غیر رجسٹرڈ پریس کلب سیل کر یں /گل بخشالوی

کتابوں میں پڑھتے ہیں ، صحا فت ، ریاست کا چوتھا ستوں ہے ، ہم چونکہ صحافی ہیں اس لئے ہمیں اپنے اس اعزاز پر فخر ہے ،لیکن بعض اوقات صحافی اپنی اوقات بھول جاتے ہیں، کار سرکار میں مداخلت کی حدیں تک پار کر جاتے ہیں،اور جب ہمیں ہماری اوقات یاد دلائی جاتی ہے تو آنکھ کھلتی ہے لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ہم اخبار نویس معاشرتی مجرموں کے خلاف قلم اٹھاتے ہیں، انتظامیہ کی نا اہلی اور جانے کیا کیا لکھ جاتے ہیں ، ہم لکھتے ہیں، محکمہ صحت کی چھتری کے نیچے عطا ئی ڈاکٹرز، نیم حکیم سرِ عام موت بھانٹ رہے ہیں اور محکمہ صحت خواب خرگوش میں مدہوش ہے لیکن جب ہماری خبر پر انتظامیہ کی آنکھ کھلتی ہے ،تو عوامی مطالبے پر انتظامیہ عطائی ڈاکٹر کا کلینک سیل کر دیتی ہے پھر صحافی حضرات نامعلوم وجوہات کی بنا پر محکمہ صحت کے دفتر جا کر افسران اعلیٰ کو قلم کی آنکھ دکھاتے ہیں۔
کار سرکار میں مداخلت کے دوران جب اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو دفتر کے اہلکار تھپڑوں کی بارش میں انہیں ان کی ا وقات بتا دیتے ہیں ، تب ان کے قبیلے کے باوقار دوست مدد کے لئے آتے ہیں جب وہ بھی حقائق کو نظر انداز کر تے ہیں تو زیر عتاب آتے ہیں ،جب ان کے خلاف مقدمات درج ہو تے ہیں تو ضلع بھر میں اپنے قبیلے کو آواز دیتے ہیں اور مذمت مذمت کے شور میں افسران اعلیٰ کے تبادلے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انتظامیہ معاشرتی مجرم کے خلاف کاروائی کرتی ہے،تو اہل قلم مجرم کے ساتھ کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں،گجرات پریس کلب کے ذمہ داروں نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ایک عطائی ڈاکٹر سے محبت میں گجرات پریس کلب کے وقار کو نہ صرف مجروح کر دیا ہے بلکہ اخبار نویس کے ا وقات کو بھی ننگا کر دیا ۔ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا !

انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیا ن تنازعے میں صرف ایک دانشمندانہ آواز سنائی دی ،مسلم لیگ ن کے ایم این اے ، نصیر عباس سدھو کہتے ہیں ، ضلعی انتظامیہ صحافی برادری کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرے ،موجودہ تناؤکی صورت حال کسی بھی شعبہ کے حق میں نہیں بہتر ہو گا معتبر حلقے آگے بڑھیں انتظامیہ اور صحافیوں کے مسلے کو خوش اسلوبی سے حل کریں ۔

julia rana solicitors london

لیکن دوسری طرف گجرات پریس کلب کی حمایت میں ضلع بھر کی صحافی برادری کے دباؤسے بے پرواہ ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی نے ضلع گجرات بھر میں ڈمی اخبارات و جرائد کے ڈیکلریشن منسوخ کر دیئے ہیں۔  دپٹی کمشنر کے اس احسن اقدام کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے ،کیا ہی بہتر ہو گا کہ ضلعی انتظامیہ گجرات بھر میں غیر رجسٹرڈ پریس کلبوں پر بھی پابندی لگا کر پریس کلبوں کو سیل کر دیں، اس وقت کھاریاں شہر میں مختلف ناموں سے پانچ پریس کلب ہیں۔ان پریس کلبوں میں پانچ فیصد سے بھی کم وہ صحافی ہیں جو خبر بنانا اور لکھنا جانتے ہیں،باقی سب فیس بکی موبائل فو ن کے صحافی ہیں جو حادثات میں تڑپتی انسانیت کی تصویر یں بنا کر پہلی فرست میں فیس بک پر شیئر کر دیتے ہیں ، لیکن تصو یر کے نیچے کیپشن نہیں لکھ سکتے ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply