کانگریسی قائد راہل گاندھی نے ، جو لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے سربراہ بھی ہیں ، ’ ووٹ چوری ‘ کا ایٹم بم پھوڑ کر صرف الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے خیمے میں ہی ہلچل نہیں مچائی ، سارے ملک میں ہلچل مچائی ہے ، ایسی ہلچلکہ سوائے اندھ بھکتوں کے سبھی ہندوستانی ان کے ذریعے ووٹوں کی چوری کے ’ پریزینٹیشن ‘ کی واہ واہ کر رہے ہیں ۔ اور واہ واہ کیوں نہ کریں ! ہر الیکشن میں وہ شور مچاتے رہے ہیں کہ انہوں نے ووٹ کسی اور امیدوار کو دیے تھے ، مگر ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں چلے گئے۔ لیکن کوئی ان کی فریاد سُننے کو تیار نہیں تھا ، الیکشن کمیشن ان کی شکایتیں ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے اڑا رہا تھا ۔ مبینہ ووٹ چوری کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے ، لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی سیاست داں نے سنجیدگی کے ساتھ ’ چھان بین ‘ کی اور ایسے ’ حقائق ‘ سامنے رکھے ، جن کے تشفی بخش جواب دیے بغیر ، الیکشن کمیشن کی ساکھ پر جو بٹّا لگا ہے ، وہ بحال نہیں ہو سکتا ۔ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کا الزام کوئی ہوا میں نہیں لگایا ہے ، انہوں نے باقاعدہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں ، ایسے نام گنوائے ہیں جنہوں نے کئی کئی بار ووٹ دیے ہیں ۔ راہل گاندھی نے ایک ایک نکتے کو اجاگر کیا ہے ، اور اس طرح کہ بھاجپائی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کس منھ سے اُن کے سوالوں کا جواب دیں ! اسی لیے وہ آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں ۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کو ہی دیکھ لیں ، اُن سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو کہنے لگے کہ راہل گاندھی کا دماغ چل گیا ہے ! راہل گاندھی نے جس سنجیدگی کے ساتھ اپنی دلیلیں پیش کی ہیں ، ممکن نہیں لگتا کہ بھاجپائی سیاست داں اُسی سنجیدگی سے ان کی دلیلوں کا رد کر سکیں گے ۔۔ وہ تو وہی کریں گے ، بلکہ وہی کر رہے ہیں ، جو وہ ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں ؛ راہل گاندھی پر طنز کسنا ، ان کا مذاق اڑانا اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنا ۔ الیکشن کمیشن بھی کچھ یہی کر رہا ہے ۔ بھلا ایک ایسے سیاست داں سے ، جو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہے ، اور جس کا کام ہی سوال اٹھانا ہے ، الیکشن کمیشن کے ذریعے ’ حلف نامہ ‘ مانگنے کا کیا جواز ہے ! راہل گاندھی نے تو باقاعدہ آئین کا حلف لیا ہے ، وہ یونہی اپوزیشن لیڈر نہیں بن گیے ۔ یہ تو الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ اُن سنگین الزامات کا ، جو راہل گاندھی نے لگائے ہیں ، مناسب جواب دے ، بلکہ ’ حلف نامہ ‘ دے کر جواب دے ۔ ووٹ چوری کے الزام کا مطلب جمہوریت کو تباہ کرنا ہے ، اس کا مطلب عوام کے حقوق کو غصب کرنا ہے ، اس کا مطلب عوامی رائے سے کھلواڑ ہے ۔ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو کٹگھرے میں کھڑا کر دیا ہے ، یہ عوامی عدالت کا کٹگھرا ہے ، الیکشن کمیشن کو بھی اور بی جے پی بلکہ مودی حکومت کو بھی جواب دینا ہی ہوگا ۔ ویسے بات صرف مبینہ ووٹ چوری ہی کی نہیں ہے ، ہندوستانی عوام کا تو بہت کچھ چُرا لیا گیا ہے ، ان کا سکون اور چین ، ان کی روزی روٹی ، ان کی دولت ، ان کی شہریت ، ان کی زمینیں اور ملکیتیں۔ عوام تباہ و برباد ہے ، اور اِس کا بنیادی سبب ، مرکز کی اُس حکومت کی پالیسیاں اور اس کے اعمال و افعال ہیں ، جس پر یہ سنگین الزام ہے کہ وہ ووٹ چوری کرکے اقتدار پر متمکن ہوئی ہے ۔ اگر ووٹ چوری ہوئے ہیں تو یقیناً عوام اپنے ووٹوں کی چوری کا حساب لیں گے ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں