نوالہ/تحریر-عارف خٹک

عید کے دن تھے۔ میں  ایک عام سا طالب علم، پشاور سے اپنے گاؤں واپس جا رہا تھا۔ سفر طویل تھا، مگر عید کی خوشی، گھر کی کشش اور ماں کی بانہیں میرے حوصلے کو تھامے ہوئے تھیں۔

مغرب کی نماز کا وقت آیا تو ہماری ہائی ایس مسلم آباد، کوہاٹ کے قریب ایک ڈھابے پر رک گئی۔ مسافروں نے باجماعت نماز ادا کی، اور پھر کھانے کے لیے دالان میں موجود میزوں کے گرد بیٹھ گئے۔ میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا، جیسے کسی فیصلے کی دہلیز پر ہوں۔

صبح سے کچھ نہ کھایا تھا۔ معدہ کھانا مانگ رہا تھا اور جیب میں صرف دس روپے باقی تھے۔ نہ اتنے کہ باعزت طریقے سے کھانا کھا سکتا، اور نہ اتنے کم کہ کسی سے مدد مانگنے کی جسارت کر سکتا۔
میں خاموشی سے واپس ہائی ایس میں آ کر بیٹھ گیا۔ باہر سے چمچوں کی آوازیں، چائے کی کُرکُری، اور قہقہوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔

میرے اندر کا انسان شور کر رہا تھا۔ سوچا، کاش چالیس روپے ہوتے تو کچھ کھا لیتا۔ پھر دل نے کہا، دو سوکھی روٹیاں اور پیاز لے کر پیٹ بھر لو۔ مگر۔۔ یہ روایتی شرم، اَنا، خودداری،
اندر ہی اندر کچھ ٹوٹتا جا رہا تھا۔

تب ہی پیچھے سے کسی مہربان آواز نے پکارا
“بیٹا، اِدھر آ جاؤ۔”

مڑ کر دیکھا تو ایک عمر رسیدہ خاتون، ماں جیسی صورت، سفید چادر میں لپٹی، مجھے دیکھ رہی تھیں۔ ساتھ ایک نوجوان لڑکا بھی بیٹھا تھا۔ میں جھجکتے ہوئے ان کے قریب پہنچا۔ انہوں نے ایک رومال آگے بڑھایا اور بڑے وقار سے کہا

“بیٹا، پتہ نہیں تم کھاؤ گے یا نہیں، پیاز کے ساتھ سوکھی روٹیاں ہیں، مگر تیرے بغیر نوالہ حلق سے نہیں اتر رہا۔”

یہ جملہ گویا میرے دل کی دیواروں پر کندہ ہو گیا۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، اور بے بسی سے گلا رندھ گیا۔ میں خاموشی سے روٹی توڑنے لگا۔ پیاز کے ساتھ وہ سادہ نوالہ دنیا کی  تمام لذتوں پر بھاری تھا۔
واللہ! آج بھی وہ ذائقہ زبان پر زندہ ہے۔

کھانے کے بعد اماں نے دعا دی۔ بتایا کہ وہ بنوں جا رہی ہیں۔ ہمارا راستہ جدا ہو گیا، مگر ان کا دیا ہوا نوالہ میری زندگی کے نصاب میں ایک مستقل باب بن چکا تھا۔

سال گزر گئے۔ میں تعلیم مکمل کر کے زندگی کی الجھنوں میں مصروف ہو گیا۔ مگر آج بھی جب مسلم آباد کے اس ہوٹل کے سامنے سے گزرتا ہوں تو خودبخود گاڑی کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے۔ نگاہیں ہوٹل کی طرف اُٹھتی ہیں، جیسے اُس ماں کو ڈھونڈ رہی ہوں جو ایک بھوکے اجنبی کو اپنی محبت کی تھالی میں عزت دے گئی تھی۔

تب لمحہ بھر کو میں اپنے مرتبے، عہدے، اور دعوؤں کو فراموش کر دیتا ہوں۔ انسانیت کی اصل مجھے یاد آ جاتی ہے۔ وہ ایک سادہ سا نوالہ، جس نے مجھے سکھا دیا کہ

“سفر میں تنہا کھانا نہیں کھایا جاتا۔ دسترخوان صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، دل بانٹنے کے لیے بھی ہوتے ہیں۔”

آج بھی جب سفر کرتا ہوں تو اپنا کھانا اکیلے نہیں کھاتا۔ دسترخوان پھیلاتا ہوں، اور آس پاس کے چہروں میں وہی بچپن کی بھوک تلاش کرتا ہوں، اور کسی کے چہرے پر تھکن، شرم یا بے بسی نظر آ جائے، تو دل سے آواز آتی ہے۔۔

julia rana solicitors london

“بیٹا، تیرے بغیر نوالہ حلق سے نہیں اترتا۔”

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply