آج کا دور ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں بے شمار آسانیاں لایا ہے—لوگوں سے فوری رابطہ، معلومات تک چند لمحوں میں رسائی، اور کاروبار کا پھیلاؤ—وہیں مصنوعی ذہانت (AI) بھی انسانی صلاحیتوں کو نئی وسعتیں دے رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں جہاں سہولیات کا باعث بنی ہیں، وہیں انہوں نے انسانی رویوں اور تعلقات کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے۔ اگر ہم ان بدلتی ہوئی روشوں سے صرفِ نظر کریں تو انسانی رشتوں میں پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں اور ہم اپنے بہت سے قیمتی تعلقات کھو سکتے ہیں۔
جذباتی دوری اور اس کے سماجی اثرات
پچھلے کچھ عرصے کی خبروں اور رپورٹس کا تجزیہ کریں تو ایک تشویشناک حقیقت سامنے آتی ہے: والدین اور بچوں کے درمیان جذباتی تعلق کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ یہ دوری سنگین نتائج کا باعث بن رہی ہے؛ کہیں والدین کی ڈانٹ ڈپٹ، تو کہیں اساتذہ کی سرزنش کے باعث بچوں میں خودکشی کی کوششیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ میٹرک کے امتحان میں والدین کی توقعات پر پورا نہ اترنے کے خوف سے گھر سے بھاگ جانا، یا کم نمبرز آنے کے ڈر سے موت کو گلے لگا لینا—ایسے کئی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
اخبارات ایسی لاتعداد خبروں سے بھرے پڑے ہیں جہاں بچیوں نے گھر سے بھاگ کر شادیاں کیں، پسند کی شادی نہ ہونے پر خودکشی کر لی، یا اپنے رقیب کو قتل کر دیا۔ یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے، خاص طور پر خاندانی نظام میں، ناگفتہ بہ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
فوری توجہ کی ضرورت
اس صورتحال کی جانب فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ، انسانی رشتوں کی بنیاد—جذباتی وابستگی اور باہمی تفہیم— کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ نسلیں ایک صحت مند اور مضبوط معاشرتی ماحول میں پروان چڑھیں، تو ہمیں ان بدلتے ہوئے رویوں اور ان کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا اور ان پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
بچوں کی جذباتی ذہانت اور صحت کا فقدان: والدین کا کردار
والدین ہونا اس کائنات کا سب سے مشکل اور اہم کام ہے۔ بچوں سے والدین کی بے لوث محبت ایک حقیقت ہے، لیکن آج کے دور میں اس محبت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بے حد ضروری ہے۔ بچوں کی جذباتی ذہانت اور صحت کے فقدان کو دور کرنے کے لیے والدین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

والدین کی جذباتی استحکام کی اہمیت
سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین اپنے جذبات کو سمجھیں اور ان میں استحکام پیدا کریں۔ اگر والدین کے جذبات میں عدم استحکام ہوگا تو یہ بچوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بچوں کے سامنے والدین کے رویے، ان کے ردعمل اور ان کے جذبات کا اظہار براہ راست بچوں کی جذباتی نشوونما پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے غصے، پریشانی یا مایوسی کو صحیح طریقے سے کنٹرول نہیں کر پاتے تو بچے بھی یہی رویہ سیکھتے ہیں اور جذباتی طور پر غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اگر والدین کو اپنے جذبات کو سمجھنے اور سنبھالنے کے لیے کچھ سیکھنا پڑے تو اس میں بالکل ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ان کی اپنی ذہنی صحت اور ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری ہے۔
بچوں کی جذباتی ذہانت کی پرورش
جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کا مطلب ہے اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنا، انہیں مؤثر طریقے سے سنبھالنا اور تعلقات میں کامیابی حاصل کرنا۔ والدین اپنے بچوں میں جذباتی ذہانت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں:
جذبات کی پہچان سکھائیں: بچوں کو مختلف جذبات جیسے خوشی، غصہ، اداسی، خوف، اور شرمندگی کو پہچاننا اور ان کا نام لینا سکھائیں۔ آپ بچوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ “آپ کو اس وقت کیسا محسوس ہو رہا ہے؟”
جذبات کا اظہار : اپنے بچوں کو جذبات کا اظہار کرنا سکھائیں انہیں بتائیں کہ رونا یا غصہ محسوس کرنا برا نہیں، لیکن غصے کا اظہار توڑ پھوڑ یا مار پیٹ سے کرنا غلط ہے اور رونا کمزور ہونے کی علامت نہیں ہے۔
ہمدردی پیدا کریں: بچوں کو دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کی ترغیب دیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی بچہ اداس ہے تو اپنے بچے کو اس کی مدد کرنے یا اسے تسلی دینے کا مشورہ دیں۔
جذباتی مسائل حل کرنا سکھائیں: بچوں کو اپنے جذبات سے مطابقت پیدا کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی سکھائیں۔ اگر وہ کسی بات پر پریشان ہیں تو ان سے ڈسکس کریں اور انہیں اس سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے تجویز کریں۔
جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی
آج کے دور میں بچے سوشل میڈیا، ٹیکنالوجی اور تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول کا حصہ ہیں۔ ایسے میں والدین کو ان چیلنجز کو سمجھنا اور اپنے بچوں کو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ضروری ہے:
مثبت ماحول فراہم کریں: گھر میں ایک پرسکون اور مثبت ماحول فراہم کریں جہاں بچے اپنے آپ کو محفوظ اور قابل قبول محسوس کریں۔
کوالٹی ٹائم دیں: بھلے ہی آپ کتنے بھی مصروف ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ باقاعدگی سے کوالٹی ٹائم گزاریں۔ یہ وقت انہیں سننے، ان کی بات سمجھنے اور ان کے ساتھ جذباتی طور پر جڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
رول ماڈل بنیں: بچے سب سے پہلے اپنے والدین سے سیکھتے ہیں۔ اگر آپ خود اپنی جذباتی ذہانت کو فروغ دیں گے تو بچے بھی آپ کی پیروی کریں گے۔
والدین کی بے لوث محبت کو اگر جدید دور کے جذباتی تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا جائے تو یہ ہمارے بچوں کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہو گی۔ ان کی جذباتی ذہانت اور صحت کو ترجیح دینا انہیں ایک متوازن اور کامیاب زندگی گزارنے میں مدد دے گا۔
یہاں ہم ایک سادہ اور عام فہم سوالنامہ آپ کے لیے پیش کر رہے ہیں
اس سے اپکو اپنے بچوں کی دنیا میں شمولیت کی سطح جانچنے میں آسانی ہوگی۔
آپکا تعلق کیسا ہے ؟
1۔ اپنے بچے کے سب سے بہترین دوست کا نام کیا ہے ؟
2۔ آپ کے بچے کی پسندیدہ ٹیچر کا نام کیا ہے ؟
3۔ آپ کے بچے کے سب سے بیسٹ فرینڈز کی سالگرہ کب ہوتی ہے ؟
4۔ آپ کے بچے کی پسندیدہ جگہ کون سی ہے ؟
5۔ آپ کے بچے کے سکول میں اس کی کلاس میں دائیں بائیں کون سے بچے بیٹھتے ہیں ؟
6۔اپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا اور کیوں بننا چاہتا ہے ؟
7۔ کیا آپ اپنے بچے کے ساتھ روزانہ 20 منٹ یا اس سے زیادہ اسکی مرضی کی گپ شپ کرتے ہیں ؟
8۔ آپ اپنے بچے کے ساتھ آخری بار کب اور کہاں گھومنے گئے تھے ؟
ان سوالوں کے جواب دیکر آپ اندازہ کر سکیں گے کہ کیا آپ کا تعلق اپنے بچے ساتھ کیسا ہے ؟
اگر خدا نخواستہ غیر معیاری ہے تو اپنے اوپر کام کرنا شروع کریں اور اپنے بچوں کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائیں ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں