• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • شام، امن سے جنگ تک/ دمشق کا پاکستانی سکول اور المرجع یا شہدا چوک/سلمٰی اعوان۔۔قسط3

شام، امن سے جنگ تک/ دمشق کا پاکستانی سکول اور المرجع یا شہدا چوک/سلمٰی اعوان۔۔قسط3

ٹیکسی کے لئے تھوڑاسا بھاؤ تاؤ کرنا پڑا۔ تاہم لوٹنے کا رحجان نظر نہیں آیا۔ تقاضا اُس نے تین سولیرا کاکیا ۔
میں نے کچھ کمی کا کہا تو ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بولا۔
’’ شہرکا شمالی حصّہ ابراہیم حنانو سٹریٹ سے شروع ہوتا ہوا سفارت خانوں کے ساتھ شہر کے مرکزی حصے یوسف اعظم سکوائر تک پھیلا ہوا ہے۔ مرکزی حصہ تو یوں بھی گنجان ، وسیع وعریض اور کاروباری مراکز کا گڑھ ہوتا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ کس سٹریٹ میں ہے اور مجھے اُسے ڈھونڈنے میں کتنا خوار ہونا پڑے گا میں   نہیں جانتا۔ اِس  لئے میں نے پہلے ہی کرایہ مناسب بتا یا ہے۔
’’چلو۔‘‘
بیٹھنے کے ساتھ ہی میں نے تھوڑا سا خود کو کوسا کہ شام میں پندرہ دن کا قیام ہے۔ اطمینان اور سکون سے چلنے کی ضرورت ہے۔ مگر میرے کاموں میں پتہ نہیں ہڑ بونگ اور افراتفری کی سی صورت کیوں چھائی رہتی ہے؟ پاکستانی ایمبیسی جانے کا فیصلہ اچانک تھا۔ صُبح اٹھنے کے بعد آج کہاں کہاں جانا ہے؟ اور کیا کچھ دیکھنا ہے جیسی کِسی سوچ کے ساتھ سفارت خانے کا کوئی خیال تک نہیں تھا۔
دراصل پاکستان میں ان دنوں اخبارات شام میں پاکستانی سکول اور سفیر صاحب کی اپنے اہل خانہ کی تقرریوں اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں کی رپورٹیں دھڑا دھڑ چھاپ رہے تھے۔ اردو ڈائجسٹ کے الطاف حسن قریشی سے اتفاقاً کسی ملاقات میں میری شام جانے پر بات ہوئی۔انہوں نے اس ایشو پر بات کرتے ہوئے معاملے کی چھان پھٹک کرنے اور اردو ڈائجسٹ کے لئے مضمون لکھنے کی بات کر دی کہ چلو قارئین تک صحیح صورت تو سامنے آئے۔

شام، امن سے جنگ تک/ دنیا کے کلاسیکل حسن والے شہر دمشق کا سفر/سلمٰی اعوان۔۔قسط2
روضہ مبارک سے باہر نکلنے کے ساتھ ہی دماغ میں یہ خیال آگُھسا اور میں نے فوراً اسی مہم جوئی سے ابتدا کرنے کا سوچا۔
چلو خیر چھوڑو کہہ کرمیں سکون سے گردوپیش کے جائزے میں مصروف ہوگئی۔ ڈرائیور نوجوان سا لڑکا تھا ۔ میری درخواست پر  کہ راستوں کے بارے بتاتے جاو۔وہ بولنے لگا۔
شاہراہ ببیلا۔ صورت سے متوسط طبقے کا نمائندہ علاقہ تھا۔تین منزلہ فلیٹ جو خستگی اور کہنگی کا شکار تھے۔ کمروں کی بالکونیوں میں کپڑے سوکھتے اور کہیں کہیں کوئی چہرہ ٹیرس پر کھڑا دکھائی دیتا تھا۔
لڑکے کانام خسان تھا۔جس نے پوچھاتھا کہ عربی گیت سمجھ لیتی ہیں۔ ہنستے ہوئے کہا ۔
’’ارے کہاں؟ ہمیں توآپ لوگوں کی بات چیت پربھی قرآن کا گمان گزرتا ہے۔ ‘‘


اس نے ٹیپ کا بٹن دبایا۔ گلوکار کا نام بتایا ۔ صباح فخری۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھ لیاکہ ’’شام کے مشہور شاعر نزار قبانی کا نام کبھی سنا ہے؟‘‘
’’نزار قبانی۔‘‘
جیسے برق سی کوند جائے والی بات ہوئی تھی۔ کہیں ہنگامہ ہائے زندگی کے بکھیڑوں میں اُلجھے دل ودماغ کے ایک گوشے میں یہ عظیم شاعر موجود تو تھا ۔ مگر وہ جو کہتے ہیں۔۔ ستم ہائے روزگار بہت کچھ بھلا دیتے ہیں۔ تاہم پہلی ملاقات ، پہلی شناسائی فوراً ہی یاد آگئی تھی۔
اب جب میں شام کی سیاحت کے لئے آئی ہوں اور یہ ٹیکسی ڈرائیور مجھ سے پوچھ رہا ہے۔ واہ کیا حسن اتفاق ہے یہ بھی۔گیت سے میں نے لطف اُٹھایا تھا۔
میری خاتون میں دوسر ے چاہنے والوں کے ساتھ
اپنا مقابلہ نہیں کرتا مگر
اگر دوسرا تمہیں بادل دیتا ہے
تو میں تمہیں بارش دوں گا
اگر وہ تمہیں لالٹین دیتا ہے
میں تمہیں چاند دوں گا
وہ تمہیں اگر شاخیں دیتا ہے
تو میں تمہیں درخت دوں گا
اگر وہ تمہیں بحری جہاز دیتا ہے
تو میں تمہیں سفروں پر لے جاؤں گا
گیت کی مجھے سمجھ تو کچھ نہیں آئی۔ لڑکا کچھ زیادہ پڑھا لکھا نہ تھا اور انگریزی بھی بس دال دلیے جیسی ہی تھی۔ اُس نے کیا بتانا تھا؟ تاہم ایک عجیب سی خوشی میرے انگ انگ میں دوڑ رہی تھی۔ جیسے کسی اجنبی جگہ پر کوئی اپنا بہت اپنا مل جائے۔بعد کے دنوں نے مطلب سمجھایا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ شاعر تو شامیوں کے قلب وجگر میں سمایا ، ہر ٹیکسی میں گھُسا بیٹھا ہے۔
لڑکے کی نشاندہی پر میں نے زیتون کے باغ دیکھے۔ کیسے پیڑ تھے؟ ٹھگنے سے۔ دھول مٹی سے اٹے ہوئے۔کفر سو سےKafr Sousah کا علاقہ بھی لڑکے کی نشاندہی پر دیکھا۔
دھوپ میں تیزی بھی تھی اور گرمی بھی۔ تاہم قابل برداشت تھی۔ شہر پہاڑیوں پر پھیلا ہوا بڑا ہی خوبصورت نظر آیا تھا۔ اور اِس تاثر کو بھی نمایاں کرتا تھا کہ جیسے دنیا سے، جہاں سے الگ تھلگ ہو۔ کٹا ہوا ہو۔ صحرائی زندگی کی ایسی خوبصورت جھلکیاں نظر آئی تھیں کہ بے اختیار اُن سبھوں کو دعا دی تھی جنہوں نے مشورہ دیا تھا کہ شام کو دیکھنے جاؤ۔ اِن میں سرفہرست میرا بیٹا غضنفر تھا جو شام کے گن گاتے نہ تھکتا تھا۔اور کچھ ایسا ہی حال شیریں مسعود کا تھا۔جس کا کہنا تھا کہ یہ ملک سیاحوں کی جنت ہے۔ یہ ملک تہذیبوں اور تاریخ کا دل ہے۔ یہ ملک جہاں ہماری محبوب شخصیت تجارتی قافلوں کے ساتھ آتی تھی اور اس کے شہروں میں قیام کر تی تھی۔
گاڑی خوبصورت شاہراہوں پر بھاگی جاتی تھی ۔ پورٹ سیدSaid سٹریٹ، الحجاز سٹریٹ، ال باساAl-Bahsa سٹریٹ۔ کیا چوراہے تھے۔ کیا شاندا ر کاروباری عمارتوں کے سلسلے تھے۔ ہوٹل ،ریسٹورنٹ، گاڑی موڑ پر موڑکاٹتے ہوئے کیسے دلآویز منظروں سے میری آنکھوں کو سیراب کر رہی تھی۔ کجھوروں کے بلندوبالا درخت، چھوٹی قامت کے بوٹے نما پیڑ، پارک، گاڑیوں کی قطاریں، شاپنگ پلازوں کے برآمدوں اور فٹ پاتھوں پر چلتے پھرتے حسین چہرے ، کہیں ماڈرن اور کہیں روایتی مقامی لباس میں گھومتے پھرتے نظر آتے اور نظروں کو لُبھاتے تھے۔سوق سو رو جہ سلام سکول اور مختلف مساجد لڑکے کی نشاندہی پر ہی دیکھے۔ زینوبیہ پارک سے ملحق ابو رحمانیہ سٹریٹ کا سارا علاقہ سفارت خانوں سے بھرا ہوا تھا۔ لڑکا چکر پر چکر کاٹ رہا تھا۔
’’کسی سے پوچھو بچے۔‘‘
لڑکے نے گاڑی روکی۔ کسی سے بات کی۔ کچھ سمجھا اور چلا۔
مزہ کے علاقے میں داخل ہوا۔
سفارت خانے کی سڑک کوئی خوبصورت تھی۔ صنوبر کے درختوں سے گھری دومنزلہ کلاسیکل عمارتوں سے چمکتی ہوئی۔سڑک تھوڑی سی ڈھلانی بھی تھی۔گو زیادہ کشادہ نہ تھی۔ تاہم ایک فسوں خیز سا حُسن ضرور اس کی صورت پر بکھرا ہو اتھا۔
ہاں منزل پر پہنچنے سے پہلے اسلام آباد کے آصف نامی نوجوان سے ملاقات بھی اچھی رہی۔ جب ایمبیسی کی تلاش میں ہماری سڑکوں کی خواری ہو رہی تھی ۔ مجھے ایک نوجوان نظر آیا۔ چال ڈھال اور وضع قطع سے اپنا وطنی لگا تھا۔ٹیکسی رکوا کر میں اُتری اور اُس سے متعارف ہوئی۔ وہ پاکستانی ہی نہ تھا بلکہ اُس سکول میں بھی پڑھاتا تھا جس کے بارے میں جاننے کے لئے میں ایمبیسی  کی تلاش میں خجل ہو رہی تھی۔ خیر محل وقوع سے تو آگاہی ہوگئی کہ عمارت اگلی لین میں ہے۔
ہاں مسئلے بارے اس نے بتایا کہ خبریں تو سو فی صد درست ہیں۔ قابل ذکرلوگ سفیر صاحب اور کچھ کم کونسلرصاحب کہ جن کے رشتہ دار اور سکے سودہرے(عزیز) دمشق میں آ دھمکے ہیں ۔ پرانے اور تجربہ کار لوگوں کو ہٹا ہٹا کر انہیں بھرتی کیا گیا ہے۔ اور بھی بہتیرے چکر اور گھپلے ہیں۔
اسکول دمشق کے مضافات کے بڑے خوبصورت علاقے یفورYafour میں ہے۔ میرے پوچھنے پر اُس نے کہا ۔
’’کوئی اٹھارہ بیس کلومیٹر فاصلہ ہوگا۔ اسکول بہت بڑا ۔ بہترین عمارت اور بھاری سٹاف پر مشتمل جہاں کوئی ہزار کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں۔تاہم اُ س نے اپنا نام مخفی رکھنے کا بھی کہا۔ میں نے ڈرائیور کو بتایا اور اس نے مجھے اگلی لین میں اُتا ردیا۔ ایمبیسی کی عمارت کی شان وشوکت زیادہ نہ تھی۔ کسی کا گھر جان پڑتا تھا۔
ریسپشن پر جو عورت نما لڑکی بیٹھی ہوئی تھی اُس کا حُسن اور موٹاپا دونوں اوج کمال پر تھے۔ اُ س نے میری آمد کا مدّعا جان کر مجھے آگے دھکیل دیا۔ کمرہ تو یہ چھوٹا سا تھا مگر اتنا ٹھنڈا تھا کہ کرسی پر بیٹھنے اور متوقع نظروں سے مجھے گھورتے اُس طوطے کی سی ناک اور سانپ کی سی چمک والے مرد سے کوئی بات کرنے کی بجائے میں جن قدموں سے اندر آئی تھی اُس سے بھی کہیں زیادہ سرعت سے باہر نکل گئی تھی۔
شام بتیس (32) تینتیس(33) ڈگری ٹمپر یچر پر تھا۔ ٹیکسی میں اے سی نہیں تھا۔ میں صحرائی بلھّے کھاتی آئی تھی۔ یکدم اس فریج میں گھسنااور پھریہاں سے نکل کر دوبارہ اسی تنور میں گرنا تو نری بیماری کو دعوت دینا تھی۔کوئی گھر ہوتا تو بندہ یہ ایکٹویٹی کر بھی لیتا۔ پر دیس میں بھلا کون ایسا فیاض میزبان بننا پسند کرتا ہے۔ ایک بار اور یہی تماشا اُسے دکھا کر تیسر ی بار اُس کے سامنے کرسی پر بیٹھی۔ اُس کی حیرت زدہ مکار سی آنکھوں میں غصے اور نفرت کے کتنے رنگ تھے۔ میں اُن میں براہ راست جھانکتے ہوئے بولی۔
’’تم مجھے دمشق میں تو نہیں سائبیریا کے کسی کمرے میں بیٹھے لگتے ہو۔ باہر گرمی سے آنے والوں کو بیمار کرنا تمہارا مقصد ہے؟‘‘
وہ شاید میرے تماشے سے پہلے ہی جلابھنا بیٹھا تھا۔ فوراً آنے کی غرض وغایت اور مدّعا جاننے کے درپے ہوا۔ ظاہر ہے میں کسی ذاتی غرض یا پریشانی کے کارن تو یہاں آئی نہیں تھی۔ ایک معتبر پرچے کے لئے قومی سطح پر اٹھنے والے ایک ایشو پر گھرائی (تحقیق) کرنی مقصود تھی جس کا اخبارات میں بڑا چرچا تھا۔
میں نے انتہائی شائستگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بڑے نپے تلے اور عام سے لہجے میں بتایا کہ عراق پر لکھنا تھا۔ عراق چونکہ ابھی تک حالت جنگ اور امریکی تسلط میں ہے اس لئے زیارتی قافلے کے ساتھ شامل ہونا پڑا۔ بیچ کی ساری باتیں چونکہ بڑی ذاتی تھیں کہ بچے نہیں مان رہے تھے ، شوہر کو اعترا ض تھا، گول کر گئی۔
’’تو یوں کہیے نا کہ زیارات پر آئی ہیں۔ تو جائیے زیارتیں کریں ۔یہاں آپ کا کیا کام؟‘‘
لہجے میں اتنی حقارت اور طنز بھرا ہوا تھا کہ مجھ سے تو برداشت ہی نہ ہوسکا۔
’’تمہارے کھوپڑے میں یہ بات نہیں آئی کہ میں لکھنے والی ہوں۔ تم لوگوں نے جو اَ ندھیر مچایا ہوا ہے۔ اس کی ملک میں بڑی دھومیں ہیں خیر سے۔ میں چونکہ ادھر آر ہی تھی اس لئے مجھے یہ فریضہ سونپا گیا کہ کچھ کچا چٹھا تو جانوں تمہارا۔‘‘
’’اپنا کارڈ دکھائیں۔‘‘ لہجے میں وہی تناؤ اور اکڑ تھی۔
میں صدا کی بونگی کار ڈ بنوانے، رکھنے اور اُسے پیش کرنے کے جھنجھٹ سے لا پرواہ اب خود کو کوستی ، لعن طعن کرتی اپنے آپ سے کہتی تھی کہ کچھ نہ کچھ پاس ہونا چاہیے تھا۔ سوچاا ب معذرت خواہانہ رویہ ہرگز درست نہیں۔سرجھکا کر بیگ میں یونہی پھولا پھرولی کی کوشش، اِدھر اُدھر ہاتھ پلّا مارنے کی حرکات چغلی تو کھاتی تھیں۔وہ بھی کونسا کاکا چوچا تھا۔کمزوری بھانپ گیا۔میری بے نیازانہ سی معذرت پر بھڑک ہی تو اٹھا تھا۔
’’یونہی منہ اٹھائے چلی آئی ہیں۔جانتے ہیں ہم سب۔ اٹھیے اور جائیے اپنا راستہ ناپیں۔‘‘
اس درجہ تذلیل پر میرے بھی تن بدن میں آگ سی لگ گئی۔ تنتناتے ہوئے چلاّئی۔
’’تم ہوتے کون ہو کارڈ مانگنے والے؟ ٹھیک واویلا ہورہا ہے ملک میں۔ اپنے اپنے حصوں کے کمیشنوں کی بندر بانٹ میں دلالوں والا کردار ادا کر رہے ہو۔ تمہار ا کام مجھے آگے پہنچانا ہے نہ کہ اِس درجہ توہین آمیزانداز میں ایسے فضول اور گھٹیا سوال۔ تمہارے یہی انداز تمہاری کرتوتوں کی چغلیاں کھا رہے ہیں۔ بندہ سادھ ہو تو اُسے ڈر کس بات کا؟‘‘
یہ سب لتاڑ میں نے انگریزی میں دی کہ میرے خیال میں لتاڑ کا یہ موثر ترین ہتھیار ہے۔
ایک انگریزی اوپر سے میرا سنگھ(گلا) لاؤڈ سپیکر جیسا۔ آواز نے اندر والوں کو بھی چوکنا کر دیا تھا۔
’’بھیجو اندر۔ کون ہے یہ بدبخت؟‘‘
ایک چھوڑ دو دو بندے باادب باملاحظہ جیسی صورت لئے میرے سر پر آ سوار ہوئے۔
مناسب سی کشادگی والے آنگن سے ہوتی ہوئی ایک راہداری میں اُتری۔ چھوٹے سے ایک کمرے سے گزر کر اگلے کمرے میں داخلہ ہوا۔ سامنے کرسی پر ایک صحت مند پچاس پچپن کے پیٹے میں گورا چٹا مرد، نام اب بھول گئی ہوں شاید رئیسانی تھا یا کچھ ایسا ہی بیٹھا ہوا مجھے تنقیدی نظروں سے دیکھتا تھا۔ یہ یقیناًسفیر صاحب تھے۔ اُس کے عین بالمقابل کرسی پر ایک گہرے سانولے رنگ کا سڑیل سا نوجوان بیٹھا تھا۔ دونوں میں ہز ایکسی لینسی والے جراثیم پوری توانائی سے پلے ہوئے تھے۔
میں نے بیٹھنے کے ساتھ تہذیب وشائستگی سے اپنے آنے کا مدّعا بتایا۔ سفیر صاحب تو شاید کچھ گو مگو کی سی کیفیت میں تھے مگر وہ سٹریل بینگنی رنگت والا کونسلر نخوت سے بولا۔
’’ کارڈدکھائیے۔‘‘
’’بنیادی طور پر تو میں ادیب ہوں۔ اخبارا ت اور رسائل میں لکھنا میرا فری لانسنگ میں جاتا ہے۔ کارڈ کے لئے میں تردّدمیں کبھی نہیں پڑی۔‘‘
’’پہچان کا، اپنی شناخت کا کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟‘‘
اب سچی بات ہے دل میں خودکوکوس رہی ہوں کہ ساری عمر ایسے ہی بے ڈھنگے کاموں میں گزار دی۔ بات تو اُن کی ٹھیک ۔ مگر اب جھکنا یا پسپائی کا سا انداز دکھانا یا لب ولہجے سے شکست خوردگی کے سے اظہار کو نمایاں کرنا تو قطعی درست نہ تھا۔ اتنی پھوتیں مارتی اب موت کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاؤں یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔
’’میں نے آنے کے ساتھ واضح کیا ہے کہ میری ترجیحات صرف عراق سے تھیں۔ شام یا اس واقعے سے متعلق کچھ جاننا یا لکھنا میرے پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔ یہ ڈیوٹی تو مجھے سونپی گئی کہ جا رہی ہو تو ذرا یہ کام بھی کر لینا۔‘‘
سفیر صاحب بولے۔
’’مگر کوئی ثبوت تو آپ کے پاس ہونا چاہیے۔‘‘
اب مجھے غصہ آیا۔ میں کھڑی ہوگئی۔
’’ایک سفارت کار کی تجربہ کار آنکھ اور دماغ میں اس پائے کی ذہانت ، ہوشیاری اور ادراک کا شعور ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مخاطب کے چہرے مہرے ،اس کی گفتگو کے اندر اتر کر اس کے باطن کا جائزہ لے سکے کہ مخاطب کتنے پانی میں ہے؟ کتنا جھوٹا اورکتنا سچا نظر آتا ہے؟ رنگا رنگ لوگوں کو ڈیل کرتے ہوئے اگر یہ صلاحیت بھی نہیں آئی تو معذرت کے ساتھ یہاں بیٹھے جھک ما ر رہے ہیں۔ آج کی مصروف زندگی میں کس کے پاس اتنا وقت اورپیسہ ہے کہ وہ اسے یوں ضائع کرتا پھرے۔


جناب والایعفوریہاں سے صرف بیس کلومیٹر ہے ۔ مجھے تو وہاں بھی جانا ہے۔ آپ کے پاس آنے کا مقصد اس کے سوا اور کیا تھا کہ آپ کی بھی سن لوں کہ آپ کیا کہتے ہیں؟ حالات کیا ہیں؟ تصویر تو پوری سچائی سے سامنے آ ہی جائے گی جب باقاعدہ کھوج ہوگا۔ آخر ہر بڑے چھوٹے اخبار میں یہ ایشو روز زیر بحث ہے تو تھوڑی بہت حقیقت تو ہوگی اس میں۔‘‘
خدا حافظ کہتے ہوئے میں نے اپنی راہ ناپنی چاہی ۔ جب اسی نخوت زدہ نوجوان نے کھڑ ے ہو کر روکنا چاہا۔ مگر میں نے رُکنا پسند نہ کیا۔
’’لعنت بھیجو۔ ذلیل لوگ۔ چور نالے چتر۔‘‘
باہر نکل کر سڑک پر آئی۔ بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔والی بات ہوئی تھی۔
اب میں بڑ بڑ کرتے خود کو گویا سناتے ہوئے چلی جا رہی ہوں۔
’’ مضمون لکھنا اور لوگوں کو حالات سے مطلع کرنا ہے۔ واہ میاں واہ ۔ چوروں کی دلاّلی میں منہ کالا یقیناًاسی کو کہتے ہیں یہاں نیچے سے اوپر تک چور چھوڑ ڈاکو اور لٹیرے بیٹھے ہیں۔ روز مار دھاڑ کے سے انداز میں ٹی وی اور اخباروں میں چلاّ چلّی ہوتی ہے۔ کتنا اثر ہوتا ہے ؟ کتنی اصلاح ہوئی؟ کھے تے سواہ۔جو کام کرنا ہے کرو اور اپنا راستہ ناپو۔‘‘
سڑک پر بڑی ویرانی سی تھی۔ کوئی بندہ نظر نہیں آیا تھا کہ جس سے پرانے شہر کا پوچھتی۔ درختوں کی چھدری چھاؤں میں چلنا شروع کیا ۔ تو کچھ آگے جاکر چوک آیا۔ سوچا کہ پہلے ٹورازم والوں کے دفتر جاؤں ۔ کوئی کتابچہ ، کوئی پمفلٹ ، کوئی نقشہ کچھ تو ہاتھ آئے۔
جس سے پوچھا وہ بظاہر بڑا سمجھ دار سا لگتا تھا۔ اُ س نے ٹیکسی والے کو اشارہ کیا ۔ اُسے کچھ سمجھایا۔ مجھ سے پینتیس 35) (لیرا دینے کا کہتے ہوئے بتایا کہ یہ آپ کو مطلوبہ جگہ لے جائے گا۔
یہ موسیٰ بن نصیر روڈ تھی۔یہیں قریب ہی دمشق یونیورسٹی ہے۔ٹیکسی ڈرائیور کے بتانے پر مجھے فوراً ڈاکٹرزخرف یاد آئی تھیں۔اُن کی دعوت کا بھی خیال آیا تھا۔چلو دیکھوں گی۔خود سے کہتے ہوئے میں باہر دیکھنے لگی تھی۔
سڑکیں خوبصورت ، بلند وبالا عمارتیں، فٹ پاتھوں اور عمارتوں کے اندر باہرآتے جاتے حسین اور صحت مند لوگ۔ دلکش بکھری ہوئی دھوپ اور شام سے متعلق کہانیاں۔
یہ بھی کیا ملک تھا؟روم کے سیزروں اور کسریٰ ایران کی حریص نگاہوں کا مرکز نظر۔ دنیا کے قدیم ترین مذاہب اور تہذیبوں کا امین۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سامان تجارت کے ساتھ اسی شہر میں تو آتے تھے۔ مدینہ منور ہ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بننے والا مسلمانوں کا دوسرا دارلخلافہ ہونے کا شرف حاصل کرنے والا۔اسلامی اور عرب تہذیب وتمدن کا گہوارہ۔
ٹیکسی ڈرائیور نے ایک عمارت کے سامنے گاڑی روکی اور اس کے اندر جانے کا کہا۔ جب اس کے اندر داخل ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ تو امپورٹ ایکسپورٹ کا مرکز ہے۔ سڑک پار کچھ فاصلے پر مطلوبہ جگہ کی نشان دہی ہوئی ۔ پیدل مارو مار کرتی وہاں پہنچی۔ لفٹ سے پانچویں منزل تک گئی۔ اماں نہ پونیاں۔ کسی کو خبر ہی نہ تھی کہ یہ دفتر ہے کہاں؟
وہی دفتروں والا ماحول ۔ بڑی ماڈرن لڑکیاں۔ کھلے گلے کی ٹی شرٹوں اور تنگ جینز میں کَسی کسائی، کٹے بالوں اور میک اپ سے لتھڑے چہروں سے کہیں برآمدوں میں بھاگی پھر تی تھیں ، کہیں کمروں میں بیٹھی کمپیوٹروں سے اُلجھی نظر آئی تھیں۔
عبایا پہنے تو میں اکیلی مملکت خدادا د اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہری بیچاری مسکین بلّی سی یہاں وہاں لڑھکتی دھکے کھاتی پھر رہی تھی۔حُلیہ تو میں بھی بدل لیتی۔پینٹ شرٹ چلو نہ پہنتی پر یہ عبایا کی لینج تو نہ ساتھ لپٹاتی ۔مگر جن کے ساتھ آئی تھی وہ بڑے روایتی لوگ تھے۔صبح سویرے بن سنور کر گلے میں ڈوپٹہ ڈال میرا نکلنا انہیں کِھل سکتا تھا۔یوں بھی زینبیہ کا ماحول بڑا ڈھکا ڈھکایا تھا۔
’’چلو پرانے دمشق چلتی ہوں۔‘‘
’’پیدل وہاں تک جایا جا سکتا ہے۔‘‘ کا سُن کر مجھے بغور دیکھا گیا ۔ بڑا بذلہ سنج قسم کا مرد جان پڑتاتھا۔ ہونٹ نہیں آنکھیں بولی تھیں۔طولے جتنا سر نفی میں ہلا تھا۔
’’ ایسا کشٹ مت کاٹیئے۔بہتر ہے ٹیکسی میں چلی جائیے۔‘‘
مجھے اُس کے انداز دید پر غصہ آیا تھا۔ کتنا فضو ل اور بونگا ہے۔
ایک کافی شاپ سے میں نے قہوہ لیا۔ گھونٹ گھونٹ اُسے پیتے ہوئے میرا فیصلہ تھا کہ اب اِدھر اُدھر کی خجل خواری ختم۔ کہیں نہیں بھٹکنا۔ پرانے دمشق چلنا ہے۔ وہاں کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔ آخر تو کتابوں کی کوئی دکان ہوگی ہی وہاں۔
مگر جس کے ہتھے چڑھی اس کی انگریزی گو بہتے پانی جیسی ضرور تھی مگر ذہنیت اور تربیت خالصتاً کاروباری اور تاجرانہ سی تھی۔ میں کتابوں کی دکان کا پُوچھ بیٹھی۔ اُس نے فوراً کہا۔
’’شہدا سکوائر سے نقشے کتابچے ،کتابیں اور جو کچھ بھی آپ چاہتی ہیں سب کچھ مل جائے گا۔‘‘
یوں اس نے پرانے دمشق کے طے کردہ کرائے میں مجھے نسبتاً قریب کی جگہ پر اُتارتے ہوئے اپنا پیٹرول ضرور بچایا مگر وقت نہیں۔
’’لیجئیے۔‘‘
پارکنگ ایریا میں ٹیکسی روک کر اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے اپنے سامنے بکھرے خوبصورت منظروں کی حامل جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’شہدا چوک۔مقامی طور پر اِسے ال مر جاہAl-Merjah sq بھی کہتے ہیں۔تھوڑا سا پس منظر،تھوڑی سی تاریخ ،تھوڑا سا اِس علاقے بارے سُننا چاہیں گی ‘‘ اُس نے پوچھا تھا۔
’’ارے کیوں نہیں۔یہ تو احسان ہوگا۔مگر پہلے ایک بات تو بتاؤ یہاں سیاسی پارٹیاں کیوں نہیں؟‘‘
لڑکاہنسا۔ طائرانہ سی نظر گردوپیش پر ڈالی۔ پھر آہستگی سے بولا۔
’’ڈنڈہ۔ ساد ہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ پولیس کے بندے آپ کی گردن ہمہ وقت دبوچنے کو تیار ۔ اگر آپ نے حکومت کے خلاف کوئی بات کی۔ کہیں کسی جگہ اکٹھے ہوئے تو پھر آپ کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟میرا خیال نہیں کہ آپ میری بات کی تہہ تک نہ پہنچی ہوں۔
عام لوگوں کی سوچ کیا ہے؟غریب کو جینے کے لالے۔ امیر بہت امیر۔ انقلاب کی ضرورت ہے۔ میں گریجوایٹ ہوں۔ سرکاری نوکری کے لئے ایک لاکھ سیرین پاؤنڈ چاہئیں۔ رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔‘‘
’’ہائے میرے اللہ۔ میرے بچے یہ تو مجھے گھر سے گھر تک کی داستان سنا رہے ہو۔‘‘
لڑکے نے اپنا کارڈ دیا۔ مختصراً علاقے کے بارے بتایا اور چلا گیا۔
شہدا چوک کی یہ جگہ اور اس کے اردگرد کا سرسبز علاقہ تو کبھی گھوڑوں کی چراگاہیں اور تربیت گاہیں تھیں۔ 1916ء کی بات ہے کہ عرب قوم پرست جو عثمانی سلطنت اور اُس کے غلبے کے خلاف بغاوت پر اُترے ہوئے تھے وہ پکڑے گئے۔ عثمانی فوج کے کمانڈر جمال پاشا نے یہیں انہیں پھانسی پر لٹکا دیا۔
میں نے باہر کی رونقوں کو دیکھا تھا۔ سرسبز کھیتوں اور چراگاہوں کا وقت، زمانے اور آبادی کے بہاؤ کے سامنے کہاں تک بند باندھ سکتا تھا۔اِن ہریالیوں نے تو کٹنا مرنا ہی تھا۔میدانوں کی وسعت اور کشادگی نے سیمنٹ سریوں کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی ڈالنے تھے۔ پر یہ عرب قومیت کے شوشے تو نرے مغربی ملکوں کے عثمانی سلطنت کو توڑنے کی سازشیں تھیں۔ کیا کیا خواب نہیں دکھائے گئے اِن عربوں کو ۔ شریف مکہ کا کردار کیسا لعنتی تھا۔ علامہ تو کہہ کر فارغ ہو گئے تھے۔
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
تب سے اب تک خون تو دھڑا دھڑ اِس مسلم اُمّہ کا بہہ رہا ہے۔ رات اتنی گہری اور تاریک ہوگئی ہے کہ سحر ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔
چوک کے مرکز میں کانسی کے Pole کو جس کی چوٹی پر استنبول کے یزدی محل کا ماڈل سجا ہوا ہے میں نے لڑکے کی نشان دہی پر دیکھا تھا۔
شدید بھوک کا احساس تھا۔ ڈھابہ نماریسٹورنٹ سے دو فرائیڈ بالز خریدے۔ سلاد اور کولا ٹن پیک لیا۔ مسجد تلاش کی۔مسجدوں میں عورتوں کے لئے مخصوص حصوں کا علم مجھے مصر کی سیاحت کے دوران ہوا تھا۔ یہ عبادت کے ساتھ ساتھ عورتوں کے ریٹائرنگ روم بھی ہیں۔ سو قریبی مسجد میں گئی اور خوش ہوئی۔ خوشگوار سے ماحول میں سہ پہر کا تھوڑا سا وقت گزارنا کہ وہ ڈھل کر خوشگوار شام میں تبدیل ہو جائے بہت بڑی نعمت اور عیاشی تھی۔ نمازپڑھی۔ فرائڈ بالز کھائے۔ یہ ہمارے ہاں کے قیمہ بھرے سموسوں جیسے ہی تھے۔ بس صورت ذرا بڑی تھی۔ تھوڑے سے آرام نے تازگی اور سکون دیا۔
وہ شام جوالمرجع سکوائر Al-Marjeh Sq میں وقت گزارنے کے لئے مجھے نصیب ہوئی کیسی خوبصورت تھی؟پرانے دمشق کا پروگرام کل پر ملتوی کرتے ہوئے آج کی شام یہاں گزارنے کے فیصلے نے مجھے اطمینان اور یکسوئی سے چیزوں کو ماحول کی طرف متوجہ کیا۔بلندوبالا عمارتوں کے حصار میں گھرا یہ سکوائر جہاں نہر کا پانی پلوں کے نیچے سے گزرتا تھا۔ اس نہر پر بنی ریلنگ سے جھک کر پانیوں کو دیکھتے ہوئے خود سے کہتی ہوں۔
جی اِس سارے منظر پر نثار ہونے کو چاہتا ہے۔کجھور کے درختوں کا بانکپن اور گھاس کے قطعوں کے پیچ و خم کا حُسن،پھولوں سے بھری گرین بیلٹ، چنبیلی کے بوٹوں سے پھوٹتی مہکتی خوشبو جو کہیں مجھے مانوسیت سے جوڑے جاتی ہے،دائیں بائیں پھیلے عظیم الشان عمارات کے سلسلے کیسے دلرباسے نظر آتے ہیں۔ سامنے والی عظیم الشان عمارت کا بڑا سا داخلی گلیارہ اپنے اندر آنے کی دعوت دیتا ہے۔
میں نے اس کی دعوت   قبول کر لی ہے ۔ تاہم اُس سے یہ بھی کہا ہے۔
’’ارے بھئی گبھراتے کیوں ہو؟بھلا تمہیں دیکھنے،تم سے ملنے کیوں نہیں آؤں گی؟ضرور آؤں گی۔بس ذرا دم لو۔ ابھی یہاں کی پیاس تو بُجھنے دو۔دیکھونا میں اس طرف آئی ہوں اور گم سم کھڑی ہوگئی ہوں۔ اس وقت دھوپ ماند پڑرہی ہے۔ماحول کلاسیکل رعنائی کے سحر میں پور پور لُتھڑا پڑاہے۔میں مسرت سے لبریز ،چاہت سے بھری پری اور شوق و تجسّ سے چمکتی آنکھوں کو دائیں بائیں گھماتے پھراتے کیسی سرشاری سی محسوس کرتی ہوں۔
تم چونکہ اِن نظاروں ، اِن منظروں کے مالک اور امین ہو۔ تمہارے لئے تو یہ گھر کی مرغی دال برابر جیسی بات ہے۔ پر میرے لئے فضا پر تنے ملگجے چمکتے آسمان پر کبوتروں کی ڈاروں اور کہیں نیچے اُترتے اور کہیں اوپر کی جانب اڑتے دیکھنا بھی کِس قدر رومانوی اور طلسمی منظر ہے۔سینکڑوں کبوتر زمین پر بکھرے دانے چگتے اور اٹھکھیلیاں کرتے دل کو لبھاتے ہیں۔‘‘
مجھے چائے کی طلب ہے۔ قہوہ خانے کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ خوشبوئیں اڑاتے قہوے نے بے حال کر دیا ہے۔ یہ خوشبو مجھے ہمیشہ سے پاگل کرتی ہے۔ دودھ کے بغیر قہوہ ۔ چینی ڈال کر میٹھا کر
لیا ہے۔


اب یہاں بیٹھی اِس خوبصورت کلاسیکل شہر کے منظروں میں گم لطف اٹھارہی ہوں۔چھوٹے چھوٹے گھونٹوں کی چسکیاں لے رہی ہوں۔اور نہیں جانتی ہوں کہ سالوں بعد جب اس پر لکھنے بیٹھوں گی تو لکھتے لکھتے ٹپ ٹپ آنسو دامن پر گریں گے اور دل کو کوئی جیسے مٹھی میں بھینچے گا اور کہے گا۔
شامیوں تم نے جبر اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔تم نے آزادی کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر کے لئے تلوار اٹھائی۔مگر تم ہار گئے۔شاید تم نے ظالم دنیا کی اُس سفاکی کا سوچا ہی نہ تھا۔جو تمہارے ساتھ برتی گئی۔ شاید تم بھول گئے تھے کہ آزادی کو ڈھیروں ڈھیر خون اور جانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ننگی ہوتی ہے۔جب تم اسے حاصل کرتے ہو تویہ شاندار لباس پہنتی ہے ۔افسو س تم ا سے آزادی کی زریں پوشاک نہ پہناسکے۔دیکھو تو تمہاری ایک جیالی شاعرہ میرم ال مرسی نے کیسے اس کی ترجمانی کی ہے۔یہ اس کی ’’آزادی جو برہنہ آتی ہے‘‘ خوبصورت ،شہرہ آفاق نظم ہے۔ذرادیکھئے تو۔
برہنہ آنے والی کانام ہے
آزادی
شام کے پہاڑوں کی چوٹیوں
اس کے ساحلوں
اس کے مہاجر کیمپوں میں
کہیں
اس کے پاؤ ں کیچڑ میں لتھڑ جاتے ہیں
کہیں آبلوں سے بھر جاتے ہیں
یخ ٹھنڈسے
گہرے تشدد سے
لیکن وہ مارچ کرتی چلتی جاتی ہے۔چلی جاتی ہے

وہ اندر آتی ہے
اس کے بچے بازؤوں سے چمٹے ہوئے ہیں
کہیں گرتے ہیں جب وہ آگے بڑھتی ہے
وہ مارے جاتے ہیں
وہ چلّاتی ہے۔بین ڈالتی ہے
لیکن پھر بھی وہ بڑھتی چلی جاتی ہے
اس کے پاؤں زخمی ہیں
لیکن وہ بڑھتی چلی جاتی ہے
ا س کا گلا پھٹ جاتا ہے
لیکن وہ گاتے ہوئے چلتی جاتی ہے
اس کے درخت کٹ جاتے ہیں
اس کے دریاؤں میں سیلاب ہے
خون کا
اس کی بہار کو قتل کردیا جاتا ہے
اور اب گرمی
نوحہ خوان ہے
لیکن وہ تو مارچ کرتی چلی جاتی ہے
اس کا یہ مارچ کب تک جاری رہے گا۔تمہارے عزائم اور ولولے۔کب تک اسے خو ن دیتے رہیں گے۔خداتمہاری ہمتوں کو سلامت اور توانا رکھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *