محبت ایک فطری جذبہ ہے جس کا اظہار شروع ہی سے ہے، جب سے فیس بک اور سوشل میڈیا کا چلن عام ہوا شدت آ گئی ہے۔ پہلے عاشق کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے محبوب کی گلی کے بیسیوں چکر کے بعد کہیں دیدارِ یار نصیب ہوتا تھا۔ دورِ جدید کے جامِ جم( موبائل) پر اب ایک کلک پہ محبوب نہ صرف سامنے بلکہ محوِ گفتگو بھی۔ یوں عشاق اور معشوقوں کا “میلہ” چوبیس گھنٹے لگا رہتا ہے۔ اقبال نے وجودِ زن کو تصویرِ کائنات کا رنگ کہا، فیس بک بھی وجود ِ زن کے رنگوں سے رنگین ہے۔ عاشقِ با مُراد قوسِ قزح کے انہی رنگوں سے رنگے رہتے ہیں جبکہ عاشقِ نا مراد رنگے ہاتھوں جکڑ لیے جاتے ہیں۔
بقول مرزا غالب “پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق” جبکہ فیس بک پہ ناپسندیدہ “جکڑے جاتے ہیں حسینوں کے کہے پر عاشق”
سوشل میڈیا محبتوں کا لنڈا بازار ہے یہاں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کس کی اُترن ہے اور کون “نوا نکور” اب ڈبہ پیک محبت ملنے سے رہی، یہاں جس کے جو ہاتھ لگے وہی خوش۔ فیس بک کتاب چہرہ ہے تو زیادہ تر خواتین چہرہ نمائی میں لگی رہتی ہیں اور یار لوگ حسیں چہروں کی تلاش میں سرگرداں۔ جیسے ہی کوئی حسیں صورت دکھائی دیتی ہے عاشق ٹوٹ ٹوٹ پڑتے ہیں۔
جہاں بعض حسینائیں دو دو گھنٹے آئینے کو ڈرا ڈرا کر وَن سَوَنّی (طرح طرح کی) کریمیں تھوپ تھوپ کر اپسرائی حُسن کا جیتا جاگتا مجسمہ بنتی ہیں وہاں ایک سے ایک “کوجی حسینہ” بھی فلٹر پہ فلٹر لگاکے گھونگھٹ اٹھائے منہ دکھا رہی ہوتی ہے جبکہ ٹُٹ پینے عاشق آپریشن “دھیان المربوط “کے تحت دیدے پھاڑ پھاڑ کر منتظر رہتے جیسے ہی کوئی حسین صورت یا ریلز دکھائی دیتی تو تاک تاک کر کیوپڈ کے تیر چلاتے ہیں پھر”ٹھرکو ٹھرک” منہ دکھائی میں “کمنٹوں کمنٹ” ہوتے ہوئے مدعا بیان کرتے ہیں ”دل لے جا ……نکی جہی ہاں کر کے” اور جب دیکھتے ہیں تیر نشانے پر لگا ہے تو سیدھا انباکس جا ٹپکتے ہیں۔
اور پھر زلفِ گرہ گیر کے اسیر منٹوں سیکنڈوں میں حسینہ کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہو جاتے اور پھر 24 گھنٹے نان سٹاپ محبت کا آغاز۔ یہ امر اس وقت عروج پر ہوتا ہے جب “دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی” جہاں عاشق “ٹھرکو ٹھرکی” ٹھرک جھاڑ رہے ہوتے ہیں وہیں حسینائیں بھی اسی حساب سے ٹھرک سمیٹ رہی ہوتی ہیں۔ فیس بُک پہ آنٹیاں “چُھنی کاکیاں” بنی ہوئی ہیں اور انکل “بانکے اور چِکنے بابو” بن کر انباکس جھانکتے پھرتے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر خواتین چالیس تا پچاس برس کی وہ “حسینائیں” ہوتی ہیں جنہیں اس سے پہلے شاید اس طرح اپنی ادائیں دکھانے کا موقع نہیں ملا ہوتا وہ پوسٹوں پر طرح طرح کے ناز و ادا دکھاتے ہوئے تصاویر اور ریلز کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں کہ “رہ رب دا ناں” حُسن ایسا کہ دور دور تو کیا نزدیک بھی نہ پھٹکا ہو۔
“قسمے آٹے دیاں بوریاں تے ناز نخرے شوخ چنچل حسینہ دے۔”

عشق دماغ کا خلل،محبت دھوکہ ،پیار واہمہ ہوسکتا ہےلیکن ٹھرک موجودہ دور میں مسلمہ حقیقت ہے۔ فی زمانہ عشق و عاشقی کم, ٹھرک کا چل چلاؤ ہے، ایسے میں وفا کی رسم اب قصۂ پارینہ ہوئی جاتی ہے۔راقم کا شعر ہے
؎کیا رسم چل پڑی ہے اس شہرِ بے وفا میں
کبھی اس سے پیار کرنا کبھی اُس سے پیار کرنا
سو اس کے مصداق محبتیں چل سو چل ہیں آج اس کے ساتھ کل کسی اور کے ساتھ۔ یہاں ایک سے ایک محبت کی داستان اور ایک سے ایک بریک اپ کی کتھا ۔
” بِلو تیری اَکھ ، قتل کرے لکھ” کے مصداق یوں آنکھوں کا حُسن ریلز پہ گانے کے اس بول کے ساتھ لگاتی ہیں “ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں” اب مستانوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ ان آنکھوں کی پلکیں اور کاجل بن کر اکھیوں ہی میں رہیں۔ کچھ اپنے پاؤں کی ریلز لگاتی ہیں اور عاشق ان پاؤں کی پازیب بننے اور ان پاؤں تلے کچلے جانے کو تیار۔
کچھ خواتین کسی وجہ سے اپنی تصاویر نہیں لگاپاتیں مگر شوقین کبھی کبھار ہاتھوں، آنکھوں، بالوں، پاؤں ، کبھی ڈرائیونگ کرتے ہوئے اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے، ادھوری تصاویر لگاتی ہیں تو ٹُٹ پینے عشاق کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ سیلوٹ ہے ان عاشقوں پر جو ٹوٹے ٹوٹے جوڑ کے سالم حسینہ بنا لیتے ہیں۔ اگر یہ خواتین فیس بک پر نہ ہوتیں تو قسمے ……. بہت سی عفیفاؤں اور دوشیزاؤں کو زندگی بھر پتہ ہی نہ چلتا کہ وہ کتنی نائیس ، بیوٹی فل، پیاری، حسین، خوبصورت, سندر سوشیل اور گورجیس ہیں۔
کچھ خواتین اس طرح کی پوسٹ لگاتی ہیں “عورت سے محبت کرنا مرد کی سرشت میں ہے۔۔۔مگر اسکی عزت اعلیٰ ظرف ہی کرتے ہیں ۔۔۔پھر ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے انباکس میں آناسختی سے منع ہے۔” اصل میں ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ انباکس میں“ ہک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیا” والا میسج بھیج دو ۔۔۔۔۔خدا جھوٹ نہ بلوائے کہ جنگِ عظیم اول اور دوم میں اتنےلوگ نہیں مرے جتنے فیس بکی محبت میں مرد و خواتین ایک دوسرے پر مرے ہیں۔ شاعر کا کہنا تھا کہ
؎کوئی تعویذ ہو ردِ بلا کا
میرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے
آج کل حسینائیں ایسی ایسی پوسٹ لگاتی ہیں کہ آ بیل مجھے مار کے مصداق “آ محبت میرے پیچھے پڑ ” سو عشاق دیوانہ وار پوسٹ پر آتے ہیں۔ ایک تو قوم پہلے ہی شدید عاشق اور ٹھرک مزاج ہے، اوپر سے خواتین نے بھی انت مچایا ہوا ہے۔ دنیائے عشق کے معروف عاشق مجنوں، رانجھا، فرہاد، مہینوال اور پنوں عالمِ بالا سے بہ حسرت فیس بکی عا شقوں کو تکتے ہوں گے کہ عاشقی اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔
فیس بک کی سب سے الگ بات یہ ہے کہ آپکو گھر بیٹھے ہی محبت ہو جاتی ہے، گھر بیٹھے ہی دھوکا ہو جاتا ہے اور پھر گھر بیٹھے ہی بریک اپ بھی ہو جاتا ہے، جن حسینوں کا تازہ تازہ بریک اپ ہوتا ہے ان کی پوسٹیں غم و اندوہ سے بھری ہوتی ہیں ۔فیس بُکی عاشق بھی جان لیتے ہیں کہ کونسی عفیفہ کا تازہ تازہ بریک اپ ہوا ہے تو فوراً پُرسہ دینے اور کندھا پیش کرنے سیدھا انباکس وارد ہوتے ہیں۔ ان عاشقوں کے پاس بریک اپ زدہ عفیفاؤں کی دلجوئی کا خصوصی انتظام بھی ہوتاہے ۔
عشق اور ٹھرک جھاڑنے پر شروع میں کچھ خواتین جھوٹی موٹی اوپر اوپر سے ناراضی کا اظہار کرتی ہیں تو ڈھیٹ عاشق انہیں یوں دام میں لے آتے ہیں “آپ مانیں نہ مانیں کچھ چہرے واجب ال عشق ہوتے ہیں۔ آپ حسن کی دیوی اور ایک حسین پینٹنگ سے بڑھ کر ہیں جسے خوبصورتی سے تخلیق کیا گیا ہے پھول ،خوشبو ، تتلیاں، بادل، بارش، موسیقی، رقص، آسمان ، چاند، ستارے، سورج، محبت ، شہد، شراب ، شاعری سب کچھ ایک طرف….. اور آپ ایک طرف …..اور یوں بالآخر
ع نگاہِ مردِ مومن سے پگھل جاتی ہیں مستور یں
…پھر یہی ٹِچ بٹناں دی جوڑی ٹچ موبائل کے ذریعے ہر وقت رابطے میں ٹچن ٹیٹ رہتی ہے۔
ٹھرکی وہ عظیم کردار ہوتا ہے جو خود تو خوار ہوتا ہے مگر سینکڑوں مایوس دوشیزاؤں کی زندگیوں میں مسکراہٹیں بکھیردیتا ہے وہیں بہت سی خواتین اپنی پوسٹوں ، کمنٹس اور انباکس چَیٹنگ کے ذریعےبہت سے ٹھرکیوں کی سسکیوں کا وسیلہ بھی بنی ہوتی ہیں۔کبھی کبھی کچھ برعکس بھی ہو جاتا ہے کچھ حسینائیں ڈھیٹ عشاق کے رویئے سے تنگ آ کر بلاکستان بھی بھیج دیتی ہیں۔
میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو “ہی بلاک کردیا”
فیس بک پہ حسیناؤں کی شوخ چنچل آئی ڈیز اور تصاویر دیکھ دیکھ کر کبھی کبھی ہمارا بھی دل مچلتا ہے کہ ہم بھی کسی زُہرہ جبیں، ماہ جبیں، نازنیں کے انباکس میں دھیرے سے قدم رنجہ فرماویں ……اور پھر کسی نو آموز عاشق کی مانند گلہائے عشق کی پتیاں والہانہ انداز سے نچھاور ہی نچھاور کرتے چلے جاویں ……مگر خوفِ فسادِ “سکرین شاٹ” دل کی یہ حسرتاں دل میں ہی رہ جاویں!!!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں