رات کی تہہ در تہہ خاموشی میں جب دنیا نیند کی آغوش میں کھو جاتی ہے، کچھ دل ایسے ہوتے ہیں جو بیدار رہتے ہیں۔ مگر یہ بیداری مکمل نہیں ہوتی، اور نہ ہی وہ نیند جس میں یہ دل ڈوبنے کی تمنا کرتے ہیں۔ ایک عجیب سی کیفیت ہے، جسے نہ نیند کہا جا سکتا ہے، نہ جاگنا؛ شاید اسے نیم شب کا المیہ کہا جا سکتا ہے۔
یہ وہ لمحے ہیں جب وقت خود کو دہراتا ہے، سانسیں ایک بےترتیب ساز بن جاتی ہیں، اور دل یادوں اور خوابوں کے درمیان معلق رہتا ہے۔ ایک ایسی رسی پر، جس کے دونوں کنارے دھند سے لپٹے ہوں۔
آدھی نیند کا تجربہ کسی قدیم، خاموش مزار پر پڑے ہوئے ماضی کی مانند ہے، جو بولنا چاہتا ہے مگر زبان نہیں رکھتا۔ اور آدھی جاگ، جیسے کسی شکستہ دل شاعر کی نظم ہو، جو ہر مصرعے میں اپنے کرب کو دفن کر چکا ہو۔
سوئیں تو خواب آن جکڑتے ہیں؛ کچھ مکمل، کچھ ادھورے، اور کچھ اتنے سچے کہ جاگنے سے ڈر لگتا ہے۔ خواب جو وقت کے اس پار بسا کوئی گاؤں دکھاتے ہیں، جہاں زندگی زندہ دلی سے منسوب تھی- جہاں کسی مسکراہٹ نے دل کو پہلی بار محبت کے مفہوم سے آشنا کیا تھا۔ وہ خواب جہاں سب کچھ سچ لگتا ہے، حتیٰ کہ وہ بھی جو حقیقت میں کب کا رخصت ہو چکا۔
مگر جاگ جائیں تو یادیں سامنے کھڑی ہوتی ہیں، خاموش، پُراثر، کسی ماتمی جلوس کی مانند۔ وہ یادیں جو وقت کے پتھروں پر کھدی ہوتی ہیں؛ جنہیں نہ مٹایا جا سکتا ہے، اور نہ ہی بھلایا جا سکتا ہے-
یادیں اور خواب؛ زندگی کے دو ایسے پہلو ہیں جو لمحہ موجود کو جینے نہیں دیتے۔ ایک ماضی کا بوجھ ہے، تو دوسرا خواہشات کا دھواں۔
اور ہم؟ ہم درمیان میں بند مٹھی کی مانند، جس میں کچھ ہے بھی نہیں اور کھلنے سے بھی ڈرتی ہے۔
آدھی نیند دراصل وہ داخلی کیفیت ہے جب ہم حقیقت سے بھاگ کر خوابوں میں پناہ لینا چاہتے ہیں، اور آدھی جاگ اس وقت کی آواز ہے جو ہمیں پکارتا ہے کہ “لوٹ آؤ، زندگی تم سے گریز کر رہی ہے۔”
یہ کیفیت، ایک روحانی خلاء ہے؛ ایسا خلا جو انسان کو اس کی تنہائی سے روشناس کراتا ہے، اور پھر اس تنہائی کو بھی اجنبیت میں بدل دیتا ہے۔
کبھی کبھی لگتا ہے کہ انسان کو نیند سے زیادہ کسی “یقین” کی ضرورت ہے۔
یقین کہ خواب اگر آئے تو صرف منظر ہوں، ماضی نہ ہو۔
یقین کہ جاگیں تو یادیں قدموں کی زنجیر نہ بنیں۔
لیکن کیا یہ ممکن ہے؟
شاید نہیں۔ کیونکہ یاد اور خواب دونوں ہی وہ آئینے ہیں جن میں ہم خود کو تلاش کرتے ہیں، اور جب کچھ نہ ملے تو ان آئینوں کو ہی چومنے لگتے ہیں۔ یہ وہ خود فریبی ہے جو ادب کو جنم دیتی ہے، اور وہ دکھ ہے جو شاعری کو معنی بخشتا ہے۔
کبھی کبھی مجھے دھیمی سی سرگوشی سنائی دیتی ہیں جیسے کوئی کہتا ہو، “اے نیم شب کے مسافر، جان لے کہ یہ کشمکش صرف تیری نہیں، بلکہ ہر اس دل کی ہے جو کبھی ٹوٹا ہو، ہر اس آنکھ کی جو کبھی بھیگی ہو، اور ہر اس روح کی جو کبھی خوابوں میں کسی کے لمس کو محسوس کر چکی ہو-”

زندگی کے اس مختصر سفر میں، آدھی نیند اور آدھی جاگ کا لمحہ شاید سب سے سچا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ لمحہ ہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھاتا ہے- وہ چہرہ جو نہ دن کی روشنی میں دکھائی دیتا ہے، نہ رات کی تاریکی میں- یہ چہرہ صرف اُس لمحے دکھائی دیتا ہے، جب دل اور دماغ ایک دوسرے کو نہیں جانتے، اور صرف یادیں اور خواب باقی رہ جاتے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں