اسلامی جمہوریہ پنجاب۔۔جمیل خان

ریاضی کے معاملے میں ہمارا حال بیشتر مسلمانوں کے جیسا ہی رہا، یعنی کبھی دلچسپی نہیں لی۔ البتہ اچھے نمبروں سے ضرور پاس ہوجایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ والد صاحب نے ابتدائی کلاسوں کے دوران ہمیں دل ہی دل میں حساب کرنے کی مشق کروائی تھی۔ انہیں ڈیڑھ، دو، اڑھائی ، تین، ساڑھے تین، سوا تین کے بھی پہاڑے یاد تھے، وہ چاہتے تھے کہ ہم بھی یاد کریں، زمانہ طالبعلمی کے دوران ہمیں یاد رہے، لیکن اب انہیں دوہرانے میں خاصی دقت ہوتی ہے، البتہ ذہن میں جمع تفریق کرلینے کی مشق کی وجہ سے عام حساب کتاب میں اتنی مشکل نہیں پیش آتی۔

لیکن جب سے یہ مُوا کیلکیولیٹر آیا تو ذہن مزید اُچاٹ ہوگیا، اور اب تو یہ حال ہے کہ حضرت گوگل بابا اولیاء دامت برکاتہم العالیہ کے فیوض برکات کی اتنی برسات ہے کہ یادداشت بھی کمزور پڑ گئی ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہر چیز بابا گوگل کے کشکول میں ہاتھ ڈال کر ٹٹولنے سے باآسانی مل جاتی ہے۔

خیر بات ہورہی تھی ریاضی کی تو آپ کو یاد ہوگا کہ ابتدائی کلاسوں میں ایک مشق ہوا کرتی تھی کہ چار مزدور ایک سڑک کی مرمت چھ گھنٹوں میں کرتے ہیں، تو آٹھ مزدور اسی سڑک کی مرمت کتنے وقت میں کریں گے؟ جواب ظاہر ہے یہی ہوگا کہ تین گھنٹوں میں۔۔۔ اب اسی مساوات کو آگے بڑھائیے اور دیکھیے کہ سولہ مزدور اسی سڑک کی مرمت کتنے وقت میں کریں گے؟ جواب ہوگا کہ ڈیڑھ گھنٹے میں۔۔۔ بتیس مزدور اسی سڑک کی مرمت پینتالیس منٹ میں کریں گے۔۔۔ چونسٹھ مزدور سڑک کی مرمت کے بائیس اعشاریہ پانچ منٹ کا وقت لیں گے۔ ایک سو اٹھائیس مزدور گیارہ اعشاریہ دو پانچ منٹ کا وقت لیں گے۔۔ دو سو چھپن مزدور پانچ اعشاریہ چھ دو پانچ منٹ کا وقت لیں گے، جبکہ پانچ سو بارہ مزدور اسی کام کو مکمل کرنے میں دو اعشاریہ آٹھ ایک دو پانچ منٹ کا وقت لیں گے۔

کیا واقعی حقیقت میں ایسا ہوسکتا ہے؟

جی نہیں!

یہ مساوات موافق حالات میں صرف آٹھ مزدوروں تک ہی عملی طور پر دُرست ثابت ہوسکتی ہے۔ موافق حالات پر زور اس لیے دیا ہے کہ یہ حالات خصوصاً ہمارے جیسے معاشروں میں میسر نہیں آتے۔

علمِ ریاضی کی ٹیکنالوجی میں زبردست اہمیت ہے، لیکن سوشل سائنس پر ریاضی کے کُلیوں اور مساوات کو لاگو نہیں کیا جاسکتا۔مسلمانوں کی علمِ ریاضی سے بے رغبتی کا اکثر رونا رویا جاتا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو جمع دو چار کے تحت ہی فیصلے کرتی آئی ہے، اور جب نتیجہ غلط نکلتا ہے تو اسے غیروں کی سازش قرار دے کر مزید غلط نتائج کے حصول میں جُت جاتی ہے۔

ایک انسان پہلی مرتبہ چوری کرتا ہے، لگے بندھے اصولوں، ضابطوں اور اخلاقی قدروں کی روشنی میں وہ چور ہے۔ پہلی چوری پر پکڑا جاتا ہے تو اس پر ٹھپّہ لگ جاتا ہے کہ یہ چور ہے، لیکن کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے اردگرد کا ماحول، اس کے حالاتِ زندگی، اس کا بچپن جس ماحول میں گزرا، جس کے تحت اس کی نفسیات تشکیل پائی، کیا تھے؟ اگر سزا ہوجائے تو اس کا ذہن اسی غلط راہ پر چل پڑتا ہے، اور پکڑا نہ جائے، پھر تو یہی راستہ سہل اور پُرکشش معلوم ہوتا ہے۔

اسی لیے ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں نے اب سخت جسمانی سزاؤں کو ترک کرکے مجرموں کے نفسیاتی علاج پر توجہ دینی شروع کردی ہے، تاکہ معاشرے میں سدھار پیدا ہو۔

یہاں ہم دو جمع دو چار کی مثال دینے کے بعد آپ سے سوال کرنا چاہیں گے کہ کراچی میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد نے جرائم کی راہ اپنائی تو کیا وہ سب خاندانی طور پر ایسے تھے؟

نہیں۔۔۔ یہ حالات تھے، جنہوں نے انہیں اس راہ پر چلنے پر مجبور کیا، دنیا کے کسی ملک میں اس کی مثال نہیں ملے گی کہ کہیں لاوارث لاشوں کا اتنا بڑا قبرستان ہو، یہ کراچی شہر ہے، جہاں ایدھی کے قبرستان میں  اڑھائی لاکھ لاوارث اور گمنام افراد کی قبریں ہیں، جن کے کتبوں پر نمبر درج ہیں۔

ان میں سے کتنے ہی ایسے ہوں گے جو گمنام گولیوں کا شکار ہوئے ہوں گے، کسی اور کے لیے داغی گئی گولی نے انہیں نشانہ بنالیا ہوگا، کتنے ہی ٹارگٹ کلرز کا نشانہ بنے ہوں گے، اور کتنے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے جعلی مقابلوں میں مارے گئے ہوں گے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حال تو یہ ہے کہ جب کوئی سانحہ گزر جاتا ہے تو اکثر جائے وقوعہ سے جو بھی گزرتا ہے، اس کو اُٹھالیتے ہیں اور پھر جب میڈیا کا دباؤ بڑھتا ہے تو عموماً یہ انہی بے گناہ لوگوں کو ویرانے میں قتل کرکے جعلی مقابلہ ظاہر کردیتے ہیں۔

جب ہم ڈان اردو میں ملازم تھے تو ان دنوں ہمارا زیادہ وقت فاٹا، وانا اور قبائلی علاقوں کے حالات اور واقعات کی  سٹوریز پر کام کرتے گزرتا تھا، دو برس کی ہماری اس ریسرچ سے ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ ان متاثرہ علاقوں کی اکثریت نفسیاتی مریض بن چکی ہے، جنہیں مذہبی ٹھیکے داروں اور مذہبی غنڈوں نے اپنا آلۂ کار بنا لیا ہے۔ ان علاقوں کے حالات روز بروز بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، یوں وہاں پر اصلاح کا امکان بھی کم سے کم تر ہوتا چلا جارہا ہے۔

ہم ان دنوں یہ سوچا کرتے تھے کہ کراچی کے حالات کا بھی کوئی تجزیہ کرے، کوئی یہاں کے نوجوانوں کا نفسیاتی جائزہ لے، تاکہ یہاں جرائم کے پروان چڑھنے کے پسِ پردہ حقائق سامنے آسکیں۔آج اردو بولنے والی کمیونٹی کا حال کراچی میں اس قدر پست ہوچکا ہے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، جبکہ اس کے نام پر سیاست کرنے والے اربوں کھربوں میں کھیل رہے ہیں، نہ تو وہ مڈل کلاسیے رہے ہیں اور نہ غریب!

کراچی کے وہ مہذب اور ادب آداب کا خیال رکھنے والے گھرانے جنہیں دیگر قوموں کے لوگ رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، کب کے بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں۔کراچی کے لیے آواز اُٹھانے والے ہوں یا اس کے نام پر سیاست کرنے والے یا تو بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کے ذہن میں 80 کی دہائی کا کراچی نقش ہے، اوروہ اسی نقش کو لے کر تجزیے کرتے رہتے ہیں، جو ظاہرہے درست نہیں ہوسکتا، اور جو یہاں مقیم ہیں، وہ بالائی طبقے کا حصہ بن کر اپنے اردگرد ایسا حصار بنا چکے ہیں کہ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے نہ تو کوئی دلچسپی رہی ہے، اور نہ ہی وہ ان مسائل سے کوئی آگاہی رکھتے ہیں۔

اس وقت کراچی میں پشتو بولنے والے افغانیوں کی بہت بڑی تعداد اس شہر کے کاروبار، تجارت پر چھا چکی ہے۔ ٹرانسپورٹ تو چالیس برسوں سے انہی کے پاس ہے۔ ان افغانیوں کے پاس پاکستان کے شناختی کارڈ ہیں، وہ جائیدادوں کے مالک ہیں۔ ابھی کچھ عرصے سے نادرا نے شناختی کارڈ کے حصول میں کچھ سختی کی تو حسبِ دستور جماعت اسلامی ان کی پشت پناہی کے لیے میدان میں اُتر آئی۔

سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بسنے والے پنجابی، سرائیکی اور ہزارہ کے لوگ شناختی کارڈ اپنے گاؤں یا آبائی شہر کا رکھتے ہیں اور ان کے ووٹ بھی وہیں درج ہیں۔پشتونوں کی اکثریت نے اب یہ روایت ترک کردی ہے اور اس شہر کو پوری طرح سے اپنا لیا ہے۔ ان کے ووٹ بھی اسی شہر میں درج ہے، اور اب وہ ماضی کی طرح اپنے متوفین کو ’’مُلَک‘‘ نہیں لے کر جاتے بلکہ ان کی تدفین بھی اسی شہر میں کرتے ہیں۔کراچی کی ہی نہیں پورے سندھ کی لسانی ساخت اب چند دہائیوں پہلے جیسی نہیں رہی۔

جیسا کہ ہم نے پچھلی سطور میں عرض کیا تھا کہ مسلمانوں نے جب بھی کوئی فیصلہ کیا دو جمع دو کے تحت چار کی توقع باندھ لی، جیسے کہ پاکستان کا قیام دیکھ لیجیے۔یہ سوچ لیا گیا تھا کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں بنایا جائے، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، چنانچہ وہاں بسنے والی تمام قومیں اپنی اپنی ثقافتی، لسانی اور دیگر علاقائی شناخت کو ترک کرکے پاکستانی بن جائیں گی۔ ظاہر ہے کہ ایسا عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔۔۔ دو جمع دو چار کے جیسا کلیہ یہاں لاگو کرنا حماقت تھی، نتیجہ بنگالیوں کی بغاوت کی صورت میں نکلا۔

سندھ نے بھی اس مسلط کردہ شناخت کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا، پاکستان کا یہ واحد صوبہ ہے جہاں سندھی میڈیم اسکول موجود ہیں، اور تمام مضامین سندھی میں پڑھائے جاتے ہیں۔لیکن چونکہ یہاں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد غیرمسلم سندھیوں کی جبری نقل مکانی کی جگہ لے چکی تھی، اس لیے مجموعی طور پر مشرقی پاکستان جیسا کوئی سخت ردّعمل سامنے نہیں آسکا۔انگریزوں نے بھی سندھیوں کی بغاوت کی وجہ سے انہیں پسماندہ رکھنے میں ہی اپنی بقا سمجھی تھی، اور اس بغاوت کا زور توڑنے کے لیے پنجاب سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اس خطے میں لاکر بسایا گیا تھا۔پنجاب نے اپنی زبان، ثقافت، مقامی تہواروں، مقامی ہیروزکو ترک کردیا، شاید اس لیے کہ پاکستانی شناخت اختیار کرکے ملکی اقتدار پر قابض رہ سکیں؟ لیکن کیا وہ واقعی پاکستانی بن گئے؟ اور ان کی پنجابی شناخت یکسر ختم ہوگئی؟

مذہبی شدت پسندی کو بھی اسی لیے فروغ دیا گیا کہ اس کے ذریعے مقامی ثقافت کو مٹایا جاسکے۔ جیسا کہ سندھ میں سندھی بولنے والے افراد کے اندر کرپشن کی روایت نے مذہبی شدت پسندی کو پنپنے میں مدد دی ہے۔اب دو نمبر مال اکھٹا ہوتا ہے تو ضمیر کی آواز کو دبانے کے لیے منافقت کا سہارا لیا جاتا ہے۔ نماز، روزہ، حج جیسی رسمی و ظاہری عبادات اس ضمن میں کافی کارگر ثابت ہوتی ہیں۔علاوہ ازیں رینجرز، فوجی ایجنسیوں اور پنجابی بیوروکریسی نے غیرسندھیوں کو استعمال کرکے یہاں مذہبی شدت پسندی کی کاشت کافی عرصے سے شروع کررکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بھی مذہبی غنڈوں کی تنظیموں کو پھلنے پھولنے کے خوب مواقع میسر آئے ہیں۔

تاہم اس سب کے باوجود سندھ کا نوجوان پنجاب کے برعکس سیکولر سوچ کا حامل ہے۔ سندھ کے پسماندہ دیہاتوں میں بھی گھروں میں لائبریریاں ہیں، جن میں آزاد فکر پر مبنی کتابیں موجود ہیں، جبکہ پنجابی اور اردو بولنے والے گھرانوں میں آپ کو اگر کتابیں ملیں گی تو نسیم حجازی، اور سلسلہ بیوروکریسیہ والشہابیہ والنائنٹیہ والاشفاقیہ والبانو قدسیہ، والممتازمفتیہ کی روحانی کتابیں، اور نسیم حجازی کا خاتون ورژن عمیرہ احمد کے ناول ہی ملیں گے۔

لاکھوں میں کوئی ایک گھر ہوگا جہاں سبط حسن یا علی عباس جلالپوری کی کتاب مل جائے اور اس کا مطالعہ بھی کیا گیا ہو۔۔۔ جی ہاں یہ بھی ضروری نہیں کہ مطالعہ بھی کیا گیا ہو! ایسا ممکن ہے کہ کسی گھر سے ان مصنفین کی کتابیں تو مل جائیں لیکن چونکہ انہیں خرید کر پڑھنے والے مرکھپ گئے ہوں گے تو اب اس گھر میں محض ان کی یادگار کے طور پر الماریوں میں سجی ہوئی ہوں گی، یا پھر کسی اسٹور روم میں چوہوں اور کاکروچوں کی خوراک بن رہی ہوں گی۔اگر پاکستان میں کوئی سدھار آنا ہے تو پھر پنجابیوں کو سدھرنا پڑے گا۔ انہیں مذہب کے کیڑے کو اپنے اندر سے نکالنا ہوگا، ناصرف دوسری قوموں کی بلکہ خود اپنی ثقافت کی بھی قدر کرنی ہوگی۔

ورنہ اگر ملک قائم بھی رہا تو نزع کی سی کیفیت ختم نہیں ہوگی، بلکہ مزید سخت ہوتی چلی جائے گی۔سندھ میں بسنے والے پشتونوں کے احتجاج کو یرغمال بناکر انہیں فرقہ وارانہ قتل و غارتگری میں ملوث تنظیموں اور مذہبی غنڈوں کی جماعتوں کے حوالے کرنے کی کوشش کو بھی اب بہت سے پشتون سمجھ چکے ہیں، آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں پشتون نوجوان بھی مذہبی غنڈوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔پنجاب کو اس وقت تمام قوموں کا ساتھ دینا ہوگا، ورنہ پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان محض پنجاب کی سرحدوں تک محدود ہوجائے گا، جس میں شاید سرائیکی بیلٹ بھی شامل ہونا پسند نہ کرے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *