خدا مر چکا ہے، اب کیا ہوگا؟ نطشے سے کیمس تک/محمد عبید

نطشے، سارترے اور کیمس کے نظریات کافی انقلابی ہے تاہم ان کے نظریات میں ایک بہت بڑا “لوپ ہول” ہے اور اگر کوئی شخص اسکا استعمال کر لیتا ہے تو وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے بڑا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے دیکھیں ان تینوں کے نظریات میں جو مشترکہ اور بنیادی بات یے وہ یہ ہے کہ انسان اور کائنات مکمل بے معنی  ہے اور اسکا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ تینوں تقسیم ہوتے ہیں۔
نطشے
نطشے کہتا ہے کہ خدا مر چکا ہے اور ہم نے اسے مار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ مذہبی اخلاقیات اور مقصد ناکام ہو گیا ہے اور ہم انسان نے ہی اس کے خلاف بغاوت کر دی ہے اور زندگی کا کوئی خدائی یا کوئی اور مطلب نہیں ہے۔ اس لیے مذہب کی غلامانہ اخلاقیات سے نکل کر اپنے لیے خود سے ہی ویلیوز و اخلاقیات بنائیں اور اپنے آپکو اوور مین (Ubermensch) بنائیں۔ مذہب کی ان “غلامانہ اخلاقیات” کا دور اب گزر چکا ہے جس میں کمزور اپنی بنائی ہوئی اخلاقیات سے “طاقتور کا استحصال” کرتا تھا۔ سب سے بہتر انسان وہی ہے جو خود اپنے ویلیو تخلیق کر سکیں اور اچھائی، برائی اور معاشرتی اخلاقیات سے “پرے” جا کر اپنی “زندگی کا مقصد” خود سے تخلیق کر سکیں اور اپنے آپ کے ساتھ مخلص رہیں اور اپنی پازیٹیو ایکسپریشن کریں یعنی کہ نطشے ایک معاشرے سے باغی انسان کو romanticize کرتا ہے جس کو وہ اوورمین یعنی Ubermensch  کہتا ہے۔

سارترے
سارترے یہ کہتا ہے Existence Precede Essence یعنی کہ وجود مطلب و معنی سے پہلے آتا ہے ہمارا کوئی پیدائشی مقصد نہیں ہے بلکہ اپنا مقصد ہم اور آپ وجود میں آنے کے بعد خود بناتے ہیں۔ چونکہ کائنات اور زندگی کا کوئی مطلب نہیں ہے تو اس لیے آپ مکمل آزاد ہے اور اب آپ جو چاہے کر سکتے ہیں لیکن سارترے نطشے کیطرح بغاوت کرنے کا نہیں کہتا ہے بلکہ اسکے مطابق اب آپ کے تمام کاموں کے ذمہ دار بھی آپ “خود” ہی ہے سو اپنی آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ نبھائیں کیونکہ “آزادی” کے ساتھ ‘ذمہ داری’ بھی آتی ہے۔ آپ اپنی کسی ناکامی کا ذمہ دار کسی خدا، تقدیر، نظر بد وغیرہ کو نہیں بنا سکتے ہیں بلکہ یہ آپ ہی کی “ناکامی” ہوگی اور اس کے ساتھ آپ کی آزادی کائنات کی شکل ترتیب دیگی سو اس کو بڑی ‘ذمہ داری’ سے نبھائیں کیونکہ آپ جو کچھ بھی کریں گے اس کا اثر کائنات پر بھی پڑے گا۔ مطلب یہ کہ سارترے کے نظام میں زندگی کا کوئی بنیادی ‘معنی و مقصد’ نہیں ہے لیکن نطشے کی طرح بغاوت بھی نہیں ہے بلکہ ذمہ داری ہے کیونکہ کائنات کو سنبھالنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ہم ہے۔

کیمس
کیمس کہتا ہے کہ کائنات اور زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے اور جب ہم انکی جانب مقصد کی تلاش میں دیکھتے ہیں تو ہمیں کچھ بھی نہیں ملتا ہے اور ہمیں محض Absurdism کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اگر آپ نطشے اور سارترے کی طرح اپنا مقصد خود بنانے کی کوشش  کرتے ہیں تو یہ چیٹنگ اور اپنے آپکو دھوکہ دینا ہے اور Intellectual Suicide ہے اور نطشے اور سارترے نے بھی یہی کیا ہے۔ تاہم جب میرا کوئی مقصد ہی نہیں تو میں یہاں کیا کر رہا ہوں اس کے بعد واحد حل “جسمانی خودکشی” ہی بچتا ہے لیکن کیمس “خودکشی’ سے بھی بغاوت کرنے کا کہتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنی “زندگی” کو تمام تضادات کے ساتھ ایمانداری اور فخر سے قبول کریں اور اس میں خوش رہنے کی کوشش کریں۔ اپنے لیے “نطشے یا سارترے” کی طرح کوئی “جھوٹے” مقاصد تخلیق نہ کریں کیونکہ پھر یہ اپنی بنیاد سے غداری ہے مطلب کہ وہ کہتا ہے کہ ‘ذاتی زندگی’ میں اگر آپ کچھ بامقصد کرتے ہیں تو کریں تاہم نطشے اور سارترے کی طرح اس کو ریشنلائز و سسٹمائز نہ کریں کیونکہ اسطرح آپ اپنے لیے وہی جھوٹی امیدیں بنا رہے ہیں جو مذہب نے لوگوں کی بنائی ہے اور یہ خدا کے خلا کو پر کرنے کے لیے ایک انسانی مذہب بنانا ہے جس میں امید خدا کے سوا کسی اور جگہ سے آ رہی ہے لیکن باقی وہی ہے۔

مشترکہ بات
ان تینوں کے خیالات میں جو بات کامن ہے، وہ یہ ہے کہ خدا مر چکا ہے، “زندگی” اور “کائنات” کا کوئی مقصد نہیں ہے اور انسان ہی “خدا” ہے اور کوئی خاص انسان خدا نہیں ہے بلکہ دنیا کے 8 ارب انسانوں میں سب کے سب ‘خدا’ ہے سو انہوں نے انسانیت کو توحید و ایک خدا سے نکال کر 8 ارب خداؤں کے حوالے کر دیا ہے اور یہ اس نئے مذہب کے “پیغمبران” بھی نہیں ہیں ۔ اب یہ 8 ارب خدا اگر خود ان کے بھی خلاف جاتے ہیں تو یہ انکی عظمت اور بڑائی ہے کوئی کمزوری نہیں ہے۔

سارترے و نیطشے کے نظام کا تجزیہ
دیکھیں میں ان حضرات پر یہ الزام نہیں لگا رہا کہ فاشزم و اخلاقی گراوٹ و سائیکو پیتھی وغیرہ وغیرہ سب کچھ ان کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ان سب نے اپنے “نظاموں” میں ان ساری چیزوں کو ٹیکل کیا ہے تاہم انکا جو بنیادی نظریہ ہے یعنی کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے اور کوئی “خدائی اخلاقیات’ نہیں ہے بلکہ آپ مکمل آزاد ہیں  تو یہ بنیادی پریمس بڑا خطرناک ہے۔ اس ‘پریمس’ پر دل و جان سے یقین کرنے والے کے لیے تو نطشے اور سارترے بھی کوئی پیغمبر یا اتھارٹی نہیں ہے بلکہ پھر وہ اپنا مقصد خود تخلیق کریں گے اور اس سے مسائل پیدا ہونگے۔

آپ خود سوچیں کہ ان کے اس بنیادی پریمس کو لیکر جو 8 ارب Mini Gods بنیں گے تو ان کی “خدائی’ کے ٹکڑوں میں ‘کائنات اور انسانیت کا کیا حال ہوگا۔ ؟

ان سب کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ “سارترے اور نطشے” نے مقصد نہ ہونے اور اخلاقیات کے نہ ہونے کے بعد یہ یہ بھی کہا ہے کیونکہ انہوں نے تو محض “بنیادی پریمس” وہاں سے اٹھایا ہے جو ان سب کے ہاں سنٹرل ہے آپ بتائیں کہ 8 ارب خداؤں کی رسہ کشی کائنات کو کہاں تک لیکر جا سکتی ہے؟ یاد رہے کہ ہر انسان ہی نطشے یا سارترے نہیں ہوتا ہے بلکہ بعض بہت “خطرناک ذہنیت” کے حامل ہوتے ہیں اور بعض بہت زیادہ “بری ذہنیت” کے حامل ہوتے ہیں۔ غلامانہ مذہبی اخلاقیات’ نے ان کو کچھ نکیل ڈالی تھی لیکن ‘نطشے و سارترے’ نے ان کو آزاد کر کے انسانیت پر چھوڑ دیا ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ جو پیدا ہوگا وہ یہ نہیں ہے کہ یہ 8 ارب خدا پیدا ہو گئے ہیں بلکہ وہ تو یہ ہے کہ یہ سب کے سب ہی صحیح بھی ہیں ۔ خود بتائیں جب آپ نے اس کائنات کا کوئی “مقصد’ نہیں مانا ہے اور اخلاقیات کے وجود سے انکار کر دیا تو اب آپ دوسرے کو کس “بنیاد” پر یہ کہیں گے کہ آپ غلط ہے۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ غلط ہے کیونکہ میرے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں تو یہ “فاشزم” ہے اور اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ غلط ہے کیونکہ کمزوروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں تو یہ وہی “غلامانہ مذہبی” اخلاقیات ہے جسکے انکار پر آپ کی عمارت کھڑی ہے اور ایسا کہنا دوبارہ اسی پوزیشن پر آنے کے مترادف ہے۔ جب آپ نے ہر چیز کو “موضوعی” مان لیا ہے تو کسی بھی شخص کو “رحم اور انسانیت’ کا واسطہ دینا اسی ‘مذہبی غلامانہ’ اخلاقیات کا Hangover ہے جس کو آپ نے اپنے نظاموں میں سب سے پہلے ٹھکرایا ہے۔

کیمس کے نظام کا تجزیہ
جہاں تک کیمس کے نظریات کا تعلق ہے تو اسکا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں پھر آپ مکمل ‘پیسیو’ بن جائیں گے۔ اس میں آپ اپنا کوئی Active نظریہ نہیں بنا سکتے ہیں بلکہ آپ کو ہر جگہ ہی تضادات کو قبول کرنا ہوگا۔ مطلب یہ کہ سارترے اور نطشے اگر موضوعی ہے تو کیمس ریڈیکل موضوعی ہے۔
گر آپ کسی شخص کو کچھ ایسا کہتے ہیں جس سے اپنا اثر Exert کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا کوئی View رکھتے ہیں جس کو آپ “معاشرے” کے لیے درست سمجھتے ہیں تو آپ کیمس کی ڈومین سے نکل کر سارترے اور نطشے کے ڈومین میں آ رہے ہیں کیونکہ اس طرح آپ ایک ‘بامعنی’ چیز تخلیق کر رہے ہیں سو کیمس کے نظریات کے ساتھ “مخلص” رہ پانا مشکل ہی نہیں ناممکن کے قریب ہے۔ اگر بالفرض آپ مخلص رہتے ہے تو آپکو ظلم بربریت ناانصافی اور فاشزم سب قبول کرنا ہوگا کیونکہ اسکی بنیاد ہی یہی ہے کہ تضادات کو قبول کریں اور اگر آپ مخلص نہیں رہتے ہیں تو آپکو سارترے اور نیطشے جیسوں کے پاس آنا ہوگا جن کے نظریات سے پھر آپ خدا بن جائیں گے اور “سارترے اور نطشے” بھی آپ کی نظر میں اہمیت کھو سکتے ہیں اور آپ ایک ‘خطرناک بلا’ بھی بن سکتے ہیں۔

نتیجہ
نطشے اور سارترے نے انسان کے ہاتھ میں ایک لوڈڈ Ak 47 دیکر ان کو کہا ہے کہ اس کو عقلمندی سے استعمال کریں اور کیمس نے انسان کو بتایا ہے کہ AK 47 والوں کی موجودگی میں بھی زندگ کا لطف لیں اور اپنے کام سے ہی کام رکھیں۔ یہ دونوں شدید خطرناک باتیں ہے کیونکہ جس کے ہاتھ میں AK 47 ہے ان کو اب نیطشے اور سارترے بھی قائل نہیں کر سکتے ہیں کہ کیا کرنا یے اور کیا نہیں کرنا ہے اور AK 47 والوں کی موجودگی میں کوئی بھی ‘کیمس کا پیروکار’ اپنے کام سے کام نہیں رکھ سکتا ہے کیونکہ وہ اسکو فورس کریں گے اور اگر انکو AK 47 والوں کی گولی لگ جائے پھر کیمس بھی انہیں ریزسسٹنس سے نہیں روک سکتا ہے اور انہوں نے بھی نیطشے اور سارترے سے AK 47 اٹھا لینی ہے۔

ایک وضاحت
کوئی یہ نہ کہے  کہ سارترے، نطشے یا کیمس کا یہ ‘مقصد’ نہیں تھا کیونکہ وہ تو میں بھی ‘مانتا’ ہوں لیکن ان سب نے جس “مذہب” کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھی ہے۔ اس مذہب کے “فقہاء” مستقبل میں کچھ بھی فتویٰ دے سکتے ہیں اور ان لوگوں کے فلسفہ کے مطابق وہ سارے “فتاویٰ” غلط بھی نہیں ہونگے اور یہ “اصل مسئلہ” ہے۔ میں یہ نہیں کہ رہا کہ یہ تینوں غلط ہے بلکہ میں یہ کہ رہا ہوں کہ ان کا استعمال غلط ہوگا اور وہ “غلط استعمال’ بھی ان کے فلسفہ میں غلط نہیں بلکہ “درست” ہے۔ اس کو جو میں غلط بھی کہ رہا ہوں تو اس ‘غلامانہ مذہبی’ اخلاقیات کی بنیاد پر کہ رہا ہوں جن کے یہ باغی ہے۔ باقی آج کی دنیا کے تمام ادارے اور نظام ان “غلامانہ مذہبی” اخلاقیات پر قائم ہے اور ان کے نظریات اب تک عالمی لیول پر زیادہ ایکسرسائز نہیں ہوئے ہیں۔

دوستوفسکی کی پیشگوئی اور کائیکرگارڈ کا علاج
باقی یہ سبھی باتیں “وجودیت پسند” ان لوگوں سے پہلے کہ چکے ہیں۔ دوستوفسکی یہ بغیر لگی لپٹی کہ چکا تھا کہ اگر کوئی خدا نہیں تو “ہر چیز” کی اجازت ہے اور دوستوفسکی کی یہ بات بالکل صحیح ہے۔ وجودیت پسندوں کے ساتھ جو آپشن موجود ہے اور جس کا شکار میں نے ان کی اکثریت کو دیکھا ہے وہ یہی ہے کہ یہ اپنے بانی کائیکرگارڈ کی اس بات کو مانیں جہاں وہ کہتا ہے کہ آخرکار ہمیں اندھے عقیدہ کی ایک چھلانگ لگانی پڑتی ہے اور یہی حقیقت ہے جسکا شکار میں نے کیمس، سارترے، نطشے کے پیروکاروں کو بھی اکثر دیکھا ہے کہ وہ بعض چیزوں پر اندھا اعتقاد ہی رکھتے ہیں لیکن کائیکرگارڈ نے اسے مانا ہے اور یہ لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ لاشعوری طور پر ان میں بھی موجود ہے۔

(نوٹ) میں نے یہاں ان کے نظام پر ایسی “تنقید” نہیں کی ہے جو ان کو غلط ثابت کریں۔ اگرچہ میں یہ مانتا ہوں کہ انکی بنیادیں ہی غلط ہے تاہم میں نے محض یہ بتلایا ہے کہ ان کا نظام کس طرح دکھے گا۔ یہ ساری باتیں وہ ہے جو انکے نظام میں “اصولی طور” پر غلط نہیں ہو سکتی ہے۔ باقی میں نے کچھ نہیں کیا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply