جنسی ہوس اور مرد کی کھوکھلی مردانگی /عبدالستار

حال ہی میں ایک وڈیو نظروں سے گزری جو ہمارے ہی علاقہ کے کسی گاؤں کی ہے ، اس وڈیو میں ماں باپ اپنی بیٹی کے ساتھ موجود ہیں ، بتا رہے ہیں کہ اس گاؤں میں ایک بااثر باپ بیٹا رہتے ہیں جنہیں جنسی بھیڑیے کہنا زیادہ مناسب ہوگا ، باپ گھر کے دروازے پر چڈی پہن کر بیٹھ جاتا ہے اور آتی جاتی خواتین پر ٹھرک جھاڑتا ہے ، گزشتہ روز اسی ٹھرکی بڈھے کے بیٹے نے تو حد ہی کر دی ۔
وڈیو کے مطابق بیٹی کی ماں کا موقف ہے کہ ٹھرکی بڈھے کے بیٹے نے میری بیٹی کے سامنے اپنے کپڑے اتارے اور اس کے ساتھ جنسی ذیادتی کی کوشش کی ، بروقت مداخلت پر دونوں ٹھرکی باپ بیٹا موقع سے فرار ہوگئے ۔
مملکت خدا داد میں یہ روز کا معمول بن چکا ہے ، ہزاروں ایسی ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین برقعوں میں بھی جنسی بھیڑیوں سے محفوظ نہیں ہیں ، گھر سے باہر خواتین محفوظ نہیں ہیں جبکہ مدارس میں چھوٹے بچے محفوظ نہیں ہیں ، جنسی بھیڑیوں کے ہجوم میں اخلاقیات راندہ درگاہ ہو چکی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ جنسی بھیڑیے قانون کی گرفت میں آ بھی گئے تو ان کا کیا بگڑے گا ؟
مرد کی مردانگی کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ جن خواتین کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے رہے ہیں ان کے کردار پر ضرور حرف آئے گا ، چونکہ بےشرم و بےحیا تو خواتین ہوتی ہیں مرد تھوڑے ہوتے ہیں ؟
بقول ایک سابقہ وزیراعظم کے ، مرد کوئی روبوٹ تھوڑے ہوتا ہے ، خواتین کو چھوٹے کپڑے پہننے کی بجائے پورے کپڑے پہننے چاہیں ، لیکن اس وڈیو کے مطابق پندرہ سالہ بچی نے پورے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور مرد اس بچی کے سامنے ننگا ہوگیا ۔
ایسے مردوں کو کیا کہیں گے جو موسم کی شدت کو برداشت کرنے کی بجائے گلیوں میں شرٹ لیس گھوم رہے ہوتے ہیں ، کیا کسی خاتون نے کبھی کسی مرد کو اپنی جنسی ہوس مٹانے کے لیے سرراہ دبوچا ؟
گرمی تو صرف مرد کو ہی لگتی ہے نا!
خواتین تو گرمی پروف ہوتی ہیں تبھی تو کھلی کینڈی سے تشبیہ دی جاتی ہے ؟
لیکن جو مرد کپڑے اتارے اپنے جسمانی اعضاء کی نمائش کرواتے ہیں انہیں کیا نام دیا جانا چاہیے ؟
کیا خواتین اٹریکیشن پروف ہوتی ہیں یا خوبصورتی ان پر بے اثر رہتی ہے ؟
یا وہ احساسات کی حدت و شدت سے بے نیاز ہوتی ہیں ؟
ایک جنس کی پیش قدمی درست اور دوسری کی غلط کیسے ہو سکتی ہے ؟
انسانی احساسات کے بیچ دوہرے معیار کیسے ہو سکتے ہیں ؟
ایک کو معافی اور دوسرے کو نشان عبرت کیسے بنایا جا سکتا ہے ، جسم کے خریدار تو معزز کہلائیں جبکہ رات کے اندھیرے میں چھپ چھپا کر جن کے جسموں کی قربت سے یہ مرد تسکین پانے ہیں وہ گھٹیا کردار کیسے ہو سکتی ہیں ؟
یہ ایک کلیشے بن چکا ہے کہ خواتین مردوں کو بھڑکانے کا سبب بنتی ہیں اور سرراہ عضو تناسل کو سہلانے والے مردوں کو کیا کہیں گے جو کسی بھی خاتون کو دیکھ کر بے قابو ہو کر عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتے ہیں ؟
کبھی اپنی بچیوں کو سامنے بٹھا کر ان سے سچ جاننے کا حوصلہ تو کیجیے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے ، نجانے کس قدر مشکلات میں سے انہیں روز گزرنا پڑتا ہے ۔
مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی ، اب اس بےراہ روی کو تربیت کا فقدان کہیں یا جنسی گھٹن کا شاخسانہ ؟
اخلاقی و روحانی تربیت میں تو اس قوم کا کوئی ثانی نہیں ہو سکتا ، یہاں سالانہ بنیادوں پر روحانی و تبلیغی اجتماع ہوتے ہیں ، لاکھوں کی تعداد میں مریدین کا جم غفیر ہوتا ہے ، دعا و مناجات کا اچھا خاصا دور چلتا ہے لیکن یہ ظالم نفس “مطمئنہ” کے درجے تک پہنچنے کا نام ہی نہیں لیتا ، قدرت ایزدی کی قربت کے دعوے جتنے ضخیم ہوتے جا رہے ہیں معاشرے میں سدھار کی بجائے بگاڑ بڑھتا چلا جارہا ہے ، دعائیں بےاثر ہوتی جا رہی ہیں ، یہ ہم پر شیطان کا کیسا سایہ پڑا ہوا ہے جو اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ؟
مذہب کے اس قدر پرچار کے باوجود بھی پورونوگرافک ویب سائٹس کو وزٹ کرنے کا رجحان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ، حیرت کی بات یہ ہے کہ علماء کے بیانات بھی خوب سنے جاتے ہیں اور اسکرین پر جنسی پوز بھی خوب دیکھے جاتے ہیں ؟
ہمارے سماج میں جس قدر جنسی استحصال بڑھ چکا ہے بعید نہیں کہ یہ سماج ہمارے بچے بچیوں کے رہنے کے قابل نہ رہے ، جنسی ہوسناکی کی اس سے مکروہ شکل اور بھلا کیا ہو سکتی ہے کہ جنسی بھیڑیے کپڑے اتار کر دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرنے لگیں اور سرراہ چلتی خواتین ، بچیوں اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے لگیں ؟
یہ تو موبائل کے کیمرے کی بدولت بہت کچھ روپورٹ ہونے لگا ہے ، کیمرے کے دور سے پہلے کیا ہوتا ہوگا ذرا تصور تو کریں ؟
جنسی گھٹن کا یہ عالم ہے کہ جامعات سے لے کر ڈاکٹرز کے کلینک تک محفوظ نہیں ہیں ، مسیحائی کا دم بھرنے والے بھی جنسی استحصال پر اتر آئیں تو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے ؟

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply