• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلگت بلتستان میں قدرت کے خلاف جنگ کا حساب دینا ہوگا/شیر علی انجم

گلگت بلتستان میں قدرت کے خلاف جنگ کا حساب دینا ہوگا/شیر علی انجم

گلگت بلتستان، وہ خطہ جسے قدرت نے اپنے حسین ترین نظاروں سے نوازا ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑ، نیلگوں جھیلیں، بہتے چشمے، شفاف ندی نالے اور ٹھنڈی ہوائیں ۔ یہ سب مل کر اس علاقے کو دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں شامل کرتے ہیں۔ یہی قدرتی خوبصورتی ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہی سیاحت اب گلگت بلتستان کے لیے ایک ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ آج اس خطے میں ندی نالوں کے کنارے بغیر کسی منصوبہ بندی کے تعمیرات کی جا رہی ہیں۔ ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز، دکانیں اور یہاں تک کہ عبادت گاہیں ندیوں کے دہانوں پر بنائی جا رہی ہیں۔ ان غیر منصوبہ بند تعمیرات کا نتیجہ نا  صرف ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں نکل رہا ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ اس کی حالیہ مثال ہنزہ کے مشہور عطا آباد جھیل کے قریب تعمیر ہونے والا لکسس ہوٹل ہے، جو ایک سیلابی ندی کے منہ پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اور وہاں ہر سال سیلاب کا آنا ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔گلگت بلتستان کی معیشت میں سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل بھی تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ نکاسی آب (سیوریج) کا ہے۔ ہوٹلوں اور دیگر عمارتوں کا فضلہ یا تو براہ راست ندی نالوں میں پھینکا جا رہا ہے یا زمین میں جذب ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ زیرزمین پانی چشموں کی صورت میں دوبارہ باہر آتا ہے، جو بظاہر تو صاف نظر آتا ہے مگر درحقیقت یہ آلودہ پانی ہوتا ہے، جو پینے، کھانے پکانے اور دیگر روزمرہ ضروریات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی آلودگی ہیضہ، آنتوں کی بیماریوں، جلدی امراض اور دیگر صحت کے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے کسی بھی علاقے میں سیوریج کا کوئی منظم، محفوظ اور دیرپا نظام موجود نہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ ندی نالے جن کا پانی جو آج پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جلد ہی راولپنڈی کے نالہ لئی یا کراچی کی ملیر ندی جیسے بدبودار نالوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔یہ قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہیں، اور اگر ہم نے ان کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ قدرت کے ساتھ جنگ کا انجام ہمیشہ ہلاکت ہوتا ہے۔لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کریں حکومتی سطح پر ندی نالوں کے کنارے نئی تعمیرات پر فوری پابندی عائد کریں،بغیر ماسٹر پلان کے ہوٹل، مارکیٹس اور رہائشی عمارتوں کی تعمیر روک دی جائے۔ہر علاقے کے لیے ماحولیاتی تحفظ کا جامع منصوبہ بنایا جائے اور نکاسی آب کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے جس میں پانی کو فلٹر کرنے کے بعد قدرتی راستوں میں چھوڑا جائے۔اسی طرح کچرے کو اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے۔سب سے اہم بات، عوام میں ماحولیات کے تحفظ کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے۔
سیاحت ضرور ہونی چاہیے، لیکن ایسی نہیں جو اس خطے کو برباد کر دے۔ ہمیں قدرت سے ملی ہوئی اس جنت کا دفاع خود کرنا ہے، ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کوسیں گی کہ ہم نے ان کے لیے صرف بربادی چھوڑی۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply