جب ہم “تربیت” کا لفظ سنتے ہیں تو عموماً ذہن کچھ نصیحتوں، اصولوں یا ہدایات تک محدود رہتا ہے۔ لیکن تربیت کا عمل نہایت وسیع اور گہرا ہے جو عقائد، فلسفۂ حیات، سماجی ڈھانچوں، معاشی مفادات، گروہی وابستگیوں اور اخلاقی معیارات تک پھیلا ہے۔ بچہ گھر سے لے کر اسکول، مدرسہ، گلی، پارک، کھیل کے میدان، انٹرنیٹ، میڈیا اور دوستوں تک ہر جگہ کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ ہر لفظ، ہر نظر، ہر رویے، ہر تعریف یا تنقید کو اپنے اندر جذب کرتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تربیت ایک مسلسل، ہمہ گیر اور غیر مرئی سفر ہے جس کے اثرات بچے کی پوری شخصیت پر چھائے رہتے ہیں۔
ہر معاشرہ اور ہر خاندان اپنی ترجیحات، مفادات اور نظریات کے مطابق کچھ رویوں کو اچھااور کچھ کوبُراقرار دیتا ہے۔ ان بنیادوں پر بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ کہاں وفاداری دکھانی ہے، کن اصولوں پر اپنی شناخت قائم کرنی ہے اور کس کے لیے قربانی دینی ہے۔ اس وفاداری میں اپنی انا، خواہشات اور حتیٰ کہ مالی مفادات کی قربانی بھی شامل ہوتی ہے۔ مقصد یہی ہوتا ہے کہ فرد خاندان، معاشرے یا ریاست کا “قابلِ قبول” رکن بن سکے۔
ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچوں کو اسکول میں صرف تعلیم پانے، کھیل کے میدان میں صرف جسمانی مشق، جم میں صرف فٹنس یا کسی انٹرنشپ میں صرف پیشہ ورانہ مہارت کے لیے بھیج رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم بچے کو جہاں بھی بھیجیں وہاں وہ صرف تعلیم یا معلومات ہی حاصل نہیں کرتا بلکہ ساتھ ساتھ معاشرتی تربیت کا گہرا اثر بھی لیتا ہے۔ بچہ ہر چیز دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا اور اپنی نفسیات کا حصہ بناتا ہے۔ ہر لفظ، اشتہار،فیشن، رویہ، طنز،تعریف، محبت، ہر سلیبرٹی، کامیڈی اور ہرگفتگو اس کے ذہن میں نقش چھوڑ تے ہیں۔ بچے کو متاثر کرنے والی چیزیں محض نصیحتیں یا سبق نہیں ہوتے بلکہ ہر رنگ، آہنگ، نظر، آواز ، مسکراہٹ، سختی، ہمدردی، غصہ ، اخلاص، منافقت اور اشارے اس کی تربیت کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ کہنا کہ تربیت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود ہے مکمل بات نہیں، تربیت کا دائرہ پورے ماحول، معاشرتی ڈھانچے اور اجتماعی رویوں تک پھیلا ہواہے۔
اگر معاشرہ جھوٹ، لالچ،تعصب،نفرت، دکھاوے اور مقابلہ بازی پر قائم ہو تو چاہے گھر کی نصیحتیں کتنی ہی خالص کیوں نہ ہوں، بچہ تضاد کا شکار ہو کر الجھ جاتا ہے۔ اگر معاشرہ دیانت، شفقت، خلوص اور احترام پر مبنی ہو تو بچے کی تربیت میں استحکام آتا ہے۔ بچہ ایک حساس آئینہ ہے جو معاشرے کے ہر عکس کو اپنے اندر سمو لیتا ہے اور انہی سے اس کی شخصیت کے رنگ ابھرتے ہیں۔اس کی شخصیت چھوٹے چھوٹے تاثرات اور تجربات سے بنتی ہے۔ وہ تقلید کرتا ہے، سنتا ہے، دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے اور پھر ان سب کو اپنی شخصیت کے خدوخال میں ڈھالتا ہے۔ جب تک معاشرہ اپنی مجموعی نیت کو درست نہیں کرے گا، محض چند اخلاقی نصیحتیں یا سطحی ضابطے کسی بچے کی شخصیت کو نکھار نہیں سکتے۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ زیادہ تر رٹا کلچر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ رٹا کلچر صرف معلومات دہرانے اور یاد رکھنے پر زور دیتا ہے، بغیر سمجھے، سوچے یا سوال کیے۔ یہ کلچر فرد کو ایک زندہ اور بیدار ذہن بنانے کے بجائے مشینی پرزہ بنا دیتا ہے۔ اس میں نہ تنقید کی گنجائش ہوتی ہے، نہ تحقیق کی، نہ سوال کی ہمت اور نہ ہی نیا راستہ تلاش کرنے کا جذبہ۔
اصل تربیت تب شروع ہوتی ہے جب بچے کو سوال کرنے، سوچنے، تحقیق کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کا حوصلہ دیا جائے۔ جب بچے کے ذہن میں حریت فکر اور آزادی اظہار کے بیج بوئے جائیں تو وہ اپنی اصل پہچان، حقیقی شناخت اور اخلاقی و روحانی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔ تربیت کی اصل روح صرف رٹے ہوئے اصول یا معلومات یاد کرانا نہیں بلکہ بچے کو زندگی کے نشیب و فراز کو قبول کرنا، لچک، برداشت، محبت، معافی اور دوسرے کے لیے جگہ بنانے کا سلیقہ سکھانا ہے۔
بچہ چہروں کو کتابوں سے زیادہ غور سے پڑھتا ہے۔ بڑوں کا طرزِ عمل، ردِ عمل اورلہجہ بچے کی باطنی تربیت کے ستون بن جاتے ہیں۔اگر تربیت میں رٹا کلچر غالب ہو تو بچہ صرف ظاہری طور پر خوش اخلاق نظر آئے گا مگر اندر سے کھوکھلا رہے گا۔ لیکن اگر تربیت میں محبت، غور و فکر، تجربہ اور حقیقی زندگی شامل ہو تو بچہ ہر موقع پر مضبوط اور متوازن کھڑا ہوگا۔
اصل تربیت وہ ہے جو بچے کو نہ صرف اچھا شہری بنائے بلکہ بہتر انسان بھی بنائے۔ جو اس کے اندر انسان دوستی، عاجزی، خیر خواہی اور اخلاقی جرات پیدا کرے۔ جو یہ سکھائے کہ جیتنے کے ساتھ کبھی ہارنا بھی ضروری ہے اور اپنی غلطی مان لینا کمزوری نہیں بلکہ عظمت کی علامت ہے۔
والدین اور اساتذہ کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پہلے خود اپنی تربیت کریں۔ اپنی ذات، سوچ اور رویوں کا بار بار جائزہ لیں، اپنی کمزوریوں کو سمجھیں اور اپنی خود ساختہ، جامد اصولوں سے اوپر اٹھیں۔ جو فرد ہر نئے خیال کو سننے، سمجھنے اور اس سے سیکھنے کے لیے تیار ہو وہی اصل میں تربیت یافتہ ہے۔ اس کا دل کشادہ ہوتا ہے، وہ کسی بھی نئی بات یا تبدیلی سے خائف نہیں ہوتا بلکہ سچ، انصاف اور خیر اس کی سب سے بڑی ترجیح بن جاتے ہیں۔
اصل تربیت وہ ہے جو رواداری، مکالمہ، برداشت اور نرم دلی سکھائے۔ جو دل کو روشن، دماغ کو بیدار اور معاشرے کی فلاح کا انتظام کرنا سکھائے۔ اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کی اپنی جھوٹی انا، وقار اور خود ساختہ اصول ہیں۔ جب انسان ان سے اوپر اٹھ کر سچ اور حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہی اصل میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہوتا ہے۔
تربیت کا سفر فرد سے معاشرے اور معاشرے سے پوری انسانیت تک روشنی کی طرح پھیلتا ہے۔ اگر تربیت کو ایک مسلسل، رواں، اور بدلتی ہوئی حقیقت سمجھا جائے تو ہم ہمیشہ زندہ دل ،نرم خو، وسیع النظر اور وسیع الظرف رہتے ہیں ۔ یہی تربیت ہمیں نہ صرف بہترانسان بناتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے امید، محبت، ہمت اور حوصلے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں