کنمنگ، چین کا وہ شہر جو برسوں تک صرف جغرافیے کی کتابوں میں ایک نقطہ تھا، جون 2025 کی ایک صبح جنوبی ایشیا کی تاریخ بدلنے والا مقام بن گیا۔ یہاں ہونے والی چینی سفارتی مشق نے نہ صرف بھارت کو چوکنا کر دیا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے جغرافیائی توازن کو نئے زاویے میں ڈھال دیا۔
کیا بھارت اب بند گلی میں ہے؟ تاریخ نے خاموشی سے سوال لکھا اور جغرافیے نے توازن کی سیاہی سے اس پر دستخط کر دیے۔
2025 کے وسط تک چین نے بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات کو محض سفارتی حد تک محدود نہ رکھا، بلکہ انہیں معاشی، عسکری اور انفراسٹرکچر کے ریشوں میں پرو دیا۔ بھارت کے دیرینہ حلیف بھی اب “کنمنگ پالیسی” کی کشش کو رد کرنے سے قاصر ہیں۔ خاص طور پر بنگلہ دیش اب باقاعدہ طور پر سی پیک میں شامل ہو چکا ہے یہ پیش رفت دہلی کی پالیسی ساز فائلوں میں ایک اچانک زلزلے کی حیثیت رکھتی ہے۔
چین کی پالیسی کا سب سے خاموش مگر کاری وار نیپال پر تھا۔ جس نیپال کی آزادی کی قیمت بھارت نے برسوں پہلے اپنی مرضی سے متعین کی تھی، آج وہی نیپال بھارتی سفارت کاری کو کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔ 2015 کی تجارتی ناکہ بندی کا زخم آج بھی تازہ ہے، اور اب چین کے معاشی منصوبے اس زخم پر مرہم نہیں بلکہ مستقبل کا نیا راستہ ہیں۔
جنوبی ایشیائی تعاون کی تنظیم SAARC، جسے کبھی بھارت نے اپنی حکمت عملی کا مرکز بنایا تھا، آج غیر فعال ہو چکی ہے اور اس خلا کو اب چین بڑی تیزی سے پُر کر رہا ہے۔
طالبان حکومت کی آمد کے بعد ابتدائی مہینوں میں بھارت کا سفارتی وجود تقریباً مفلوج ہو چکا تھا، مگر اب، 2025 کے وسط تک، ایک محتاط اعتدال آ چکا ہے۔ بھارت نے کابل میں محدود سطح پر انسانی امداد اور تعلیمی وظائف کے ذریعے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش کی ہے، مگر اس دوران چین نے خاموشی سے وہ خلاء پُر کر لیا جو بھارت چھوڑ گیا تھا۔ معدنیات کی تلاش سے لے کر سرحدی نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک، چین نے طالبان حکومت کے ساتھ باقاعدہ باہمی مفاہمت کا ایک نیا باب کھولا ہے۔ افغان حکومت کے حالیہ بیانات میں “غیر مداخلت پر مبنی اعتماد” کا حوالہ بار بار سامنے آ رہا ہے، جو کہ دراصل بیجنگ کی پالیسی کا عکس ہے۔ چین نہ صرف افغانستان کے اندر اثرورسوخ بڑھا رہا ہے، بلکہ اس کے ذریعے بھارت کے تاریخی افغان کارڈ کو خاموشی سے غیر مؤثر بھی کر رہا ہے۔ یوں بھارت کا کردار محض ایک سفارتی مشاہدہ نگار کا بنتا جا رہا ہے، جبکہ فیصلہ ساز میز پر اب چین کی کرسی سب سے مضبوط ہے۔
2024 میں ابھرنے والی ’انڈیا آؤٹ‘ تحریک اگرچہ اب سرکاری سطح پر کمزور پڑ چکی ہے مگر اس نے یہ واضح کر دیا کہ عوامی رجحان اب بھارتی اثر کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ مالدیپ کی نئی حکومت نے چینی مفادات کے لیے نرم رویہ اپنایا، اور بھارتی افواج کی موجودگی کو محدود کر دیا۔
چین نے صرف سفارتی اور اقتصادی سطح پر ہی وار نہیں کیے، بلکہ سرحدی محاذ پر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ لداخ اور اروناچل پردیش میں وقفے وقفے سے کی جانے والی چینی دراندازی بھارت کے لیے ایک مستقل اضطراب بن چکی ہے۔
جون 2025 کی اسرائیل-ایران کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی سفارتی بساط کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی دوران ایران نے اچانک اور غیر متوقع طور پر بھارت کے ساتھ چابہار بندرگاہ کا معاہدہ منسوخ کر دیا اور بھارتی اداروں کو مکمل طور پر بندرگاہ سے بے دخل کر دیا۔ ایران نے نہ صرف بھارتی رسائی بند کی، بلکہ چین اور روس کو چابہار کے نئے شراکت داروں کے طور پر متحرک کر دیا ہے۔ یہ محض ایک بندرگاہ کا سودا نہیں بلکہ دہلی کی ریڑھ کی ہڈی میں ٹھونکا گیا وہ خنجر ہے جس نے بھارت کا وسطی ایشیا تک زمینی راستہ کاٹ دیا، ایران-چین-روس کے ٹرانزٹ ٹرائی اینگل کو جنم دے کر مشرقِ وسطیٰ تک بیجنگ کی رسائی کو دوگنا کر دیا، اور بحرِ عرب میں بھارتی بحری گھیراؤ کو مکمل کر دیا۔ یہ واقعہ صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں بلکہ جنوبی اور مغربی ایشیا کے درمیان سفارتی لائنوں کی ازسرِنو تقسیم کا آغاز ہے۔ بھارت کے لیے اب چابہار کے ذریعے وسطی ایشیا تک براہِ راست زمینی رسائی کا خواب صرف ایک نقشِ خیال رہ گیا ہے۔
کبھی جو راستے ہندوستان کے خوابوں کو وسطی ایشیا سے جوڑتے تھے، آج وہی راستے اب چین، ایران اور روس کے درمیان ریشم کی طرح بچھ رہے ہیں۔ چابہار کا سقوط بھارت کی سفارتی موت کا سرٹیفکیٹ ہے۔ جس بندرگاہ کو دہلی ایران کا دروازہ سمجھتا تھا، آج وہی دروازہ چین نے اپنی کلید سے بند کر دیا ہے۔ اس کی چٹخنٹ جنوبی ایشیا کے ہر دارالحکومت میں سنائی دے رہی ہے۔ اب بھارت کے پاس نہ افغانستان کا کارڈ رہا، نہ ایران کا راستہ، نہ SAARC کا پلیٹ فارم۔ صرف ایک سوچ باقی ہے: جو چابہار کو کنٹرول کرتا ہے، وہ ہندوستان کی قسمت کا امتحان لیتا ہے۔ راج دربار کی چاندنی میں چلنے والا بھارت، جس کے سفارتی پازیب اب زمینی حقیقتوں سے ٹوٹ رہے ہیں، آج اُس نقشے کے سامنے بے زبان کھڑا ہے۔
QUAD کو بھارت نے چین مخالف اتحاد کے طور پر پیش کیا، مگر عملی طور پر آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کبھی ایک صفحے پر نہیں آ سکے۔ چین نے اس خلا کو پر کر کے بھارت کو اپنے ہی محاذ پر تنہا کر دیا ہے۔ چین اس وقت بھارت کے دروازے پر کھڑا ہے، جبکہ بھارت لندن اور پیرس میں دروازے کھٹکھٹا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی نہ تو فرانس سے کوئی زمینی یا سمندری سرحد جُڑتی ہے اور نہ ہی عمان سے کوئی حقیقی جغرافیائی قربت ہے۔ صرف بحرِ ہند کے ساحلی تعاملات کی حد تک ایک نامکمل تعلق ضرور موجود ہے، مگر یہ عسکری یا تزویراتی فیصلہ کنیت سے عاری ہے۔ اس کے برعکس چین، لداخ سے اروناچل تک بھارت کی براہ راست زمینی سرحدوں پر موجود ہے، اور بحری محاذ پر جبوتی، سری لنکا، گوادر، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا تک اپنی نیول اسٹرکچر کے ذریعے بھارت کا مؤثر گھیراؤ کر چکا ہے۔ فرانس سے رافیل خریدنا ہو یا عمان میں لوجسٹک معاہدے کرنا، یہ سب کچھ ایگزوسٹک پارٹنرشپ ہے، نہ کہ ایمرجنسی نیبر اسٹریٹیجک شراکت۔ عسکری اعتبار سے یہ اتحاد صرف سفارتی فوٹو شوٹس کا کام دیتے ہیں، مگر حقیقی جنگی رسپانس میں کوئی فوری برتری نہیں دیتے۔ بھارت اگر مغرب کے ساتھ کھڑا ہو کر چین کو تاثر دینا چاہتا ہے کہ ہم امریکہ، فرانس، جاپان اور آسٹریلیا کے قابلِ بھروسہ اتحادی ہیں، تو یہ صرف سفارتی وزن کے میدان میں تو فائدہ دے سکتا ہے، لیکن چین جیسے جغرافیائی دیو کے خلاف گراؤنڈ پر یہ کوئی حل پیش نہیں کرتا۔ چین کی حکمتِ عملی سفارتی کاسمیٹک سرجری نہیں بلکہ بھارت کی
ریڑھ کی ہڈی میں تزویراتی سرجری ہے اور یہی فرق میدانِ عمل میں فیصلہ کرتا ہے۔
اب معاملہ صرف زمین تک محدود نہیں رہا۔ چین نے حالیہ دنوں میں انڈونیشیا کے کئی جزیروں میں ریڈار اسٹیشن، مواصلاتی تنصیبات اور سویلین بندرگاہوں کے نام پر نیول بیسز کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ بھارت، جس نے کبھی بحر ہند کو اپنی پچھلی گلی سمجھا تھا، اب وہاں چینی پرچم کے سائے دیکھ رہا ہے۔ اور چین کی بحری حکمت عملی صرف ایشیا تک محدود نہیں رہی — وہ بحر ہند کے پار افریقہ کے مشرقی ساحلوں پر بھی جا پہنچی ہے۔ جبوتی میں موجود چینی بحری اڈہ بیجنگ کے نیول کمپاس کا افریقی نشان بن چکا ہے، اور یوں بحر ہند کے دونوں کنارے ایک نئی اسٹریٹجیک زنجیر سے بندھ چکے ہیں۔
نہ یہ الیکٹرانک میڈیا کی بے چینی ہے، نہ مغربی دانش گاہوں کے کاغذی طلسم۔ یہ تو نقشِ کہن کی عدالت کا فیصلہ ہے جسے جغرافیہ کے قلمِ ازل سے رقم کیا گیا۔ سفارت کاری کے دستانے پہن کر کھیلنے والے بھارت جیسے ملک اب نقشے کی زبان سمجھنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جغرافیہ نہ بھولتا ہے، نہ معاف کرتا ہے۔ وہ اُن اقوام کو خاموشی سے بے دخل کر دیتا ہے جو اس کے فیصلے نظرانداز کریں۔
تاریخ شاہد ہے، جغرافیہ قاضی ہے، اور تقدیر کے ہاتھ میں روشنائی پہلے سے تیار ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں