صرف ایک پھول محبت کا۔۔۔رمشا تبسم

شہر میں ہر طرف خوبصورت پھول سجے تھے۔عجیب گہما گہمی تھی ۔بازاروں میں دکانوں پر لال رنگ کی حکمرانی تھی۔ اکثر خواتین لال لباس میں ملبوس پھول اور گفٹ کی خریداری میں مصروف تھیں۔پھولوں کی دکانوں میں نوجوان خوبصورت پھول خریدتے ہوئے ہنسی مذاق میں مگن تھے۔ کسی کی آنکھوں میں محبت تھی اور کسی کی شرارت اسکے قہقہوں سے جھلک رہی تھی۔
“یہ پھول کتنے کا ہے؟مجھے یہی چاہیے؟” ایک نازک آواز نے احمر کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
“صرف پانچ سو کا۔اور ساتھ میں یہ خوبصورت کارڈ مفت ہے”۔ دکان دار نے جواب دیا
“ٹھیک ہے یہی دے دو۔اس قدر خوبصورت ہے کہ بس اس سے بہترین ایک پھول محبت کے اظہار کے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا”۔ لڑکی نے اپنی سہیلی سے شرماتے ہوئے سرگوشی کی۔
“بھائی سنو! ”
“جی سر بتائیے کیا چاہیے آپ کو”؟
“ہممم۔میں۔وہ۔۔ مجھے وہی پھو ل چاہیے جو ابھی وہ لڑکی یہاں سے لیکر گئی ہے”۔ احمر نے نظریں جھکا کر تھوڑا جھجھک کر کہا۔
دکان دار نے حیرت سے اس کو سر تا پاؤں دیکھا کندھے اچکا کر پھول نکالا اور ساتھ کارڈ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے رقم ادا کی اور چل پڑا۔
اسکی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔وہ تیز قدموں سے پھول کو دل سے لگائےآگے بڑھنے لگا۔
********************

کل میری شادی ہو جائے گی۔زندگی کے کئی خواب جو معاشرے کے رسم و رواج اور ہماری بنائی گئی شرم و حیا کی حدود میں آج تک نہ پورے ہو سکے ان کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
میں اس لمحے کے انتظار میں ہوں ، جب میرا شوہر میرا ہاتھ تھام کر میری نگاہوں میں ڈوب کر محبت کا اظہار کرے گا۔میری ہنسی اس کے کانوں میں رس گھول دے گی اور وہ محبت میں سرشار ہو کر مجھے محبت کی وادی میں گھمایا کرے گا۔
میری محبت کی تتلیوں کو چھو کر میری محبت کو امر کرے گا۔دیکھو کیسی دیوانی ہو گئی ہوں میں کہ اپنی محبت جس کو سات پردوں میں چھپائے بیٹھی تھی اس کو اب اظہار کا لبادہ اوڑھا کر اپنے شوہر کو سونپ دینا چاہتی ہوں۔ (8.3.1976)
میری شادی کو دو دن ہو گئے ہیں۔مجھے لگا تھا میرا شوہر مجھ سے ہمکلام ہو گا تو محبت کے اظہار کو الفاظ ختم ہو جائیں گے۔مگر ایسا کچھ بھی تو نہ ہوا۔وہ خاموشی کا مجسمہ بنا رہا۔اظہار کرنا تو دور میرے اظہار کا طالب بھی نہ تھا وہ۔خاموشی کی زبان میں بھی محبت جتانے میں ناکام رہا۔شاید عزت دار گھرانوں کے شریف لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں۔خاموش محبت کرتے ہیں۔ہاں شاید۔۔۔
شرم و حیا کی چادر جو شادی سے پہلے اوڑھائی گئی شادی کے بعد اس میں گھٹن محسوس ہونے لگی ہے۔اپنے ہی شوہر کی خاموشی مجھے اب اذیت دیتی ہے۔وہ بہتر انسان ہیں سب کا خیال رکھتے ہیں۔میری بھی ضرورت کا مگر محبت کا اظہار ان سے نہ سن کر میری چاندنی ماند پڑ جاتی ہے۔میرا دل مرجھا جاتا ہے۔مگر اس میں بھی اداسی کیسی، ہر بات کا اظہار ہو جائے تو اسکی قدر کم ہو جاتی ہے۔اسکی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔اور میری اور ان کی محبت لازوال ہے۔کبھی ختم نہ ہو گی۔اور خاموشی سے ہمیشہ پروان چڑھے گی،شاید ۔
آج اتنے برس بیت گئے ہیں ۔بچے جوان ہو گئے ہیں۔بظاہر ہم ساتھ رہتے ہیں۔مگر محبتوں کی وادی میں الگ الگ بسیرا کیے ہوئے ہیں۔میری محبت کے تمام راستے ان تک جاتے ہیں۔اور انکی محبت کا راستہ نہ جانے کدھر جاتا ہے ۔کاش وہ اتنے سالوں میں ایک بار ہی کہہ دیتے کہ  نمرہ مجھے تم سے محبت ہے۔مجھے تمہارے ساتھ نے مکمل کر دیا ہے ۔مگر خیر کہنے کی بھی کیاضرورت بھلا میں جانتی نہیں کہ  ان کے تمام راستے مجھ تک ہی آتے ہیں۔ان کی خاموشی میں بے پناہ محبت ہے۔اب وہ شاعر تو ہیں نہیں کہ خوبصورت الفاظوں میں اظہار کریں اور میں جھومتی جاؤں۔عام انسان ہیں تو عام انسان یونہی محبت کرتے ہیں۔شاید۔
مگر پھر بھی۔۔۔کاش۔
(14.6.2010)

***************
کمرے میں بستر کے پاس کھڑا وہ کچھ سیکنڈ بغور دیکھتا رہا۔پھر آگے بڑھ کر اس نے سرہانے پر رکھا سر اٹھایا اور بیٹھ کر اپنی گود میں رکھ لیا۔ماتھے پر بکھرے بال اپنی انگلیوں سے پیچھے کیے۔اور یک ٹک بس دیکھتا رہا۔پھر پہلو میں رکھے پھول اور کارڈ کو دیکھا۔اور گہرا سانس لیا۔
میں تمہیں پاکر کتنا خوش تھا تم جانتی ہی نہیں تھی۔تمہاری تصویر جب سے دیکھی تمہاری ان آنکھوں میں ڈوب گیا تھا۔احمر نے نمرہ کی آنکھوں پرمحبت سے انگلی پھیری۔
تمہاری گہری جھیل سی آنکھیں, نازک ہونٹ اور خوبصورت بال مجھے اپنا دیوانہ بنا چکے تھے۔میں اس لمحے کے انتظار میں تھا کہ کب تم میرے پہلو میں بیٹھو اور میں تمہارے بالوں سے کھیلتا ہوا تم سے محبت کی اتنی باتیں کرو ں کہ الفاظ ختم ہو جائیں ۔اس نے سر کو گود میں ٹھیک کر کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
مگر شادی کی رات ہی میری ماں نے مجھے کہا کہ بیوی کو سر پر نہ چڑھانا اس کو اسکی اوقات میں رکھنا۔مرد اپنی عورت کو قابو رکھے اسی میں اس کی بہتری ہے ورنہ عورت سر پر چڑھ کر ناچنے لگتی ہے۔
میں تمہارے پاس آیا تو تم حسن کا مجسمہ بنی بیٹھی تھیں، میں ماں کی تلخی کے اثر میں تم سے دو بول محبت کے نہ بول سکا حالانکہ تمہیں پانا میری حسرت تھی کہ تمہارے سوا کچھ پانے کی چاہت ہی نہیں رکھتا تھا۔
تم میری خاموشی کے بوجھ سے خاموش رہیں۔اور آج تک خاموش ہو۔وہ محبت سے اسکے گالوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔
تم بنتی سنورتی تھیں، میں چاہتا تھا تمہیں بتاؤ تم کتنی حسین ہو۔مگر ماں کہتی تھی اس طرح بیوی مغرور ہو جاتی ہے اور پھر ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔
مجھے یاد ہے تم نے جب مجھ سے کہا تھا تمہیں گجرے پسند ہیں میں گھر آتے گجرے لایا تھا مگر وہ ماں نے دیکھ کر کہا ایسے چونچلے کرنے ہیں تو میاں الگ گھر میں رہو۔وہ گجرے میرے ہاتھوں میں ہی ایسے مرجھا گئے جیسے میرے ساتھ زندگی گزارتے گزارتے تم مرجھا گئی ہو۔
تم نے ایک بار کہا تھا نا،مجھے بالوں میں پھول لگانا پسند ہیں۔میں آنگن میں سے گلاب کا پھول توڑ کر لایا تھا مگر ماں نے کہا گھر میں چھوٹے بہن بھائی ہیں ان پر بُرا اثر پڑتا ہے کہ تم یوں پھول کمرے میں لے لے کر بھاگو۔وہ پھولوں کی پنکھڑیاں میرے ہاتھوں میں ایسے ہی ٹوٹ کر بکھر گئیں، جیسے تمہاری معصوم خواہشیں تمہاری آنکھوں میں سے وقت کے ساتھ ساتھ گرتی رہیں اور کبھی موتی نما آنسوؤں کے ساتھ لرزتی ہوئی بہتی گئیں۔
میں سوچتا ہوں کہ میرے پاس تو تمہارے ساتھ بِتائے کسی لمحے کی حسین یاد ہی نہیں ہے۔نہ ذہن میں نہ خیال میں اور نہ کسی البم میں قید کسی تصویر میں۔ہاں شاید کچھ تصاویر ہیں گھر والوں کے ساتھ مگر تمہارے اور میرے درمیان پھر بھی لوگ موجود ہیں۔تمہاری اور میری مسکراہٹ کھانے والے لوگ۔تمہاری اور میری خوشیوں کے قاتل۔پتہ نہیں خوشیوں کے قاتل خود کیوں شرم و حیا نہیں کرتے اور خود کیوں جھجھک محسوس نہیں کرتے دوسروں کی خوشیاں نگلتے ہوئے۔
مجھے یاد ہے عزت دار گھرانوں میں محفل میں شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا ہو کر تصویر تک بنوا لے تو لوگ باتیں کرتے ہیں۔عزت خراب ہوتی ہے شرم و حیا تار تار ہوتی ہے۔۔احمر کے چہرے پر اب ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی۔عزت دارہممم۔۔ اس نے نمرہ کے نرم و نازک ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں سے لگا کر پلکوں سے بوسہ دیا۔
جانتی ہو رقیہ کی شادی پر تم نے سرخ سوٹ پہنا تھا اور میں چاہتا تھا تمہیں بتاؤں تم کتنی خوبصورت ہو اور میں کتنا خوش قسمت ہوں تمہیں پا کر۔مگر اتنے عرصے کی خاموشی اور جھجھک نے میرے تمام الفاظوں کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ میرے تمام جذبات  کو موت کے گھاٹ زبردستی اتار دیا گیا تھا۔ پھر خود ہی مجھے اظہار کرتے واقعی ہی لگتا تھا کہ یہ بے شرمی ہے۔اس نے زور دار قہقہہ لگایا۔بے شرمی۔۔ تم سنو تو نمرہ ذرا۔ میاں بیوی میں شرم و حیا اور جھجھک کا عنصر بھی بھلا ہوتا ہے؟ محبت کے اظہار سے بے شرمی ہوتی ہے؟ میں محبت کا اظہا نہ کر کے بے شرم اور بے غیرت ہونے سے بچ گیا۔اور تم نے میری خاموشی کا احترام کر کے خود کو میرے سانچے میں ڈھال لیا اور مجھے بے شرم ہونے پر کبھی اکسایا نہیں۔ اب احمر کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں پانی کے چند قطرے لرز رہے تھے۔
میں نے تمہاری ڈائری کے کچھ ورق پڑھے ہیں۔ ساری ڈائری پڑھتا تو یقین جانو افسوس اور گھٹن سے وہیں مر جاتا۔میں نے پڑھے ہیں وہ اوراق جہاں تم نے شادی سے پہلے کی خواہشیں اور شادی کے بعد ان خواہشوں کے رفتہ رفتہ مرنے کا ذکر اتنے خوبصورت الفاظ  میں کیا ہے کہ میری حیا داری اور کردار کو ٹھیس تک نہیں لگنے دی۔ان باتوں کو پڑھ کر مجھے میرا وجود مجرم نہیں لگا حالانکہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ  میں مجرم ہوں تمہارا مگر تمہاری باتوں نے میری خامیوں کو خوبصورت رنگ دے کر میرا بھرم رکھ لیا۔ مگر ہاں جہاں تم نے ڈائری لکھنا چھوڑ دی اس سے آگے تمام خالی صفحات میں تمہاری خاموش سسکیاں,ٹوٹتے خواب,بکھرتی امیدیں اور مایوس زندگی کی نہ درج ہونے والی گفتگو نے مجھے تمہارا گنہگار بنا دیا۔تمہارے آخری “کاش” نے میری سانسیں  مجھ پر بھاری کر دی  ہیں۔لرزتا پانی اس کی آنکھوں کو چھوڑ کر بہنے لگا اور نمرہ کی پیشانی تَر ہو چکی تھی۔
نمرت دیکھو تمہیں گلاب پسند تھے نا مگر میری خزاں نے تمہاری بہار جوانی کو ویران کر دیا ۔میری خاموشی نے تمہارے قہقہے نگل لئے۔معاشرے کی فضول روایات میں دب کر میں تمہاری ہر خواہش کو دفن کرتا گیا اور تم نے ان کے دفن ہونے پر کبھی شکوہ تک نہ کیا۔اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔آواز بھیگ رہی تھی۔
میری پیاری نمرہ تمہیں پھول پسند تھے اور میں نے خاموشی کے کانٹے تمہارے وجود میں اتنے بھر دیے کہ تم ان کانٹوں سے بھی محبت کرتی رہیں۔میں نے اپنے سنجیدہ مزاج کی قحط سالی کو تمہاری سوچوں کی سرسبز زمین میں اس قدر اُگایا کہ  تمہاری شخصیت مکمل بنجر ہوتی چلی گئی۔اور تم پھر بھی خاموش رہیں، میری پیاری۔
تم نے میری خاموشی سے محبت کی۔تم نے میری ویرانی سے عشق کیا تم نے اپنی زندگی کے رنگ پھینک کر میری بے رنگ زندگی میں خود کو مگن رکھا۔وہ بستر سے ٹیک لگائے نمرہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا رو رہا تھا۔
مگر دیکھو نمرہ میں پھول لایا ہوں۔اس نے بستر سے پھول اٹھا کر نمرہ کے ہاتھ میں دے کر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کی۔
آج محبت کا دن ہے۔ہر طرف پھول تھے۔آج احساس ہوا کہ محبت کا اظہار کس قدر خوبصورتی سے  کرتے ہیں لوگ۔اور میں اپنی زندگی کی خوبصورتی یعنی تم سے ہمیشہ غافل رہا۔ مگر آج  دیکھو سب سے خوبصورت پھول تمہارے لئے لایا ہوں۔ اس کو قبول کر کے سالوں کے بھرے تمہارے وجود میں کانٹوں کی تکلیف شاید تھوڑی کم ہو جائے۔شاید اس پھول کی خوشبو تمہاری مردہ خواہشات کے تعفن کو کم کر دے۔شاید اس پھول کی تازگی تمہارے مرجھائے ہوئے وجود کو ہرا بھرا کر دے اور تمہارے ہرا بھرا ہوتے ہی تمہارا احمر تم سے کہنا چاہتا ہے۔
وہ نمرہ کے سر پر روتے ہوئے منہ جھکائے بیٹھا تھا۔
“مجھے تم سے محبت ہے۔میری تمام عمر کا اثاثہ تم ہو۔اپنے گناہگار کو معاف کردو”۔پھول نمرہ اور احمر کے ہاتھوں میں جکڑا ہوا تھا۔
***************
آپ کے امی اور ابو دونوں وفات پا گئے ہیں۔ڈاکٹروں نے حیرت سے پاس کھڑے نوجوان کو مخاطب کیا۔ہمیں نہیں معلوم احمر صاحب کب تشریف لائے۔آپ کی والدہ تو پندرہ دن سے کومہ میں تھیں۔اور انکے صحت مند ہونے  کی کوئی امید نہیں تھی۔مگر احمر صاحب کی یوں آمد اور اس طرح موت حیرت کی بات ہے۔
ڈاکٹر احمر کو نمرہ سے الگ کرتے ہوئے بول رہا تھا۔
احمر کا سر اٹھاتے ہوئے اسکا جھریوں بھرا چہرا آنسوؤں سے مکمل بھیگا ہوا تھا۔نمرہ کے ماتھے پر موجود تھکن,چہرے کی اداسی جو ساری عمر اسکے چہرے پر چھائی رہی حتی کہ اب اسکی جھریوں میں سے بھی چیختی نظر آتی تھی مکمل آنسوؤں سے بھیک چکی تھی۔کہیں کوئی   آنسو نمرہ کی آنکھ کے نیچے خاموشی سے چیخ کر محبت کے اس ایک پھول کو قبول کرنے کا اعلان کر رہا تھا۔
احمر اور نمرہ کے ہاتھوں میں جکڑا پھول نکالنے کو ان کے بیٹے نے روتے ہوئے ہاتھ کھولا ،کانٹے احمر کے ہاتھوں میں چبھ چکے تھے۔بیٹے نے پاس پڑا کارڈ اٹھایا جس پر درج تھا
“کاش محبت کا ایک پھول کبھی تمہیں عطا کر سکتا مگر میں تمہارے محبت کے تمام پھولوں کو مسل چکا ہوں۔میں تمہیں تمام عمر محبت کا ایک پھول تک نہ دے سکا حتی کہ  محبت کے لفظوں  کے پھول بھی تمہارے دامن میں نہ بھر سکا۔مگر آج یہ صرف ایک محبت کا پھول قبول کر کے اپنے گنہگار کو معاف کردو”
تمہارا احمر
جو تمہارا ہو کر بھی تمہارا نہ ہونے دیا گیا
“اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا”

ڈاکٹر کے فون پر مسلسل بجتی رنگ ٹون اب ڈاکٹر کے کمرے سے نکل جانے کے بعد دھیمی سنائی دے رہی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *