مراکش کے شہر آگادیر کے ساحل سمندر کنارے بیٹھے میرے لئے دو ایسے حقائق آشکار ہوئے جو شاید کسی تحریر سے یا کسی تقریر سے کبھی نہ کھلتے ۔ پہلا تو یہ ہے کہ ہم نے اسلام کا شاید کوئی الگ ہی ورژ ن بنایا ہوا ہے جس میں ہلکی سے ہلکی تفریح بھی ہم نے خود ہی اپنے اوپر حرام کی ہوئی ہے ۔ آگادیر جو کہ ایک اسلامی ملک کا ساحلی شہر ہے ہر سال ڈیڑھ ملین سیاحوں کو خوش آمدید کہتا ہے مگر یہاں مذہبی ہیضہ ڈھونڈنے سے بھی دکھائی نہیں دیتا
اس دن بھی مراکشی خواتین اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ ساحل سمندر پر جوق در جوق ساحل پر موجود تھیں ۔ کچھ جدید لباس میں تھیں تو کچھ نے سر پر حجاب اور جسم پر برکینی پہن رکھی تھی ۔ برکینی دراصل مسلم خواتین کے لیے تیار کردہ ایسا لباس ہے جو تیراکی کے دوران ان کے جسم کو ڈھانپے رکھتا ہے۔ یہ خاص کپڑے سے بنایا جاتا ہے تاکہ جسم کے خدوخال نمایاں نہ ہوں اور سر کے بال بھی مکمل ڈھکے رہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ساحل پر موجود مرد حضرات میں سے کوئی بھی کسی عورت کو گھورتا، تاڑتا یا ہراساں کرتا دکھائی نہیں دیا۔ پولیس وہاں ضرور موجود تھی مگر ان کا انداز محافظ سے زیادہ رہنمائی کرنے والا تھا۔
جن خواتین کے پاس برکینی کا لباس نہیں تھا وہ اپنے پورے کپڑوں میں بھی سمندر میں ڈبکی لگانے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہی تھیں اور سب سے اچھی بات ہی کہ کوئی کسی کو جج نہیں کر رہا تھا ۔ کوئی فتوی کوئی اوئی اللہ کوئی استغفرللہ کوئی لاحول ولا کی آواز نہیں آرہی تھی ۔ حالانکہ عربی ان کی زبان ہے اور انہیں یہ زیادہ استحقاق ہے کہ وہ اس طرح کے ڈرامے کرتے لیکن سب اپنی دنیا میں مگن تھے ۔
مجھے اس دن اندازہ ہوا کہ مذہب کا جو ورژن ہم نے ڈاون لوڈ کیا ہے اس میں ہندو ثقافت کا وائرس موجود ہے ۔ کیونکہ ہمارے ہاں تو عورت کسی پارک میں سیر کونہیں جا سکتی ، جاگنگ نہیں کر سکتی ، سائیکل نہیں چلا سکتی ،کوئی سپورٹس نہیں کر سکتی ، ، حتی ٰ کہ اونچی آواز میں بول نہیں سکتی ، قہقہہ نہیں لگا سکتی ، دریایا سمندر میں نہانا تو دور کسی ند ی نالے یا چشمے میں اپنے پاوں تک گیلے نہیں کر سکتی ، سچ کہیں تو اپنی مرضی سے سانس تک نہیں لے سکتی ۔۔۔
وہاں مجھے میرا مراکشی دوست عبدالجلیل یاد آگیا وہ میری باتیں سن کر اکثر چڑ جاتا تھا کہتا تھا یارقرآن ہماری زبان میں ہے ۔ ہمیں اس کی تشریح تم لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں لیکن جس قسم کی روایات تم سناتے ہوان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔۔۔
ساحل سے چند قدم کے فاصلے پر واش رو م کے قریب میدان میں زمین پر صفیں بچھی ہوئی تھیں ان کے پیچھے باپردہ خواتین کی صفیں بھی ڈالی گئی تھی نماز ظہر کا وقت ہوا تو لوگ وہاں آکر اپنی نماز بھی ادا کررہے تھے ۔ عورتیں بھی وضو کرکے نماز پڑھ رہی تھیں۔نماز پڑھنے کے بعد وہ اپنے بچوں سمیت دوبارہ ساحل سمندر میں ڈبکی لگانے جا رہی تھیں ۔دوسرا تصور یورپی معاشرے کا بھی اسی ساحل سمندر پر غلط ثابت ہوا۔
یورپ آئیں تو کیتھولک مسیحی بڑے فخر سے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں یعنی اپنے مخلص دوستوں کے پاؤں اپنے ہاتھوں سے دھوئے تھے۔ محبت، خدمت اور عاجزی کی اس سنت کو زندہ رکھنے کے لیے کبھی کبھار ویٹیکن سے پوپ کی ایسی تصاویر بھی سامنے آتی ہیں جن میں وہ افریقی مہاجرین کے پاؤں دھو رہے ہوتے ہیں۔ یہ منظر دیکھنے والوں کے دل پر اثر ڈال رہا ہوتا ہے۔ مگر جو منظر میری آنکھوں نے مراکش کے شہر آگادیر کے ساحل پر دیکھا، وہ میرے ذہن کی ڈسک پر ایسے محفوظ ہو چکا ہے جیسے کوئی نام کسی دیوار پر کندہ کر دیا گیا ہو۔
وہ سہ پہر، سمندر کنارے ٹائلوں کے فرش پر لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ بچے پتنگیں اُڑا رہے تھے، ڈونٹ، آئس کریم اور مراکشی قہوہ بیچنے والے صدائیں لگا رہے تھے کہ اچانک میری نگاہ ایک مراکشی خاندان پر جا ٹکی۔ ایک مرد، اس کی بیوی اور دو بیٹیاں ابھی ابھی سمندر سے نہا کر ریت سے گزرتے ہوئے اس فرش پر پہنچے تھے۔ تینوں خواتین نے برکینی پہن رکھی تھی، یعنی وہ سر سے لیکر پاؤں کے ٹخنوں تک ڈھکی ہوئی، بڑی باوقار، باحیا لگ رہی تھیں ۔ مگر جب وہ پانی سے نکل کر ریت پر آئیں تو گیلی ریت نے ان کے پاؤں کو آلودہ کر دیا تھا۔
جو کوئی بھی سمندر میں نہا چکا ہو، وہ جانتا ہے کہ گیلی ریت سے نہانے کے بعد سب سے زیادہ الجھن والا لمحہ اپنے پاؤں کو صاف کرنا ہوتا ہے۔ جتنا بھی صاف کرو، وہ دوبارہ میلے ہو جاتے ہیں۔ پھر میں نے وہ منظر دیکھا جس نے میرے دل کی دیواریں ہلا دیں، اور یورپی معاشرے میں پھیلے دوسرے تصور کو دھو کر رکھ دیا۔
اس خاندان کا مرد خاموشی سے واپس سمندر کی طرف گیا۔ پانی سے ایک شاپر بھرا، اور واپس آ کر وہ شاپر باری باری اپنی ان خواتین کے سامنے رکھتا۔ وہ ایک ایک کر کے اپنے پاؤں اس پانی میں ڈالتی، انہیں دھو لیتی، تو وہ اپنے کندھے پر لٹکا تولیہ ان کے آگے کرتا۔ وہ اس سے اپنے پاؤں خشک کر لیتیں اور اپنے جوتے پہن لیتیں۔ ایک اچھے باپ کا بیٹا، ایک فیملی سربراہ، اپنے گھر کی خواتین کو عزت، پیار، وقار اور احترام دے رہا تھا۔
کاش اس فیملی کی پرائیویسی کا خیال نہ ہوتا، تو میں ایسا حسین منظر اپنے کیمرے میں ریکارڈ کر لیتا۔ اور یورپ و دنیا بھر میں موجود ہر فیمینسٹ محفل میں جا کر دکھاتا، کہ جہاں مسلمان مرد کو ہمیشہ ظالم، بے حس، غیرت کے نام پر قتل کرنے والا، عورت کی آزادی کا دشمن اور عورت کے معاملے میں احساس کی دولت سے عاری کہا جاتا ہے، میں ان سے پوچھتا: کیا تم نے کبھی ایسا منظر دیکھا ہے؟ عورت کی برابری کی باتیں کرنے والو! اسلام حقوق کے معاملے میں عورتوں کی برابری کا قائل نہیں، بلکہ ایک حدیث کی روشنی میں انہیں احترام کے معاملے میں تین گنا زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
مجھے جواب دو: کیا کبھی تصویر کا یہ دوسرا رخ تم نے دکھایا ہے؟ کہ پاؤں میلے تو اس مرد کے بھی ہوئے ہوں گے۔ تپتی ریت نے اس کے تلوے بھی تو جلائے ہوں گے، تھکن اس کے جسم میں بھی تو اتری ہو گی۔ لیکن وہ اپنے بارے میں ہر فکر بھول کر، اپنے گھر کی عورتوں کے وقار کا پہرہ دار بن گیا تھا۔
میں اپنے ہر مسیحی دوست سے ضرور پوچھتا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عمل کو معیار مانا جائے، تو محبت سے لبریز اس منظر کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں ایک عام مسلمان مرد کے ہاتھوں اپنی عورتوں کو جو احترام دیا جا رہا ہے ۔ تو بتاؤ، اپنے محبوبوں سے محبت میں سنتِ عیسیٰ پر عمل ہم زیادہ کرتے ہیں یا تم؟
یہ دوسرا تصور تھا جو میرا اُس ساحل پر غلط ثابت ہوا، جو یورپی معاشرے نے میرے ذہن میں بٹھا دیا تھا کہ مسلمان مرد عورت کو عزت نہیں دیتا۔ مسلمان مرد، جسے قرآن نے عورت کا نگہبان اور محافظ گردانا ہے، وہ اس کا رتبہ کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا وقار بلند کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں