شام آنگن میں یوں اتر رہی ہے جیسے کسی بوڑھے شاعر کے دل میں کوئی پرانی یاد دبے پاؤں لوٹ آئی ہو، یا جیسے کسی شکستہ دل پر اداسی کی چادر تن جائے- یہ شام کسی خط کے بند لفافے سے اچانک نکلنے والی پرانی خوشبو ہے، جو دھیرے دھیرے ماضی کی گلیوں میں لے جانے لگی ہے- مگر ان سب کیفیات کے بیچ میں بے قرار بیٹھا غروب ہوتے ہوئے سورج کو دیکھتا چلا جا رہا ہوں- شام کا فسوں وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اپنے اندر کے ذوق کو صبر اور خاموشی سے سینچا ہو- میں سوچ رہا ہوں کہ عاشق اور معشوق کا ذکر صدیوں سے چلا آ رہا ہے لیکن کیا عاشق ہونا زیادہ دشوار ہے یا پھر معشوق بننا زیادہ مشکل؟
کئی دنوں سے نہ جانے کیوں یہی سوال مجھ پر حاوی ہے- یہ سوال محض ایک رومانوی کشمکش نہیں، بلکہ ایک وجودی سوال ہے- کیونکہ عاشق اور معشوق دو متضاد نہیں، بلکہ دو تکمیلی مقام ہیں؛ ایک حرکت، دوسرا مرکز؛ ایک جستجو، دوسرا جمال-
معشوق ہونا دراصل ایک امکان ہے، عاشق ہونا ایک انتخاب- اور یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کو ہمیشہ اپنے انتخاب کی قیمت چکانی پڑتی ہے، امکان کی نہیں- ذرا غور کریں معشوق ہونا محض موجود ہونے کا فطری اعزاز ہے۔ جیسے کوئی چراغ روشنی دیتا ہے، مگر اُسے جلانے کے لیے آگ کوئی اور لگاتا ہے- عاشق وہی ہے جو خود کو جلانے پر آمادہ ہو جائے- معشوق ہونا حسن کا عطا کردہ مقام ہے، عاشق ہونا قربانی کی آخری حد کا دوسرا نام-
یوں سمجھیے کہ معشوق ہونا درحقیقت ایک پردہ ہے؛ ایسا پردہ جو حسن کے اسرار کو چھپائے رکھتا ہے، اور عاشق کا دل اسی پردے کی ایک جنبش پر بےتاب ہو جاتا ہے- معشوق کو کبھی اپنے ہونے کا ثبوت نہیں دینا پڑتا- اس کے لیے یہی کافی ہے کہ کوئی عاشق، اپنی ہستی لٹا کر، اسے اپنے تصور میں تاج پہنائے۔ معشوق ہونا گویا تقدیر کا ایک خاموش انتخاب ہے، مگر عاشق ہونا؟ یہ تو خود کو تقدیر کے مقابل لا کھڑا کرنا ہے-
عاشق ہونے کے لیے لازم ہے کہ انسان ہر اُس شے سے دستبردار ہو جائے جسے دنیا قیمتی کہتی ہے- عشق وہ راہ ہے جو چٹانوں سے نہیں، دراڑوں سے گزرتی ہے، جہاں روشنی کی امید نہیں بلکہ صرف ایک یقین ہوتا ہے؛ معشوق کا-
عاشق کی راہ دراصل فنا کا راستہ ہے- اور فنا کیا ہے؟ فنا وہ دریا ہے جس میں ڈوب کر ہی کوئی وجود امر ہو سکتا ہے- عاشق اپنی نفی میں بقا ڈھونڈتا ہے- اُس کی ہستی اس لمحے ناپید ہو جاتی ہے جب وہ معشوق کو خود سے زیادہ اہم سمجھنے لگے- اور یہی وہ مقام ہے جہاں عشق مجاز سے حقیقت کی طرف قدم رکھتا ہے۔ کوئی بھی تمثیل اسے مکمل بیان نہیں کر سکتی- عاشق ہونے کا مطلب ہے ہر روز بکھرنا، اور ہر شب کسی اور خواب کی کرچیاں سمیٹنا-
محبت جب ذات کی حد سے نکل کر وجود کی کلیت بن جائے، تو وہ عشق کہلاتی ہے۔ اور ایسا عشق کبھی ناکام نہیں ہوتا، چاہے عاشق ہار جائے- عاشق وہ پرندہ ہے جو آگ کے شعلے میں اڑان بھرتا ہے، جانتے ہوئے کہ پروں کو راکھ ہونا ہے۔ مگر اُس کا یقین یہ ہوتا ہے کہ راکھ بننے کے بعد ہی وہ خاک سے آزاد ہو گا۔ اور یہی عشق کی آخری معراج ہے-
لیکن بعض اوقات میں اس سوچ میں اٹک جاتا ہوں کہ عاشق کی کیفیت دراصل ایک ایسی حالت ہے جہاں فرد اپنی ذات سے فرار چاہتا ہے، کسی بڑے اور خوبصورت خیال میں پناہ لینے کے لیے- یہ فرار بزدلی نہیں، بلکہ اُس جستجو کا نام ہے جو انسانی روح کو معنی کی تلاش میں بےقرار رکھتی ہے- عشق اصل میں ایک وجودی چیخ ہے؛ میں کون ہوں؟ اور میں کس کے لیے ہوں؟ اور جب یہ چیخ خاموشی میں بدل جاتی ہے، تب عشق مکمل ہوتا ہے-
کیونکہ عشق کی آخری منزل شور نہیں، بلکہ وہ سکوت ہے جس میں ہر لفظ تم ہو، اور ہر خاموشی میں بھی تم-
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں