تصادم پسند ذہن کے غور وفکر کے لیے چند سوالات۔۔عمار خاں ناصر

دور جدید میں غلبہ مغرب کے تاریخی وتہذیبی عوامل اور اس کی فکری وعملی طاقت کے منابع کو پیش نظر رکھتے ہوئے رد عمل کی جو بھی حکمت عملی وضع کی جائے، اس کا بنیادی نکتہ ہمارے نزدیک یہ ہونا چاہیے کہ معروضی حالات میں طاقت کے میدان میں مغرب کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جائے اور اسے اپنے خلاف زور بازو آزمانے کا موقع نہ دیا جائے۔ مغربی تہذیب اس وقت اپنے دورِ عروج میں ہے اور ان تمام مادی خصوصیات ولوازم سے متصف ہے جو تاریخ کے عمومی اور قابل مشاہدہ قوانین کی روشنی میں اسے اپنے عروج کو برقرار رکھنے کا اہل ثابت کرتے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ کسی قوم سے اس کے دورِ عروج میں ٹکرا کر اسے شکست نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر جبکہ شکست کا تصور یہ ہو کہ اس کے غلبہ وتسلط کو مغلوبیت میں بدل کر مغلوب وشکست خوردہ گروہ، اس کے مقابلے میں بالادست ہو جائے۔ تاریخ کا جبر، طاقت کا عدم توازن اور امت مسلمہ کی داخلی صورت حال، یہ تمام عوامل اس وقت تصادم سے گریز ہی کی طرف ہماری راہ نمائی کرتے ہیں۔ بنیادی طو رپر امت مسلمہ اس وقت دورِ اقدام میں نہیں، بلکہ دورِ دفاع میں ہے۔ اس وقت اصل ترجیح دنیا پر دین کا غلبہ قائم کرنا نہیں، بلکہ اسلامی فکر اور طرز معاشرت کی ناگزیر خصوصیات کا تحفظ اور دفاع ہے۔ اس نکتے سے صرف نظر کرتے ہوئے دورِ محکومی میں دورِ حاکمیت کی ترجیحات کو آئیڈیل بنا کر پیش کرنا خیالات اور جذبات میں ایک وقتی قسم کا ابال تو پیدا کر سکتا ہے، صورت حال کی حقیقی وعملی نوعیت میں تبدیلی کی طرف کسی بھی قسم کی پیش رفت کی راہ ہرگز ہموار نہیں کر سکتا۔

مسلمانوں میں اس وقت تصادم پسند رجحان فکر کے حاملین کے لیے اس پوری صورت حال کو صحیح تناظر میں سمجھنے اور اس کا تجزیہ کرنے کے لیے درج ذیل سوالات پر غور کرنا مناسب ہوگا:

۱۔ دنیا میں تہذیبی وسیاسی غلبے سے متعلق سنت الٰہی کیا ہے؟ کیا یہ معاملہ سرتا سر انسانی تدبیر سے متعلق ہے یا اس میں تکوینی فیصلے کارفرما ہوتے ہیں؟ اس ضمن میں تکوینی مشیت الٰہی اور انسانی تدبیر میں سے اصل اور اساس کی حیثیت کس کو حاصل ہے؟

۲۔ سنت الٰہی کی رو سے کسی قوم کو دنیا میں غلبہ واقتدار حق وباطل کے ساتھ وابستگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے یا اس کی بنیاد کسی دوسرے اصول پر ہے؟ پوری انسانی تاریخ میں جن جن قوموں اور تہذیبوں کو دنیا میں عالمی اقتدار حاصل رہا ہے، کیا وہ سب کی سب حق کی پیروکار تھیں؟ نیز ان قوموں کو یہ سیادت واقتدار کسی تکوینی سنت الٰہی کے تحت ملا تھا یا وہ مشیت الٰہی کے علی الرغم اس پر قابض ہو گئی تھیں؟

۳۔ کسی قوم کو سنت الٰہی کے تحت غلبہ واقتدار دیا جائے اور پھر وہ رو بہ زوال ہو جائے تو قانون الٰہی کے تحت اس کی بنیادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس کے اسباب اصلاً داخلی ہوتے ہیں یا خارجی؟ کیا کوئی مخالف گروہ محض اپنی سازشوں کے ذریعے سے کسی سربلند قوم کو زوال سے ہم کنار کر سکتا ہے؟ (اس ضمن میں ذالک بان اللہ لم یک مغیرا نعمة انعمہا علی قوم حتی یغیروا ما بانفسہم کے اصول پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔)

۴۔ اگر کسی قوم کی، منصب سیادت سے معزولی کا فیصلہ اخلاقی اصولوں کے تحت تکوینی سطح پر ہوتا ہے تو کیا اس کو محض انسانی تدبیر سے بدلا جا سکتا ہے؟

۵۔ اگر کوئی قوم صدیوں کے عمل کے نتیجے میں زوال کا شکار ہوئی ہے تو کیا اس صورت حال کو سالوں کی جدوجہد سے بدلا جا سکتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں انسانی تاریخ کی سطح پر رونما ہونے والے کسی ہمہ گیر اور جوہری تغیر کو short term strategy کے ذریعے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

6-اگر حق کی حامل کوئی قوم سنت الٰہی کے مطابق غلبہ وسیادت کے لیے مطلوبہ اوصاف سے محرومی کے بعد زوال سے ہم کنار کر دی جائے تو کیا محض ’جہاد‘ شروع کر دینے سے اسے دوبارہ غلبہ حاصل ہو جائے گا؟ دوسرے لفظوں میں ’جہاد‘ غلبہ وسیادت کی ایک مکمل اسکیم کا جزو اور حصہ ہے یا محض یہ ایک نکاتی ایجنڈا ہی مطلوبہ نتیجے تک پہنچا دینے کا ضامن ہے؟

۷۔ کیا کسی قوم کو اس کے تہذیبی وسیاسی غلبے کے دورِ عروج میں طاقت کے زور پر شکست دی جا سکتی ہے؟ اس ضمن میں انسانی تاریخ کے مسلسل واقعات ہماری کیا راہ نمائی کرتے ہیں؟

۸۔ مسلح تصادم کو بطور حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نفع ونقصان کے تناسب اور طاقت کے توازن کے سوال کی اہمیت کتنی ہے؟ اس حوالے سے قرآن وسنت اور فقہ اسلامی ہماری کیا راہ نمائی کرتے ہیں؟

۹۔ روحانی سطح پر امت میں ایمان، یقین، اعلیٰ کردار اور بلند اخلاق کے اوصاف اجتماعی سطح پر پیدا کیے بغیر کیا محض عسکری جدوجہد سے مغرب کے غلبہ کو امت مسلمہ کے غلبے سے تبدیل کر دینا ممکن ہے؟

10۔ امت مسلمہ میں داخلی سطح پر مذہبی، سیاسی اور نسلی تفریقات کی موجودگی میں اور ٹھوس سیاسی وعمرانی بنیادوں پر ان کا کوئی حل نکالے بغیر کیا بطور امت، مسلمانوں میں وہ وحدت پیدا ہو سکتی ہے جو بطور ایک تہذیب کے، مغرب کی سیادت کو چیلنج کرنے کے لیے درکار ہے؟

۱۱۔ کیا دنیا پر مغرب کا استیلا محض عسکری اور سیاسی واقتصادی ہے یا اس کے پیچھے فکر وفلسفہ کی قوت بھی کارفرما ہے؟ حیات وکائنات اور انسانی معاشرت سے متعلق مغرب نے مذہب کی نفی پر مبنی جو افکار ونظریات پیش کیے اور متنوع انسانی علوم وفنون کی مدد سے انھیں ایک طاقتور متبادل فلسفہ حیات کے طور پر منوا لیا ہے، ان کا سحر توڑے بغیر کیا محض عسکری میدان میں نبرد آزمائی سے مغرب کے استیلا کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے؟

12- انسانی تاریخ کی روشنی میں، کیا حق کے، باطل پر غالب آنے کی یہی ایک صورت ممکن ہے کہ حق کا حامل گروہ جو مغلوب ہو گیا ہو، اسے دوبارہ غلبہ حاصل ہو جائے یا، اس سے مختلف صورتیں بھی ممکن ہیں؟ مثلاً یہ کہ باطل سے وابستہ کوئی غالب گروہ طاقت کے میدان میں اہل حق سے مغلوب ہوئے بغیر، دعوتِ حق سے مغلوب ہو کر اس کی پیروی اختیار کر لے؟ (جیسے مسیحیت کی تاریخ میں رومة الکبریٰ کے مسیحی مذہب کو اختیار کر لینے سے اور اسلامی تاریخ میں تاتاریوں کے حلقہ بگوش اسلام ہو جانے کی صورت میں ہوا)۔

13- دنیا میں اسلام کو دوبارہ غلبہ حاصل ہونے کے ضمن میں ظہور مہدی اور نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق جن پیشین گوئیوں کی بنیاد پر ایک تصور مستقبل قائم کیا جاتا ہے، کیا وہ علمی وشرعی طور پر کسی حکمت عملی کا ماخذ بن سکتی ہیں؟ یعنی کیا اس چیز کو حکمت عملی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ایسے حالات پیدا کرنے کی سعی کی جائے جس میں مذکورہ شخصیات کا ظہور ہونا ہے؟ ان شخصیات کے ساتھ بلکہ ان سے پہلے دجال کے ظہور کی بات بھی روایات میں بیان ہوئی ہے جس سے تمام انبیاءپناہ مانگتے آئے ہیں۔ ایسی صورت میں ظہور دجال کے لیے حالات کو ہموار کرنے کی شعوری کوششوں کی دین وشریعت کے نقطہ نظر سے کیا حیثیت ہوگی؟

14-۔ مذکورہ واقعات سے متعلق روایات کیا اتنی واضح، مربوط اور مفصل ومنضبط ہیں کہ ان سے کسی مخصوص تاریخی دور کے ظہور اور واقعات کی ترتیب کا ایک واضح نقشہ اخذ کیا جا سکے ؟ کیا تمام متعلقہ روایات علم حدیث کی رو سے اس درجے کی ہیں اور ان میں بیان ہونے والے تمام تر اجزا اور ان کی زمانی وواقعاتی ترتیب اتنی قطعی اور واضح ہے کہ ان پر باقاعدہ ایک حکمت عملی کی بنیاد رکھی جا سکے؟

15۔ کسی بھی صورت حال میں دینی جدوجہد کی ذمہ داری کی نوعیت اور اہداف طے شدہ ہیں یا اضافی؟ یعنی کیا اہل ایمان ہر طرح کی صورت حال میں پابند ہیں کہ ایک ہی طرح کے اہداف کے حصول کے لیے جدوجہد کو اپنی ذمہ داری تصور کریں یا یہ کہ اس کا تعلق حالات وظروف سے ہے؟ اس ضمن میں انبیائے سابقین میں سے، مثال کے طور پر، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام نے جو طریقہ اختیار فرمایا، وہ اسی طرح کے حالات میں امت محمدیہ کے لیے بھی قابل استفادہ ہے یانہیں؟ نیز کسی بھی صورت حال میں کسی ہدف کے حصول کے لیے جدوجہد کے لیے حکمت عملی کا مسئلہ منصوص، متعین او ربے لچک ہے یا اجتہادی؟

16-کسی بھی صورت حال میں بحیثیت مجموعی پوری امت کے لیے یا کسی مخصوص خطے میں اس علاقے کے مسلمانوں کے لیے حکمت عملی متعین کرنے کا حق کس کو حاصل ہے؟ کیا یہ اہل ایمان کا اجتماعی حق ہے یا اس میں کسی مخصوص گروہ کو باقی امت کے مقابلے میں زیادہ فضیلت اور اختیار حاصل ہے؟ دوسرے لفظوں میں، کیا کسی گروہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے تئیں کسی ایسی حکمت عملی کا تعین کر کے اس پر عمل شروع کر دے جس کے نتائج عمومی طور پر مسلمانوں کو بھگتنا پڑیں، حالانکہ اقدام کرنے والے گروہ کو عمومی طور پر مسلمانوں کا اعتماد یا ان کی طرف سے امت کے اجتماعی فیصلے کرنے کا اختیار نہ دیا گیا ہو؟

یہاں محض احتیاطاً یہ وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ سابقہ سطور میں تصادم سے گریز کی جو حکمت عملی تجویز کی گئی ہے، اس کا شرعی وفقہی طور پر جہاد کی مشروعیت یا عدم مشروعیت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔ تمام جائز اہداف ومقاصد کے لیے جہاد کرنا، اصولی طور پر بھی شریعت کا ایک ابدی اور ہمیشہ باقی رہنے والا حکم ہے اور عملی طور پر بھی اس کی ضرورت واہمیت ہمیشہ قائم رہے گی۔ یہاں جس بنیاد پر تصادم سے گریز کی بات کہی جا رہی ہے، وہ عملی حالات کی ناسازگاری اور عدم موافقت کا پہلو ہے جس کا لحاظ رکھنا بذات خود دین وشریعت کی رو سے ضروری ہے۔

عمار خاں ناصر استاد، شاعر اور ماہر اسلامی فقہ ہیں۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تصادم پسند ذہن کے غور وفکر کے لیے چند سوالات۔۔عمار خاں ناصر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *