ہوا کی خوشبو کو کوئی قید نہیں کر سکتا۔ پرندے سرحد نہیں دیکھتے، بادل پاسپورٹ نہیں مانگتے، اور آسمان پر کوئی ویزا درکار نہیں ہوتا۔ مگر جب زمین پر بیٹھے انسان اپنی ضد، انا اور طاقت کے نشے میں آسمان پر بھی باڑ لگا دیں، تو فضائیں بھی زہر آلود ہو جاتی ہیں۔ آج پاکستان اور بھارت کے درمیان وہی زہر گھلا ہوا ہے،فضائی حدود کی جنگ۔
یہ تنازع محض ایک فنی مسئلہ نہیں، یہ دونوں ملکوں کے مزاج کا عکاس ہے۔ ایک طرف پاکستان ہے، جو اپنی فضائی حدود کو قومی وقار کا حصہ سمجھتا ہے، جو اپنے فیصلے اصول پر کرتا ہے، اور جس کے لیے سلامتی ہر مادی فائدے سے بڑھ کر ہے۔ دوسری طرف بھارت ہے، جو طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی طرح ہر راستہ روند دینا چاہتا ہے، چاہے اس کے تلے امن کا پودا مسلا جائے یا تجارت کی ندی خشک ہو جائے۔
بھارت کا آپریشن سندور اسی تکبر کی تازہ مثال ہے۔ ایک ایسا اقدام جس نے خطے میں کشیدگی کو نئی آگ دی۔ پاکستان نے اس کا جواب بھارتی پروازوں پر اپنی فضائی حدود بند کر کے دیا۔ یہ فیصلہ محض ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک واضح اعلان تھا کہ پاکستان اپنے آسمان پر بھارت کی من مانی برداشت نہیں کرے گا۔
مگر بھارت، جو ہمیشہ جارحیت کو سفارتکاری کا متبادل سمجھتا آیا ہے، اس فیصلے پر بوکھلا گیا۔ عالمی میڈیا میں اس نے پاکستان کو ضدی، نقصان دہ اور غیر ذمہ دار ظاہر کرنے کی مہم شروع کی۔ یہ وہی بھارت ہے جو خود کشمیریوں کو قید کر کے کہتا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، جو بارڈر پر گولیاں برسا کر دنیا کو امن کے لیکچر دیتا ہے، اور جو ہر عالمی فورم پر ڈیموکریسی کا ورد کرتے ہوئے اپنے ہی عوام کے حقوق پامال کرتا ہے۔
پاکستان کے فیصلے کی قیمت ضرور تھی۔دو ماہ میں 1,240 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ مگر یہ وہ نقصان ہے جو عزت کی حفاظت کے لیے ادا کیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے وقار کو چند سکے بچانے کے لیے بیچ دیا، وہ بعد میں اپنی سرحدوں اور اپنی شناخت دونوں کھو بیٹھیں۔ پاکستان نے یہ سودا نہیں کیا، نہ کرے گا۔
بھارت کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اقتصادی دباؤ ڈال کر مخالف کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر بھارت یہ بھول جاتا ہے کہ پاکستان ان قوموں میں سے ہے جو بھوک برداشت کر لیتی ہیں مگر غلامی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی توقع کے برعکس، پاکستان کے عوام نے اس فیصلے کو سراہا، اسے قومی غیرت کی جیت سمجھا۔
جہاز محض دھات کے ڈبے نہیں ہوتے، یہ ملکوں کے درمیان اعتماد اور تعلقات کے پر ہوتے ہیں۔ جب بھارت کی پروازیں رکیں تو دراصل اس کے تکبر کے پر کتر دیے گئے۔ بھارت چاہتا تھا کہ دنیا اسے ایک ناگزیر تجارتی مرکز سمجھے، مگر پاکستان نے دکھا دیا کہ اس کے بغیر بھی راہداری کا کھیل کھیلا جا سکتا ہے۔
بھارت کا رویہ اس فضائی تنازع میں بھی ویسا ہی ہے جیسا پانی کے مسئلے پر ہے۔ دریاؤں کے پانی روکنا، معاہدوں کی دھجیاں اڑانا، اور پھر دنیا کو یہ باور کرانا کہ سب کچھ قانون کے مطابق ہو رہا ہے،یہی دہرا معیار آج فضائی حدود کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔
پاکستان نے بھارت کو اپنی فضائی راہداری سے محروم کر کے نہ صرف ایک مضبوط پیغام دیا بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی بے نقاب کیا کہ یہ ملک اپنے تجارتی راستوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ بھارت کا اصل چہرہ وہی ہے جو نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع میں، سری لنکا کے ساتھ ماہی گیری کے جھگڑوں میں، اور چین کے ساتھ لداخ میں دکھائی دیتا ہے،ایک ایسا ہمسایہ جو امن کے ہر موقع کو ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔
پاکستان کی پالیسی اس کے برعکس ہمیشہ سے اصولی رہی ہے۔ چاہے یہ افغان امن عمل ہو، ایران کے ساتھ تعلقات، یا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون،پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔ فضائی تنازع میں بھی پاکستان کا مقصد جنگ نہیں بلکہ بھارت کے تکبر کو آئینہ دکھانا ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہر جگہ طاقت کے بل پر کامیابی چاہتا ہے، مگر طاقت کا کھیل ہمیشہ الٹا پڑتا ہے۔ آج بھارت کے مسافر طویل اور مہنگے راستوں سے سفر کرنے پر مجبور ہیں، اس کی ایئر لائنز اضافی ایندھن پر اربوں کا نقصان برداشت کر رہی ہیں، اور اس کی تجارتی ترسیل میں تاخیر معمول بن چکی ہے۔
اس دوران پاکستان نے نہ صرف اپنی سالمیت کا پیغام دیا بلکہ عالمی فضائی راہداری میں اپنی جغرافیائی اہمیت بھی منوائی۔ دنیا جان گئی کہ اگر پاکستان چاہے تو پورے خطے کی فضائی ٹریفک کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو نقشے پر چھوٹے ملک کے پاس بھی ہو سکتی ہے اگر اس کے فیصلے جرات اور حکمت سے بھرپور ہوں۔
بھارت کو سمجھنا ہو گا کہ آسمان پر بنائی گئی دیواریں زمین پر بھی دراڑیں ڈال دیتی ہیں۔ اگر وہ اسی ضد پر قائم رہا تو نہ صرف اپنی معیشت بلکہ خطے کے امن کو بھی دائمی نقصان پہنچائے گا۔ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن امن اس قیمت پر نہیں جس میں وقار بیچنا پڑے۔
آسمان کا اصل رنگ امن ہے۔ اگر بھارت اپنی پالیسیوں میں تکبر کا زہر گھولتا رہا تو ایک دن وہ اکیلا رہ جائے گا۔
پاکستان کے عوام اور قیادت نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو بھارتی دھمکیوں سے مرعوب ہوتے ہیں، نہ ہی تجارتی لالچ میں اپنی خودمختاری کو قربان کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ، چاہے وقتی نقصان دے، مگر آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دے گیا ہے کہ آسمان بھی ہمارا ہے، اور فیصلے بھی ہمارے اپنے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں