ریسٹورانٹ ، نام اور کلچر ۔۔۔معاذ چوہدری

پچھلے چند سالوں سے انگلینڈ میں کھلنے والے ریسٹورنٹ زیادہ تر ترکش ہیں۔ اور زیادہ چلنے والے بھی ترکش ہیں مقابلتاً۔ لاکھوں کی آبادی والے شہر میں ضرور ترکش ریسٹورنٹ ہوں گے۔ کھانے بھی   بہتر ہوتے ہیں  ہلکا مصالحہ اور باربی کیو وغیرہ۔ نام ان کے سارے ان کے شہروں پر ہی ہوں گے جیسے استنبول، ازمیر ، انطالیہ ، ادنہ اورکونیک۔ نوے فیصد ان کے ریستوران کے نام ترکی کےشہروں پر ہوں گے۔ شاید یہ انکا ایک قومی رجحان ہے ۔ پتہ لگتا ہے قوم ہے۔

برٹش ریستوران یا پب PUB زیادہ تر جانوروں کے ناموں پر ہوں گے۔ جیسے پانچ شیر، سفید خرگوش، چار گھوڑے، گتے کے ساتھ گھوڑا، تین مرغابیاں اور بڑے سینگوں والا بارہ سنگھا۔ ان کو جانوروں سے بڑا پیار ہے۔ ہمارے فیصل آباد میں بسنت پر اس طرح کے ناموں کی ڈوریں آتی تھیں پتنگ اڑانے کیلئے۔

پاکستانیوں اور بنگالیوں کا کوئی مخصوص جھکاؤ نہیں۔ کسی کو تاریخی نام پسند ہیں تو ٹیپو سلطان رکھ دیا ( ٹیپو سلطان ایک بہت مناسب پاکستانی کھانوں کا ریستوران ہے مڈ انگلینڈ میں۔ ایگزیکٹو اور مناسب قیمت پر ، کوئی مہمان لیسٹر آئے اور ٹیپو سلطان نہ جا سکے تو یہ اس کی بد قسمتی ہوگی ) ، تو کسی نے بیٹے کے نام پر طیب ریسٹورانٹ رکھ دیا۔

” نواب، طیب، لاہور، نمک منڈی، خیبر پاس، لاہوری توا، نجیب ، دعوت ، ضیافت ، شیر خان کڑاہی اور آئیڈیل ” یہ سارے مناسب ریستوران ہیں مختلف شہروں میں۔ ان میں کوئی چیز مشترک نہیں سوائے ایک چیز کے۔ جو ان کے بنانے والے یعنی مالک کے ذہن میں آیا اس نے رکھ لیا،یا جو اس کا پس منظر تھا۔میرا خیال ہے یونیک یا منفرد رکھنے کا چکر ہے۔

اب ہر شہر میں ترکش ریستورانٹ ہوگا تو استنبول ضرور ہوگا۔ اگر زیادہ ہوگئے تو اگلے نے ازمیر رکھ لینا ہے۔ تیسرے نے انطالیہ۔ ۔

ہمارے ناموں کا معاملہ بھی یہی ہے کہ بس ایسا ہو کہ پہلے کسی نے نہ رکھا ہو۔ جیسے وہ جو عمیرہ احمد کی تضمین کرتے ہوئے “باریفاس ” رکھتے ہیں۔ ہمسائے میں دو سعودی لڑکےسٹوڈنٹ ہیں۔ دونوں بھائیوں کے نام ایسے ہیں ہر دوسرے سعودی کا وہی نام ہوگا، لیکن کوئی پرواہ نہیں۔ خیر ان دونوں کو تو اور بھی کسی بات کی کوئی پروا نہیں۔ بڑے بھائی کا نام پردادے کے نام پر اور چھوٹے کا نام تایا نے رکھا۔

ہمیں ایسا پریشر رہتا ہے ہر بچے کی پیدائش پر،شغلی نام رکھ لیں گے لیکن رکھنا ذرا نیا ہے۔ پہلے خاندان میں کوئی یہ نام نہ ہو۔ ایک دفعہ ایک ڈاکٹر صاحب ملے۔ کاکا ہونے والا تھا ان کا۔ کہتے آپ کا نام کافی یونیک ہے۔ میں یہی رکھ لوں گا۔ میں نے  سوچا کہ مجھے یہ صاحب بالکل پسند نہیں آئے ۔ ان کے بیٹے کا نام معاذ نہیں ہونا چاہیے۔ میں  نے کہا ، سر چھوڑیں کوئی اور نام رکھیں۔ انہوں نے تقریباً فائنل کرلیا، لیکن بعد میں کچھ دیر میرے ساتھ کام کیا ، لوگوں  نے میرے بارےانہیں  بتایا،تو سمجھ آگئی، افاقہ ہوا ۔ چند ماہ بعد کاکا ہوا ، پھر انہوں نے خود ہی کوئی اور نام رکھ دیا۔ میں بھی خوش وہ بھی خوش۔

بہرحال ، ایک دوست ہے اپنا بنگالی۔ حرکتیں بالکل پاکستانیوں والی ہیں۔ یعنی سات بجے کا کہہ کہ ساڑھے آٹھ آنا۔ ترکش ڈرامے دیکھنے۔ ایک دن رات کو فون کیا۔ کہتا کھانے چلیں۔ کہا ٹھیک ہے جناب۔ لیکن کدھر؟ کہتا ایک کورین ریسٹورنٹ ہے وہاں۔۔ میں حیران بلکہ ششدر،یہ کیا سائنس ہے۔ بنگلہ دیش کو کیا علاقہ کوریا سے۔ خیر قصہ مختصر ، ذراتحقیق کی ، پتہ چلا کہ جناب آجکل کورین ڈرامے دیکھ رہے۔

اب ہوتا کیا ہے کہ ڈراموں میں اداکار کھانا کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ شہروں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کی تقریبات دکھائی دیتی ہیں تو تیس چالیس بار دیکھنے کے بعد بندے کو اداکاروں سے اور کھانوں سے انس ہوجاتا ہے۔ جیسے سخت گرمی میں آپ بار بار سائن بورڈ پر ٹھنڈی کوکاکولا برف کیساتھ دیکھیں تو دماغ کی کنڈیشنگ ہوجاتی ہے کہ پیاس لگے تو کاکاکولا لو وہ اتنی یخ ٹھنڈی ہوگی۔ ٹھنڈ پڑ جائے گی۔

بس کلچر کی ایکسپورٹ ہے۔ کلچر برآمد کرتے ہیں فلموں ڈراموں کے ذریعے۔ لوگوں کو اُنس اور اٹیچمنٹ ہوجاتی ہے۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں خود اپنی آنکھوں سے،اور جانا چاہتے ہیں وہاں۔ ریسٹورانٹ میں وہی کھانے، کھانا  چاہتے ہیں۔

ہم نے کیا کلچر ایکسپورٹ کرنا ہے۔ الٹا اپنا بھول رہے ہیں ، لیکن پاکستان کے لوگوں کا ایک کارنامہ ضرور ہے۔ ایک عرب مجھے کہنے لگا  کہ یہ ہسپتالوں کی مسجدیں یا باہر بھی جو مسجدیں یا مدرسے ہیں وہ سارے تم پاکستانی اور بنگالیوں نے بنائے ہیں۔ ہم سے یہ نہ ہوپایا۔ میں سوچا چلو کوئی تو بات اپنی اچھی ملی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *