پرسہ

گزرے برس حسبِ معمول جب دیارِ غیر سے گھر فون کیا تو بڑی بہن نے خبر دی کہ چھوٹی ہمشیر ہ کل سے غمگین ہے۔فوراً چھوٹی بہن سے بات کی تو اس نے اداس لہجہ میں کہا کہ بھائی ہمیں پرسہ دو۔ ۔۔۔۔
بھائی واری، بھائی قربان، کیا سانحہ ہو گیا کہ جو پرسہ دیا جائے؟ ۔۔۔بھائی، قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ۔۔۔رقیقُ القلب ہمشیر ہ کو دلاسہ دینے کے بعد اِدھر اُدھر کی باتوں سے اُس کا دل بہلانے کی کوشش کی مگر ایک خلش نے دل میں پنجے گاڑ دیے کہ بہن کو آخر مجھ سے پرسہ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ کہیں وہ یہ جانچنا تو نہیں چاہتی تھی کہ میرے لئے اِس قندیل کا گُل ہو جانا آثارِ تجلی ہے یا شبِ تیرہ کا ا ستعارہ؟ہمارے معاشرہ میں عورتوں کے حواس پہ کس کس نو کے کابوس مسلط ہیں اس کا مکمل ادراک شاید ہی کسی مرد کو ہو کہ اس پدر سری سماج میں عورت کا عمومی مقام اس کے گھر میں موجود مرد کی حیثیت سے وابستہ ہوتا ہے۔ حتٰی کہ لغت بھی لفظ”عورت” کے انفرادی معنیٰ کے بجائے اُس کا مطلب”جسم کے وہ اعضا جن کے دیکھنے دکھانے سے شرم آئے، بیوی، زوجہ، اہلیہ، گھر والی”سکھاتی ہے۔
پچھلے ہفتہ جب والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو ہم بہن بھائیوں کو امی کی وفات پہ ایک دوسرے کو پرسہ دینے کی ضرورت پیش نہ آئی کہ ہمیں احساس تھا کہ یہ نقصان تو ہمارا سانجھا ہے اور اس کمی کو اب کوئی پورا نہیں کر سکتا۔ والدہ کی تدفین سے پہلے گھر کی چار دیواری میں عورتوں اور محرموں کو اُن کا آخری دیدار کروا کر اُن کے کفن کے بند باندھ دیے گئے اور وہ اپنے بیٹوں، بھائیوں، اور بھتیجوں کے کاندھوں پہ اپنی آخری آرام گاہ پہنچا دی گئیں۔ ہم سب کا یہ عقیدہ ہے کہ اب اُن کے لئے اگلا مرحلہ انسانی آنکھ سے اوجھل اور رب کے ہاتھ میں ہے۔ تاہم ایک اور عورت جسے مرے ہوئے تقریباً دس ماہ ہوچکے ہیں، جو اپنی زندگی اور موت دونوں صورتوں میں کرگسوں کی خوراک رہی، جس کی بعد از مرگ تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہماری تفریحِ طبع کے لئے شائع کی گئیں، اس کے اعمال کا حساب ہم اب بھی اپنے ہاتھوں کرنے پہ مصر ہیں۔ارے یہ کیا کِیا میں نے، اپنی ماں اور بہنوں کا تذکرہ اور قندیل بلوچ کا ذکر ایک ہی مضمون میں کردیا۔۔۔۔ غالباً عابی مکھنوی نامی کسی جذباتی شاعر نے کہا تھا
روز سہتی ہیں جو کوٹھوں پہ ہوس کے نشتر
ہم درندے جو نہ ہوتے تو وہ مائیں ہوتیں!

Avatar
علی بابا
علی بابا لندن میں مقیم ہیں اور سماجی اور سیاسی شعور رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *