زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جو سوال کی صورت گزر جاتا ہے، مگر اس کا جواب ساری عمر سنبھالنا پڑتا ہے۔ محبت اگرچہ ایک فلسفہ ہے، لیکن یہ سب سے گہرا سوال بھی ہے۔ جب دو لوگ کسی بےنام تعلق کے کنارے کھڑے ہوں تو ایک خاموش مکالمہ جنم لیتا ہے… کچھ کہے بغیر سب کہہ دینے والا۔ اور لمحے امر ہو جائیں تو اس میں بسنے والے سراب بن جاتے ہیں- سو یہ مکالمہ بھی ایک سراب سے ہے-
وہ:
صحیح وقت پر غلط شخص سے محبت ہونا بہتر ہے؟
یا پھر…
غلط وقت پر صحیح شخص سے محبت ہو جانا؟
میں:
دونوں جان لیوا ہیں۔
وہ:
اگر دونوں ہی سامنے کھڑے ہوں تو؟
کسے چننا چاہیے؟
میں:
شاید… وقت کو نہیں، شخص کو چنا جائے۔
کیونکہ غلط شخص، صحیح وقت پر بھی آخرکار غلط ہی نکلتا ہے۔
وہ:
تو آپ کی نظر میں غلط شخص کون ہوتا ہے؟
اور صحیح کون؟
میں:
محبت کے معاملے میں…
صحیح وہ ہوتا ہے، جس سے دل، دماغ اور روح۔۔۔تینوں بے ساختہ گھل مل جائیں۔
باقی سب، وقتی واہمے ہوتے ہیں۔
وہ (تھوڑی خاموشی کے بعد):
کیا آپ کو محبت ہو گئی ہے؟
میں (رکتے ہوئے):
کس سے؟
کس سے ہو سکتی ہے مجھے بھلا؟
وہ:
صحیح شخص سے۔
میں (ہلکے تبسم کے ساتھ):
آپ سوال کے ساتھ خود ہی جواب بھی دے رہے ہیں۔
وہ (اصرار سے):
میں نے پوچھا ہے۔
صاف صاف بتائیے۔۔۔کیا محبت ہو گئی ہے؟
میں:
صحیح شخص سے جب محبت ہوتی ہے…
تو بتانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
خود ہی محسوس ہو جاتا ہے۔
وہ (ذرا سنجیدگی سے):
میری بات کا جواب دیں۔
ہاں یا ناں؟
میں (مدھم لہجے میں):
آپ نے پوچھ کر کیا پانا ہے؟
اصل سوال تو یہ ہے…
کہ پتہ کیسے چلتا ہے کہ محبت ہو گئی ہے۔
وہ:
جب بندہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔
جب بات بے بات خاموش ہو جائے۔
جیسے آپ۔
آپ خاموش کیوں ہو جاتے ہیں اچانک؟
میں:
ارے نہیں…
میں تو شروع سے ہی ایسا ہوں۔
وہ:
اور تیسری علامت؟
پوچھنے پر بات بدل دینا۔
میں (ہنستے ہوئے):
ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
محبت تو خود ہی زور آور ہوتی ہے۔
جب چاہو، تب نہیں ہوتی…
جب بھول جاؤ، تب سحر بن کر چھا جاتی ہے۔
وہ (دھیرے سے):
محبت عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے؟
میں:
ہاں۔
کبھی بھی، کسی سے اور کسی بھی لمحے۔
بغیر کسی حاصل یا لاحاصل کی پروا کے۔
وہ:
بار بار بھی ہو سکتی ہے؟
یا ایک ہی بار؟
میں:
محبت پر اختیار نہیں ہوتا۔
ایک رسم دنیا ہے،
اور ایک محبت۔
رسم دنیا قید کرتی ہے،
محبت آزاد کر دیتی ہے۔
وہ (گہری سانس لے کر):
محبت… سحر ہے؟
میں:
سحر، خوشبو، لمس، جھونکا…
بس محسوس کرنے والی چیز ہے۔
جو جتنا محسوس کرے،
اتنا ہی ڈوبتا چلا جاتا ہے۔
وہ:
آپ ہمیشہ سنتے ہیں، کبھی سناتے کیوں نہیں؟
میں:
کیونکہ سنانے والا بہہ جاتا ہے،
کھو جاتا ہے۔ خود میں نہیں رہتا۔
وہ (آہستہ سے):
کبھی کبھی لگتا ہے، آپ مجھے مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔
پھر لگتا ہے… شاید بالکل نہیں جانتے۔
میں:
کیونکہ آپ یقین اور بےیقینی کے بیچ میں ہیں۔
محبت کا پودا… اقرار مانگتا ہے۔
وہ (آنکھیں چرا کر):
مجھے ڈر لگتا ہے۔
محبت ظالم نہ نکلے۔
میں:
محبت ظالم نہیں ہوتی،
مسیحا ہوتی ہے۔
معجزہ ہوتی ہے،
شفا جیسی۔
وہ:
جب انسان کو محبت ہو جائے نا،
تو دل چاہتا ہے بار بار بتائے۔
محبوب بس سنتا رہے۔
کیوں؟
میں:
کیونکہ دل ہلکا ہوتا ہے۔
زبان دل کی زباں بن جاتی ہے۔
وہ (آہستہ مسکرا کر):
تو بتاتے کیوں نہیں؟
میں:
میں اپنی بات نہیں کر رہا۔
وہ:
واقعی؟
مجھے تو لگا…یہ سب آپ کے دل سے نکل رہا ہے۔
میں (رک کر):
ایک راز بتاؤں؟
وہ:
ہاں…
میں:
محبت ہو جائے تو اقرار نہیں کرتے۔
وہ (چونک کر):
کیوں؟
میں:
کیونکہ جتنا طاقتور اقرار ہوتا ہے، اتنا ہی انسان بےبس ہو جاتا ہے۔
وہ:
تو… آپ اقرار نہیں کریں گے؟
میں:
میں مشورہ دے رہا ہوں۔
اپنی بات نہیں کر رہا۔
وہ:
آپ کر چکے ہیں۔
محسوس ہو گیا ہے۔
میں:
تبھی تو کہتا ہوں،
صحیح شخص خود جان لیتا ہے…
بتانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
وہ (دھیمی آواز میں):
آپ نے ظلم کیا ہے خود پر۔
محبت راز تھی، آپ نے اسے فاش کر دیا۔
میں:
محبت راز نہیں رہنا چاہتی۔
وہ خوشبو ہے۔
جھونکا ہے۔
وہ تو خود کو محسوس کروانا چاہتی ہے۔
وہ (چپ ہو کر):
ایک اور راز بھی ہے محبت کا؟
میں:
محبت چاہتی ہے…جس سے ہو، وہ بھی اسے چاہے۔
وہ:
ورنہ؟
میں:
ورنہ بےچینی رہتی ہے۔ اور اگر اقرار مل جائے،
تو بےقراری۔
وہ:
ایک بات پوچھوں؟
میں:
ضرور۔
وہ:
کبھی مجھے آپ سے محبت ہو جائے تو؟
میں (رک کر، گہری سانس لیتے ہوئے):
تو…
آپ کو پہلے سے ہی پتہ چل چکا ہوگا۔
وہ:
یعنی فرض نہ کریں؟
میں:
محبت کبھی فرض نہیں ہوتی…
محسوس ہوتی ہے۔
وہ:
آپ کو محبت ہوئی ہے؟
میں (نرمی سے):
ہوئی ہے…
لیکن “محسوس” کی حد تک۔
وہ:
کس سے؟
میں:
اس سے جو سوال تو کرتا ہے، لیکن جواب سننے سے گھبراتا ہے۔
وہ (خاموش ہو کر):
تو کیا محبت میں ہونا اور محبت کو صرف محسوس کرنا…
یہ دو مختلف دنیائیں ہیں؟
میں:
ہاں۔
محبت میں ہونا ایک مکمل فنا ہے،
جہاں خودی مٹنے لگتی ہے…
اور محبت کو صرف محسوس کرنا،
ایک خاموش جنم ہے،
جہاں دل صرف دستک سنتا ہے… دروازہ کھولتا نہیں۔
یوں سمجھ لو کہ محبت اگر ناگفتہ رہ جائے، تو لمحہ امر ہو جاتا ہے اور اگر کہہ دی جائے، تو انسان فانی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں