• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حدیث و سنت کے مابین فرق اور حدیث و سنت بطور ماخذ شریعت ایک تحقیقی جائزہ(دوم،آخری حصّہ)۔۔مشرف اسد

حدیث و سنت کے مابین فرق اور حدیث و سنت بطور ماخذ شریعت ایک تحقیقی جائزہ(دوم،آخری حصّہ)۔۔مشرف اسد

حجیت سنت

حجیت سنت سے مراد یعنی قرآن کریم میں کئی  احکامات ایسے ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے قرآن میں اللہ نے حکم تو دیا ہے لیکن ان تفصیلات کی وضاحت  قرآن کا خود موضوع نہیں بلکہ ان  احکامات کی تفسیر ،تفصل و وضاحت سنت کرتی ہے۔جیسے اقیموا الصلوٰت میں صلوٰۃ کے کیا معنی ہیں؟ اس طرح وللہ علی الناس حج البیت (آل عمران97) میں حج سے کیا مراد ہے۔ یہ سارے احکامات تفسیر کے محتاج ہیں اور سنت ان احکامات کے  اصل معنی بیان کرتی ہے۔اسی طرح قرآن میں کئی   احکامات ہیں جن میں وضاحت کی ضروت ہے اور سنت کے بغیر ہم ان معنوں کی اصل تفصیلات تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔

tripako tours pakistan

جیسے قرآ ن  پاک میں  ایک اصول آیا ہے کی احل لکم الطیبا ت             ( البقرہ 186) تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں،  ویحرم علیکم الخبائث(سورہ اعراف 180)    اور ناپاک اور گندی چیزیں تمہارے لئے حرام ہیں ۔اب یہاں حلام و حرام،پاک و ناپاک ،خبائث و طبیات سے مراد کیا ہے؟ اب یہ تفصیلات ہمیں حدیث نبویﷺ سے ملتی ہیں ۔حدیث میں آیا ہے کہ نحی رسول اللہ ﷺ عن کل ذی ناب من کل سباع(بخاری جلد 5527)  کہ ہر وہ درندہ جو اپنے دانت سے شکار کرکے کھاتا ہے اس کا گوشت حرام ہے ۔ اب یہ  ہمیں یہاں سے معلوم ہوا  کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام ۔

سنت کا  کام صرف قرآن کے احکامات کی تفصیل اور وضاحت ہی کرنا نہیں ،بلکہ سنت کا کام براہ راست احکام دینا بھی ہے ۔آپ ﷺ کو بھی اللہ کی طرف سے اختیار دیا گیا کہ آپﷺ کو اگر کوئی  چیز خبیث لگے تو اسے حرام کہہ دیں اور اگر کوئی چیز طیب تو اسے حلال کہہ دیں۔(15)

سوال نمبر 4 : حدیث اور سنت کے مابین کیا فرق ہے؟

حدیث و سنت ان دونوں اصطلاحات کے مابین کیا فرق ہے  ؟ اس سوال کا جواب میں  ماہرین  کی  رائے سے دوں گا ،کہ ان کی کیا رائے ہے، کہ  ان کے مطابق ان دونوں اصطلاحات کے مطابق  کیا فرق ہے ۔اپنی کتب اور اپنے ویڈیو لیکچرز  میں وہ اس حوالے سے کیا لکھتے اور بتاتے ہیں، میں انہیں یہاں بیان کروں گا۔

ڈاکٹر اسرار احمد

ڈاکٹڑ  اسرار احمد   اپنے پروگرام درس حدیث کی ابتدا میں  حدیث و سنت کے مابین  فرق کرتے ہوئے بتاتے ہیں  کہ حدیث و سنت  دونوں مختلف اصطلاحات ہیں   نہ کہ ایک  دوسرے کی مترادف۔سنت سے مراد رسولﷺ کا طرز عمل ہے جبکہ حدیث اس کا written record  ہے ۔سنت کو معلوم کرنے کے دو ذرائع ہیں ایک تو خود حدیث ہے اور دوسرا امت کا تواتر۔یہ  دونوں اصطلاحات اللہ کے لیے بھی ہیں اور رسولﷺ کے لیے بھی ،مثلاً۔۔

سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلاً(سورہ الاحزاب:62)

یہ اﷲ کا وہ معمول ہے جس پر اُن لوگوں کے معاملے میں بھی عمل ہوتا رہا ہے ،جو پہلے گزر چکے ہیں ۔ اور تم اﷲ کے معمول میں کوئی تبدیلی ہر گز نہیں پاؤ گے۔

اسی طرح رسولﷺ کے لیے استعمال ہو،قرآن میں ہیں،

سُنَّةَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنۡ رُّسُلِنَا​ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِيۡلً(سورہ اسراء : 77)

جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے۔

اب اسی طرح   حدیث کا لفظ  بھی  اللہ کے لیے بھی آیا ہے اور رسولﷺ کے لیے بھی مثلاً۔۔

سورہ اسراء میں آیا ہے کہ قرآن حدیث اللہ ہے اور رسولﷺ کے لیے حدیث کا لفظ یوں آیا ہے

وَ اِذۡ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعۡضِ اَزۡوَاجِہٖ حَدِیۡثًا ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتۡ بِہٖ وَ اَظۡہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیۡہِ عَرَّفَ بَعۡضَہٗ وَ اَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَکَ ہٰذَا ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الۡعَلِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ)سورہ التحریم:3)

اور یاد کرو جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاہ کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے۔(16)

ڈاکٹڑ ناصر الدین

ڈاکٹر ناصر الدین اپنی کتاب اسلامیات میں حدیث و سنت کا فرق  یوں بیان کرتے ہیں کہ حدیث و سنت مترادف اصطلاحات ہیں لیکن ان میں فرق یہ ہے کہ سنت موکدہ و متواترہ قابل اتباع ہے جبکہ  حدیث اس وقت عمل درآمدعمل ہوگی جب اس کے عمل کی شرائط پائی  جا ئیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے مثال کچھ یوں دی ہے کہ  چور کا دایا ں ہاتھ پہلی چوری پر صرف اس وقت کاٹا جائے گا  جب اس نے دس درہم سے زائد مالیت کا مال چرایا ہو،  لیکن نمازبا جماعت ہر مسلمان کو اسی طرح ادا کرنی ہے، جس طرح رسولﷺ نے ادا  کرکے دکھائی۔(17)

ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازی  اپنی  کتاب  محاضرات حدیث میں حدیث و سنت کے درمیان فرق  یوں کرتے ہیں  کہ  قرآن مجید اور احادیث مبارکہ  دونوں  میں ہی لفظ سنت بھی آیا  ہے اور احادیث بھی  ۔ڈاکٹر        صاحب  لکھتے ہیں کہ اس  علما کے   ایک گروہ کی رائے تو یہ ہے کہ  یہ دونوں بالکل ایک مفہوم میں ہیں ۔ان دونوں میں کوئی  فرق نہیں  اور ایک بڑی تعداد کی رائے یہی ہے۔

دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ   حدیث ایک عام چیز ہے اور سنت خاص اور یہ حدیث کا ایک حصہ ہے۔سنت سے مراد آپﷺ کا وہ طریقہ کار جو صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہو  جو طریقہ آپﷺ نے  اپنایا اور اپنی امت کو بھی سکھایا۔(18)

ڈاکٹر خالد ظہیر

ڈاکٹر    خالد ظہیر  منعقد  کردہ سوال و جواب کی نشست میں اس سوال کا جواب کچھ یوں بیان  کرتے ہیں کہ حدیث الگ ہے اور سنت الگ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مسلمان نماز بھی پڑھتے ہیں روزہ بھی رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں تو یہ عبادات مسلمانوں کو کیسے پتہ چلیں ؟ وہ اس طرح کہ رسولﷺ نے ہمیں قرآن دیا مسلمانوں نے نماز احادیث سے نہیں سیکھی بلکہ اپنےبڑوں سے  سیکھی ۔احادیث میں واقعات کا بھی ذکر ہے، غذوات کا بھی ذکر ہے اور سنت کا بھی ذکر ہے، اب جب یہاں سنت کا ذکر آتا  ہے تو لوگ سمجھتے ہیں حدیث و سنت ایک ہی ہیں لیکن سنت در حقیقت آباواجداد سے چلی آرہی ہے۔(19)

ڈاکٹڑ جاوید احمد غامدی

ڈاکٹر جاوید   احمد غامدی نے  اپنی منعقد کردہ سوال و جواب کی نشست میں اس سوال کا جواب کچھ یوں دیا ہے کہ  نبی ﷺ نے قرآن دینے کے ساتھ ہی  انبیاء سے جو دین چلا آرہا تھا اس کی کئی  چیزیں  اپنی امت میں جاری کردیں، جیسے نماز ہے ۔نماز رسولﷺ سے ہی شروع نہیں ہوئی  بلکہ یہ سب نبیوں کے ہاں اسی طرح پڑھی گئی  ہے۔تورات انجیل و زبور کو اگر پڑھیں تو سب میں نماز اسی طرح ہے، اور اسی طریقہ پر آج ہم بھی رائج ہیں ،تو یہ وہ چیز ہے جو سنت کہلاتی ہے، اور یہ مسلمانوں کے اجماع سے منتقل ہوئی  ہے۔اب حدیث یہ ہے کہ جب رسولﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے تو جن لوگوں  سے آپﷺ   ملے، انہوں نے آپ کی باتیں بیان کی ہیں،تو آپﷺ سے جو تاریخی ریکارڈ ہےیہ ان لوگوں کی زبان سے منتقل ہونا شروع ہوگیا۔ کب اہل علم نے دیکھا کہ لوگ یہ احادیث بیان کررہے اور اب نبیﷺ سے جھوٹ بھی منسوب کیا جارہا ہے ،تو محدثین نے اپنی تحقیق کے مطابق احادیث کو جمع کردیا تو یہ سنت نہیں لیکن اس کے اندر کبھی سنت کا بھی ذکر آتا ہے اور بھی بہت چیزوں کا ذکر آتا ہے اور سنت ہمیں اسی طرح ملی ہے جس طرح ہمیں قرآن ملا ہے۔(20)

تجزیہ

٭ڈاکٹر اسرار احمد کی رائے کے مطابق  حدیث و سنت یہ دونوں اصطلاحات ایک دوسرے  سے مختلف ہیں کیونکہ سنت وہ طرزِ عمل ہے جو نسل در نسل ہم تک منتقل ہوا، یعنی صحابہ کرام نے رسولﷺ سے سیکھااور صحابہ نے  تابعین کو سکھایا اور انہوں نے تبع تابعین کو سکھایا تو گویا  سنت ان سے نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی  ہم تک پہنچی لیکن احادیث  Written record ہے  یا تحریری شکل ہے ان سنتوں کی جو کہ تیسری  صدی  ہجری میں مرتب ہونا شروع ہوئی۔

٭ڈاکٹر ناصر الدین کی رائے سے مراد ہے  کہ  جو حدیث متواترہ ہیں وہ قابل اتباع یعنی   وہ عمل کے قابل ہیں  لیکن حدیث اس وقت قابل عمل ہوں گی جب اس میں عمل کی  شرائط پائی  جا ئیں ، جیسے جو مثال پیش کی کہ چور  کا ہاتھ کاٹنا تو سنت ہے لیکن ہمیں حدیث سے یہ شرط ملتی ہے کہ چور کے ہاتھ جبھی کاٹے  جائیں جب اس نے  دس درہم سے زائد مالیت کی چوری کی ہو۔

٭ڈاکٹر احمد محمود غازی کے مطابق یہ دونوں اصطلاحات ایک دوسرے کی مترادف ہیں اور   ایک گروہ کے نزدیک  سنت حدیث کا ایک حصہ ہے  اور حدیث عام ہے جبکہ سنت خاص ہے وہی بات کہ  سنت خاص اس لیے ہے کہ اسے اجمع و تحفظ حاصل ہے۔

٭ڈاکٹر خالد  ظہیر اور  ڈاکٹر جاوید احمد غامدی کی  ایک ہی رائے ہے ان کے مطابق سنت ایک الگ چیز ہے اور حدی الگ چیز اور یہ ڈاکٹر اسرار احمد والی رائے رکھتے ہیں، کہ سنت تواتر عمل ہے، یعنی نسل در نسل ہم تک پہنچی جبکہ حدیث اس کی تحریری شکل ہے ۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ سنت کی حفاظت اللہ کی طرف سے ہے جیسے نماز پڑھنا ،اب نماز کس طرح پڑھنا، یہ سنت نہیں بلکہ نماز پڑھنا سنت ہے، جس پر پوری امت کا اجمع ہے اور نماز پرانے صحیفوں یعنی الہامی کتابوں میں بھی یہی طریقہ درج ہے، تو سنت تواتر سے چلی آتی ہے، جس کا تعلق براہ راست  قرآن کریم سے ہے جبکہ  حدیث  اسکی تحریری شکل ہے ۔اب حدیث میں کئی  اور باتوں کا بھی ذکر ہے  جس میں سنت بھی ہے آپﷺ کی زندگی کے واقعات بھی ہیں اور بھی بہت کچھ ہے لیکن   احادیث کو وہ حفاظت حاصل نہیں جو قرآن و سنت کو ہے۔

حوالاجات

1۔ڈاکٹر ،محمود احمد غازی،”محاضرات حدیث”،لاہور،پاکستان،غزنی اسٹریٹس،2019۔اردو بازار،ص19

2۔امام، سیوطی، “تدریب الراوی”،ج1،ص42

3۔مولانا،عبدالرشید نعمانی،” تاریخ و تدوین حدیث”، بریلی ، 2002، سید احمد شہید اکیڈمی۔ص26

4۔ امام، سیوطی، “تدریب الراوی”،ج1،ص43

5۔علامہ،بدر الدین،”شرح صحیح بخاری”،محولہ بالا

6۔۔ ڈاکٹر ،محمود احمد غازی،”محاضرات حدیث”،لاہور،پاکستان،غزنی اسٹریٹس،2019۔اردو بازار ،ص24

7۔علامہ،غلام رسول سعیدی،”تذکرۃ المحدثین”،

8۔ لسان العرب ومقاییس اللغۃ: مادہ: س ن ن

9۔حاٖث،عمران ایوب ،”سنت کی کتاب”،لاہور،پاکستان،فوہ الحدیث پبلیکیشنز،2008،ص21

10۔۔ ڈاکٹر ،محمود احمد غازی،”محاضرات حدیث”،لاہور،پاکستان،غزنی اسٹریٹس،2019۔اردو بازار ،ص25

11۔ ڈاکٹر،خالدناصرالدین،”اسلامیات”،لاہور،پاکستان،غضنفر اکیذمی،اردو بازار،ص50

12۔ حاٖث،عمران ایوب ،”سنت کی کتاب”،لاہور،پاکستان،فوہ الحدیث پبلیکیشنز،2008،ص21

13۔کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، ج:۱۳، ص:۳۰۶)

14 ڈاکٹر ،محمود احمد غازی،”محاضرات حدیث”،لاہور،پاکستان،غزنی اسٹریٹس،2019،اردو بازار ص46،45،44

15۔ایضا۔

16۔ https://www.youtube.com/watch?v=2z-3bGgxSVM

17۔ ڈاٹر،خالدناصرالدین،”اسلامیات”،لاہور،پاکستان،غضنفر اکیذمی،اردو بازار،ص49

18۔ ڈاکٹر ،محمود احمد غازی،”محاضرات حدیث”،لاہور،پاکستان،غزنی اسٹریٹس،2019،اردو بازار ،ص24

19۔ https://www.youtube.com/watch?v=dtxMU6gdrYM

Advertisements
merkit.pk

20۔ https://www.youtube.com/watch?v=c8SjWwp0n5Q

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Musharaf asad
جامعہ کراچی,شعبہ علوم اسلامیہ کا ایک طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply