اچھی صورت بھی کیا بُری شئے ہے/ارشد ابرارارش

ایک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں ، ایک خیال ہے جس کا کوئی وجود نہیں ، ایک جیون ہے جو زیست کے پنوں میں کہیں شامل نہیں ، ایک راستہ ہے جس کے اختتام پر کوئی منزل نہیں ۔
ایک طبقہ ہے جو سانس بھی لیتا ہے اور زندگی کی بھونڈی سی نقل بھی اتارتا ہے مگر وہ قابل تکریم نہیں ، لائق تعظیم نہیں ، ان کے بچوں پر پیار نہیں آتا ، ان کے بزرگ محترم نہیں ہوتے اور ان کی عورتیں صرف آنکھوں کی عیاشی کیلئے ہوتی ہیں۔
”لاچی “ اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے اسی ماحول کی پروردہ ہے مگر وہ سب سے الگ ہے ،جدا ہے ، منفرد ہے
وہ تکریم کی متقاضی ہے وہ اپنے بدن کے ہر نشیب و فراز پر رینگتی حریص نگاہوں میں بھی اپنی ذات کا احترام ڈھونڈتی پھرتی ہے کیونکہ وہ لاچی ہے ۔۔۔
اپنے قبیلے کی سب سے جدا لڑکی ۔ وہ غیور ہے اور حسن سے بھرپور ہے ۔ اس کا حسن دو آتشتہ ہے دو دھاری تلوار ہے ، وہ اپسرا ہے یا پھر اپنے وقت کی قلوپطرہ ہے ۔
کرشن چندر لکھتے ہیں کہ پری پیکر لاچی اس قدر خوش جمال ہے کہ
”وہ اگر لڑکی نہ ہوتی تو سیب کا درخت ہوتی ،
ہمالہ کی برف پوش چوٹی ہوتی
یا سمندر کی گہرائی  میں مخفی کورل کا گلابی محل ہوتی“۔
لاچی جس قوم قبیلے سے متعلقہ ہے وہاں کی عورتیں دن میں عینکیں اور ٹوپیاں بیچتی ہیں ۔
ان کے مرد دن بھر ریلوے سٹیشنوں پر ٹوکریاں بیچتے ہیں اور اگر یہ دھندا قدرے مندا پڑنے لگے تو اپنی عورتوں کا حسن اور شباب بھی فروخت کرتے ہیں
ایسے ہی دھوپ دے بھرے ہوۓ ایک دن لاچی کا جواری باپ اپنی بیوی اور بیٹی لاچی کو جوۓ میں ہار جاتا ہے ۔
اب دستور مطابق لاچی کو اپنی ماں سمیت سردار کے ساتھ رہنا ہے یا پھر جوۓ میں ہاری ہوئی تین سو روپے کی خطیر رقم ادا کرنی ہے ۔
مگر لاچی خود دار ہے ، باوقار اور باکردار ہے اور اپنی عصمت و عظمت کی خود محافظ ہے
وہ مزدوری کرتی ہے ، پائی پائی اکٹھی کرتی ہے اور اپنے بدن کے بدلے باپ کی ہاری ہوئی قیمت اور دیت کی رقم جوڑنے میں لگ جاتی ہے اور یہی اس ناول کی مکمل کہانی ہے ۔
”تین سو روپے “ جوڑنے کے اس طویل سفر میں وہ اپنے آس پاس لوگوں کے رویے بدلتے دیکھتی ہے ، بے شمار چہروں سے نقاب الٹتے دیکھتی ہے اور اسی سفر میں ہی وہ ایک بلوچی لڑکے ” گل “ کی محبت میں بھی مبتلا ہوتی ہے ۔
وہ ناچتی ہے ، گاتی ہے ، بھیک مانگتی ہے ، چھوٹی موٹی چوریاں کرتی ہے اور پیسے جوڑتی رہتی ہے ۔
لاچی کے ارد گرد بکھری ہوئی دنیا کے حرص و ہوس میں لپٹے ان گنت چہروں میں ” گل “ وہ واحد انسان ہے جو لاچی کے پرفتنہ شباب سے بالاتر اس سے پاک پوتر محبت کرتا ہے اور وصال شب کی گھنگھور تاریکیوں میں بھی اپنی حدود و قیود کی پاسداری قائم  رکھتا ہے ۔
وہ لاچی سے شدید محبت کرتا ہے اور لاچی گُل کی محبت میں دنیا تیاگ دینے کو بھی تیار ہے مگر وہ جانتی ہے کہ اپنے بدن کے قرض میں جکڑی ہوئی لڑکیاں خوابوں کے شہزادوں سے تب تک جدائی برداشت کرتی رہتی ہیں تاآنکہ وہ مکمل آزاد نہ ہو جاٸیں ۔ وگرنہ ہر سانس میں اٹکی پھانس سی زندگی ، محبت کے مخمور لمحے بھی برباد کر دیتی ہے ۔
مگر قدرت کے اصول بھی انوکھے ہیں ، قسمت کے فیصلے کچھ الگ اور انسانی سوچ سے بہت آگے ہوتے ہیں ۔
خود داروں اور احساس کے ماروں کی آزمائشیں بھی بڑی سخت اور کڑی ہوتی ہیں
لاچی کی ہر تدبیر کے برعکس تقدیر ایک ہی کاری وار کرتی ہے ایک ہی داؤ کھیلتی ہے اور اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے لا پھینکتی ہے ۔
لاچی کا حسن فتنہ ہے ، قیامت ہے اور یہاں جیل میں پھر سے وہی حریص نگاہیں ہیں ، بدبودار رویے ہیں ،رال ٹپکاتے لہجے ہیں اور وجود میں چھید کرتے جملے ہیں ۔
حسن تو ڈھلتا سورج ہے بالاخر گہنا جاتا ہے، شام کا سایہ ہے سمٹ جاتا ہے
ڈورتھی پارکر تو کہتے ہیں
” خوبصورتی صرف ایک بیرونی تہہ ہے مگر بدصورتی ہڈیوں تک گھس جاتی ہے “
لاچی بھی جیل کی صعوبتیں سہتے سہتے لاغر ہو جاتی ہے ۔ اب وہ رعنائی نہیں رہی ، اب وہ کسی کی منظور نظر نہیں ہے کیونکہ چیچک کے داغ لاچی کے صبیح چہرے پر اپنا جال بکھیر چکے ہیں اور وہی لاچی جو کبھی پلکیں اٹھاتی تو دیکھنے والے دل تھام کے رہ جاتے ، قافلے ٹھہر جاتے ، مسافر اپنی راہ سے بھٹک جاتے ۔۔۔ وہی لاچی اب اپنا چہرہ چھپاۓ جیل کی کال کوٹھڑیوں میں زندگی کے آخری ایام انگلیوں پر شمار کر رہی ہے ۔
طویل عرصے بعد ، ایک دن اس کی سزا کا اختتام ہوتا ہے ، انگلیوں پر شمار کیے ہوۓ دنوں کی گنتی مکمل ہوتی ہے اب وہ ایک آزاد شہری ہے ،
اب اسے ” گل “ کے ساتھ خواب دیکھنے ہیں ۔
اپنی زندگی میں نام و مقام بنانا ہے ، کسی پہاڑ کے پہلو میں پھیلی ہوئی سبز وادی کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سا گھر بسانا ہے اور زندگی کے باقی ماندہ دن اپنی محبت اور محبوب کی آغوش میں بسر کرنے ہیں
مگر ۔۔۔ اب اتنے سالوں بعد وہ گل ۔۔۔ وہی گل نہیں رہا ۔
اب لاچی اس کیلیے حسن کا استعارہ نہیں رہا اور اب وہ لاچی کی محبت کا مارا رہا ۔
یہاں مجھے جون ایلیا بڑی شدت سے یاد آتے ہیں ۔
مت کرو بحث ہار جاؤ گی
حسن اتنی بڑی دلیل نہیں ۔
ناول ۔۔۔ ایک عورت ہزار دیوانے
مصنف : کرشن چندر

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply