وفا جن کی وراثت ہو۔۔۔(قسط3)سید شازل شاہ گیلانی

وفا جن کی وراثت ہو۔۔۔(قسط2)سید شازل شاہ گیلانی

“بیٹا شاپنگ کر لی مکمل ؟ ” ماں جی نے لاؤنج کے صوفے پر بیٹھی ہوئی سعدیہ سے پوچھا جو تھکی تھکی سی دکھائی دے رہی تھیں۔ انہوں نے نظر کی عینک اتار کر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے پوچھا اور کتاب بند کر دی۔
“جی ماں جی تمام سامان لے لیا ہے، کاش علیم بھی عید کے موقع پر ہمارے ساتھ ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا نا, ان کے سب دوست چھٹی لیکر گھر پہنچ رہے ہیں لیکن صرف وہی نہیں آ رہے ” سعدیہ روہانسی ہو رہی تھیں ۔
“بیٹا اداس مت ہو اس کی جاب ایسی ہے اور پھر تم جانتی تو ہو کہ وہ اپنے فرض پہ کسی بھی چیز کو مقدم نہیں مانتا, آجائے گا عید کے بعد پھر تم اس کے ساتھ اپنی امی کے ہاں ہو آنا کافی عرصے سے تم نہیں گئی ہو ،ان کو اچھا لگے گا”۔۔ماں جی نے محبت بھرے انداز میں نا صرف سعدیہ کو تسلی دی بلکہ اسے مستقبل کے کچھ حسین لمحوں کی امید بھی تھمادی۔ یہی تو ہمارے بزرگوں کا خاصا ہے کہ وہ غیر محسوس انداز میں تسلی دینے کے ہنر سے واقف ہیں۔
“جی امی میں بھی یہی سوچ رہی تھی” سعدیہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سر علیم کسی بھی نتیجے کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ دوسری طرف زین اپنا کام بہت عمدگی سے سر انجام دیتا چلا جا رہا تھا,
” سر آج تو PSR-90 بھی سوچ رہی ہوگی کہ کس کے ہاتھ آ گئی ہوں ”
عصمت صاحب دبی سی ہنسی ہنسے ۔
“یار یہ میرا فیورٹ ہتھیار ہے دشمن کی پوزیشن اور اینگل بتاتے رہیں میں دیکھ لیتا ہوں ان کو” اس نے ٹھنڈے انداز میں جواب دیا۔

حکمتِ عملی کے مطابق وہ لوگ سمٹتے سمٹتے اب درّے کے پاس پہنچ چکے تھے میدان میں جا بجا زخمی اور لاشیں بکھری ہوئی تھی۔ جیسے ہی ان کو اوٹ میسر ہوئی انہوں نے آر پی جی لوڈ کرنا شروع کر دئیے۔۔

” سر وہ اوٹ کی طرف ہیں اور میرا اندازہ ہے اب آر پی جی کا فائر ہوگا” حوالدار اللہ بخش نے کہا جو سر علیم کے شانہ بشانہ آگے بڑھ رہا تھا۔
“تم مجھے کور فائر دو اور زین کو پاس کرو کہ درّے سے کوئی نہ نکلے، اپنی تمام طاقت وہاں پہ لگا دے ایک بھی زندہ نہ بچ کے جانے پائے۔۔
“جی سر میں پاس کروا رہا ہوں” حوالدار اللہ بخش نے جواب دیا

وہ ہدایات دیتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک سنسناتی ہوئی گولی نے حوالدار اللہ بخش کا شکار کر لیا, وہ پیٹ پہ ہاتھ رکھے نیچے جھکتا چلا گیا۔

” اللہ بخش کیا ہوا تمہیں؟ تم رک کیوں گئے ؟؟” انہوں نے مڑے بغیر پوچھا۔
“کچھ نہیں سر آپ دھیان سے آگے بڑھیں، میں ٹھیک ہوں” یہ کہہ کر وہ جیسے ہی سیدھا ہوا ایک اور گولی اس کی چھاتی میں گھستی چلی گئی  اور وہ اُلٹ کر زمین پر گرا۔

“اللہ بخش ……….” سر علیم نے اس بار اسے گرتے دیکھ لیا تھا۔ سینے اور پیٹ سے خون بھل بھل نکل کر اس کی وردی کو سرخ کر رہا تھا
سر علیم کے گلے سے غراہٹ نکلی ” اللہ بخش؟” وہ پکارتے ہوئے تیزی سے بھاگ کر اسکی طرف آئے, وہ سانس لے رہا تھا اٹکتی سانسوں میں جواب دیا۔
” سر مجھے چھوڑیں آپ ان کو دیکھیں اگر ایک اور ٹریسر فائرداغا گیا تو ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا ۔ہمارے گرد دشمن کا گھیرا تنگ ہو چکا ہے کچھ ہی دیر میں ہم سب انکے نشانے پہ ہوں گے ، آپ میری فکر نہ کریں ، اور وقت ضائع نہ کریں” اللہ بخش پھنسی پھنسی سی آواز میں بمشکل بولا۔
” اللہ بخش حوصلہ رکھو تمہیں کچھ نہیں ہوگا” میرے شیر ،انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا۔وہ اس وقت کرب کے عظیم تر احساس سے گزر رہے تھے۔ اپنے سامنے اپنے ہی ہاتھوں میں اپنے ساتھی کو شہادت دیتے دیکھنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
” اپنی کوئی آخری خواہش بتاؤ اللہ بخش؟” انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اللہ بخش کے پاس وقت کم ہے۔ضبط سے ان کی آنکھوں کی لالی گہری ہوتی جارہی تھی۔
” سر . . . میری بیٹی ہمیشہ مجھے کہتی تھی کہ بابا آپ نے اپنے سینے پہ گولی کھانی ہے، اس کو بتا دینا .۔۔.کہ تیرے بابا نے تجھ سے کیا وعدہ وفا کر دیا ہے۔۔۔ سر۔۔ میں نے اپنا فرض اور وعدہ پورا کر دیا اللہ نے چاہا تو جنت میں ملاقات ہوگی ۔۔ اَشہَدُ اَن لَا اِلٰہ اِلّا اَللّہ”
ساتھ ہی اس کا سر ڈھلک گیا۔

علیم سر نے اسکی آنکھوں پہ ہاتھ پھیر کر انہیں بند کیا اور آواز دی
” عامر صاحب ۔۔۔۔ ” وہ ان سے کچھ ہی دور اپنی پوزیشن سنبھالے فائر کر رہے تھے۔ ” جی سر کیا ہوا ؟؟”
” اللہ بخش شہید ہو گیا ہے باقیوں کا پتہ کریں کہ ہمارا کتنا نقصان ہوا ہے ؟ ” اچانک سے ایک ناقابلِ برداشت تھکن ان کے وجود کو چیرنے لگی تھی۔
” یس سر ” ابھی یہ گونج تھمی نہ تھی کہ آر پی جی کا فائر ہوا راکٹ سیدھا وہاں آیا جہاں عامر صاحب اور دوسرے لڑکے موجود تھے, انہوں نے دھماکے کی روشنی میں عامر صاحب , نائیک اسماعیل اور توقیر کو تنکوں کی طرح ہوا میں بکھرتے دیکھا ۔ ” صاحب۔۔ ان کے حلق سے ایک چیخ نکلی ،جو فضا میں بازگشت کی صورت ابھری ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” سر عامر صاحب سے کمیونیکیشن نہیں ہو پا رہا, آر پی جی فائر ہوا ہے۔ اللہ خیر کرے، اس گروپ کی طرف سے فائر ریٹ بھی بہت سلو ہو گیا ہے ۔ میں ایل ایم جی کھول رہا ہوں۔ آپ کے سامنے اب جو بھی آتا ہے اس کا صفایا کرتے جائیں ” عصمت صاحب نے زین کو ہدایات دیتے ہوئے کہا۔
” ہاں صاحب میں سنبھالتا ہوں، آپ پوزیشن پہ فائر گرائیں” زین نے جواب دیا

اب بھی انکی تعداد انیس بیس کے لگ بھگ تھی ۔ انہوں نے خود کو دو گروپس میں تقسیم کر لیا، ایک گروپ درّے کی جانب بڑھنے لگا جبکہ دوسرا انہیں کور فائر دینے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر علیم نے محسوس کیا کہ دشمن کا فائر ریٹ کم ہو رہا ہے اور وہ اب اکاّ دکاّ فائر کر رہے ہیں، اس سے وہ سمجھ گئے کہ یہ کور فائر ہو رہا ہے ، وہ تیزی سے آگے بڑھے۔

زین مہارت سے ٹارگٹ انگیج کرنے میں مصرف تھا۔ دوسری طرف LMG دھاڑ رہی تھی۔ دشمن حیران تھا کہ آخر یہ کتنے لوگ ہیں جو ہمارا صفایا کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ کہاں کہاں سے فائر آ رہا ہے ان کی سمجھ سے بالاتر تھا ۔ زین کی پوری توجہ درّے پر تھی ۔
جیسے ہی کوئی سر اٹھتا نظر آتا انگلی جنبش کرتی اور وہ سر چیتھڑوں میں تبدیل ہو جاتا ۔ درّے سے تین سو میٹر دور اونچائی پہ لگی LMG گراؤنڈ لیول پر موجود دشمنوں کا صفایا کرنے میں مصروفِ عمل تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سر علیم خطرناک حد تک آگے آ چکے تھے کہ اچانک ایک دشمن کی نظر ان پر پڑ گئی , انہوں نے اپنے بازو میں آگ داخل ہوتی ہوئی محسوس کی ۔ درد کی پرواہ کیے بنا وہ فائر کرتے رہے کہ ایکدم میگزین خالی ہوگیا, ایک جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھ کر وہ میگزین تبدیل کرنے لگے کہ اچانک سنسناتی ہوئی گولیوں کی بوچھاڑ نے انکی ٹانگیں چھلنی کر دیں

جاری ہے ۔

سید شازل شاہ گیلانی
سید شازل شاہ گیلانی
پاسبان وطن سے تعلق , وطن سے محبت کا جذبہ اور شہادت کی تڑپ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *