شتا بدی کیا مزے کی گاڑی تھی۔ٹرین کا سفر اور وہ بھی دوستوں کے ساتھ۔
افضال شاہد جیسے ہنس مکھ اور مجلسی بندے کا ساتھ ہو تو پھلجھڑیاں پل پل چھوٹتی ہیں۔گاڑی کسی پتی ورتا قسم کی خاتون جیسی تھی جو شوہر کے د ل میں اُترنے کیلئے اُسکے معدے میں سے گزرنا پسند کرتی ہے۔ شتابدی کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ ابھی امر تسر سے نکلے ہی تھے کہ گرما گرم چھوٹے چھوٹے سموسے ،چائے ،کافی اور رس گلے آگئے۔اُن سے دو دو ہاتھ کیئے ۔ جالندھر ،لدھیا نہ اور پانی پت گزرے تو کھانا آگیا۔کھانے نے اگر خوش کیا تو وہیں تینوں شہروں نے دل ودماغ میں ہیجان سا پیدا کیا ۔
لدھیانہ ڈاکٹر کیول دھیر جیسے پیارے انسان کا شہر ہے ۔پانی پت جنگوں کے اعتبار سے کبھی نہیں بُھولتاکہ انہیں یاد کرنے کیلئے گھوٹے لگانے پڑتے تھے اور جالندھر سے تو ویسے ہی گوڑا سا ک (رشتہ )ہے۔
دلّی کے ریلوے اسٹیشن کی وسعت اور گاڑیوں کے اژدہام نے حیرت میں ڈالے رکھا۔دلی آنے کی کتنی تمنا تھی۔آج دلی سامنے تھی گو رات تھی مگر کہیں اجنبیت نہیں تھی۔ایک
جیسا ماحول ،زبان کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔وہی اُردو ۔تیرے کو میرے کو بولا جارہا تھا۔
کرول باغ میں پال ر یجنسی ہوٹل پہنچے ۔ درمیانے درجے کا ہو ٹل تھا۔ مگر دلی جیسے شہر میں ایسا ہوٹل ملنا بھی غنیمت ۔ میں اور سیما حسبِ معمول اکٹھی تھیں رات تو خوب ڈٹ کر سوئے کہ تھکے ہوئے تھے ۔ناشتے کے بعد سیر کیلئے چھوٹی چھوٹی گاڑیاں آگئیں۔ میں اور سیما نے ایک گاڑی کو قابو کیا اور نکل بھا گیں۔
دلّی جہاں لال قلعہ ہے۔ جہاں جمنا گنگا بہتی ہے۔جہاں شاہی مسجد اور قطب مینارہے۔دلّی جو موجودہ اور ماضی کے حکمرانوں کی راجدھانی ہے۔مغلیہ شاہوں کی شان و شوکت کی مظہر ہے۔ محبوب الہی اور قطب الدین بختیار کا کی جیسے دیگر بہت سے صوفیائے کرام کی خوابگاہ اور مسلمانوں کی عظمت گم گشتہ کا نشان۔ دلّی جو اپنی پشت پر تاریخ کی بہت بھاری سی گٹھڑی اُٹھائے ہوئے ہے۔ تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے۔ مشہور زمانہ وہ شعر بھی یاد آ گیا تھا۔
دلّی جو اک شہر تھا عالم میں منتخب
تو اب ہم اُسی منتخب عالم شہر میں ہیں۔دلّی جو منقسم ہے دو حصّوں میں۔پرانی اور نئی۔
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے سوچا ہے کہ پہلے کہاں چلنا ہے؟سیماں کہتی ہے۔ بستی نظام الدین میں ۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیا ء کے مزار پر ۔درست۔ میں نے بھی سر ہلایاہے۔محبوب الہی اُن کا لقب ہے۔ روحانی سلسلہ خواجہ معین الدین چشتی سے منسلک ہے۔پاک پتن والے گنج شکر سے بھی فیض یا ب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ انہی کے حکم پر دہلی تشریف آوری ہوئی تھی۔
خُدا کو بہت محبوب ہوئے ۔ والدہ کی فرمابرداری پر نوازے گئے۔ والدہ کی زبان سے نکلے الفاط خدا کو پسند آئے۔ماں نے خدا سے بیٹے کو محبوب رکھنے کی التجا کی تھی۔سو سچے
رب نے انہیں محبوب کر لیا اتنے کہ لفظ “حرمت “کی علامت بن گئے ۔‘‘ہنوز دلّی دور است والی’’ پُرتاثیر اور کرامت سے بھری کہاوت اِسی حرمت ہی کی غماز تھی۔
ذرا مختصر سا پس منظر بھی سن لیں۔ غیاث الدین بلبن اور اسکے ولی عہد کی جانب سے پیغام ملتا ہے۔ بادشاہ سلامت فتح بنگال سے سرخرو ہوکر دلّی آرہے ہیں۔ استقبال کیلئے حاضر ہوں۔جواب میں فرماتے ہیں ۔ شاہوں کے حضور حاضر ہونا شیوہ فقیری نہیں۔ایسی سرکشی کا اظہارمتعدد بار پہلے بھی ہوچکا تھا۔دھمکی ملتی ہے۔آپ مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں۔” ہنوز دلی دور است۔”
بس تو دلّی میں شاہ کو قدم دھرنے نصیب نہ ہوئے۔
وقت یہی کوئی دس ساڑھے دس کا تھا۔ رش بھی نہیں تھا۔ مگر اُس تنگنائی اور پس ماندگی نے کوفت دی جو گلیوں سے گزرتے ہوئے محسوس ہوئی ۔چھوٹی چھوٹی دوکانیں جن میں بیٹھے لوگ یقیناََ مسلمان ہی تھے۔سویرے سویرے ہی اگر بتیوں ،گلاب کے ہاروں اور
پتیوں ، بتاشوں، سبز چادروں ،تسبیح ،ٹوپیوں کیلئے آوازوں کی چیخ وپکار شروع ہو چکی تھی۔مانگنے والے بھی بڑے ہوشیار تھے۔ صبح صبح ہی بازار گرم کر رکھا تھا۔درگاہ کے صحن میں داخل ہوئے تو سیما نے پلّو کھینچا۔
‘‘ پہلے فاتحہ خوانی امیر خسرو کے مزار پر کرنی ہے۔ اُدھر چلو۔’’
دونوں میں تعلق محب اور محبوب والا تھا۔خُسرو کی شاعری اگرچہ بہت زیادہ تو نہیں پڑھی تھی مگر جتنی پڑھی اور سُنی تھی اُسی نے جٹ جپھا ڈال رکھا ہے۔ میری ایک پسندیدہ غزل جو کسی افغانی گلوکارہ نے گائی ہے اور جسے میں کبھی شوق سے سنتی تھی اسوقت مجھے یوں محسوس ہوا تھا جیسے وہ آواز میرے چاروں اور نغمگی کی پھوار سی برسا رہی ہے۔
خبرم رسید ہ امشب کہ نگار خواہی آمد
سر من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد
ترجمہ: خبر ملی ہے کہ آج کی رات وہ محبوب آئے گا
میرا سر اُن راہوں پر نثار جن پر وہ آئے گا
میری جان لبوں پر آگئی ہے۔تو آکہ میں زندہ ہوجاؤں
بعد میں اگر میں نہ رہا تو اس کاآنا کِس کام کا
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
اِس مصرعے کی نغمگی اور مفہوم مجھے اتنا پسند تھا کہ بے اختیار ہی میری انگلیاں ریکارڈ پلئیر کے ریورس بٹن دبانے لگتی تھیں کہ مجھے محسوس ہوتا تھا جیسے میرا سانس سینے میں گھٹ گیا ہے۔
محبو ب الہی کی درگاہ میں صبح کے باوجود خاصے لوگ تھے۔ آنکھوں میں عقیدتوں کی شمعیں جلائے ۔ یہ شمعیں ہماری آنکھوں میں بھی جلیں۔ آنسوؤں نے کونے بھی گیلے کیئے۔
وفات725ھ میں ہوئی۔روایت ہے کہ جب آپ کو دفن کیلئے لے جایا جارہا تھا۔اُس وقت کہیں قوال سعدی شیرازی کی غزل گارہے تھے اور وہ اِس شعرپر تھے اور تکرار جاری تھی۔
اے تماشا گاہ عالم روئے تو
تو کجا بہر تماشا می روی؟
کہا جاتا ہے کہ آپ کے جسم مبارک میں لرزش سی ہوئی۔آپ نے ہاتھ باہر نکالا
اور فرمایا۔
‘‘من نمی روم۔من نمی روم’’
خدا کی برگزیدہ ہستیوں سے ناممکن بھی ممکن ہے۔
غالب اکیڈمی وہیں بستی نظام الدین میں ہی ہے۔ میرے ملک کی لیجنڈری شخصیت حکیم سعید دہلوی نے اگر پاکستان کو اپنی خدمات سے نوازا تو اُنکے بڑے بھائی حکیم عبدالمجید بھی خدمت کی اسی روش پر گامزن رہے۔ موجودہ اکیڈمی کی جگہ پر یہ عمارت بناکر غالب اکیڈمی کو سونپ دی ۔ہمیں محسوس ہوا تھا کہ اُداسی اور ویرانی کا سا تاثر نمایاں تھا۔ یقینا اس میں صُبح کے اوقات کا بھی دخل تھا۔
عمارت کے عقبی حصّے میں اُس تاجدار اُردو کا مزار تھا۔فاتحہ خوانی کی ۔اکیڈیمی شاعر کی شخصیت ،انکی زندگی اور فن کی نئی جہتوں پر کام کرتی ہے۔زینہ بہت تاریک سا تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر بالائی کمروں میں گئے۔ چیر مین خواجہ حسن ثانی نظامی سے بھی ملاقات ہوئی۔اکیڈیمی میں میوزیم و آڈیٹوریم کے علاوہ ایک بڑی لائبریری اور کمپیوٹر روم بھی ہے۔
و قت دیکھا اور ایک تیز دوڑ لگائی کہ جامع مسجد دلّی اور لال قلعہ دیکھ لیں کہ تین بجے ہر صورت واپسی تھی۔ پنچاب بھون میں ‘‘چھبیواں دریا’’ کی جانب سے پاکستانی وفد کے اعزاز میں تقریب تھی۔
جامع مسجد مثل شاہی مسجد لاہور ہی ہے۔مسجد کی کرسی لاہور کی جامع مسجد کی طرح ہی بہت اونچی ہے۔سُرخ پتھر کی سیڑھیوں کی ایک لمبی قطار ہے۔مفلوک الحال لوگوں کے ڈھیر یہاں براجمان تھے۔ سستی کھانے پینے کی چیزوں کے خوانچے تھال اور ٹھیلے بھی بکثرت تھے۔تعفن اور بدبو کا ناگوار سا احساس بھی ملتا تھا کہ صفائی ستھرائی کا سخت فقدان تھا۔
مسجد من و عن لاہوری مسجد کی تصویر ہے۔بڑا دروازہ ،صحن ، تالاب ،دیواروں پر
بیل بوٹے اور نقاشی ۔تصویریں بنائیں، نفل پڑھے۔
دلّی کو اگر بائیس خواجہ کی چوکھٹ کہا جاتا ہے تو کچھ غلط نہیں۔اللہ کی برگزیدہ ہستیاں قدم قدم پر اس کی دھرتی پر سایہ فگن ہیں۔جامع مسجد کے ساتھ ہی حضرت سرمد شہید اور حضرت ابوا لقاسم سبزواری کی درگاہیں ہیں۔سرمد شہید ایران کے آرمینیائی یہودی تھے۔جنہوں نے دیگر مذاہب کے مطالعے کے بعداسلام قبول کیاتھا۔
مغلوں کے دور میں ہندوستان آئے ۔کہاجاتا ہے کہ ابھے چند نامی ہندو لڑکے کے حسن اور شریں آواز نے بہت متاثر کیا۔اُسے اپنے ساتھ رکھ لیا۔اپنا علم اُسے دیا۔لوگ بہت مخالف ہوگئے۔آپ نے نقل مکانی کی ۔لاہورآئے اور اپنا لباس بھی اُتار پھینکا۔ حیدرآباددکن کے بعد گولکنڈہ میں بھی کچھ وقت رہے پھر دہلی آگئے۔اور خواجہ ابوالقاسم کے ساتھ رہنے لگے۔اورنگ زیب کو آپ پر بہت اعتراضات تھے۔سرمد صرف لاالہ ہی پڑھتے۔لوگ کافر کہنے لگے تھے۔اورنگ زیب نے قتل کا حکم جاری کیا اور قتل کردیا۔
جس درگاہ میں ہم کھڑے تھے وہ سرخ رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔چڑھاوے کی چادریں بھی سرخ تھیں اور اندرونی تزئین و آرائش بھی سرخ۔یہ مماثلت ان کے قتل اور خون سے جوڑی گئی۔جس چبوترے پر قتل ہوئے وہیں مزار بنا۔فاتحہ پڑھی اور سید قاسم سبزواری جو ہرے بھرے کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔حاضری دی۔ یہ ہستی جو بہت ساری کرامات کی مالک ہستی ہے۔
مانگنے والوں کے ہجوم سے پلّہ چھڑاتے ہوئے لا ل قلعہ کی جانب لپکے۔لاہوری گیٹ سے داخلہ ہوا۔کتنے گہرے ناطے جُڑے ہوئے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ۔ پہلا احساس اسکی وسعت اور ڈیوڑھی سے اگلے حصّے کا لاہور کے قلعے سے قدرے منفرد ہونے کا تھا۔دراصل ہاتھیوں کیلئے ہاتھیوں جیسی گزرگاہیں بھی تو ضروری تھیں۔
ساری راہداری چھوٹی چھوٹی دوکانوں سے سجی پڑی تھی۔مقامی دستکاریاں جن میں غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسوں کیلئے بھی بڑی کشش تھی۔مگر دوکانداری کرتی عورتیں کان کاٹتی تھیں۔باوا کا مول بتاتیں اور پھر پیچھے سے ہانکیں لگاتیں۔
خوبصورت عمارتوں کے حوالے سے جمالیاتی ذوق کے اعتبار سے باغات کا شوقین اور طرزِ تعمیر میں منفرد شعور رکھنے والے شہنشاہ شاہ جہان کا انمول تحفہ عالیشان بلند و بالا دروازوں اور عظیم الشان دیواروں میں مقید یہ عظیم الشان قلعہ۔ یہاں بھی وہی دیوان ِ عام اور دیوان ِ خاص ساتھ ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہیں اسی دیوان عام کے ستونوں کے سائے میں وہ تخت طاؤس دھرا تھا جسے نادر شاہ مال غنیمت کے طور پر جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ساتھ ہی دیوان خاص ہے یہ اپنی جسامت میں تو دیوان عام سے چھوٹا ہے مگر اپنے نام کی لاج رکھے ہوئے ہے۔خا ص ہے تو تعمیری حُسن بھی انتہاؤں کو چھوتا ہے۔سنگ مر مر کی جالیوں کا دیدہ زیب کام متاثر کرتا ہے۔
یہیں کچھ فاصلے پر موتی مسجد بھی ہے۔ سفید سنگِ مرمر کی ہے ۔لوہے کے جنگلوں سے گھرے خوبصورت لان آنکھوں کو بھلے لگے۔ اس کے نام بھی کتنے مانوس سے تھے۔ وہی کہیں دہلی گیٹ اور لاہوری گیٹ جیسے۔
لال قلعے کے اندر میوزیم دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں ہندوستان کی زندہ دستاویزی تاریخ محفوظ ہے۔جنگ ِ آزادی کے ہیرو سب یہاں موجود ہیں۔برصغیر کی پوری تاریخ اپنی تفصیلات کے ساتھ یہاں دیکھی جاسکتی ہے۔
سچی بات ہے کہ میوزیم کے اُس حصے نے بہت دیر تک ساکت کھڑے رکھا۔ جہاں آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر اور انکی ملکہ زینت بیگم کا شاہی لباس ٹنگا تھا جو شاہی حیثیت کے آخری لمہوں میں انکے تن پر تھا۔ اُنکی اُس شہرہ آفاق غزل نے مزید افسردہ
کردیا۔
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کیلئے
دو گز زمین نہ مل سکی کوئے یار میں
آنکھیں بھیگتی جارہی تھیں۔ ایک عظیم سلطنت کا زوال پھر اپنی بد نصیبی کا نوحہ بھی خود ہی کہہ ڈالا کہ دفن کیلئے وطن میں دوگز زمین نہ نصیب ہوئی۔یہی کچھ ہوتا ہے کمزوروں کے ساتھ۔
آخری اموی حکمران کو غرناطہ سے، آخری عثمانی خلیفہ کو استنبول سے ایسے ہی دربدر کیا گیا تھا۔ ہماری اپنی کمزوریاں ۔ کیا تھا جو اِن قلعوں،اِن مقبروں کی جگہ علم کے مراکز بناتے ۔ علم دیتے تو آج مسلمانوں کی وہ زبوں حالی نہ ہوتی۔
سرخ پتھر سے بنا ہمایوں کا مقبرہ بھی اپنی طرز کی منفرد اور عظیم الشان عمارت تھی۔ شہ نشینوں اور خوبصورت جھروکوں میں بنی سنگ مرمر کی جالیوں سے ہوا فراٹے مارتی اندر آتی تھی۔ہمایوں کی قبر کے تعویز پر قرآنی آیات تحریر ہیں۔کمرے کے گنبد کی بلندی بہت اونچی ہے۔مقبرہ بہت اچھی حالت میں ہے۔جس کی قدرے حیرت بھی تھی۔ہمارے تعجب کو دیکھتے ہوئے وہاں گھومتے پھرتے ایک نوجوان نے بتایا کہ عالمی ہیر ٹیج نے اسے گود لیا ہوا ہے۔اس کی اِس صورت کا ذمہ دار وہ ادارہ ہے۔
اب ڈھائی بج رہے تھے۔تھک بھی گئے تھے۔بُھوک بھی زوروں پر تھی۔ڈرائیور لڑکا بھی بڑا ہنس مکھ سا تھا۔اسی سے کہا تو بولا۔
‘‘پالیکا بازار یہاں سے نزدیک ہی ہے۔’’
‘‘ارے تو چلو پھر۔’’
پوری بھاجی کھائی۔ بوتلیں پیں اور ہوٹل آئے۔
پنجاب بھون میں کوئی سو کے لگ بھگ لوگ ہوں گے۔
ڈاکٹر سیتندر نور اس تقریب کی صدارت کررہے تھے۔سیتندر نوربڑی پیاری اورمحبت والی شخصیت تھے۔ان کا انتقال ہوگیا ہے۔یہاں سردار ترلو جن سنگھ کی تقریر پرخوب تالیاں بجیں۔دونوں طرف کی بیوروکریسی کے خوب لتّے لئیے گئے۔واہگہ بارڈر پر ہرشام کو ہونے والی تقریب کا انداز بدلا جائے۔
کسی نے ٹکڑا لگایا تھا ۔دونوں طرف کی سیکورٹی فورسز کو ہدایات دینے کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی پر نہ اُکسائیں۔وہ اپنے چہروں کے تاثرات سے جانی دشمنوں کا تاثر دیتے ہیں۔اور یہی چیزیں امن،دوستی کیلئے نقصان دہ ہیں۔
بات تو واقعی سو فیصد درست تھی۔
فخرزمان نے وفد کے ہر ممبر کا تعارف کروایا۔رخشندہ نوید، کنول مشتاق اور افضال شاہد نے اپنی نظمیں،غزلیں سنائیں۔بھارت سے ڈاکٹر وینتا کور ،ڈاکٹر من موہن سنگھ(ڈی آئی جی پولیس) ہرجندرچوہان اور ایس سورن نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔رات کا کھانا چھت پر تھااور اہتمام پنجابی اکیڈیمی کررہی تھی۔
ہندؤوں کا معروف تہوار نورا تری شروع ہوچکا تھا۔اگلے روز دسہرہ تھا۔ہم لوگ دلّی کے مرکزی علاقے میں واقع ماتا مندر گئے۔یہاں چراغاں تھا یا آسمان کے ستارے توڑ کر سجادئیے تھے ۔ساری رات پوجا پاٹ ہوتی تھی۔لوگوں کا رش نہیں تھا۔سروں کا سچی بات ہے ایک سمندر تھا۔پٹاخے چھوٹتے اور پھلجڑیاں قلانچیں بھرتی تھیں۔رات جاگتی تھی۔زندہ تھی اور جوان تھی۔
دلّی کا مضافاتی علاقہ مرو لی کبھی مہرولی۔ فن تعمیر اور مسلم ثقافت کا ایک نمائندہ
کمپلکس ہے۔ ہم ہندوستان کے دوسرے بلند ترین اور فنی نظر سے خوبصورت ترین قطب مینار کے سامنے کھڑے اُسکی بلندیوں اور اسکی کندہ کاری کو دیکھتے اور حیران ہوتے تھے۔73میٹر بلند قطب الدین ایبک کی یادگار جسمیں التمش اور علاؤالدین خلجی کا بھی حصّہ ہے۔ پانچ منزلوں والا یہ مینار اپنی پہلی تین اور آخری دومیں مختلف طرز تعمیر کا حامل ہے۔وجہ شاید یہی ہے کہ اوپر والا حصّہ فیروز تُغلق نے بنوایا تھا۔اسمیں کہیں کہیں دیوناگری رسم الخط بھی استعمال ہوا ہے۔اس پر بھی ایک آدھ حلقے سے یہ دعوٰی سامنے آیا ہے کہ اِسے پرتھوی راج نے بنوایا تھا۔
ہم پاکستانی اور ہندوستانی تاریخ بارے بڑے ہی تھرڈ دلے اور کمینے ہیں۔جہاں کہیں ذرا سے پور جتنے تعلق یا مماثلت کا شائبہ بھی محسوس ہوا۔ اُسے تو فی الفور اٹھا کر اپنے اپنے کھاتوں میں ڈالنے کو ہڑکنے لگے۔
اس میں بھی صداقت نہیں۔ ہاں البتہ جذبائیت اور حقائق کو مسخ کرنے کی ایک کوشش کا نام دیا جاسکتا ہے۔ پانچ منزلوں میں سے دو کندہ کاری اور قرآنی آیات سے سجی ہوئی ہیں۔بالکونیاں اس کی شان میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ انڈو اسلامک فن تعمیر کا نمونہ جسے اب ورلڈ ہرٹیج نے اپنا یا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کہ اس کا حسن گہنانے کی بجائے نکھرا ہواہے۔
قطب مینار تھوڑاسا وجہ تنازع بھی ہے کہ اس کے بارے میں بھی دوآرائیں ہیں۔ پہلی یہ کہ اس فتح کی یاد میں ہے۔جب ہندوستان میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی گئی۔دوسری یہ اذان کیلئے ہے کہ ساتھ میں مسجد قوت اسلام ہے۔
یہ دلیل بھی بہرحال دل کو نہیں ٹھکتی۔پانچ بار اذان دینے کیلئے ۳۷۹ سیڑھیاں چڑھنی اور اُترنی کوئی مذاق تھا۔بے چارہ موذن انسان کا بچہ ہی تھا کوئی جن تو نہیں۔یہی
بات قرین قیاس ہے کہ یہ فتح کی یاد میں تعمیر ہوا۔ مسجد تو اب ٹوٹی پھوٹی چند محرابوں اور خستہ حال دیواروں کی صور ت میں نظر آتی ہے۔
یہاں اسی جگہ التمش بادشاہ اور علاؤالدین خلجی کے مقبرے بھی تھے۔یہاں ہم نے فاتحہ پڑھی۔علانی دروازہ کو دیکھا اس کی فنی باریکیوں سے آنکھیں لڑایں۔جو سمجھ آیا اسے سراہا اورجہاں ناکام ہوئے وہاں ہار مانی۔
بلبن کا مقبرہ شکستہ سا بھی یہیں ہے۔فاتحہ پڑھی ۔دعائے خیر کی۔محرابی دروازہ بھی فن کندہ کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آہنی سفید جنگلے میں اشوکا مینار ہے۔جمالی کمالی مسجد بھی دیکھی۔
اب یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت قطب الدین بختیار کا کی کی درگاہ وہیں ہواور ہم اس کی زیارت کو نہ جاتے۔خواجہ نظام الدین کے محبوب جانشین کے حضور پہنچے۔فاتحہ پڑھی۔یہاں قریب ہی وہ شہرہ آفاق باؤلی ہے۔
وقت کی کمی تھی وگرنہ جی چاہتا تھا کہ کچھ دیر یہاں بیٹھا جاتا۔کچھ پڑھا جاتا۔
دلّی کہنا ہے تو دلّی کہہ لیجیئے مگر سچ تو یہی ہے کہ نیشنل میوزیم نئی دہلی جو جنپت اور مولانا آذاد د روڑ کے سنگم پر ہے ۔ایک عظیم الشان عمارت کی صورت میں ہندوستان کا سب سے بڑا میوزیم کہلانے کا حقدارہے۔ یہاں صدیوں پر پھیلی وہ تاریخ جس کا ماڑا موٹا حال احوال کِسی نہ کسی رنگ اور صورت میں دنیا کے سامنے آیا موجود اور اِس تاریخ سے قبل کا وہ عہد جو آثار قدیمہ کی صورت میں ہے بھی یہاں موجود۔
ہندوستانی قوم اپنے قیمتی ورثے سے مکمل آگاہی کی حامل ہے۔تقسیم سے قبل بھی اس پر کام ہو رہا تھا ۔ آزادی کے فوراًبعد اسکی اہمیت کا احساس دو چند ہوتے ہی اسمیں تیزی آگئی۔
شاندار عمارت سے داخلہ ہو ا تو تھوڑی سی رہبری ٹکٹ سیکشن پر ہی ہو گئی ۔سو باقاعدہ تاریخ سے قبل کی چیزیں فسٹ فلور پر پہلی گیلری کے عمودی صورت شوکیسوں میں ہی دیکھنے کو ملیں۔کانسی میں ڈھلی موہنجودارو کی رقص کرتی لڑکی کو میں دیر تک دیکھتی رہی۔موہنجو داروکے شیر ہاتھی بھی مزے کے تھے۔شیشوں میں سجے ہڑپہ کے پیتل ،تانبے کے کلہاڑے، چاقو ،تلواریں ،تیر ،مہریں کو دیکھتے ہوئے سوچ تو یہی تھی کہ ہڑپہ اور موہنجودارو سب ہی کا مشترکہ اثاثہ تھا۔قبل مسیح کی یہ مجسمہ سازی کس کمال کی تھی؟میں تو اُس غم زدہ عورت کو دیکھتے ہوئے سوچتی تھی جو اپنے سر کو بازؤں میں لیئے بیٹھی تھی۔ بُدھا کے مجسموں کے نادر شاہکار وں سے بھی کمرے سجے تھے۔
کشادہ گیلری کو چھوڑتے ہوئے آگے بڑھے ۔
گپتا آرٹ گیلری میں ہندوستان کاکلاسیکل آرٹ بکھرا ہوا تھا۔اُف گنگا گپتا ۔ کھڑے ہونے کے انداز ،سٹائل کیا بات تھی فنکاری کی۔ ہندوستان کی مذہبی تاریخ ،مذہبی کردار۔
مختلف منزلوں پر واقع مختلف گیلریوں میں جو تاریخی ورثہ محفوظ تھا۔تھوڑے سے وقت میں اتنا کچھ دیکھنا ممکن ہی نہیں نہ تھا۔سو ہم نے پینٹینگ ،آرٹ اور جیولری کو چنا۔ان کے علاوہ سوچا کہ اگر کچھ راستے میں آیا اور اُس نے توجہ کھینچی تو اُسے بھی شرف ملاقات سے نواز دیں گے۔
سچ تو ہے کہ گیلری ہندوستانی شاہکاروں سے سجی پڑی تھی۔Saraswati pataکپڑے پر کی جانے والی پینٹینگ کے نمونے۔پام کے پتوں پر سے آغاز کرتے ہوئے منی ایچر پینٹینگ جو مغل،راجستھانی،بہاری اور دکنی سٹائلوں کی نمائندہ تھی ہم نے ان کی مختلف صورتوں کو دیکھا۔دارا شکوہ کی شادی،اکبر کے شکار کھیلنے ،رانیوں اور محلات کے
منظر ،کرشنا کو Fluteبجاتے،رادھا اور کرشینا کوتو اپرات کا تبادلہ کرتے،کرشنا کو اُس راستے پر Lotusپھیلاتے جس پر رادھا چلتی ہوئی آتی ہے۔اِن سبھوں کو دیکھنا پرلُطف تھا۔
وسطی ایشیا کی نوادرات کی گیلریاں بھی بھری پڑی تھیں۔بس ایک دو کمرے دیکھے اور آگے چلے۔مختلف ملکوں کا سرمایہ بھی یہاں محفوظ تھا۔
ایرانی ،انڈو نیشنی ،فلیمش۔فرنچ آرٹ کو بس سرسری سا دیکھا۔
اور زیورات کی گیلری کمال کی تھی۔سیما تھی جو تھکی ہونے کے باوجود نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔چاہتی تھی ہر کمرے میں گُھسے ۔جھومر ،نکلیس شاہانہ دستاروں میں سجنے والے بروچ۔ نتھیں،ہا ر کیا بات تھی؟
قلمی نسخے ،مخطوطے سنسکرت،عربی،فارسی،سعدی کی گلستان،بوستان فولیوFolioبھی دیکھنے والی چیزیں تھیں۔کوفی رسم الخط میں قرآن پاک کا نسخہ ۔آٹھویں اور نویں صدی کے رکھے کُھلے کُھلے بڑے بڑے لفظوں والے قرآن مجید۔ ڈھائی تین گھنٹے میں کیا خاک دیکھنا تھا۔بس یوں لگتا تھا جیسے ہاتھ لگانے والی بات ہی ہوئی ہو۔جیسے کسی سمندر سے ایک بوند ملی۔ ہو جیسے کسی پیاسے کو پینے کو صرف گھونٹ نصیب ہواہو۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں