بیٹی جاگیر نہیں/ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

کیسا عجب دکھ ہے نا کہ آپ کو جو اجازت آپ کا مذہب دے رہا ہے ، آپ سے وہی اجازت آپ کے گھر والے چھین لیں۔ آپ کے گھر والے جو اسی مذہب کے ماننے والے ہیں اور اس مذہب کے نام پہ مرنے مارنے کو تیار ہیں، وہی گھر والے آپ کو وہ اجازت نہیں دے رہے جو اس مذہب کے مطابق آپ کا حق ہے۔

آپ اپنی پسند سے ان کی مرضی کے خلاف شادی کرتے ہیں، قانون اور مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے، کوئی گناہ نہیں کرتے، کوئی جرم نہیں کرتے، بس شادی کرتے ہیں لیکن آپ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے آپ کے ماں باپ بہن بھائی آپ کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں۔

آپ ان سے دور رہ کے اپنی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ ایسے میں ڈیڑھ سال گزر جاتا ہے، ڈیڑھ سال۔۔۔ اتنے میں تو لوگوں کا غصہ ٹھنڈا ہو ہی جاتا ہے، دشمنی کی آنچ پہ پکتی نفرت بھی مدھم ہو جاتی ہے، لوگ مخالفتیں بھول جاتے ہیں۔ ڈیڑھ سال بعد آپ کا خاندان ، آپ کا قبیلہ ، آپ کے گھر والے آپ کو دعوت پہ بلاتے ہیں۔ آپ خوشی سے پھولے نہیں سما پاتے کہ گھر والوں نے نفرت کی دیوار ختم کر کے بالآخر آپ سے تعلق بحال کر لیا۔

آپ خوشی خوشی دعوت قبول کر کے واپس جاتے ہیں لیکن وہاں محبت نہیں نفرت کی آگ جل رہی ہے۔ وہ نفرت جس میں کوئی مذہب ، کوئی قانون آپ کے سامنے نہیں آتا، آپ کے لیے رکاوٹ نہیں بنتا۔ آپ اس نفرت کو غیرت کا نام دے کر قبیلے کے جوانوں کو پگڑیاں پہناتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں اسلحہ دیتے ہیں۔ وہ بیٹی جسے آپ غیرت کا نشان سمجھ رہے ہیں، جس کے جائز اور قانونی طریقے سے شادی کرنے کو آپ جرم سمجھ رہے ہیں، اسی بیٹی کو قبیلے کے مردوں کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔

وہ بیٹی جو جانتی ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، جو اپنے پیاروں کی دعوت پہ ان کی محبت میں وہاں آئی تھی ، وہ بیٹی جس کا دل آپ کے رویے سے کرچی کرچی ہوا ہو گا ، اس کے قدم لرزتے نہیں اور وہ سکون سے چادر اوڑھے آپ کے سامنے سکون سے چلتی جا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کے ہاتھ سے قرآن چھین لیا جاتا ہے، چھیننے والا اس قرآن کو چومتا ہے لیکن اس قرآن کے احکامات پہ غور کرنے کا ، عمل کرنے کا سوچتا نہیں۔
وہ بیٹی بس مضبوط آواز میں اتنا کہتی ہے کہ
“آپ کو گولی مارنے کی اجازت ہے، اور کسی چیز کی نہیں”

وہ سکون سے سامنے جا کر منہ دوسری طرف کرکے کھڑی ہو جاتی ہے اور باغیرت گھٹیا مرد اس کی کمر پہ گولی مار کر اپنی بہادری ثابت کرنے کے لیے پوزیشن سنبھال لیتے ہیں۔ پہلی گولی لگتی ہے، وہ بیٹی ،مضبوط بیٹی ، بہادر بیٹی ، بیگناہ بیٹی چیختی نہیں ، رحم کی بھیک نہیں مانگتی ، گولی لگنے پہ روتی نہیں ، پلٹتی نہیں ، بس خاموشی سے ویسے ہی کھڑی رہتی ہے۔ وہ خاموشی جو گولیاں مارتے ، زور سے دھاڑتے ان سب مردوں پہ بھاری ہے۔ دوسری گولی لگتی ہے ، تیسری گولی لگتی ہے اور وہ بیٹی بالآخر وہیں نیچے گر جاتی ہے ، کوئی شور کیے بغیر ، کوئی رونا دھونا کیے بغیر۔۔۔۔

اور وہ بے غیرت مرد جو اس بیٹی کو اپنی جاگیر سمجھتے تھے، اس کی لاش پہ گولیاں برسا کر اپنے لیے غیرت کا تمغہ کمانے لگتے ہیں۔ بیٹی کو دھوکے سے بلا کر اس کی جان لے کر خوشیاں منانے والے بھیڑیے سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے دنیا فتح کر لی ہے۔ پھر اس بیٹی کے شوہر کو بھی قتل کیا جاتا ہے تاکہ غیرت کا مینار بلند کیا جا سکے۔ دو بےگناہ جانیں لے کر اپنے آپ کو فاتح سمجھنے والے ان سب ذلیل نسل کے مردوں پہ تُف۔۔۔

julia rana solicitors london

لیکن یہ بے غیرتی کسی ایک قوم کی میراث تو نہیں ، ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی تو پنجاب میں ایک بیٹی کو کو گلا دبا کر مارنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ ہمارے معاشرے میں ان بیٹیوں کا کہاں استحصال نہیں ہو رہا ، ان پہ کہاں ظلم نہیں کیا جا رہا۔ ہم معاشرہ  نہیں بدل سکتے لیکن ہم اپنے گریبان میں تو جھانک سکتے ہیں نا۔ یہ تو دیکھ سکتے ہیں نا کہ ہم یا ہماری فیملی اپنے گھر کی بچیوں پہ کوئی ظلم تو نہیں کر رہے ، انجانے میں ان کا کوئی حق تو نہیں کھا رہے۔ کیا ہم انھیں وراثت میں پورا حق دے رہے ہیں، کیا ہم انھیں تعلیم تربیت کا پورا حق دے رہے ہیں، کیا ہم انھیں پسند کی شادی کا حق دے رہے ہیں۔ کیا جو اجازت انھیں ہمارا مذہب اور قانون دیتا ہے ، وہ ہم بھی دے رہے ہیں یا نہیں؟

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply