یوم آزادی اور ایک پاکستانی کی دیار غیر میں موت

خلیل میرے بہت اچھے دوست ہیں ۔ گزشتہ دس سال سے استنبول ترکی میں مقیم ہیں۔ خلیل نسلاً افغانی ترکمان ہیں جو کہ بچپن میں اپنے خاندان کےساتھ افغانستان سے پاکستان آگئے تھے۔ پاکستان میں کراچی کے علاقے مہاجر کیمپ میں آٹھ سال گزارے یہیں سے نیو ٹاؤن مدرسہ سے درس نظامی مکمل کیا ۔ پھر خاندان کے ساتھ ترکی ہجرت کر گئے ۔ یہ دس سال سے وہاں مقیم ہیں اور ترکی، عربی، فاسی، اردو اور پشتو زبانیں جاننے کی بدولت وہاں ترجمان کا کام کرتے ہیں ۔ پاکستان کو یہ آج بھی اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں اور پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت بھی رکھتے ہیں ۔ ترکی میں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو یبانجی کہا جاتا ہے اور یہاں ان کو قدم قدم پر مترجم کی ضرورت پڑتی ہے۔ خلیل بھی بہت مصروف رہتے ہیں، اور کاموں کے ساتھ ساتھ انہیں ترک عدالتوں میں بھی بلایا جاتا ہے جہاں یہ ترجمان کے طور پر فرائض انجام دیتے ہیں۔
یہ 30 جولائی بروز اتوار کی بات ہے کہ انہیں عدالت سے پیغام موصول ہوا کہ قتل کے ایک مقدمہ میں کل آپ کی خدمات درکار ہیں ، یاد رہے کے ترکی میں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے لیکن اسکے باوجود انہیں کال کی گئی ۔ پیر کو یہ عدالت پہنچے تو پتا چلا کہ مقتول ترکی میں مقیم ایک غیر قانونی پاکستانی ہے جو کہ گجراں والا کے کسی نواہی گاؤں کارہنے والا تھا۔ محمد عثمان نامی یہ تیس سالہ نو جوان سینکڑوں اور پاکستانیوں کی طرح ترکی کے راستے یورپ جانا چاہتا تھا لیکن بدقسمتی سے اپنے ہی گاؤں کے دیگر پانچ افراد کے ہاتھوں یرغمال بنا کر ایک گھر میں قید کر دیا گیااور تاوان نہ دینے کی صورت میں قتل کر دیا گیا۔ اب ترکی میں پولیس پاکستان کی طرح موٹے پیٹوں پر گندی وردیاں ڈالے چوراہوں پر موٹر سائیکلیں روک کر پچاس پچاس روپے تو جمع کرتی نہیں ہے، سو تمام کے تمام پانچ مبینہ قاتل اگلے ہی دن گرفتار کر لیئے گئے اور اس سے اگلے دن عدالت میں پیش کر دئیے گئے، جہاں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مقتول انہیں کے گھر میں مقیم تھا اور قتل ایک دوسرے پر ڈالنے لگے، اسی دوران عدالت کے حکم پر خلیل کی مقتول کے لواحقین سے بات کرائی گئی جنہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو یرغمال بنا کر تاوان مانگا جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے بعد عدالت نے ملزمان کو مزید کاروائی کے لیئے جیل بھیج دیا ۔ لیکن اصل کہانی اسکے بعد شروع ہوتی ہے۔
اس واقعہ سے دو دن بعد خلیل کو استنبول میں موجود پاکستانی کونسل خانے سے کال موصول ہوتی ہے اور اس مقتول کی لاش کے بارے میں معلومات مانگی جاتی ہیں جس پر خلیل اس عدالت کا پتا بتاتے ہیں جس میں وہ مقدمہ چل رہا تھا۔ اگلے روز پھر کال آتی ہے کہ آپ خود عدالت سے پتا کرکے ہمیں بتا دیں، اسکے علاوہ مقتول کے لواحقین بھی دسیوں بار مدد کی درخواست کرتے ہیں ۔ خلیل ہمدردی کے تحت کسی طرح عدالت سے پتا کرواتے ہیں پھر اس ہسپتال تک پہنچتے ہیں جہاں مقتول مردہ خانے میں موجود ہوتا ہے، لیکن اس کارروائی میں دس روز گزر جاتے ہیں ۔ آخر کار خلیل دسویں دن پاکستان قونصلیٹ کے ایک افسر کو اگلی صبح ہسپتال آنے کا کہتے ہیں اور اگلی صبح خود بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن افسر نہ خود پہنچتا ہے اور نہ ہی فون اٹھاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ انقرہ میں پاکستانی ایمبیسی کو کال کرتے ہیں لیکن وہاں سے بھی فون نہیں اٹھایا جاتا ۔
تنگ آکر وہ مقتول کے لواحقین کو جو ،کہ اب لاہور میں ہوتے ہیں اور روز ترک قونصلیٹ کے چکر لگا رہے ہوتے ہیں کو فون پر کہتے ہیں کہ آپ لوگ ترک قونصلیٹ میں ثبوتوں کے ساتھ ایک خط جمع کرادیں کہ فلاں ہسپتال میں خلیل نامی آدمی موجود ہے ۔ محمد عثمان کی لاش اس کے حوالے کی جائے ۔ میں خود میت آپ تک پہنچا دونگا۔ لواحقین ایسا ہی کرتے ہیں اور اس خط پر خلیل کو لاش کو شناخت کرنے کی منظوری مل جاتی ہے۔ یہی نہیں وہ وڈیو کال کرکے مقتول کے گھر والوں کو لاش کی شناخت بھی کراتے ہیں ۔
اسی دوران وہاں پاکستانی قونصلیٹ کا ایک افسر آموجود ہوتا ہے اور بجائے خلیل کاشکریہ ادا کرنے کے اس پر پاکستانی کی لاش بغیر اجازت لیجانے کا الزام لگا دیتا ہے اور پولیس کو بلانے کی دھمکی بھی دیتا ہے لیکن اسی جھگڑے کے دوران وہ افسر بھی آجاتا ہے جس سے خلیل کی بات ہوچکی ہوتی ہے اور معاملہ رفع دفع ہوتا ہے اور آخر کار قتل کے تیرہ دن کے بعد لاش پاکستان روانہ کردی جاتی ہے۔
اگر آج سترھویں یوم آزادی کے موقع پر آپ غور کریں تو اس واقعہ سے بہت سےایسے نکتے نکلتے ہیں جو کہ ناصرف ہمارے قومی مزاج کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔پہلا نکتہ ہمارا پیسہ کی خاطر کسی بھی حد تک گرجانا ظاہر کرتا ہے ۔ یعنی آپ غور کریں تو ایسے ان پڑھ لوگ جنہیں پتا ہے کہ استنبول میں چپے چپے پر کیمرے لگے ہیں ایک لاش کو کندھے پر اٹھا کر کچرےخانے میں پھینکتے ہیں اور اگلے ہی دن گرفتار ہو جاتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ پتا ہے کہ اپنے ہی گاؤں کے بندے کو یرغمال بنا کر پیسے کمائے جاتے ہیں۔ اب اگر ایسے ملک میں حکمران اگر حاجیوں کولوٹ لیں تو تعجب نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ بھی اپنے ہی لوگ ہیں۔
دوسرا نکتہ یہ کے ہمارے ملک میں key positions پر چن کر نا اہل لوگوں کو مقرر کیا جاتا ہے۔ بلکہ میرا خیال ہے کے سستی اور نا اہلی کا خاص کورس کرا کر مقرر کیا جاتا ہے ۔ آپ ذرا مستعدی چیک کریں کہ جہاں بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ملک محض دو دن میں اپنے ملک کے لوگوں کی لاشیں بھجوا دیتے ہیں، وہاں ہمارے حکام دو ہفتے لیتے ہیں اور لاش ڈھونڈنے کے لیئے بھی ایک افغان مترجم کے محتاج ہیں۔
تیسرا نکتہ کسی کوتاہی و نااہلی کی صورت میں کسی سے جواب طلبی و احتساب کا نا ہونا ہے۔ انگریزوں کے جانے کے بعد ان کالے انگریزوں نے ملک پر قبضہ جمایا ہوا ہے جو کسی کو اپنی نا اہلی، سستی کا جواب دینے کے مجاز ہی نہیں ہیں ۔
چوتھا نکتہ ہمارے محسن کش رویے کو ظاہر کرتا ہے ۔ ہمارے حکام بالا اپنی حرکتوں سےدانستہ یا غیر دانستہ ایسے حالات بنا دیتےہیں کہ کوئی ہماری مدد کرنا چاہے تو بھی دامن اور عزت بچا کر نکل جائے۔
پانچواں اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ آزادی ملنے کے ستر سال بعد بھی ہمارے حالات ایسے ہیں ایک بندہ اپنا گھر بار، خاندان، گاؤں وغیرہ کو چھوڑ کر انہی کی طرف بھاگتا ہے جن سے ستر سال پہلے آزادی حاصل کی تھی اور بھری جوانی میں مارا جاتا ہے۔ یہ کہانی ایک محمد عثمان کی نہیں بلکہ ہزاروں ان لوگوں کی ہے جو یونان کے سمندروں میں غرق ہو گئے یا بلغاریہ کے جنگلوں میں گمنامی کی موت مارے گئے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان میں لوگ اتنے خوشحال ہوتے کہ اس طرح لاوارث موت مرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی لیکن افسوس ہم نے ستر سال میں رائیونڈ کی جاگیریں، سرے محل، فام ہاؤس وغیرہ تو بنا لیےلیکن محمد عثمان کو دو وقت کی عزت کی روٹی بھی نہ دے سکے ۔ چلو آج چودہ اگست ہے تو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر تحریر کو ختم کرتے ہیں ۔
نوٹ: میں پاکستانی قونصلیٹ کے بارے میں اور بھی بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا لیکن خلیل بھائی نے مجھے زیادہ سخت تحریر لکھنے سے منع کیا کہ ممکن ہے تحریر پڑھ کرقونصلیٹ کے حکام آئندہ کسی ضرورت مند کی مدد کے لیئے ان سے رابطہ نہ کریں ۔اپلوڈ کی جانےوالی تصویر محمد عثمان مرحوم کی ہے۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *