حکایت دل درد آشنا/مہ ناز رحمٰن

افراتفری کے شکار اس معاشرے میں ایسے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں جو اپنی علمیت،قابلیت اور محنت سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔میں اکثر کہتی ہوں کہ اس وقت پاکستان میں جو لوگ بھی اچھا کام کر رہیں، ان سب کا جوانی میں بائیں بازو کے نظریات اور کسی ترقی پسند تنظیم سے تعلق رہا ہے۔ایک لمبی فہرست ہے گو کہ اب چند لوگ ہی بقید حیات ہیں۔کراچی میں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی، ڈاکٹر ٹیپو، ڈاکٹر شیرشاہ، توصیف احمد،ایڈوکیٹ اختر حسین اور دیگر جگہوں پر چند اور۔
ڈاکٹر سید جعفر احمد کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو خواص کی بجائے عوام کے بارے میں سوچتے ہیں۔کراچی یونیوسٹی میں رہتے ہوئے انہوں نے جو تخلیقی اور تحقیقی کام کیا، اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔ مزدور رہنما کرامت علی کے ادارے پائلر کے ساتھ مل کے انہوں نے ترقی پسند موضوعات پر کانفرنسیں بھی کروائیں اور کتابیں بھی شائع کیں۔یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے تو انسٹیٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ،کراچی سے وابستہ ہو گئے اور عوام کی تاریخ اور سماجی، سیاسی اور اقتصادی مسائل پر کتابیں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

چند دن قبل اپنے ادارے میں ایک شاندار تقریب میں ”مجھے بھی شوق نے مہلت نہ دی ٹھہرنے کی“کے عنوان سے ڈاکٹر طارق سہیل کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے اور ان کی خود نوشت ”حکایت دل درد آشنا“کی تعارفی تقریب کا اہتمام کیا۔ڈاکٹر طارق سہیل ماہر نفسیات ہیں اور زمانہ ء طالب علمی سے بائیں بازو کی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔اس سے پہلے اس ادارے کی طرف سے حسن عابدی کی یادیں ”جنوں میں جتنی بھی گزری“ کرامت علی کی یادواشتیں ”راہ گزر تو دیکھو“، رشاد محمود صاحب کی یادداشتیں ”نگاہ آئینہ ساز میں“اور سینئر  صحافی حسین نقی کی یادوں کو ”جرات انکار“کے نام سے شائع کر چکا ہے۔تازہ ترین کتاب ڈاکٹر طارق سہیل کے تجربات و مشاہدات پر مشتمل ہے۔1980کے عشرے میں ڈاکٹر طارق سہیل پیپلز پارٹی میں فعال رہے۔بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان کے مشیر صحت بھی رہے۔

حکایت دل درد آشنا کے بار ے میں تعارفی مضمون امریکہ میں مقیم پاکستان کے کامریڈوں کے ہر دلعزیز اسکالر چارلس امجد علی نے لکھا ہے۔اپنے مضمون میں وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر طارق پاکستانی معاشرے کے اہم افراد اور دانشوروں کے ساتھ تغیر خیز مباحثوں میں بطور ایک طالب علم اور سرگرم و فعال شریک کار کے مستقلاََ شامل رہے ہیں۔ان میں سے پاکستانی تاریخ کے انتہائی جابرانہ دور میں ترقی پسند فکر کو فروغ دینے کے حوالے سے چند افراد کی یادیں نا قابل فراموش ہیں۔ان لوگوں میں شامل تھے ڈاکٹر ذکی حسن جو خود بھی ماہر نفسیات تھے اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ(پائلر)کے بورڈ کے طویل عرصہ تک صدر بھی رہے، پھر ڈاکٹر ہارون احمد تھے جو پاکستان سائیکٹرک سوسائٹی کے شریک بانی اور انسانی حقوق اور جمہوریت کے حوالے سے فعال اور نمایاں تھے۔پھر سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT)کے بانی اورایک فلاحی رکن سید ادیب ا لحسن رضوی کے علاوہ آپ کو اس کتاب میں سید سبط حسن کا ذکر ملے گاجو ایک ممتاز اسکالر،صحافی اور سیاسی کارکن تھے۔اور پاکستان میں سوشلزم اور مارکسزم کے صف اول کے راہ کشا تھے۔ساتھ ہی وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی رکن بھی تھے۔پھر وہ احمد فراز کا تذکرہ کرتے ہیں جو ایک مشہور شاعر اور ضیا الحق کی فوجی آمریت کے خلاف ممتاز ایکٹوسٹ تھے۔معراج محمد خان جو پاکستانی سوشلسٹوں کی صف اول میں شامل تھے۔وہ سید تاج حیدر کا ذکر بھی کرتے ہیں جو بائیں بازو کے سیاست دان،ڈرامہ نگار اور مارکسی دانشور تھے۔یہ سارے دانشور ڈاکٹر طارق سہیل کے ہاں ایک میز پر جمع ہو کر سماجی تشکیل نو کی غرض سے ٹھوس قسم کے دلائل سے بحث و مباحث اور لائحہ عمل میں شامل ہوتے تھے۔

julia rana solicitors

ڈاکٹر طارق سہیل پیش لفظ میں کہتے ہیں،”اس کتاب کو لکھنے کا مقصد عام آدمی کو صحت کی معلومات سے واقفیت پیدا کرانا ہے مثلاً پرائمری ہیلتھ وہ ہے جو ہم ساری آبادی کے لئے کرتے ہیں اور سکینڈری ہیلتھ اور ٹرشری ہیلتھ جو one by oneکرتے ہیں۔پنجاب میں گورنمنٹ سیوریج اور صاف پانی کی بات کر رہی ہے۔یہ پہلے ہوتا تو زیادہ بہتر تھا، ہم نے ویکسین پر توجہ دی مگر پرائمری کاموں پر توجہ نہیں دی۔پہلی مرتبہ 1958میں انگلینڈ میں ’کلین واٹر ایکٹ‘ آیا،اس کی وجہ سے پچیس سال میں پھیلنے والی بیماریاں آدھی ہو گئیں اور اینٹی بائیوٹیکس کا خرچہ کم ہو گیا۔ہمیں بھی یہ پریکٹس اپنانی چاہیے جس سے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کا خرچہ کم ہو جائے گا۔1958کے بعد سارے امریکہ اور یورپ میں ہر جگہ یہ ایکٹ بن گیا، ہمیں صاف پانی اور سیوریج کے
نظام کی ضرورت ہے۔۔چھوٹے علاقوں سے یہ بیماریاں بڑے علاقوں کی طرف پھیلتی ہیں۔پہلے گاؤں میں ترقیاتی کام کریں پھر شہروں میں۔اسی طرح پانی اور نکاسی کا انتظام چھوٹے علاقے میں ٹھیک نہیں ہو گاتو بڑے علاقے میں بھی ٹھیک نہیں ہو گا۔
ڈاکٹر طارق سہیل میڈی کئیر ہسپتال کے علاوہ جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے بھی بانی ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply