دہشت گردی پاکستان کا سب سے سنگین داخلی مسئلہ ہے، جس نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانوں کو نگل لیا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان بداعتمادی کو بھی گہرا کر دیا۔ اگرچہ پاکستان نے کئی بار کامیاب فوجی آپریشنز کیے جیسے ضربِ عضب، ردالفساد اور سوات آپریشن، مگر ان کے دیرپا اثرات اُس وقت تک سامنے نہیں آ سکتے جب تک قوم پرستی، ریاست مخالف بیانیے، اور دہشت گردوں کے ہمدردوں کا خاتمہ نہ کیا جائے۔:
دہشتگردی سے سابقہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوا ہے جیسے انڈونیشیا ہمارے سامنے ایک مثال ہے
انڈونیشیا میں دہشت گردی کی جڑیں مذہبی شدت پسندی میں تھیں، خاص طور پر “جماء اسلامیہ” جیسے گروہ جو القاعدہ سے متاثر تھے۔ 2002 میں بالی بم دھماکوں کے بعد ریاست نے شدت پسندوں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے۔
1. Densus 88 کے نام سے خصوصی انسدادِ دہشت گردی یونٹ بنایا گیا۔
2. Deradicalization پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت گرفتار شدت پسندوں کو فکری طور پر معتدل بنانے کے لیے تربیت، تعلیم اور مذہبی رہنماؤں کی مدد لی گئی۔
3. شدت پسند بیانیے کا جواب دینے کے لیے میڈیا اور مدارس کو استعمال کیا گیا۔
4. انڈونیشیا میں دہشت گردی کا سبب شدت پسند مذہبی نظریات تھے جو علاقائی محرومی کے ساتھ جڑ گئے تھے، ریاست نے نظریاتی اور عسکری دونوں محاذوں پر لڑ کر ان کو شکست دی۔
اس کے علاوہ کولمبیا بھی دہشتگردی سے متاثرہ ممالک میں سے تھا
کولمبیا میں دہشت گردی کی بنیاد سیاسی اور نظریاتی باغی تحریک فارک تھی جو مارکسی نظریات پر مبنی تھی۔ انہوں نے حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کی، اغوا، قتل، منشیات، اور بلیک میلنگ جیسے جرائم کیے۔
1. حکومت نے امریکی تعاون سے “Plan Colombia” کے تحت طاقتور فوجی آپریشنز کیے۔
2. FARC کی قیادت کو ہدف بنا کر ختم کیا گیا۔
3. بعد ازاں مذاکرات کے ذریعے FARC کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا گیا، اور ایک سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
4. عام جنگجوؤں کے لیے Re-integration پروگرامز کے ذریعے تعلیم، ہنر، اور مالی مدد فراہم کی گئی۔
5. کولمبیا میں دہشت گردی کا سبب طاقت کے حصول کے لیے سیاسی نظریات کا مسلح استعمال تھا، جس کا حل طاقت اور مصالحت کے امتزاج سے نکالا گیا۔
عزیزانِ من ۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتا جا سکتا، کیونکہ ریاست کو بیانیاتی اور نفسیاتی محاذ پر کمزور کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
پختون اور بلوچ بیلٹ کے رہنما اور قبائلی سرداران ہمیشہ سے ریاست مخالف ذہن سازی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے بیانیے پاکستان کے وجود اور افواج پر براہِ راست حملہ کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما باچا خان کی قبرافغانستان میں ہے کیوں کہ ان کے مطابق “عوام تو عوام یہ مٹی بھی غلام ہے”۔ ان کا یہ موقف ریاستِ پاکستان کے وجود کو چیلنج کرتا ہے۔
اسی طرح مذہبی رہنماؤں نے ہمیشہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان کا نظام انگریزوں کا ہے، جو غیر اسلامی ہے۔ اس بیانیے نے نوجوانوں کو ریاست سے بیگانہ کر دیا۔
اگر پاکستان کی افواج سے کوئی چھوٹی غلطی ہو جائے تو قوم پرست رہنما اسے ایسا پیش کرتے ہیں جیسے کوئی عظیم الشان قومی جرم ہو گیا ہو۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی الزامات جو سقوطِ ڈھاکہ کے دوران بھارت نے لگائے تھے، آج خود پاکستان کے کچھ رہنما اپنی فوج پر لگا رہے ہیں۔
ظالموں اگر افواج پاکستان ہے تو پاکستان ہے ورنہ بھارت اور اسرائیل نے تو پاکستان کو ایک اور غزہ بنانے کی مکمل منصوبہ بندی کی تھی وہ تو اللّٰہ تعالیٰ نے کوئی خاص کرم کیا جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔
جب دہشت گرد کسی مذہبی یا سیاسی شخصیت کو قتل کرتے ہیں، تو فورا الزام ریاست پر ڈال دیا جاتا ہے — بغیر تحقیق اور ثبوت کے۔
عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ریاست ہی قاتل ہے، تاکہ عوام اور ریاست کے درمیان دشمنی اور بداعتمادی پیدا کی جا سکے۔
ماہ رنگ بلوچ جیسے لوگ جو دہشت گردوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں اور ان کی لاشیں لینے پہنچتے ہیں، ریاست کے خلاف بیانیے کو مزید طاقت دیتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس کے دہشت گردوں کے لیے ہمدردی رکھنا دہشت گردی کے خلاف لڑنے والوں کی قربانیوں کی توہین ہے۔
جب ریاست پختون یا بلوچ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی بات کرتی ہے تو یہی قوم پرست رہنما عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ ریاست ان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، اور ساتھ ہی دہشت گردوں کا بھی رونا روتے ہیں۔
یہ قوم پرست ذہنیت صرف سیاست یا مذہب تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں سرایت کر چکی ہے۔ عام شہری، استاد، صحافی، سماجی کارکن اور سوشل میڈیا پر موجود اثرورسوخ رکھنے والے افراد تک، اکثر اس بیانیے کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں
یہ ذہن سازی تعلیم، میڈیا، سوشل میڈیا، اور سیاسی بیانات کے ذریعے پھیلائی جاتی ہے۔
ذہن سازی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت نصاب میں سب سے متنازع مطالعہ پاکستان کا مضمون ہے طلبہ کی اکثریت مطالعہ پاکستان کو صرف خرافات ہی سمجھتے ہیں ۔
عدم تشدد کے علمبردار اور بی ایل اے وغیرہ جیسی تنظیمیں تو کھلم کھلا ریاست کے خلاف بیانیہ پیش کر رہی ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف ریاست اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنا ہے۔
یہی قوم پرست رہنما نہ صرف افواجِ پاکستان بلکہ ملکی دفاعی نظام کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے ایٹمی صلاحیت کو ہمیشہ غیر ضروری قرار دیا، حالانکہ حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی کے بعد دنیا کو ایک بار پھر یاد آیا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ان کے بیانیہ سے تو دنیا نے یہ سمجھا تھا کہ پاکستان تو شے ہی کوئی نہیں ۔
یہ رہنما پاکستان کی کسی بھی کامیابی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ دفاعی فتح پر بھی یہ تاثر دیا گیا کہ بری فوج کا کوئی کردار نہیں تھا، اور کامیابی صرف فضائیہ کی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فتح تو پاکستان کی ہے، خواہ وہ بری فوج لائے یا فضائیہ، یہ بحث پاکستان دشمنی کے مترادف ہے۔ ظالموں! پاکستان کی فتح کی دھجیاں مت بکھیرو۔
عزیزانِ من حل یہ ہے کہ
انڈونیشیا اور کولمبیا کی طرز پر پاکستان کو بھی ایک جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
ریاست کو چاہیے کہ دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف مکمل اور بےلچک آپریشن کرے۔
بیانیاتی جنگ جیتنے کے لیے مدارس، میڈیا، اور تعلیمی اداروں میں اصلاحات کی جائیں۔
قوم پرست بیانیے کا توڑ سچائی، شفافیت، اور قومی وقار کے ذریعے کیا جائے۔
شدت پسند نظریات رکھنے والوں کو اگر وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوں تو Re-integration کے ذریعے قومی دھارے میں لایا جائے۔
عزیزانِ من ۔ دہشت گرد صرف بندوق سے نہیں، خیالات سے پیدا ہوتے ہیں۔
اگر ہم ان خیالات کو ختم نہ کر سکے
تو ایک دہشت گرد مرے گا، اور اس کی لاش سے سو مزید تیار ہوں گے۔
اس لیے پاکستان کو آپریشن، نظریاتی اصلاح، بیانیہ، اور تعلیم —
چاروں محاذوں پر ایک ساتھ لڑنا ہوگا۔
جب تک قوم پرست بیانیے کا خاتمہ، دہشت گردوں کے ہمدردوں کی بیخ کنی، اور عوام و ریاست کے درمیان اعتماد بحال نہیں ہوتا، اس وقت تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ پاکستان کو اپنی فکری، عسکری، اور سیاسی حکمت عملی کو مربوط کرتے ہوئے دشمن کے ہر ہتھیار — چاہے وہ بندوق ہو یا بیانیہ — کا مؤثر جواب دینا ہوگا۔ الغرض ہر محاذ کے خلاف آپریشن ہوگا تو دہشت گردی ختم ہو گی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں