میرے سامنے بیٹھی خاتون بنا سوچے سمجھے کہ سب انکی باتیں سن رہے ہیں فون پر تیز آواز میں کہہ رہی تھیں کہ ”میں تمہاری غلام نہیں ہوں جو روز سات بجے سے پہلے گھر آجاؤں، تم مجھے کنٹرول نہیں کرسکتے“۔ وہ یقیناً اپنے شوہر سے بات کررہی تھی۔
خاتون اپنی دس سالہ بیٹی کو سیشن دلوانے لائیں تھیں کیونکہ بچی کو انزائٹی تھی اور نفسیاتی مسائل تھے۔ کیوں تھے وہ مجھے صاف دِکھ رہا تھا۔ مجھے اس عورت پر بلکل غصہ نہیں آیا، مجھے صرف اس پر ترس آیا اور ہمدردی ہوئی۔ مجھے ہر اس انسان سے ہمدردی ہوتی ہے جس سے اس کے جذبات قابو نہیں ہوتے کیونکہ شاید کبھی میں بھی انکی جگہ تھی۔
اکثر والدین کو ایسا لگتا ہے کہ بچوں کو سائیکوتھراپی کے سیشن دلوا کر وہ انکی ذہنی الجھنیں دور کردیں گے لیکن یہ ممکن نہیں۔ یہ یوں ہے جیسے آپ نے زخم پر ایک کپڑا رکھ کر اسے ڈھک دیا لیکن وہ زخم وہیں موجود ہے، دن بدن بگڑتا جارہا ہے۔ بچے اس دنیا میں محض نئے آئے ہیں، وہ آپ کو کیسے پریشان کرسکتے ہیں اپنے رویوں سے؟ بچے آپ کو فیڈ بیک (feedback) دیتے ہیں کہ آپ انسان اور والدین ہونے کے ناطے کیسی شخصیت رکھتے ہیں، آپ کو اس دنیا میں زیادہ عرصہ ہوا ہے بچے تو محض آئینہ دکھاتے ہیں کہ آپ نے آج تک اس دنیا میں کیا کیا اور کیا سیکھا ہے۔ اس لیے سیشن اور تھراپی کی ضرورت آپ کو ہوتی ہے بچوں کو نہیں۔ آپ کو بیشک بچوں کو ماہرِ نفسیات کے پاس لے کر جانا چاہیے، لیکن اس بات کو بھی ذہن میں رکھیے کہ بچے کے ساتھ آپ کو بھی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیملی سسٹمز تھراپی (IFS) بہت بہترین تھراپی ثابت ہوتی ہے۔
کوئی بھی وڈیو، کوئی بھی آرٹیکل آپ کے ان ”لاشعوری رویوں“ (subconscious patterns) کو چند لمحوں میں نہیں توڑ سکتا جس کے متعلق شاید آپ کو علم بھی نہیں (انہیں شعور میں لانے کا طریقہ ہے جسکا ذکر آخر میں کروں گی)۔ چونکہ میں ایک قدیم روح ہوں تبھی مجھے ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھے سے نہیں آتا، یہ بات مجھے معلوم نہیں تھی کہ کسی ایپ کو ڈیسک ٹاپ سے ڈیلٹ کرنے سے وہ آپ کے لیپ ٹاپ سے ڈیلیٹ نہیں ہوجاتی، بلکہ اسکو فولڈر میں جاکر اَن-انسٹال کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو فولڈر میں ڈھونڈنا پڑتا ہے اور اس سورس سے ڈیلیٹ کرنا ہوتا ہے جہاں وہ موجود ہوتی ہے۔ نفسیات اور رویے بھی ایسے ہی کام کرتے ہیں، آپ کو بھی اپنے رویوں کی سورس (source) کو ڈھونڈنا ہوتا ہے جہاں سے انکو اَن-انسٹال کیا جاسکے۔ اور جو لوگ سوفٹ ویئر کی معلومات رکھتے ہیں انہیں اس بات کا علم ہوگا کہ ڈیٹا کبھی ڈیلیٹ نہیں ہوتا، انسانوں کا دماغ بھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن کمپیوٹر کچھ نہیں بھولتا، آپ کی ڈیلیٹ کی ہوئی تصاویر اور میسج ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ انسانی دماغ کی خاصیت یا خامی کہہ لیں کہ ہم بھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور شاید تبھی انسان نے کمپیوٹر ایجاد کیا۔
اب بچوں پر واپس آتے ہیں……. بچے آپ کے ان لاشعوری رویوں کا فیڈ بیک آپ کو دیتے ہیں جن کے متعلق آپ نہیں جانتے۔ بچوں کے رویے اور انکے مسائل آپ کو آئینہ دکھاتے ہیں۔
میں والدین سے کہتی ہوں کہ اگر آپ نے بچے میں کسی عادت کو ڈالنا ہے تو پہلے آپ خود اس عادت کو اپنائیے۔ لیکن یہ اس بات کی گارنٹی نہیں دیتا کہ بچہ واقعی میں اس عادت کو اپنا لے گا، بچے کی اپنی بھی کوئی منفرد شخصیت ہوتی ہے۔ پازیٹو سائیکالوجسٹ لوری سینٹوس کہتی ہیں کہ بچوں کو دو طریقوں سے سکھایا جاسکتا ہے، سمجھا کر عادت ڈلوا کر (یا ڈانٹ کر)، اور اگر اس سے بات نہیں بنتی تو پھر نیچر کو اسے سکھانے دیں، مطلب یہی کہ جب منہ کے بل گرے گا تو اپنا سبق سیکھ جائے گا، کیونکہ ہر بات سمجھا کر ڈانٹ کر نہیں سکھائی جاتی، کچھ باتیں تجربہ سے گزر کر، نقصانات سہہ کر ہی سمجھ آتی ہے، لیکن اس کے لیے والدین کو ہمت چاہیے اور اتنی ہمت ان میں نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کو روتا، گرتا، فیل ہوتا، دھکے کھاتا، انہیں مایوس کرتا دیکھیں۔
بچوں کی تربیت دراصل اپنی تربیت کرنا ہوتی ہے۔ میرے بیٹے نے مجھے موقع دیا کہ میں اپنے اندر کے بچے (inner child) کو دیکھ سکوں کہ وہ کتنا دکھی یا خوش ہے، وہ کتنے اچھے سے اپنے جذبات کو سمجھتا اور پراسس کرتا ہے، کتنا نظم و ضبط ہے میرے اندر ایک سات سالہ بچے میں (میرے اندر سات سالہ بچے کی حالت کافی خستہ تھی جسکا عکس مجھے میرے بیٹے میں دِکھ جاتا تھا)۔ آپ کےبچے آپ کو آپ کے اندر کا بچہ جسے ہم نفسیات میں ”اِننر چائلڈ“ (inner child) کہتے ہیں اس سے ملواتے ہیں، اگر آپ کے اِ ننر چائلڈ کو ٹروما سے گزرنا پڑا ہے، اس میں نظم و ضبط نہیں، اسے محبت نہیں ملی، اسکا موازنہ کیا گیا، وہ اکیلے پن کا شکار ہے…….. تو یہی سب بہت ممکن ہے آپ لاشعوری طور پر اپنے بچے کو دیں۔ تاریخ خود کو ہر سطح پر دہراتی ہے، یہاں تک کہ نفسیات کی سطح پر بھی۔
اگر آپ اپنے لاشعوری پیٹرن توڑنا چاہتے ہیں تو دیکھیے کہ آپ کا بچہ کن رویوں کو اپنا رہا ہے، وہ اپنے جذبات کا اظہار کیسے کرتا ہے، اس میں جو بھی آپ کو ٹریگر کررہا ہے وہ آپ میں بھی موجود ہے لیکن آپ دیکھ نہیں پارہے، تبھی آپ پریشان ہوجاتے ہیں کہ یہ بچہ کیوں اس طرح سے کررہا ہے۔ مثال کے طور پر میرے ایک کلائنٹ کو بہت کوفت ہوتی ہے جب وہ اپنے بچے کو خوفزدہ ہوتا دیکھتے ہیں وہ اسے شیر کی طرح بننے کو کہتے ہیں، بہادر بننے کو کہتے ہیں، لیکن میں انہیں یہ سمجھانے میں ناکام رہی کہ خوفزدہ وہ خود ہیں، انہیں جاب کھو دینے، اپنی لت پر پیسے ضائع کرنے، کوئی محفوظ جاب نہ ہونے کا خوف ہے، جسکی وجہ سے وہ میرے پاس آئے، وہ خوف کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ مرد خوفزدہ نہیں ہوسکتے انہیں اسکی اجازت نہیں۔ جب انکا بچہ اپنے خوف کا اظہار کرتا ہے تو ان جناب کےاپنے جذبات سطح پر آنے لگتے ہیں اور وہ چڑ جاتے ہیں۔ جس دن وہ اپنے خوف کو محسوس کرنا اور اسکا سامنا کرنا سیکھ لیں گے، اس کے لیے اقدامات بھی لیں گے تو انکا خوف وقت کے ساتھ پراسس ہوتا جائے گا۔ پھر انکا بچہ انہیں ٹریگر نہیں کرے گا۔ جب ماں باپ کے جسم میں انزائٹی اور ٹروما نہ ہو تو بچہ بھی محفوظ محسوس کرتا ہے (ڈاکٹر جان بالبی کی اٹیچمنٹ تھیوری) ، کبھی کبھار ہمارے بچے ہمارے جسم میں موجود انزائٹی، دکھ، ٹروما کو جذب کرنے لگتے ہیں۔ انسانوں کا نروس سسٹم جب کسی ماحول میں انزائٹی کو محسوس کرتا ہے تو وہ غیر فعال (dysregulate) ہوجاتا ہے۔ اور غیر فعال نروس سسٹم (dysregulated nervous system) بہت انرجی ضائع کرتا ہے، تبھی اکثر آپ تاخیر کی عادت (procrastination) میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ نروس سسٹم کی ساری انرجی آپ کو نارمل رکھنے میں جارہی ہے انزائٹی کی وجہ سے آپ کا جسم ”فائٹ-فلائٹ“ (fight-flight) موڈ میں ہوتا ہے اور زیادہ تر توانائی اسی میں ضائع ہوتی ہے تبھی آپ کے کام مکمل نہیں ہوتے، آپ ہر کام کو ٹالتے ہیں۔ اس لیے خود کے ساتھ زبردستی کرنے سے بہتر ہے کہ خود کو سمجھا جائے اور خود-ہمدردی (self-compassion) سے کام لیا جائے۔
اب آپ خود سوچیں کہ کتنی باریکی ہے جذبات کو سمجھنے میں۔ لیکن ایک بار آپ پیٹرن کو سمجھ گئے پھر سافٹ ویئر انجینیئر یا ڈویلپر کی طرح آسانی سے معلوم کرلیں گے کہ فائل کی سورس کہاں ہے اور وہاں سے اسکو اَن-انسٹال کرنا ہے۔ آپ کے بچوں کے رویے، خود-اظہاری کا انداز آپ کو فیڈ بیک دیتا ہے کہ آپ بحیثیت انسان جذباتی اور ذہنی طور پر کس مقام پر موجود ہیں۔
ایک خاتون کہتی ہیں کہ میری بیٹی بہت مادیت-پسند (materialistic) ہے اور یہ اپنی پھپھو پر گئی ہے، لیکن اگر میں ان خاتون کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تو شاید انکی بات پر یقین کرلیتی۔ بیشک ہم انسان خود اپنی خامیاں اور رویے نہیں دیکھ سکتے، خاص کر جتنا ہمارے تجربات تلخ رہے ہوں ٹروما رہا ہو اتنا ہی ہم خود کے رویوں، جذبات اور تصورات کی جانب اندھے ہوتے ہیں، لیکن ہمارے بچے ہمیں آئینہ دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر آپ کے بچوں کی حرکتیں آپ کو محرک (trigger) کرتی ہیں تو وہ آپ کے لیے ایک فیڈ بیک ہوسکتا ہے اپنے جذبات، سوچ اور رویوں کی گہرائی میں جانے کا۔
وہ خاتون جو اپنے شوہر سے فون پر لڑ رہی تھیں، انکی بچی کی انزائٹی اور نفسیاتی مسائل ان کے لیے فیڈ بیک تھا، انکی بیٹی انکا عکس تھی، بیٹی کی جگہ سیشن انہیں لینے چاہیے تھے، جیسے انکا رویہ بدلتا، بچی کا رویہ اس کے نتیجہ میں بدلتا، کیونکہ بچوں کا رویہ ہمیشہ نہیں البتہ زیادہ تر فیڈ بیک ہوتا ہے ہمارے اندر چل رہے جذبات اور ہمارے گھر میں موجود ماحول کا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں