سمندر/حسان عالمگیر عباسی

ابھی کچھ باتیں کرنی تھیں۔ ایسے ہی تاثرات سب کے ہیں۔ سبھی کے دوست تھے۔ بچوں کو اعتماد دینے والے! ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے! آنسوؤں کی سیاہی سے یہ قلمبند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔ ناقص سہی لیکن شاید قرض ادا ہو جائے۔۔ بار بار لگتا ہے کال کر لوں اور پوچھ لوں کہاں ہیں چائے پی لیتے ہیں۔۔ بلکہ قہوہ پی لیتے ہیں! قہوے کے شوقین تھے۔ وہ اکٹھ کے بہت دلدادہ تھے۔ کم از کم میں خوش قسمت ہوں جو کئی بار اس شوق میں یارانہ ادا کیا ہے۔ بہت جلدی روانہ ہوئے ہیں لیکن ہر دن قیمتی رہا ہے۔ بہت دور دور سے احباب آئے۔ وہ بھی آئے جو لمبے اوقات ساتھ رہے تھے اور وہ بھی حاضر ہوئے جن سے چند لمحوں کی ملاقات رہی! ائیرپورٹ پہ چند ساعتوں کے ملاقاتی بھی آئے جنھیں لواحقین جانتے ہی نہیں تھے لیکن شاید ان کی خوش اخلاقی اور دلکشی انھیں کھینچ لائی! میں بار بار نتھیا گلی پہنچ جاتا ہوں جہاں دو ماہ ساتھ رہے۔ میں بھانجے کی حیثیت سے گیا تھا لیکن وہ توقع رکھ رہے تھے! میں بار بار موبائل سے چپک جاتا جو انھیں کام کے اوقات میں پسند نہیں تھا! دور دور سے ان کے آشیانے ‘ویژن ان ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ,نتھیاگلی, توحید آباد’ پہ رہنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ میں نے دیکھا وہ سیکھنے پہ یقین رکھتے تھے۔ مختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں کے ثقافتی و سماجی پس منظر و بود وباش میں دلچسپی رکھتے تھے۔ طرح طرح کے کھانے پکوان بنواتے اور ان کی رہائش کا بندوبست کرتے تھے۔ بخدا عجیب سی کیفیت ہے۔ وقفے وقفے سے کیفیت اندر بنتی ہے تو دل چاہتا ہے اگل لوں کیونکہ نگل تو نہیں سکتا۔۔ یہی بہتر ہے۔ آخری بار جب ہسپتال جا رہے تھے تو ون ون ٹو ٹو میں امان بھی ساتھ بیٹھ گیا کہ واپس آئیں گے۔ ہنستے رہے۔ امان سے کہا کہ سورہ رحمان و یٰس پڑھتے جاؤ وہ پڑھتا رہا۔ میں دریا کنیر نہر پہ گرمی سے لڑ رہا تھا اور معلوم تھا مدثر ماموں آئے ہوئے ہیں اور ارادہ تھا آج شب ان کے ساتھ محفل بنے گی وہ بتائیں گے آج کل کیا سوچ بچار چل رہی ہے کیا دیکھ رہے ہیں کیسی منصوبہ بندی ہے! مجھے کال آئی کہ وہ ہسپتال میں ہیں۔ کچھ دیر بعد خبر موصول ہوئی کہ بہتری کی طرف سفر ہے۔ میں نے بائیک نکالا اور چل پڑا اور راستے میں خبر موصول ہوئی واپس چلا جاؤں وہیں آرہے ہیں لیکن مدثر ماموں اکھڑی سانسوں کے ساتھ موصول ہوئے بلکہ آخری سانس بھی لے چکے تھے۔ ایک بے یقینی سی کیفیت کا ابھی تک غلبہ ہے۔ آج ہی بارش کی وجہ سے قبر پکی کر رہے تھے لیکن ایسا لگ رہا تھا ہم کوئی راستہ تعمیر کر رہے ہیں اور مدثر ماموں بھی بس آنے ہی والے ہیں اور کچھ مشورے عنایت کریں گے۔ ان کے مشورے سے راستہ بنے گا۔ ایک بار کہتے ہیں سب پیل بیلچے اٹھائیں اور وہ فلاں راستہ بنائیں تاکہ آسانی ہو اور راہ چلتے کنکر پتھر کا اندازہ ہو سکے! ایک بار کہتے ہیں رات کو ہم سب نکلیں گے اور پہاڑ کہ چوٹی پہ پہنچیں گے اور سورج کے نکلنے اور شام میں غروب آفتاب کا منظر دیکھیں گے! ایوبیہ پیدل چلتے ہیں! ہم سب گھر سے خاصا دور دراز بنام کیری سال میں ایک بار رات کو جایا کرتے تھے اور ناشپاتیوں سے ناشتہ کرتے تھے! ابھی وہی دن ہیں! ارادہ ہے ایسا کریں گے چونکہ یہ سالانہ دعوت ہے اور ایک اچھی روایت ہے اور شب بھر روشنیوں کی مدد سے جنگلوں میں جانا ایک اچھا شوق ہے۔ وہ ساتھ سوٹی بھی رکھتے تھے اور ایک بیگ میں اشیاء خوردونوش و دیگر ضروریات رکھ لیتے! ہمارے ساتھ کتے بھی ہوتے تھے! کچھ دن پہلے غالباً نو دس یا گیارہ بجے آئے جب میں ناشتہ کر کے چائے نوشی میں مگن تھا۔ رات گئے بارش کی وجہ سے کرسیاں اندر رکھی ہوئی تھیں جو عموماً باہر ہی رہتی ہیں۔ مجھے ان کرسیوں کے کرکرانے کھڑکھڑانے کی آواز آئی تو میں توجہ نہیں کر سکا لیکن جب دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی تو لپکا جب مدثر ماموں کرسیاں سجا رہے تھے تاکہ صبح کی دھوپ کھا سکیں اور گپ شپ ہو سکے! میں چائے لیے پہنچا اور والہانہ انداز میں ‘کیسے ہیں مدثر ماموں کب آئے ہیں’ کیا اور ہم پھر تقریباً گھنٹے سے کچھ کم یا زیادہ بیٹھے رہے۔ دورانِ گفتگو دبئی سے جڑے دن یاد دلائے تو یکدم خوشی سے جھومنے لگ گئے۔ عین جوانی کے ایام یاد آنے لگے! ایک دم سگرٹ نکالا پینے لگ گئے! ہائے!!!! تب تک چائے پکوڑے بن کر آچکے تھے اور ہم نے آخری بار جیتے جاگتے ایک دوسرے سے گفتگو کی تھی! ان کا ماننا تھا کہ زندگی کے اوائل تا اواخر خوش رہیں خوش اخلاق رہیں اور یہ فریضہ بخوبی نبھاتے رہے۔ وہ منصوبہ بندی کرتے تھے اور باقیوں بالخصوص نوجوانوں بچوں کے لیے اس اعتبار سے سرمایہ عظیم ثابت ہوئے۔ پنڈی سے ایک دن کے لیے آئے لیکن بستہ بھی ساتھ لائے تاکہ زونی کو پڑھائیں گے تاکہ اس کا حرج نہ ہو سکے! ان کی زندگی کا نچوڑ امید اور اخلاقیات اور خوش مزاجی ہے! وہ بچوں سے بچوں کی طرح اور بڑوں بزرگوں سے ان کے مطابق معاملات کرتے تھے۔ میرے ذہن میں کئی یادیں ہیں جو لفظوں میں بیان کرتے کرتے غالباً قلم رک جائے گی! قصہ مختصر وہ یادوں کا ایک سمندر دے گئے ہیں لیکن امید اور محبت اور عقیدت اور احترام سے بھرے قطروں کا سمندر ہے!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply