• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بہار اُردو اکادمی اور اُردو مشاورتی بورڈ: اداروں کی غیر فعالی اور اُردو زبان کا بحران/ڈاکٹرمنصور خوشتر

بہار اُردو اکادمی اور اُردو مشاورتی بورڈ: اداروں کی غیر فعالی اور اُردو زبان کا بحران/ڈاکٹرمنصور خوشتر

اردو زبان صرف ایک ذریعہ اظہار نہیں بلکہ ہماری تہذیب، تاریخ اور شناخت کی علامت ہے۔ بہار، جو ہمیشہ سے اردو زبان و ادب کا مرکز رہا ہے، آج ایک عجیب سناٹے میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ ادارے جنہیں اردو زبان کی ترویج، ادیبوں و شاعروں کی سرپرستی، اور علمی ورثے کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا تھا — جیسے بہار اردو اکادمی اور اردو مشاورتی بورڈ — برسوں سے غیر فعال ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ خاموشی صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ اردو داں سیاسی نمائندوں کی طرف سے بھی جاری ہے۔بہار اردو اکادمی کا قیام اردو زبان و ادب کے فروغ، اردو کے ادیبوں، شاعروں اور محققین کی اعانت، اور سرکاری سطح پر اردو کی نمائندگی کے لیے کیا گیا تھا۔ ہر سال سرکاری بجٹ میں اردو اکادمی کے لیے لاکھوں روپے مختص کیے جاتے ہیں۔ لیکن 2019 کے بعد سے اکادمی کی باڈی کی تشکیلِ نو نہیں کی گئی۔ نہ چیئرمین مقرر ہوا، نہ ہی کوئی نیا سکریٹری۔ اس کے سبب فنڈز خرچ نہیں ہو پا رہے اور اکادمی کے تمام انتظامی، تخلیقی اور ادبی پروگرام جمود کا شکار ہو گئے ہیں۔اکادمی کے ذریعے اردو کتابوں کی اشاعت، مشاعروں، سمیناروں، انعامات و اعزازات، اور اسکالرز کے تحقیقی پروجیکٹ کی سرپرستی کا جو سلسلہ کبھی جاری تھا، وہ اب پوری طرح رک چکا ہے۔ نتیجتاً سینکڑوں اردو ادیب، اسکالر اور طالب علم حکومتی سرپرستی سے محروم ہو چکے ہیں۔

بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، جس کے تحفظ اور ترویج کے لیے اردو مشاورتی بورڈ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ماضی میں عبدالصمد، کلیم عاجز اور شفیع مشہدی جیسے مشاہیر اس بورڈ کے چیرمین رہے۔ مگر گزشتہ چھ برسوں سے یہ ادارہ بھی مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ نہ کوئی چیئرمین ہے، نہ اراکین، نہ اجلاس، نہ ہی کوئی پالیسی۔ اس کی غیر فعالی کا مطلب ہے کہ سرکاری دفاتر میں اردو کے استعمال، ترجمے، تقرری، نصاب، امتحانات، یا نوکریوں میں اردو داں افراد کی نمائندگی جیسے اہم امور پر کوئی موثر مشورہ حکومت کو نہیں مل پا رہا ہے۔

حکومت بہار کی طرف سے حالیہ برسوں میں اردو ڈائرکٹوریٹ کو با اختیار بنانے، اضلاع میں اردو تقریبات کے لیے فنڈنگ، اور بعض علاقائی مشاعروں کے انعقاد جیسے اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، لیکن یہ سب رسمی نوعیت کے کام ہیں۔ جب تک بنیادی ادارے جیسے اردو اکادمی اور اردو مشاورتی بورڈ فعال نہیں ہوں گے، تب تک کوئی بھی پالیسی موثر طریقے سے نافذ نہیں ہو سکتی۔ ہر سال بجٹ میں رقم مختص ہونے کے باوجود فنڈس کا استعمال نہ ہونا دراصل ایک بڑی بدانتظامی اور غیر سنجیدگی کا ثبوت ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت، جو خود کو اقلیت نواز اور اقلیتوں کی ہمدرد قرار دیتی ہے، وہ آخر اس معاملے پر خاموش کیوں ہے؟ کیا بیوروکریسی میں اردو مخالف ذہنیت کارفرما ہے یا پھر سیاسی ترجیحات میں اردو کی جگہ نہیں؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اردو طبقہ، اہلِ قلم، اساتذہ، صحافی، تنظیمیں اور سیاسی نمائندے کیوں خاموش ہیں؟

ہم اردو والے کب تک انتظار کرتے رہیں گے کہ کوئی آئے گا اور ہمارے اداروں کو بحال کرے گا؟ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ جب ادارے ہی مردہ ہو چکے ہیں تو اردو کے حق میں کوئی حقیقی پالیسی بن ہی نہیں سکتی؟ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جب تک ہم خود بیدار نہیں ہوں گے، جب تک ہم حکومت پر دباو ¿ نہیں بنائیں گے، تب تک اردو محض بیانات اور تقریروں کی زبان بنی رہے گی۔
آج جب ریاست میں الیکشن کا ماحول ہے، ہمیں اس موقع کو سنجیدگی سے استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اپنے حلقہ? اسمبلی کے نمائندوں سے مل کر یہ سوال پوچھنا چاہیے:
بہار اردو اکادمی اور اردو مشاورتی بورڈ کی تشکیلِ نو کیوں نہیں ہوئی؟
اردو فنڈز کا استعمال کیوں نہیں ہو رہا؟
اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے باوجود اس کے تحفظ کے ادارے کیوں بند پڑے ہیں؟
حکومت آخر کس مجبوری میں مبتلا ہے کہ وہ ان اداروں میں چیئرمین اور سکریٹری کی تقرری سے گریز کر رہی ہے؟

ہمیں اپوزیشن لیڈروں، خاص کر تیجسوی یادو اور جی ڈی یو کے مسلم نمائندوں سے بھی ملنا چاہیے تاکہ وہ اس معاملے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں۔ اردو ایکشن کمیٹی، اردو تنظیمیں، اور اردو اخبارات کو چاہیے کہ وہ مسلسل اس موضوع کو اٹھائیں اور حکومت سے جواب طلب کریں۔

میڈیا کو چاہیے کہ وہ اردو اداروں کی غیر فعالی کو عوامی پلیٹ فارم پر لائے۔ پریس کانفرنسوں میں حکومتی وزراءسے اس بارے میں سوالات کیے جائیں۔ حکومت کی اس خاموشی پر اسے عوام کے سامنے شرمندہ کیا جائے۔

اردو اکادمی اور اردو مشاورتی بورڈ صرف نام کے ادارے نہیں بلکہ اردو تہذیب، ثقافت، ادبی ورثے اور زبان کی سرکاری شناخت کے محافظ ادارے ہیں۔ ان کی بحالی اور بااختیار تشکیل ناگزیر ہے۔ ہر سال مختص کی گئی رقم اسی وقت اردو کے حق میں کارآمد ہو سکتی ہے جب یہ ادارے فعال ہوں۔ ہم حکومت بہار سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ
فوری طور پر بہار اردو اکادمی اور اردو مشاورتی بورڈ کی تشکیلِ نو کی جائے۔
ان اداروں کو بااختیار اور مکمل مالی و انتظامی آزادی دی جائے۔
اردو داں طبقے کی شمولیت سے نئی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
اردو زبان سے متعلق پالیسی سازی میں ان اداروں کی شرکت کو لازمی قرار دیا جائے۔

جے ڈی یو کے کئی مسلم لیڈران — جیسے غلام رسول بلیاوی، خالد انور، احمد اشفاق کریم، زماں خان — طویل عرصے سے پارٹی کے اندر فعال ہیں اور حکومت کے قریبی تصور کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی وزیر رہ چکے ہیں یا اب بھی وزارت کے اہم قلمدانوں پر فائز ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بالکل جائز ہے کہ:
جب پارٹی آپ کی سنتی ہے، آپ وزارتی اجلاسوں میں شامل ہوتے ہیں، تو آپ اردو اداروں کی خاموشی پر کیوں خاموش ہیں؟

یہ سوال صرف عوامی نہیں بلکہ اخلاقی و تاریخی ذمہ داری کا بھی ہے۔ اردو اکادمی، اردو مشاورتی بورڈ، اردو ڈائرکٹوریٹ جیسے ادارے نہ صرف زبان سے جڑے ہیں بلکہ اقلیتوں کی تہذیبی شناخت سے بھی وابستہ ہیں۔ ان اداروں کی غیر فعالی دراصل مسلمانوں کے علمی و ثقافتی حق کی پامالی ہے۔

انتخابات کے دوران عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے، ان لیڈران سے براہ راست یہ سوال کرنا چاہیے
آپ نے اردو اکادمی کی تشکیل نو کے لیے کتنے بار اسمبلی میں آواز بلند کی؟
اردو مشاورتی بورڈ کی غیر فعالی پر آپ نے کتنے سوالات اٹھائے؟
آپ نے کتنی بار وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ملاقات کر کے اردو اداروں کی بحالی کا مطالبہ کیا؟
آپ کی خاموشی کا سبب کیا ہے؟ پارٹی کی وفاداری یا عوامی نمائندگی کا فقدان؟
یاد رکھیں، سیاسی نمائندے عوام کے خادم ہوتے ہیں، بادشاہ نہیں۔

اگر کوئی لیڈر اردو زبان کے اداروں کی بحالی کے لیے کوشش نہیں کرتا، تو وہ اردو داں عوام کی نمائندگی کا حق کھو دیتا ہے۔ ہمیں ایسے افراد کو اسمبلی یا پارلیمان میں بھیجنا چاہیے جو
اردو زبان اور اداروں کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔
جن کی شناخت اردو ادب، تعلیم، تہذیب سے جڑی ہو۔
جو اقلیتوں کے حقیقی مسائل کو پارٹی سطح پر بلند کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔
ہمیں منظم طور پر ان لیڈران پر عوامی اور سماجی دباؤ  بنانا ہوگا:
پریس کانفرنس کے ذریعے ان سے جواب طلب کریں۔
سوشل میڈیا پر مہم چلائیں کہ “اردو اداروں کی بحالی کہاں ہے؟”
اردو تنظیموں اور مشاعروں کے پلیٹ فارم سے بھی ان سے سوال کیا جائے۔
اسمبلی حلقے میں عوامی میٹنگ کے دوران ان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اردو اکادمی، اردو بورڈ کی تشکیل نو کی تاریخ طے کرائیں۔
اگر وہ جواب نہیں دیتے تو ان کی خاموشی کو سیاسی کمزوری بنا کر عام لوگوں میں پھیلایا جائے۔

ہمیں تیجسوی یادو اور اپوزیشن لیڈروں سے بھی ملاقات کرنی چاہیے اور زور دینا چاہیے کہ اردو اداروں کی بحالی ان کے انتخابی منشور میں شامل ہو۔ اگر حکومت خاموش ہے، تو اپوزیشن کو بولنا ہوگا۔ اگر حکمراں پارٹی کے مسلم نمائندے خاموش ہیں تو عوام کو اپنے ووٹ سے ان کو سبق دینا ہوگا۔

آج کا اردو طبقہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اردو زبان کا تحفظ صرف تحریر و تقریر سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی بنیادوں پر مضبوطی سے ممکن ہے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ان لیڈروں سے، جو خود کو مسلمانوں کا ہمدرد، اردو داں طبقے کا نمائندہ، اور اقلیت نواز کہتے ہیں — سوال کریں، جواب مانگیں، اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سیاسی فیصلہ کریں۔
اب خاموش رہنے کا وقت نہیں، اب سوال کرنے کا وقت ہے۔

اس وقت جب کہ بہار اسمبلی کا مانسون اجلاس جاری ہے، یہ ایک نایاب موقع ہے کہ اردو کے حق میں آواز بلند کی جائے۔ حکومت کو گھیرنے، راجد اور دیگر حزب مخالف کی جماعتوں کے مسلم لیڈران کو چاہیے کہ وہ ایوان میں کھل کر ان اداروں کی خاموشی پر سوال کریں اور حکومت سے جواب طلب کریں کہ آخر اردو اکادمی اور اردو مشاورتی بورڈ کی تشکیلِ نو کیوں نہیں کی گئی؟

یہ صرف ایک لسانی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ بہار کی تہذیبی شناخت، اقلیتی حقوق، اور آئینی برابری کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اس وقت بھی خاموش رہے، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی زبان، اداروں اور شناخت کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں ۔

اردو زبان برصغیر کی گنگا-جمنی تہذیب کی نمائندہ ہے اور بہار اس زبان کا ایک مضبوط قلعہ رہا ہے۔ یہاں اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور ثقافت کا آئینہ ہے۔ بہار میں اردو زبان کی سرکاری حیثیت اور ادبی وقار کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے جن اداروں کا قیام عمل میں آیا تھا، ان میں بہار اردو اکادمی اور اردو مشاورتی بورڈ کا کردار کلیدی رہا ہے۔ مگر افسوس کہ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں میں ان اداروں کی مسلسل غیر فعالی نے ریاست کی اردو تحریک کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ ادب و تحقیق کی راہ میں بھی سنگین رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔

julia rana solicitors london

یہ لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں اپنے وجود کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہونا ہوگا۔ جو قوم اپنی زبان، ادارے اور تہذیب کے لیے نہیں لڑتی، وہ تاریخ کے حاشیے پر چلی جاتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ ورنہ نہ اردو بچے گی، نہ اردو والوں کی شناخت۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply