دنیا رنگ بازی پر قائم ہے/شکیل رشید

اظہر حسین کی ’ کہانیاں ‘ پہلی بار پڑھیں اور پہلی ہی بار میں اُنہیں ’ کہانی کار ‘ مان لیا ۔ اور پہلی بار یہ بھی سمجھ میں آیا کہ افسانہ اور کہانی میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ یہ ’ خالص کہانیاں ‘ ہیں ۔ اِن کہانیوں کو پڑھتے ہوئے ، مَیں اُن تمام احساسات اور کیفیات سے گذرا ہوں ، جن سے ایک انسان گذر سکتا ہے ۔ اِنہیں پڑھتے ہوئے مسرت ، کرب ، حیرت ، اور جلن و نفرت کے احساسات بھی طاری ہوئے اور بے ساختہ ہنسی بھی آئی اور آنسو بھی بہے ۔ اس مجموعے کی سات کہانیوں میں اظہر حسین نے انسانی دنیا کا ہر رنگ بھر دیا ہے ، ہم سب کے دیکھے ہوئے رنگ ۔ لیکن جب اِن کہانیوں میں یہ رنگ ہماری آنکھوں کے سامنے لہراتے ہیں ، تو یوں لگتا ہے ، جیسے پہلی بار ہم اِنہیں دیکھ رہے ہیں ۔ یہ عام زندگی کے کچھ عام سے اور کچھ خاص سے کردار ، جنہیں ہم اکثر دیکھتے ہیں اور دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں ، جب اظہر حسین کے قلم سے صفحۂ قرطاس پر اُترتے ہیں ، تو جی اٹھتے ہیں اور پڑھنے والا اِن کے سحر سے آزاد نہیں ہوپاتا ۔ پہلی کہانی ’ مشن ڈم ڈم ‘ کے کردار آلو ، کدو اور بینگن – تین شریر بچے – اور بینگن کا باپ ، ماں ، بابے شاہ اور اس کا چرسی بیٹا یاد رہ جاتے ہیں ، جبکہ بابے شاہ پوری کہانی میں کہیں نظر نہیں آتا اور چرسی بیٹا کا ذرا سا ذکر کدو کی زبانی ہے ، بس ! یہ کمال ہے ! نظر نہ آنے والے یہ دونوں کردار اعلیٰ ذات کے ہیں ، اور آلو ، کدو ، بینگن اور اس کے ماں باپ نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ، دلت سمجھ لیں ۔ اس مختصر کہانی کا اختتام دہلا دیتا ہے ، حالانکہ کدو نے صرف بابے شاہ کے چرسی بیٹے کی تازہ تازہ قبر پر رات کی تاریکی میں پیشاب ہی کیا ہے ، لیکن یہ عمل بتاتا ہے کہ اونچے طبقات سے کیسی شدید نفرت ان نچلی ذات کے بچوں میں بھر گئی ہے ۔ کیوں ؟ وجہ سب جانتے ہیں ۔

یہ کہانی مجھے اپنے پلاٹ کے لیے بھی ، اور اپنے بیانیہ اور زبان کے لیے بھی پسند آئی ، لاہور اور اس کے اطراف کے دیہاتوں کی زبان ، جسے پڑھتے ہوئے ، بلکہ اِن تمام کہانیوں کو پڑھتے ہوئے ، شہر ممبئی کی ’ بمبیّا ‘ زبان سے ، جِسے ممبئی میں ’ ٹپوری بولی ‘ بھی بولتے ہیں ، کچھ کچھ مماثلت حیرت انگیز لگی ۔ چند سطریں ملاحظہ کریں ، لیکن پہلے یہ جان لیں کہ کدو نے ایک دفعہ بابے شاہ کے احاطے میں پیشاب کر دیا تھا ، اور اُس کی خوب دھُنائی اور اُس کی اماں کی خوب بے عزتی کی گئی تھی :

’’ آلو کدو کی طرف حرکت کرنے لگ گیا ۔ جب وہ دونوں مل گئے تو کدو پکارا : ’’ مشن ڈم ڈم !‘‘ یہ خاص الفاظ تھے جن کا مطلب تھا مشن پورا ہو گیا۔ ’’ اب یہاں کس لیے کھڑے ہیں ؟ اپنا اپنا رستہ ناپیں ۔‘‘ ، ’’ ناپتے ہیں اپنا اپنا رستہ ۔ پہلے ڈم ڈم تو ہو لینے دو ۔‘‘ یہ کہتے ہی کدو نے شلوار کا ناڑا ڈھیلا کر کے اپنی بوٹی باہر لڑھکالی ۔ اس سے پہلے کہ میں اور آلو کچھ سمجھ پاتے ، کدو حرامی قبر کے سرہانے پر نشانہ باندھ کر موتنے لگ گیا ۔ وہ ڈر جو کچھ دیر پہلے کسی جِن کی طرح غائب تھا ، یکایک میرے سارے بدن پر چھا گیا ۔ آلو بھی سکتے میں تھا ۔ اگر اس وقت کدو کی یہ حرکت کوئی دیکھ لے تو ہم تینوں کا کیا حشر ہو ؟ تھانے اور پولیس کی مار کے خیال سے مجھے اپنی گولیوں میں درد محسوس ہونے لگا ۔ لگتا تھا بابے شاہ کا چرسی لڑکا ابھی قبر میں سے ہاتھ باہر نکالے گا اور کدو سمیت ہم دونوں کو قبر کے اندر کھینچ لیجائے گا ۔ کدو ناڑا کستے ہوئے کمینی ہنسی ہنس رہا تھا۔ ‘‘

ایک اور اقتباس ، کدو کے قبر پر موتنے کی وجہ بتانے کے بعد :

’’ مَیں نے دیکھا کہ کدو کی آنکھوں میں آنسو اندھیرے میں بھی چمک رہے تھے ۔ آلو گھر جانے کو بے چین ہو رہا تھا ۔ مَیں کب سے پیشاب روکے بیٹھا تھا ۔ مشن کو پوری طرح ڈم ڈم کرنے کی اب ہماری باری تھی ۔ مَیں نے آلو کے کان میں پھونک ماری ۔ وہ اُٹھا اور دس بارہ اینٹوں کی ڈھیری لگا دی ۔ مَیں نے اُس ڈھیری پر مٹی ڈال کر قبر بنا دی ۔ کدو کھڑا ہو گیا ۔ ’’ تم دونوں یہ کیا کر رہے ہو ؟‘‘ ۔ ہم نے ایک آواز میں ’’ ڈم ڈم ‘‘ کہا اور ذہن میں اپنے اپنے دشمن کا خیال لا کر اینٹوں کی ڈھیری پر موت دیا ۔‘‘

دوسری کہانی ’’ اگڑم بگڑم ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ یہ کہانی ایک باپ بیٹے کے رشتے کو بنیاد بنا کر دنیا کی ’ رنگ بازی ‘ کو عیاں کرتی ہے ۔ اس میں کبوتری کی جیت ، مٹھو تاراں والے کی زبان سے اپنی کبوتری کی تعریف ، پرائز بانڈ کی ہار جیت اور اڈے پر پولیس کے ریڈ اور باپ کی گرفتاری کا بیانیہ لاجواب ہے ۔ تیسری کہانی کا عنوان ’’ یہ زندگی آسانی سے سمجھ میں آنے والی نہیں ‘‘ ہے ۔ یہ کہانی اپنے عنوان ہی کی طرح ’ عجیب و غریب ‘ ہے ۔ دو ’ جڑواں ‘ بھائیوں کی کہانی ، جس کا اختتامیہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی یہ دو جڑواں بھائیوں ہی کی کہانی تھی ، جو ابھی پڑھی ہے ۔ لاجواب کہانی ہے ۔ کہانی ’ فیصلہ ‘ رُلاتی ہے ۔ یہ ایک ایسے بہن بھائی کے کہانی ہے جن کے ماں باپ الگ الگ رہتے ہیں ، اور دونوں بچے بھی الگ الگ رہتے ہیں ، بیٹا باپ کے ساتھ اور بیٹی ، جو بھائی سے چھوٹی ہے ، ماں کے ساتھ ۔ اب حتمی فیصلہ ہونے والا ہے کہ کون سا بچہ کس کے ساتھ رہے گا ۔ منظر اسکول سے بھائی کی سائیکل پر چھوٹی بہن کے آنے کا ہے ، بھائی اسے بہلاتا پھسلاتا ہے ، محبت کے جذبے سے ، کہ وہ اُس کے ساتھ ، یعنی باپ کے ساتھ رہنے کو راضی ہوجائے ۔ اس کا جواب دیکھیں : ’’ ’ کیا فیصلہ ننھی ؟ ‘‘ ، ’’ مجھے مما کے ساتھ رہنا ہے نہ پاپا کے ساتھ ۔ مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے ۔ مجھے اپنے ساتھ لے چلو ۔ اور مجھے آج ہی کھانا ہے برف کا گولا ۔ رمضان بابا کے ٹھیلے سے ۔‘‘ یہ کہہ کر ننھی بھائی کی جانب پشت کرکے کھڑی ہوگئی اور اپنے بازؤؤں کو پیچھے کی طرف موڑ دیا ۔ بھائی نے کچھ دیر توقف کیا ، مسکرایا اور بستہ اتار کر ہینڈل میں پرو دیا ۔ پھر اُس نے بہن کو اٹھا کر سیٹ پر بٹھایا اور سائیکل چلا دیا ۔‘‘

باقی کی تین کہانیاں ہیں ’ آفت کی نوٹنکی ‘ ، ’ منافق کانا ‘ اور ’ دنیا رنگ بازی پر قائم ہے ‘ ۔ ان تینوں ہی کہانیوں میں وہ سارے احساسات ، جن کا مَیں نے اوپر ذکر کیا ہے ، پائے جاتے ہیں ۔ اور کردار جیسے بے بس حافظ ، رنگ باز پیر ، سیاست داں ، شرارتی بچے اپنا جادو جتاتے ہیں ۔ آخرالذکر کہانی میں ’ رنگ بازی ‘ عروج پر ہے ، اور اس رنگ بازی میں اس کہانی کو پڑھنے والا کھو جاتا ہے ۔ مَیں اس مجموعے کے پس ورق پر لکھی اس تحریر پر اپنی بات مکمل کرتا ہوں : ’’ ’ دنیا رنگ بازی پر قائم ہے ‘ کی کہانیاں پڑھنے والوں کی جان پہچان گلی محلے کی زندگی سے کرواتی ہیں ۔ بے معنی اخلاقیات سے ناواقف تھڑے باز مردوں اور دہلیز باز عورتوں کی روزمرہ سرگرمیوں کے قصوں کو ان کی اپنی زبان میں بیان کرتی ہوئی یہ کہانیاں معاشرت کا وہ رُخ پیش کرتی ہیں جنہیں چھپا دیا جانا زیادہ پسندیدہ خیال کیا جاتا ہے ۔ ان کڈھپ اور ٹیڑھی لکیر پر چلتی ہوئی کہانیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ نہ یہ جذباتی ہیں اور نہ ہی پڑھنے والے کو اچھائی یا بُرائی کا فیصلہ لینے پر مائل کرتی ہیں ۔

بس یہ کہانیاں ہیں ، اگر کوئی پڑھنا چاہے ۔‘‘ یہ مجموعہ ’ کتاب دار ، ممبئی ‘ ( 9869321477 ) اور ’ عرشیہ پبلیکیشنز ، نئی دہلی ‘ ( 9971775969)نے مشترکہ طور پر شائع کیا ہے ۔ کتاب خوبصورت انداز میں شائع کی گئی ہے ، صفحات 120 اور قیمت 250 روپے ہے ۔

julia rana solicitors

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply