ایک نکتے کو اجاگر کیا ہے ، اور اس طرح کہ بھاجپائی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کس منھ سے اُن کے سوالوں کا جواب دیں ! اسی لیے وہ آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں ۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کو ہی دیکھ لیں ، اُن سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو کہنے لگے کہ راہل گاندھی کا دماغ چل گیا ہے ! راہل گاندھی نے جس سنجیدگی کے ساتھ اپنی دلیلیں پیش کی ہیں ، ممکن نہیں لگتا کہ بھاجپائی سیاست داں اُسی سنجیدگی سے ان کی دلیلوں کا رد کر سکیں گے ۔۔ وہ تو وہی کریں گے ، بلکہ وہی کر رہے ہیں ، جو وہ ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں ؛ راہل گاندھی پر طنز کسنا ، ان کا مذاق اڑانا اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنا ۔ الیکشن کمیشن بھی کچھ یہی کر رہا ہے ۔ بھلا ایک ایسے سیاست داں سے ، جو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہے ، اور جس کا کام ہی سوال اٹھانا ہے ، الیکشن کمیشن کے ذریعے ’ حلف نامہ ‘ مانگنے کا کیا جواز ہے ! راہل گاندھی نے تو باقاعدہ آئین کا حلف لیا ہے ، وہ یونہی اپوزیشن لیڈر نہیں بن گیے ۔ یہ تو الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ اُن سنگین الزامات کا ، جو راہل گاندھی نے لگائے ہیں ، مناسب جواب دے ، بلکہ ’ حلف نامہ ‘ دے کر جواب دے ۔ ووٹ چوری کے الزام کا مطلب جمہوریت کو تباہ کرنا ہے ، اس کا مطلب عوام کے حقوق کو غصب کرنا ہے ، اس کا مطلب عوامی رائے سے کھلواڑ ہے ۔ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو کٹگھرے میں کھڑا کر دیا ہے ، یہ عوامی عدالت کا کٹگھرا ہے ، الیکشن کمیشن کو بھی اور بی جے پی بلکہ مودی حکومت کو بھی جواب دینا ہی ہوگا ۔ ویسے بات صرف مبینہ ووٹ چوری ہی کی نہیں ہے ، ہندوستانی عوام کا تو بہت کچھ چُرا لیا گیا ہے ، ان کا سکون اور چین ، ان کی روزی روٹی ، ان کی دولت ، ان کی شہریت ، ان کی زمینیں اور ملکیتیں۔ عوام تباہ و برباد ہے ، اور اِس کا بنیادی سبب ، مرکز کی اُس حکومت کی پالیسیاں اور اس کے اعمال و افعال ہیں ، جس پر یہ سنگین الزام ہے کہ وہ ووٹ چوری کرکے اقتدار پر متمکن ہوئی ہے ۔ اگر ووٹ چوری ہوئے ہیں تو یقیناً عوام اپنے ووٹوں کی چوری کا حساب لیں گے ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply