تاریخ کے اوراق میں کچھ نام ایسے ثبت ہو چکے ہیں جو محض انسان نہیں، وقت کے دریا پر کشتیاں بن کر چلے۔ ان میں سب سے تابناک نام سکندر اعظم کا ہے، جس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی دنیا کو فتح کرنے کا خواب آنکھوں میں بسا لیا۔ لیکن خواب جب تنہا دیکھے جائیں تو تعبیر اکثر کٹھن ہوا کرتی ہے۔
سکندر کا بچپن یونان کی وہ ہوائیں چومتی رہیں جو فلسفے، فن، اور علم کے گہوارے میں پروان چڑھتی تھیں۔ اس کے استاد، ارسطو، نے اسے تلوار سے پہلے قلم کی طاقت سے روشناس کرایا۔ اور اس کی ماں اولمپیا نے اس کے اندر وہ الوہی یقین پھونکا کہ وہ خود کو زمین پر دیوتاؤں کا سفیر سمجھنے لگا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی انسان خود کو دیوتا سمجھنے لگے، تو غرور اس کے دل کی زمین کو بانجھ کر دیتا ہے۔
پلٹارک لکھتا ہے کہ سکندر کو محض زمین فتح کرنے سے زیادہ علم اور تہذیب کو پھیلانے کا جنون تھا، مگر جیسے جیسے فتوحات بڑھتی گئیں، اس کی نظر حکمت سے ہٹ کر غرور پر جا ٹھہری۔ اریان اپنی مشہور تصنیف Anabasis of Alexander میں سکندر کے سفر، جنگی چالوں اور اس کے سپہ سالاروں کے کردار کو یوں بیان کرتا ہے کہ جیسے وہ زندہ جاوید ہوں۔ وہ لکھتا ہے کہ “اگر سکندر کے سپاہی اُس کے بازو تھے، تو اس کے جرنیل اس کے دماغ کا عکس۔”
سکندر نے اپنے عہد کی عظیم جنگیں لڑیں۔ ایشیا مائنر میں دریائے گرینی کس کی لڑائی، جسے مؤرخین اس کا پہلا بڑا معرکہ مانتے ہیں، وہیں گوگمیلا کی خونریز جنگ، جہاں اس نے دارا سوم کو شکست دی، اسے دنیا کی سب سے فیصلہ کن لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور پھر دریائے جہلم پر راجہ پورس کے خلاف مشہور معرکہ، ہر جنگ میں اس کے جرنیل اس کے دائیں بائیں ایک دیوار کی مانند کھڑے رہے۔
ہفستیون، جو اس کا نہ صرف قریبی دوست بلکہ روحانی ہمسفر تھا، سکندر کے ہر خواب کا شریک رہا۔ وہ وہم و گمان سے بلند وفاداری کا استعارہ تھا۔ سلوقس نکتور، جس نے مشرقی محاذ کو منظم رکھا، اور پٹلیمائی، جو بعد میں مصر کا فرعون بنا، وہ سب اپنی جوانیاں، مشورے اور جانیں سکندر کے خواب پر قربان کر چکے تھے۔ لیکن یہی قربانیاں رفتہ رفتہ سکندر کے غرور کی چادر میں چھپنے لگیں، اور جب ہفستیون کی ناگہانی موت ہوئی، تو وہ خود ٹوٹنے لگا۔
پیٹر گرین کرٹن جو سکندر اعظم کے جدید مؤرخین میں شمار ہوتے ہیں، لکھتے ہیں کہ
“Alexander was in love with the idea of immortality, but he forgot that immortality is earned through humility, not conquest.”
سکندر کی فتوحات کے ساتھ ساتھ اس کی خامیاں بھی جنم لینے لگیں۔ حد سے زیادہ خود اعتمادی، مشوروں کو رد کرنے کا چلن، اور شک کا زہر، ان سب نے اس کے مضبوط دائرے کو کمزور کر دیا۔ وہ جو کبھی ارسطو کے قدموں میں بیٹھ کر حکمت کے راز سنتا تھا، آخر میں صرف اپنی آواز کا اسیر ہو چکا تھا۔
اگر آج کے حکمران، بادشاہ نہیں مگر اختیار کے سنگھاسن پر براجمان لوگ، سکندر کے مینار عظمت کے سائے میں بیٹھ کر غور کریں، تو ایک آئینہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں چمکتی پیشانیاں، مدح سرائی کے شور، اور تنقید سے نفرت کا دور دورہ ہے۔ مشیروں کی صف میں خلوص کی جگہ چاپلوسی نے لے لی ہے۔ وزیروں میں فکر کی بجائے وفاداری خریدی جا رہی ہے۔
کیا آج کے حکمرانوں کے پاس کوئی ہفستیون ہے؟ جو سچ بولنے کا حوصلہ رکھتا ہو؟ کیا کوئی سلوقس ہے جو دور اندیش ہو؟ کیا کوئی پٹلیمائی ہے جو محض وفادار نہیں، صاحبِ رائے بھی ہو؟
اقتدار کی کرسی، اگرچہ سونے سے بنی ہو، مگر جب اس کے اطراف مشوروں کی روشنی نہ ہو، تو وہ انسان کو تنہائی کی تاریکی میں دھکیل دیتی ہے۔ سکندر نے دنیا جیتی، مگر دل ہار گیا۔ سلطنت پھیلی، مگر سکون معدوم ہو گیا۔ اس کے جرنیل بکھر گئے، سلطنت چھین لی گئی، اور اس کی قبر تک واضح نہ رہی۔ وہ جو زمین کا بادشاہ کہلاتا تھا، آخری سانس کسی اجنبی دھرتی پر تنہا لی۔

آج کا حکمران اگر چاہتا ہے کہ اس کا نام صرف تخت پر نہیں، دلوں پر لکھا جائے، تو اسے سکندر کی فتوحات نہیں، اس کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ تخت کے سائے میں جو تنہائی چھپی ہوتی ہے، وہ حکمران کو یا تو عظمت عطا کرتی ہے یا انجام۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں